عالم اسلام

ترکی اور مسلم دنیا کے اچھے دن

پانچ سال بعد  ۲۰۲۳ سے ترکی سے مسلم دنیا کے جن ’اچھے دنوں ‘ کے آغاز کی  انشا اللہ ابتدا  ہونے والی ہے،۲۴ جون ۲۰۱۸ کے ترک انتخابات کے نتائج اُس کا پیش خیمہ بنیں گے۔

عالم نقوی

پانچ سال بعد  ۲۰۲۳ سے ترکی سے مسلم دنیا کے جن ’اچھے دنوں ‘ کے آغاز کی  انشا اللہ ابتدا  ہونے والی ہے،۲۴ جون ۲۰۱۸ کے ترک انتخابات کے نتائج اُس کا پیش خیمہ بنیں گے۔

سرمایہ دارانہ قارونی،طاغوتی، نمرودی اور  فرعونی مغرب اُسی کے تصور سے لرزہ بر اندام ہے۔

پانچ سال بعد اُس سو سالہ  جبر و استبداد کا خاتمہ ہونے والا ہے جس نے  ’’معاہدہ لوزان(لاؤسانے ؟سوئزر لینڈ ) ۲۴ جولائی ۱۹۲۳ ‘‘ کے تحت  ایک ہی وار میں عظیم ترک امپائر اور خلافت عثمانیہ دونوں کا ایک ساتھ تیا پانچہ کر ڈالا تھا۔

 ترکی کے مرد آہن رجب طیب اردوغان (یا ‘اَردُووَان ؟) کی جانب سے  ۲۴ جون ۲۰۱۸ کو پارلیمانی الکشن کے  اعلان نے اہل ایمان کے دائمی دشمنوں (المائدہ ۸۴)اور ان کے سبھی  فطری و غیر فطری دوستوں اور غلاموں  کو(جن میں بد قسمتی سے کئی مسلم حکمراں اور ملوک بھی شامل ہیں ) یہ پیغام دے  دیا ہے  کہ اَبرَہانِ وَقت، فَراعِین ِزمانہ اور یزیدانِ عصر   ملوک اور حکمرانوں کا انجام قریب ہے، خواہ دنیا میں اُن کے چہروں پر ’نقاب ِ اسلام ‘ ہو یا ’نقاب ِ جمہوریت ‘ !

 ’جنون عظمت ‘Delusion of Grandeurمیں مبتلا مغرب ، جس کے دو بڑے ملکوں، امریکہ اور اور فرانس  میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے اور جو بنامِ جمہوریت ہر طرح کی فوجی ڈکٹیٹر شپ اور ملوکیت کی مخالفت  کا دم بھر تے نہیں تھکتا، وہی مغرب حد درجے  کی بے غیرتی کے ساتھ عرصہ دراز سے اسلام مخالف  شاہوں، فوجی آمروں، دہشتگردوں اور خوارج کی پشت پناہی میں  مصروف ہے،اُسی مغرب  کےاندھے بہرے میڈیا نے ترکی میں دو سال قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت  پر اپنے سفید خون کے آنسو بہاتے ہوئے  نہایت بے شرمی کے ساتھ لکھا تھا کہ:

’’ترکی میں فوجی بغاوت کے ناکام ہونے کے ساتھ ہی ترکی کو اسلام کی طرف  واپسی سے روکنےاور ترک معاشرے کو تاریکی سے نکالنے کی آخری امید بھی ختم ہو گئی ( یہ ناکامی ) یورپ کے دروازے پر خطرناک اسلامی حکومت کے قیام میں معاون ثابت ہوگی (سابق امریکی فوجی افسر راف پیٹرس  کا بیان، فاکس نیوز، ۱۵ جولائی ۲۰۱۶)‘‘۔

