عالم اسلام

بے عمل تھے ہی جواں، دین سے بد ظن بھی ہوئے!

محمد جمیل اختر جلیلی

انسان کے جسم کے اندر ایک ہڈی ایسی ہوتی ہے، جو چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور دیگر امور کو انجام دینے میں اس کے لئے بیساکھی کا کام دیتی ہے، اگر جسم ِ انسانی کے اندر یہ ہڈی نہ ہو تو انسان بے کارِمحض ہوکر رہ جاتاہے، نہ چل سکتاہے، نہ پھر سکتا ہے، نہ بغیر کسی سہارے کے بیٹھ سکتاہے؛ حتیٰ کہ کروٹ لینا بھی اس کے لئے دوبھر ہوجاتاہے، گویا اس ہڈی کے بغیر انسان ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتاہے، جو موت سے بد تر ہوتی ہے، اس ہڈی کو ’’ریڑھ کی ہڈی‘‘ کہاجاتاہے۔

 ریڑھ کی ہڈی کی طرح کسی بھی قوم کی بقاکا مدار اس قوم کے جوانوں پر ہوتاہے،نوجوانوں کی حیثیت قوم میں بالکل وہی ہے، جوجسمِ انسانی میں ریڑھ کی ہڈی کی ہے، نوجوانوں کے بغیر کوبھی قوم نہ چل سکتی ہے، نہ پھرسکتی ہے، نہ اٹھ سکتی ہے اور نہ بیٹھ سکتی ہے، اب ظاہر ہے کہ جس چیز کے اندر قوم کی بقاہو، اس کی حفاظت اور اس کو سجانے وسنوارنے کے لئے کس قدر حزم واحتیاط کی ضرورت ہے؟ وہ کسی بھی صاحب ِبصیرت کی نگاہ سے مخفی نہیں۔

 یقیناً یہ امر قابلِ انبساط ہے کہ ہماری قوم بھی اب خواب ِغفلت سے بیدارہوچکی ہے اور ’’قِوام ِقوم‘‘( جس پر قوم کا انحصار ہو) کو آراستہ کرنے کے لئے شب وروزتگ ودو کررہی ہے؛ لیکن ابھی تک حزم واحتیاط کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوسکی ہے، جس کی ازحد ضرورت ہے، نتیجۃً موتیوں کی جگہ خزف اورکندن کی جگہ مسِ خام دستیاب ہورہاہے،ایک جوہری ہیروں کی تراش خراش میں جتنا احتیاط سے کام لیتاہے، قوم کو مستقبل کے ان ہیروں کے سنوارنے میں اس سے کہیں زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کہ جوہری کے پاس موجود ہیرے آخر پتھر ہیں اور ان کا کام صرف گلے کی زینت بنناہے؛ جب کہ قوم کے ان ہیروں کا کام اس سے اعلیٰ ہے، ان کا کام کسی کے گلے کا ہار بننا نہیں ؛ بل کہ ایسے جوہری پیداکرناہے، جو سیکڑوں ہیرے تراش کر دوسروں کے گلوں کی زینت بناسکے۔

 آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کی راہیں طے نہیں کرسکتی؛ جب تک کہ وہ تعلیم کی طرف خصوصی توجہ نہ دے، آج کا دور سائنس وٹیکنالوجی اور نیوکلیرطاقت کادور ہے، کسی بھی قوم اور ملک کوتولنے کا آج سب سے بڑاذریعہ خصوصیت کے ساتھ یہی دوچیزیں ہیں، جس کے پاس یہ دوچیزیں ہوں، وہ عزت کا نگاہ سے دیکھاجاتاہے اور دنیا اس کے سامنے سر جھکانے کے لئے تیار رہتی ہ ہے؛ لیکن جس کے پاس یہ دوچیزیں نہ ہوں، اسے ہاتھی کے سامنے پسوکے مصداق ٹھہرایاجاتاہے اور دنیا اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، یہ ہے آج عزت اور طاقت کامعیار!اب دنیا کا بے وقوف ترین شخص وہ ہوگا، جوان چیزوں کے حصول کے لئے کوشاں نہ رہے، وہ قوم ناہنجار کہلائے گی، جوان چیزوں کی طرف توجہ نہ دے، وہ ملک بے طاقت سمجھاجائے گا، جو ان کی طرف التفات نہ کرے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کاہرفرد، ہرقوم اورہر ملک اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان چیزوں کے حصول کے لئے راغب کرتاہے، اس کے لئے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار رہتاہے، گھر میں دووقت کافاقہ تو گواراکرلیاجاتاہے؛ لیکن یہ بات برداشت نہیں ہوتی کہ اس کے بچہ کا ایک قدم بھی اس صف سے پیچھے ہٹے، ملک اس بات کا توتحمل کرسکتاہے کہ اس کے یہاں غربت خط ِافلاس سے نیچے پہنچ جائے؛ لیکن یہ بات بے برداشت ہوتی ہے کہ ملک ٹیکنالوجی کی ترقیوں اور نیوکلیرطاقت سے محروم رہے۔

