خصوصیعالم اسلام

بیت المقدس کا حالیہ بحران اور ہماری ذمے داری

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

۶؍دسمبر کی تاریخ ہم میں سے ہر ایک کو یاد ہوگی۔ آج سے پچیس برس قبل اسی تاریخ میں ایودھیا میں شرپسندوں اور شدّت پسندوں کے ہاتھوں سے بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ دن کے اجالے میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیاگیاتھا اور اللہ واحد کی عبادت کے لیے بنائے گئے گھر کو مسمار کرکے زمیں بوس کردیاگیاتھا۔ امسال۶؍دسمبر کو ایک اور حرکت کی گئی، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اذیت محسوس کی اور ان کے دلوں میں اضطراب پیداہوا۔ اس تاریخ کو صدرِ امریکہ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیں گے۔

یہ کھلی ہوئی جارحیت اور انتہائی غیر منصفانہ اعلان تھا۔ چنانچہ پوری دنیا میں اس کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔  تمام ممالک نے صدرِ امریکہ کے اس فیصلہ کو رد کیا ہے اور اس سے اپنی عدم موافقت  دکھاتے ہوئے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے کے نہ صرف یہ کہ عالمی طور پر سنگین مضمرات ہوں گے، بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔ دو ہفتے ہونے کو ہیں ، اعلان کے دن سے آج تک پوری دنیا میں اس کے خلاف بڑے بڑے جلوس نکالے جارہے ہیں اور زبردست مظاہرے ہورہے ہیں ۔  دنیا کے بیش تر ممالک نے، جن میں امریکہ کے حلیف ممالک بھی شامل ہیں ، اس کی مخالفت کی ہے، حتیّٰ کہ برطانیہ نے بھی اس سے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے، جس نے فلسطینی قدم کو دھوکہ دیتے ہوئے اعلان بالفور کے ذریعے عرب علاقوں کے قلب میں اسرائیل کے نام سے یہودیوں کے لیے علیٰحدہ ملک کی راہ ہموار کی تھی۔

 یروشلم، جسے بیت المقدس بھی کہا جاتاہے، فلسطین کا ایک بڑا شہر ہے۔ اس کو یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں ، تینوں کے نزدیک مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں ایسے آثار ہیں جن سے تینوں مذاہب کے لوگ عقیدت رکھتے ہیں ۔  وہیں مسجد اقصیٰ اور مسجد قبّۃ الصخرۃ ہیں ، جو مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہیں ۔  مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، جس کی طرف رخ کرکے وہ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد سترہ اٹھارہ مہینے تک نماز ادا کرتے رہے۔ مسجد حرام (مکہ مکرمہ)اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے بعد وہ تیسری مسجد ہے جس کی غیر معمولی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ جہاں عبادت کرنے کی غرض سے سفر کرنا نہ صرف جائز قرار دیاگیاہے، بلکہ اس کابہت زیادہ اجر بیان کیاگیاہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہجرت ِ مدینہ سے قبل سفر معراج کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ کو پہلے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیاتھا، جہاں آپؐ نے تمام انبیاء کی امامت کی تھی، اس کے بعد وہیں سے آپؐ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی تھی اور سدرۃ المنتھیٰ تک لے جایاگیاتھا۔ بیت المقدس کو قرآن مجید میں بابرکت علاقہ کہاگیاہے۔ یہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ اس علاقے میں بہت سے انبیاء مبعوث کیے گئے تھے۔ یہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ عبادت خانہ تھا، جسے بنی اسرائیل کے نزدیک قبلہ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہی شہر حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کا مقام اور ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ الغرض بیت المقدس کو متعدد پہلوئوں سے محترم و متبرک مقام کی حیثیت حاصل ہے۔

 فلسطین میں بیسویں صدی کے اوائل تک یہودیوں کی آبادی انتہائی قلیل تھی۔ ان کی تعداد کل آبادی کا پانچ فی صد بھی نہ تھی۔  خلافت ِعثمانیہ کے آخری زمانے میں یہود نے سلطان عبدالحمید کے سامنے پیش کش کی تھی کہ انہیں فلسطین میں بسنے کی اجازت دی جائے، اس کے بدلے وہ خلافتِ عثمانیہ کا تمام قرض اداکریں گے، لیکن سلطان نے ان کی پیش کش کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیاتھا اور کہا تھا کہ وہ فلسطین کی ایک انچ زمین بھی یہودیوں کو دینے کے روادار نہیں ہیں ۔  لیکن جنگ عظیم اول کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے وہاں یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ ۱۹۱۷ء میں جہاں یہودی آبادی صرف پچیس (۲۵)ہزار تھی، پانچ برس میں اڑتیس (۳۸) ہزار ہوگئی، یہاں تک کہ ۱۹۳۹ء میں ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں جرمنی میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی بہت بڑی تعداد میں فلسطین میں آباد ہونے لگے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔

اس وقت سے اسرائیل نے فلسطین کے اصل باشندوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھاہے۔ ان پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔  انہیں ان کے گھر بار سے بے دخل کیاجارہاہے اور انھیں دوسرے ممالک میں مہاجرت کی زندگی بسرکرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔ ۱۹۴۸ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اسرائیل فلسطین کے اٹھتّر(۷۸) فی صد حصے پر قابض ہوگیاتھا، تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس اور غربِ اردن کے علاقوں پر اردن کا قبضہ برقرارتھا۔ لیکن ۱۹۶۷ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی اپنا تسلط جمالیا۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں کوئی تعمیرات نہیں کی جاسکتیں ، لیکن اسرائیل ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطین کے تمام علاقوں میں مسلسل یہودی کا لونیاں بسارہاہے۔

