عالم اسلام

ترک بغاوت ڈرامہ نہیں

 پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار، استنبول*

ان تمام لوگوں کے نام جو ترکی میں ہونے والی اس خونی بغاوت اور بین الاقوامی سازش کو ڈرامہ سمجھتے ہیں!

اس خونی بغاوت کو ڈرامہ وہ لوگ کہتے ہیں جنھیں اس سازش کی ناکامی کی ذلت اٹھانی پڑی۔ آپ مطمئن رہیے کہ ہم ترکی کے لوگ سیدھے سادہ ہوسکتے ہیں لیکن بے وقوف لوگ نہیں ہیں جو ہر کسی کی جھوٹی بات پر یقین کرلیں۔ تین دن سے ترکی میں جو ہوا ہے اور ہورہا ہے اور ترک پولیس، فوج کے ایک حصے اور ترکی کے عوام نے اس سازش کو روکنے کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں اسے نہ بغاوت کرنے والے وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں اور نہ اس المناک حادثہ کو ڈرامہ کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کرنے والے اندرونی اور بیرونی دشمن۔

فوج کے ملعون باغیوں نے اپنے احکامات نہ ماننے والے اپنے فوجی دوستوں کو قتل کیا ہے۔ کیا یہ ڈرامہ ہے؟ اُن باغیوں نے جنرل ان چیف اور دوسرے جنرلوں کو یرغمال بنایا ہے۔ کیا یہ ڈرامہ ہے؟ اُن باغیوں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کرنے کی وجہ سے جنرل ان چیف کی گردن پر بیلٹ لپیٹ کر ان کا گلہ دبایا ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ان باغیوں نے ترکی پارلیمنٹ جس میں ممبران پارلیمنٹ مارشل لا کے خلاف اکھٹے ہوئے تھے، اس دوران اس پر ایف سکسٹین سے پارلیمنٹ کی عمارت پر بمباری کی ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ہمارے صدر جس ہوٹل میں تھے، ان باغیوں نے اس ہوٹل پر حملہ کیا اور بم بھینکا ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ان باغیوں نے عام لوگوں پر فائرنگ کی ہے اور ایک سو اکسٹھ افراد کو شہید اور پانچ ہزار کے قریب قریب لوگوں کو زخمی کردیا ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟

شہیدوں میں ہمارے صدر کے سالوں کے جگری دوست اور ان کا سولہ سالہ بیٹا بھی ہیں کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ان باغیوں نے ترکی کی خفیہ ایجنسی پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کیا ہے اور اس لڑائی میں بہت سے پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں اور وہ خود بھی ہلاک ہوئے ہیں کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ان لوگوں نے احتجاج کرنے والے عام لوگوں کے اوپر سے ٹینک چلا کر ان کو کچل دیا ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟ فوجیوں کو چھاؤنیوں سے نکلنے سے روکنے کے لیے لوگوں نے اپنے ٹرکوں، بسوں اور گاڑیوں سے چھاؤنیوں کے دروازے بند کئے ہیں اور خود بھی سامنے کھڑے ہوگئے ہیں کیا یہ ڈرامہ ہے؟

جنگی طیاروں کو ہوائی اڈوں سے اڑنے نہ دینے کے لیے ٹرک ڈرائیوروں نے ہوائی اڈوں میں اپنے ٹرکوں سمیت اندر گھس کر اڈوں کو لاک کیا ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟ کچھ شہروں میں سول ہوائی اڈوں کے ملازم ان باغی فوجیوں کو روکنے کی خاطر ہوائی اڈوں کے سسٹم خراب کر کے بھاگ گئے ہیں کیا یہ ڈرامہ ہے؟ ان لوگوں نے ایف سولہ سے احتجاج کرنے والے نہتے لوگوں پر فائرنگ کی ہے کیا یہ ڈرامہ ہے؟

جب ان کو ناکامی ہوئی تو کچھ باغی ہیلی کاپٹر لے کر یونان بھاگ گئے اور کچھ اپنے ایف سکسٹین لے کر ترکی میں موجود امریکن فوجی اڈے میں پناہ گزین ہوئے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اس غداری کے بعد ان کو موت کی سزا ملنے کا بھی امکان ہے۔ ان باغیوں میں اعلی درجے کے کمانڈروں سے لے کر عام فوجیوں تک کے لیول کے لوگ ہیں اور ان سب کو علم ہے کہ ناکامی پر ان کو سخت سزا ملنی ہے۔ کیا یہ بھی ڈرامہ ہے؟

میرے بھائی نہ وہ غدار لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر ڈرامے بازی کرسکتے ہیں نہ ہی ترکی کی حزب اقتدار اور اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اس ڈرامہ میں ایکٹینگ کرسکتی ہیں۔ میرے بھائی ہم ڈراموں میں آنے والے بے وقوف لوگ نہیں ہیں نہیں ہیں کہ چار دنوں سے مسلسل لوگ سڑکوں پر اور فوجی چھاؤنیوں کے آس پاس نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ جا کر یہ ڈرامے کی بات ان ڈرامے بازوں سے پوچھیے جو اس سازش میں شریک ہوکر ناکامی پر اسے ڈرامہ کہتے پھر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کرسکیں۔ کیونکہ انہیں ڈرامہ بازی میں کمال حاصل ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی ایسی سچائیاں ہیں جن کا ترکی سے باہر رہنے والے دوستوں کو علم نہیں ہے اور نہ ہی فی الحال اتنا وقت ہے کہ ان کو تفصیل سے آگاہ کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

خلیل طوقار

ڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

متعلقہ

Close