ثروت صولت کی  کتاب ’’ترکی کا مرد مجاہد :بدیع ا لزماں سعید نورسی ‘(مکتبہ اسلامی دہلی، جنوری ۲۰۰۲ )  کے ابتدائیہ میں لکھا ہےکہ :ابھی کل کی بات ہے کہ استنبول کی پر شکوہ مسجدوں کے مینارے عربی اذانوں کی گونج سے محروم کر دیے گئے تھے، خلافت اسلامیہ کے اس مرکز میں اسلام کا نام لینا بھی جرم قرار پایا تھا اور لوگ، بہ نوک ِ سنگین، اپنی اقدار کو چھوڑ کر مغربی (نام نہاد سیکولر اور لبرل ) اسلام اور رواج کی غلامی پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ ۔ ۔ لیکن وہی ترکی ایک بار پھر اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا ہے۔ استنبول کی مسجدیں آج پھر آباد ہیں۔ گلیوں اور بازاروں میں اسلام کا چرچا ہے۔ حکومت کے ایوانوں میں وہ ایک مؤثر قوت بن کر ابھر رہا ہےاور کشش و جاذبیت کی لازوال نعمتیں بکھیر رہا ہے۔ ۔ (ص ۵)‘‘

سعید نورسی اور نجم ا لدین اربکان کے وارث رجب طیب اردوغان جون ۲۰۱۸ میں ہونے والے انتخاب میں کامیاب بھی ہوں گے اور ایران کے ساتھ مل کر وہ نہ صرف  انشا اللہ مسلم دنیا میں اتحاد و اتفاق کی  ایک نئی تاریخ  رقم کریں گے بلکہ وقت کے سبھی فرعونوں  اور قارونوں  کو بفضل تعالیٰ  اُن کی اوقات   بھی بتا دیں گے۔ انشا اللہ۔

کچھ سیکولر، لبرل دانشور اور بخیالِ خود  نام نہاد ’ حقیقت پسند‘  لوگ کہتے ہیں کہ  پانچ سال بعد معاہدہ لوزان کے خاتمے پر بغلیں بجانے والے اسلام پسند’ احمق‘ ہیں کیونکہ مذکورہ معاہدے کے خاتمے کے بعد ستاون مسلم ملکوں کو’’ وَحدَت ِاُمَّہ‘‘ کی ایک لڑی میں پرونے والی کوئی   اسلامی خلافت  قائم و بحال نہیں  ہونے والی!

ہم کہتے ہیں کہ نہ سہی پانچ سال بعد لیکن  اب ’’جلد ‘‘ہی پوری دنیا میں ’مستضعفین فی ا لا رض‘ کی امامت  ضرور قائم ہونے والی ہے ( القصص ۵)! اس لیے کہ یہ قرآن کا وعدہ ہے جسے پورا ہوکر رہنا ہے۔ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، ہم نہیں جانتے مگر وعدہ کرنے وعالا اللہ خوب جانتا ہے۔

اور ہم نے جس مدت کو ’’ جلد‘‘ سے تعبیر کیا ہے  اس کاتعین  بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ مدت دس بیس یا پچاس سال بھی ہو سکتی ہے اور اس سے کچھ کم یا اس سے بہت  زیادہ بھی ! اِس کا ٹھیک، درست، واضح اور ’’معین با لتاریخ   علم‘‘ صرف علیم و خبیر اللہ کو ہے جو عالِم ِحقیقی ہی نہیں اِس کائنات کا خالق و مالک بھی ہے اور رحیم و کریم پالنہار و  پروردگار بھی !

اور جس طرح اِس دنیا میں ہر چیز کی ایک حد ہے اسی طرح ظلم کی بھی ایک حد ہے، جس کا پیمانہ بھرتے ہی اُس کا خاتمہ اُسی طرح یقینی ہے جس طرح یہ کہ ہم اس وقت  بہ قائمی ہوش و حواس یہ سطریں قلم بند کر رہے ہیں۔ دنیا کی جدید ترین لیکن دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہماری  اس عظیم اردو  زبان ِ  کا ایک شعر چاہے ’ادب عالیہ ‘ میں شامل نہ سمجھا جائے لیکن ایک آفاقی حقیقت کا ترجمان ضرور ہے کہ :

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں۔ ۔ ۔ ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں !

جب فرعون و ہامان و قارون نہیں رہے تو ٹرمپ اور یاہو اور مودی  اور اُن سب کے حالی موالی بھکت اور مددگار بھی نہیں رہیں گے انشا اللہ۔ وَ سَیَعلَمُ ا لَّذین َ ظَلَمُو ا اَیَّ مُنقَلِب یَنقَلِبُونَ !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close