ادھر چند سالوں سے قوم مسلم نے بھی عزت وطاقت کے اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں، یقیناً یہ قابلِ افتخار بات ہے، قوم نے ذلت کے پیروں پرسجدے بہت کرلئے، اب یقیناً سراٹھالینے کی ضرورت ہے، رسوائیوں کے دروازے بہت کھٹکھٹالئے، اب ان دروازوں پر جانے سے قطعاً گریز کرناچاہئے، غیروں کے سامنے ہاتھ بہت جوڑلئے، اب خودداری کاثبوت دیناچاہئے، بے غیرتوں کے تلوے بہت چاٹ لئے، اب غیرت مندی کا ظہورہوناچاہئے؛ لیکن یہ غیرت مندی اور خودداری کیوں کرحاصل ہوسکے گی، جس نے روم وایران کے ایوانوں میں دغدغہ ڈال دیاتھا؟ جس نے ایرانی سپہ سالاررستم کے دربار کے ریشمی قالینوں کے بخرے کردئے تھے؟یہ اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے، جب کہ ہم بھی ان صفات سے متصف ہوجائیں، جن صفات کے حامل وہ غیورلوگ تھے، جنھوں نے اپنے جسموں کے خون اورپانی سے دہکتے ہوئے انگاروں کوسرد کردیاتھا، جن کے پائے ثبات کو ٹڈی دل فوج بھی ڈگمگا نہیں سکی تھی، جن کے سامنے نہ دریا کی روانی کی کوئی حیثیت تھی، نہ پہاڑکی اونچائی کی کوئی وقعت!

دونیم ان کی ٹھوکرسے صحراء ودریا

سمٹ کرپہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

یہ کون لوگ تھے؟ یہ وہی عرب کے شتربان تھے، جن کے پاس نہ تہذیب تھی نہ تمدن، ہر وقت لڑائی جھگڑے میں پڑے رہنے والے؛ لیکن جب انھوں نے ایک دستور اور قانون کو اپنا لیاتودنیا نے چشم ِحیرت سے انھیں دیکھااور دیکھنے پر ہی بس نہیں ؛ بل کہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔

 آج ہم اپنے بچوں کو جن اداروں میں تعلیم دلوارہے ہیں، وہاں ان کی اس خودداری پر ضرب لگائی جاتی ہے، غیرت کوکچل کررکھ دیاجاتاہے، انھیں سبق یہ دیاجاتاہے کہ اَن دیکھے چیز سے کوئی محبت نہیں کرتاتوایک اَن دیکھے خداسے کیسے محبت کی جاسکتی ہے؟ ذہن سازی اس بات کی کی جاتی ہے کہ تم جس مذہب کے ماننے والے ہو، وہ تو چودہ سوسال پرانا ہوچکاہے، وہ Out of date مذہب ہے، اب ایک نئے مذہب کی ضرورت ہے، جس میں نہ خدا کا خوف دامن گیر ہواور نہ دین غلط کاموں سے  رکاوٹ بنے، جس میں تم ایک ایسی زندگی گزار سکو، جہا ں شرم وحیا کی کوئی چادر تنی ہوئی نہ ہو، ایک ایسی زندگی، جہاں انسان اور حیوان میں بحیثیت ِمخلوق کوئی فرق نہ ہو، جہاں باپ بیٹی کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں کوئی جھجھک اور بیٹا ماں کے ساتھ جنسی خواہش کی تکمیل میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرسکے۔

