عالم اسلام

بارے’تفصیل‘ کچھ بیاں ہوجائے!

’جو ہے اور جو ہونا چاہئیے‘۔ آج اس ’اِجمال ‘کی  کسی قدر تفصیل  ملاحظہ ہو۔

عالم نقوی

’جو ہے اور جو ہونا چاہئیے‘۔ آج اس ’اِجمال ‘کی  کسی قدر تفصیل  ملاحظہ ہو۔

ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ لکھ چکے ہیں اور آج پھر دوہراتے ہیں  کہ ہم سب   رنگ ونسل، مسلک و مذہب اور زبان و فرقہ کی کسی بھی تفریق کے بغیر  ظلم و فساد کے قومی بلکہ بین ا لاقوامی دھارے میں شامل ہیں اوریہی ’فساد فی الاَرض ‘اور’  ظلم بینَ ا لمخلوق‘ ہمارے ہی نہیں پوری دنیا کےتمام مختلف النوع مسائل کی جڑ ہے !

ہوا ، پانی اور زمین سب، ’’ترقی ‘‘ کے  عطا کردہ زہریلے کیمیکل وغیرہ کی آمیزش کی بدولت ناقابل تصور حد تک  آلودہ ہو چکے ہیں۔

دودھ میں، خیر سے، پہلے صرف پانی ملایا جاتا تھا اب پچاس فی صد سے زائد’دودھ‘ پانی میں  ڈٹرجنٹ پاؤڈر اور  کیمیکل وہائٹنر سے بنایا جا تا ہے  اور بقیہ پچاس فیصد  گایوں اور بھینسوں کے ’’اَوکسی ٹاکسِن ‘‘ کے انجکشن لگا کر حاصل کیا جاتا ہے ۔ اَوکسی ٹاکسِن حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں  کی دوا ہے جس کا بلا ضرورت عام اوربکثرت استعمال نئی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔

نام نہاد ’بناسپتی گھی ‘ اور ’ریفائنڈ تیل ‘ ان ہی مضر کیمیکلس کی بدولت گردے، لبلبے، مثانے اور جگر کی خرابی اور کئی طرح کے کینسر کا سبب بن رہے ہیں۔

شہد بھی اصلی نہیں ملتا اس میں گڑ  یا شکر کے  شیرے کی ملاوٹ عام ہے۔ اور شکر بذات خود مختلف  بیماریوں کی جڑ ہے کیونکہ گنے کے رس کو صاف کرکے  سفید اور  دانے دار بنانے کے لیے جن کیمیکلس کا استعمال کیا جاتا ہے وہ مُضِر ہی نہیں  بسا اوقات مُہلِک بھی  ہیں۔ یہ جان لیوا بیماریوں کی کثرت اِنہی’ ’اَشرارِ ثلاثہ‘۔ ۔ ریفائنڈ تیل، شکر، اور میدے۔ ۔ کے کثرت ِ استعمال کا نتیجہ ہے۔

ہلدی میں مصنوعی اور مُضرِ صحت کیمیکل  رنگ، سرخ مرچ میں اِینٹوں کا سُفوف، کالی مرچ میں  پپیتے کے بیج، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے اور بیسن (چنے کے آٹے ) میں لکڑی کا بھوسہ، پھلوں میں مصنوعی مٹھاس  کے انجکشن، سیب  اور  سبزیوں پر مصنوعی رنگوں کے زہریلے کیمیکل، بڑی دعوتوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت، اورفاسٹ فوڈ والے ہوٹلوں میں ’  شورمے ‘یا ’شورامے ‘ کے گوشت میں کتے اور بلی کا گوشت اور منرل واٹر کے نام پر میونسپلٹی کے نلکے کا پانی اب عام ہو چکے ہیں۔

اصلی پیکنگ میں نقلی دوائیں، اسپتالوں میں فرضی ڈگریوں والے جاہل ڈاکٹر، حکمراں پارٹیوں کے لیڈروں کی سر پرستی میں دسویں بارہویں کے  امتحانات  سے لے کر  مقابلے کے امتحانوں میں نقل کرانے اور پاس کرانے  سے لے کر ملازمت، پوسٹنگ اور تبادلے اور ’اوپر کی  کالی کمائی‘ والی سرکاری جگہوں کی نیلامی  کے  کروڑوں بلکہ اربوں کے  اعلیٰ سطحی  دھندے !بجلی پیدا کرنے سے لے کر سپلائی کرنے تک ہر جگہ بڑے پیمانے پر دھاندھلی اور چوری۔ ۔

روئیے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئیے !

جھوٹ اور ظلم جب حکمرانی کی فطرت اور سماج کی عادت   بن  جائے تو وہی ہوتا ہے جو آج ہم کھلی آنکھوں سے اپنے چاروں طرف  دیکھ رہے ہیں  کہ ’نربھیا ‘ کے لیے سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کرنے والے ’آصفہ ‘ کے لیے مہر بہ لب ہی نہیں ، زانیوں اور قاتلوں کو  بیچ چوراہے پرباندھ کر سنگ سار کرنے   کے مطالبے کے بجائے  اُنہیں رِہا کرانے کے لیے ’ترنگا ‘لے کر فاشسٹوں کے  مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز  کا ایک  محدود ہی سہی لیکن قابل ذکر حصہ انصاف کی بحالی کے بجائے  نہ صرف ظالموں کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ خود بھی  شریک جرم ہے !

اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جنہیں امر با لمعروف اور نہی عنی ا لمنکر کی ذمہ داری دی گئی تھی اُن کی اکثریت  بھی اَوامِر کے بجائے  مُنکَرات  ہی کے قومی اور بین ا لاقوامی دھارے میں شامل ہے۔

صلہ رحمی کے بجائے قطع رحمی، انکساری کے بجائے تکبر، خوش خلقی کے بجائے بد اخلاقی، بے لوثی، ایثار و قربانی اور اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینے  کے بجائے  اور ’رُحَماٗبَینَھُم‘کے بجائے ’اَشِدّاٗ بَینَھُم ‘کے بد ترین اور قابل ِنفرین و لعنت مظاہرے عام ہیں۔

 انا للہ و انا الیہ راجعون !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close