عالم اسلام

تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

الطاف جمیل ندوی

شاہین زمین پر آکر مرغے کی چال اختیار کرے، بال و پر کٹوائے تو یقین کریں کہ شاہین صفت نام کی حد تک تو شاہین ہی رہے گا مگر اپنے ہم جنس اور شاہین صفت پرندوں میں اس کی قدر و قیمت نہیں رہے گی اور اسی طرح شیر اپنی خو اور فطرت سے منہ موڑ کر اور گدھے کی فطرت اپنانے کے لئے اُس کی کھال پہن لے سمجھ لیجئے وہ جنگل کے دوسرے جانوروں کے لئے تر نوالہ ضرور بنے گا اوراس کے ارد گرد دُم ہلانے والے دیگر جنس کے جانور بھی اسے پچھاڑ دینے کے لئے اپنے پتے کھولیں گے اور اسے دونوں شانے چت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لیں گے۔

 یہ چند ایک مثالیں ہیں جس سے میرا یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جو قومیں اپنے حقوق کے تحفظ اور دفاع سے تساہل سے کام لیتی ہیں، وہ اگرصفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں تو اسے انہونی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مکافات عمل ہے اورابتدائے آفرینش سے قانون قدرت اس سلسلے میں کوئی رعایت دینے سے قاصر رہی ہے۔

 دنیا کے نقشہ پر نظر دوڑائے تو ہمیں مسلمان نما انسانوں کے جسم و جاں زخموں سے چور دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے جسم کانگ انگ زخموں سے چور چور ہے۔ ان زخموں سے ٹیس اٹھ رہی ہے، خون رس رہا ہے اور کُرہ ارض پر موجود پوری مسلم ملت ایک مغلوب، مجبور و مقہورامت کی حثییت سے پہچانی جاتی ہے۔ ہم اس درد کا درمان ڈھونڈنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی بیکسی و بے بسی کا رونا رو رو کر خود کو ہلکاں کرر ہے ہیں۔ ہماری اس بد نصیبی اور ستم ظریفی میں اضافے کا موجب نہ صرف غیر ہیں بلکہ اپنوں نے بھی ستم پہ ستم ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ مجھے یاس و الم کے اس ماحول میں شبہ اس بات پرہے کہ کہیں ہماری تاریخ اس حثییت سے بھانج ثابت نہ ہو کہ ملت اسلامیہ صلاح الدین ایوبی، یوسف بن تاشقین جیسے جری سالار اور درد دل سے معمور لوگوں کو پیش کرنے سے قاصر رہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی خامیاں اور ناکامیاں تلاش کرنے اور انہیں اچھالنے کے لئے ڈھول تو ضرور پیٹتے ہیں لیکن تعمیر ملت کے فریضے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھانے اور حصہ لینے سے گھبرا جاتے ہیں یا آنا کانی کرکے بری الذمہ ہونے کے لئے نت نئے حیلے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور یہ بات طے ہے کہ ہمیں حیلے بہانے ڈھونڈنے اور نئے بت تراشنے کے لئے نہ کسی آذر کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ کسی مصور سے اس کے خیالات چرانے کی کہ ہم نے اپنے ذہن کے دریچوں کو اس طرح بند کررکھا ہے کہ اب مفلوج ذہنوں سے زندہ خیالات کے چشمے ابلنے کی امید ایسی ہے جیسے کوئی شجر کہنہ سے تازہ ثمرکی مانگ کرے۔

 آئے اپنی ناکامیوں کا خلاصہ کرنے کے لئے ابتدا فلسطین سے کریں۔ یہ وہ ارض موعودہ ہے کہ ادھر فلسطین کا نام زبان پر آیا، اُدھر آنکھوں کی پلکوں پر ستارے جھلملانے لگتے ہیں۔ اس سرزمین انبیاءکے سلسلے میں اسلامی ماخذ میں تعریف، فضائل و مناقب کے سلسلے میں بے شمار دلائل تاریخ کے صفحات پر بکھرے ہیں، لیکن اپنی خفتہ حالی، اقتصادی، سیاسی، تعلیمی، دینی و معاشی بے حالی کی وجہ سے یہ امت مسلمہ کے لئے ایک ایسا قطعہ ارضی ہے، جہاں آئے روز دلدوز چیخیں بلند ہوتی جارہی ہیں۔ اس سرزمین کی تاریخ امت مسلمہ کے لئے ایک سنہری دور رہا ہے اور بے شمار مشاہیر، علماء، اسکالرز یہاں سے ہو اٹھے ہیں جنہوں نے اپنا مثالی کردار ادا کرتے ہوئے ایک انمٹ چھاپ چھوڑی ہے اور سنہرے نشان ثبت کئے ہیں اوراس سرزمین پر پر پیغام الٰہی کو عام کرنے کے لئے دن رات ایک کئے۔