 اسلام حصول ِعلم کا مخالف نہیں ؛ بل کہ کسی بھی مذہب سے زیادہ اس کی ترغیب دیتاہے؛ لیکن ایسے علم سے ضرور روکا ہے، جواحترام وتقدس کی دیوار کو منہدم کردے اور اس سے بڑھ کر اس خالق مالک سے برگشتہ کردے، جس نے عدم سے وجود بخشا، جس نے ایک شیٔ غیر مذکور کواپنی بہت ساری مخلوقات میں دستارِفضیلت سے نوازا، اسلام یقیناً اس علم کا مخالف ہے، جو احسان فراموشی سکھائے، جو بڑوں کی تعظیم اورچھوٹوں پر شفقت کا سبق نہ دے۔

 آج ہمارے بچے اوربچیاں مشنری اورکانوینٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرر ہیں، جہاں اختلاط ِمردو زن کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی ایسی دی جارہی ہے، جو ان کے دلوں سے ایمان کی چنگاری کوبجھائے دے رہی ہے اور اسی پر بس نہیں ؛ بل کہ ہمارے بچے اس سے بھی دوقدم آگے نکلے جارہے ہیں، پہلے وہ اسلامی تعلیمات سے نا آشنا تھے، اب اسلامی تعلیمات کے خلاف زبانِ طعن بھی دراز کرنے سے نہیں چوکتے ہیں، پہلے اسلامی احکامات سے ناواقف تھے، اب یہ احکامات انھیں فرسودہ (Out of date)معلوم ہورہے ہیں، پہلے وہ صرف بے عمل تھے، آج دین سے ہی بدظن ہورہے ہیں، ایک بڑی تعدادایسے بچوں کی مل جائے گی، جنھیں دنیا بھر کے ہیروز کے نام ازبر یا دہونگے؛ لیکن اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ حضرت ابو بکر ؓ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کون تھے؟ تو وہ یہ کہیں گے کہ یہ نام تو ہم پہلی بار سن رہے ہیں، ہمیں معلوم نہیں، کس نبی ﷺ کے ہم امتی ہیں؟

ان کانام تو مسجدوں میں تبرکا ًجمعہ کی نماز پڑھ لینے کی وجہ سے یاد ہے؛ لیکن ان کی سیرت کچھ بھی نہیں معلوم، اس کے برخلاف امریکہ کے پہلے صدر کا نام پوچھئے، سوال کہنے سے پہلے ہی جواب حاضر ہوجائے گا، ایسے نوجوان بھی بڑی تعداد ملیں گے، جنھیں آپ ﷺ کی جائے پیدائش (نعوذ باللہ) کاشی ( بنارس کے قریب ایک شہر) یاد ہوگا،اور اب نوجوانوں تک بات محدود نہیں رہی، اچھے خاصے پڑھے لکھے اور بزعم خود اسلامی احکامات پر درک رکھنے والے، یعنی جن کے پاس بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں اسلامیات کی موجود ہیں ؛ لیکن وہ بھی اسلامی منصوص احکام پر طعنہ زن ہیں، خصوصیت کے ساتھ طلاق و غیرہ کے مسائل پر اس انداز میں ان کا اشہب ِقلم چلتاہے کہ معلوم ہوتا ہے آج سے پہلے اس کا صحیح مطلب کسی نے سمجھا ہی نہیں۔

  یہ ہیں ہمارے وہ نوجوان، جن کو مستقبل میں امت کی رہنمائی کرنی ہے، سفینۂ اسلام کو ساحل تک پہنچاناہے، دشمنان ِاسلام کا منھ توڑ جواب دیناہے،اگراسلام کی پاسبانی کے لئے ایسے ہی نوجوان تیا ر ہوتے رہے تووہ دن دور نہیں، جب اسلام کا جنازہ ہمارے کاندھوں پر ہوگااور سوائے افسوس کے ہم کچھ نہ کرسکیں گے، لہٰذا ایسے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں اپنے بچوں کی فکر کرنی چاہئے، انھیں کم از کم مسجد میں چلنے والے صباحی یا مسائی مکاتب میں ضرور دین سیکھنے کے لئے بھیجنا چاہئے کہ یہی ہمارا اصل اور کسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے، خدا ہمیں اس کی توفیق دے، آمین۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. یقینا یہ مضمون قابل ستائش ہے، والدین اور سر پرستوں کو چاہئے کہ اپنے اولاد اور زیر نگیں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں، اور وقت کی نزاکت سے آگاہ کرتے رہیں. دعا ہے آپکی یہ تحریر مفید ثابت ہو. آمین.

متعلقہ

Back to top button
Close