  قرآن مجید میں یہود کا تذکرہ بہت تفصیل سے آیا ہے۔ ان پر اللہ تعالی نے بے شمار انعامات و احسانات کیے، انہیں دشمنوں کے مظالم سے نجات دی، ان کے لیے آسائش و آرام کی سہولتیں فراہم کیں ، لیکن انہوں نے ہر موقع پر ناشکری کا مظاہرہ کیا، انبیاء کی تعلیمات کا انکارکیا، انہیں جھٹلایا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، چنانچہ اللہ تعالی نے دنیا میں ان پر ذلّت و خواری مسلّط کردی۔ قرآن کہتاہے:

  ضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الذِّلَّۃُ أَیْْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللّہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآؤُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ (آل عمران:۱۱۲)

’’یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی۔ کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں ۔  ان پر محتاجی اور مغلوبی مسلط کردی گئی ہے۔ ‘‘

 یہود کی تاریخ قرآن مجید کے اس بیان پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ وہ جہاں بھی رہے وہاں انھوں نے فتنہ و فساد پھیلایا، مال و دولت کی حرص میں مبتلا رہے، مکر و فریب سے کام لیا اورظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔ چنانچہ مختلف حکم رانوں نے ان کی سرکوبی کی اور بڑے پیمانے پر ان کا قتل ِ عام کیا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی ابتدا میں واقعۂ اسراء کے ذکر کے بعد ہی یہود کی تاریخ کے دو واقعات کا بیان ہے، جب ان کے فتنہ و فساد اور سرکشی کے نتیجے میں ان کا زبردست قتلِ عام ہوا تھا۔ ایک واقعہ چھٹی صدی قبل مسیح کا ہے جب شاہِ بابل بخت نصر نے ہیکل ِسلیمانی کو پیوندِ خاک کر دیا تھا اور یہودیوں کا زبردست قتل ِ عام کیا تھا اور ہزاروں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ دوسرا واقعہ ۷۰ء کا ہے، جب رومی جنرل ٹائٹس نے لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا تھا اور اتنی ہی تعداد کو غلام بنا لیا تھا۔

فلسطین کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی وہ مسلمانوں کے زیرِ حکومت رہا وہاں انھوں نے عدل و انصاف قائم کیا اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان کے مقدّس مقامات میں جانے اور وہاں عبادت کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں رکھی، لیکن جب یہود نے اس پر قبضہ کیا تو انھوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ارض ِ مقدس فلسطین پر یہود کے حالیہ قبضے کو    ستّر (۷۰) برس ہو گئے ہیں۔  اس عرصہ میں ہر دن مسلمانوں کے لیے قیامت بن کر آیا ہے، ہر صبح ظلم و ستم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوئی ہے۔ کون سا ظلم ہے جو ارضِ مقدس کے باسیوں پر روا نہیں رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو عالمی طاقتوں ، بالخصوص امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انھوں نے اس کی بہت زیادہ مالی اور فوجی مدد کی ہے اور اسے ہر قسم کا تعاون اور تحفظ فراہم کیا ہے۔ اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور ہونے والی قراردادوں پر وہ ہمیشہ ویٹوکرتا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت کی مخالفت میں وہ پیش پیش رہا ہے۔ امریکہ میں ۱۹۹۵ء ہی میں ’یروشلم ایمبسی ایکٹ ‘کے نام سے قانون بن گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنا چاہیے اور امریکی سفارت خانے کو وہاں منتقل کر دینا چاہیے، لیکن صدارتی استثناء کے تحت یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ امریکہ کے سیکیورٹی مفاد میں ہو تو صدر اس فیصلے کے نفاذ کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کر سکتا ہے۔ اس کے تحت اس وقت کے صدر بل کلنٹن اور بعد کے صدور اس فیصلے کو برابر مؤخر کرتے چلے آرہے تھے، لیکن حالیہ صدر ٹرمپ  نے الیکشن میں کیے گئے اپنے وعدہ کے مطابق اس کے نفاذ کا اعلان کیاہے، اس طرح امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کو منظوری دی ہے۔

  مقامِ شکر ہے کہ فلسطین کے غیور مسلمانوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اس ظلم، غصب اور حق تلفی کو برداشت نہیں کریں گے اور ارض ِ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔ گزشتہ برسوں میں تحریکِ حماس نے فلسطینیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مزاحمت و مقابلہ اور شجاعت کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں۔  اس راہ میں جام ِشہادت نوش کرنے والے عام افرادبھی ہیں اور تحریک کے قائدین بھی۔  انھوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ارضِ فلسطین کو صہیونیوں کے ناپاک قبضے سے آزاد کراکے ہی دم لیں گے، چاہے اس راہ میں انہیں کتنی ہی جانوں کی قربانی پیش کرنی پڑے۔

 اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ اگر اس کے کسی عضو میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے اوربخار اور بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ‘‘( بخاری، مسلم)اس لیے ہم سب مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ فلسطین کے اپنے مظلوم بھائیوں سے یک جہتی کا اظہار کریں ، اسرائیل کی صہیونی حکومت کے مظالم کو نمایاں کریں اور صدرِ امریکہ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کے خلاف عَلَمِ احتجاج بلند کریں ۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close