 برسہا برس گزرے کی امت مسلمہ قبلہ اول کے چھن جانے کے بعد یاس و حسرت سے سرد آہیں بھررہی ہے۔ مجبور فلسطینیوں کو یہاں نماز پڑھنے سے روکا جارہا ہے اور اگر کبھی کبھار اجازت بھی دی تو وہ ان کی نمازیں اور اذکار دلفگار آہ بکاہ کے بیچ دلوں کا سکون چھین لیتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس بات کا ادراک کرنے کی کوشش کی کہ بیت المقدس ہم سے کیوں اور کس طرح ایک بڑی سازش کے تحت چھین لیا گیا۔ آئے تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھیں کہ یہ افتاد ہم پہ کیوں اور کیسے گری۔

 ۱۸۹۷ء میں سوئٹرزلینڈ کے شہر پال میں یہودیوں نے ایک کانفرنس منعقد کی جس کے انعقاد میں تھیوڈ ورہرتزل کا بڑا کردار تھا۔ اس کانفرنس میں یہ قرارداد منظورہوئی کہ ہمیں فلسطین میں اپنا قومی وطن بنانا ہے۔ ہرتزل نے “یہودی مملکت” کے موضوع پر ایک کتاب میں اس مملکت کی حدود کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کی حدود میں سارا فلسطین، پورا اردن، تمام تر شام و لبنان، عراق و کویت کے بیشتر علاقے اور سعودی عرب کا بھی بڑا حصہ شامل ہو گا۔ یہ حدود مدینہ منورہ تک وسیع ہوں گے۔ مصر سے صحرائے سینا، قاہرہ اور سکندریہ اسرائیل کی حدود میں کئے جائیں گے۔ یہی علاقہ ہے جسے یہودی اپنی اولاد کو یاد کراتے رہتے ہیں اور یہی عبارت اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر بھی کندہ ہے۔ “اے اسرائیل تیری سرحدیں دریائے فرات سے دریائے نیل تک ہیں”۔ اور یہی یہودی نعرہ ہے جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ ہردم کوشاں رہتے ہیں۔ صہیونیوں نے ایک تحریک شروع کی، جس کے تحت دنیا کے مختلف خطوں سے یہودی ہجرت کر کے فلسطین میں جا کر آباد ہوئے اور وہاں زمینیں خریدنا شروع کیں۔ چنانچہ ۱۸۸۰ء سے اس مہاجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادہ تر مشرقی یورپ سے یہودی خاندان وہاں منتقل ہونے لگے۔ تھیوڈور ہرتزل کی صہیونی تحریک میں اس بات کو مقصود قرار دیا گیا تھا کہ فلسطین پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا جائے اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی جائے۔ یہودی سرمایہ داروں نے اس غرض کے لیے بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کی کہ فلسطین منتقل ہونے والے یہودی خاندان وہاں زمینیں خریدیں اور منظم طریقے سے اپنی بستیاں بسائیں۔ 1910ءمیں ہرتزل نے ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو باقاعدہ یہ پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں۔ آپ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں۔ مگر سلطان عبد الحمید خان نے اس پیغام کو مسترد کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ “جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک ترکی سلطنت موجود ہے، اس وقت تک اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ فلسطین یہودیوں کے حوالے کیا جائے۔ تمہاری ساری دولت پر بھی تھوکتا ہوں”۔

سلطان عبد الحمید خان کا جواب سن کر ہرتزل کی طرف انہیں برے نتائج بگھتنے کی دھمکی دی گئی۔ چنانچہ اس کے بعد فوراً ہی سلطان عبد الحمید کی حکومت کا نتیجہ الٹنے کی سازشیں شروع ہو گئیں جن میں فری میسن، دونمہ (وہ یہودی جنہوں نے ریاکارانہ اسلام قبول کر رکھا تھا) اور وہ مسلمان نوجوان شریک تھے جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آکر ترکی قوم پرستی کے علمبردار بن گئے تھے۔ ان لوگوں نے ترکی فوج میں اپنے اثرات پھیلائے اور سات سال کے اندر ان کی سازشیں پختہ ہو کر اس منزل پر پہنچ گئیں کہ سلطان عبد الحمید کو معزول کر دیں۔ اس زمانے میں ایک دوسری سازش بھی زور و شور سے چل رہی تھی جس کا مقصد ترکی سلطنت کے حصے بخرے کرانا مقصود تھا اور اس سازش میں بھی مغربی سیاست کاروں کے ساتھ ساتھ یہودی دماغ ابتدا سے کار فرما رہا۔ ایک طرف ترکوں میں یہ تحریک برپا کی گئی کہ وہ سلطنت کی بنا اسلامی اخوت کے بجائے ترکی قوم پرستی پر رکھیں۔ حالانکہ ترکی سلطنت میں صرف ترک ہی آباد نہیں تھے بلکہ عرب، کرد اور دوسری نسلوں کے مسلمان بھی تھے۔ ایسی سلطنت کو صرف ترکی قوم کی سلطنت قرار دینے کے صاف معنی یہ تھے کہ تمام غیر ترک مسلمانوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ختم ہو جائیں۔ دوسری طرف عربوں کو عربی قومیت کا سبق پڑھایا گیا اور ان کے دماغ میں یہ بات بٹھائی گئی کہ وہ ترکوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی جدو جہد کریں۔ اس دوران یہودی مسلسل اپنے خاکوں میں رنگ بھرتے رہے اور نتیجتاََ ترکی کے حصے بخرے کرکے خلافت کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا۔ یہ سب بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہمیںاپنے سبھی حواس مجتمع کرتے ہوئے اس طرح اپنی شروعات کرنی چاہئے کہ کہیں ہماری ریاست کا حشر بھی فلسطین جیسانہ ہو، کیوں کہ ہمارا بھی المیہ بلکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس سرزمین فلسطین کا ہے۔

ہماری ریاست کا خصوصی تشخص اور آبادیاتی حلیہ بگاڑنے کے لئے بھی ایک منظم طریقے سے اوراپنے آستین میں موجود اپنوں کی مہربانیوں سے ہماری ساخت کو مٹانے کے در پے کچھ غیر ریاستی تنظمیوں نے آرٹیکل 35Aکے خاتمہ کے لئے سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔

آئے جانتے ہیں آرٹیکل 35Aہے کیا؟ 

کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں کا پشتنی باشندہ ہو اور یہ ریاست اس کی جائے پیدائش ہو۔

 کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمت حاصل کرسکتاہے۔

 آرٹیکل 35A جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی گئی یا اس میں کسی ترمیم کے لئے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جموںکشمیر کے لئے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کیا جارہا ہے۔ آر ایس ایس کے ایک تھنک ٹینک گروپ جموں کشمیر سٹڈی سینٹر نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35A کو چیلنج کیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سے سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے۔

آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس ہیں جن میں سیکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہیں۔ اب دہلی میںارباب اقتدار کوٹ کچھری کا سہارا لے کر آرٹیکل کو ختم کر کے جموںکشمیر کی خصوصی پہچان ختم کرانے کے لئے پیچ تاب کھارہے ہیں اور اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو آباد کرانا چاہتے ہیں اور مستقبل میں رائے شماری کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لئے اس دفعہ پر تیغ و تبر چلانے کی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس آرٹیکل کے خاتمے اور اس کے حزف کئے جانے کے بعد کے بعد اقوام متحدہ میں جموں کشمیر کے حوالے سے منظوران قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت متاثر یاختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے رائے شماری کا موقعہ دیا جانا چاہئے۔

خدانخواستہ اگر یہ لوگ اس آرٹیکل کو ختم کرانے یا اس میں اپنی من پسند ترمیم تحریف کرانے میں کامیاب ہوئے تو غیر ریاستی طبقہ وارد ریاست ہوگا اور دولت کی ریل پیل کے بل بوتے پر بالکل وہی صورت حال ہوگئی جس کاسامنا فلسطین کو کرنا پڑرہاہے۔

کشمیر میں اگرچہ بہت سی برائیوں کو فروغ دیا جارہا ہے جس کی رومیں نوجوان نسل بہہ رہی ہے لیکن یہ بات پھر بھی عیاں ہے کہ اس خرمن امن میں کسی نہ کسی صورت اسلامی تشخص اب بھی باقی ہے لیکن جب یہ آرٹیکل ختم ہوگا تو صرف وہ لوگ ہی وارد وادی نہیں ہوں گے بلکہ ان کی تہذیب و ثقافت بھی ہمارا منہ چڑھانے آئے گئی۔ یہاں جس بھائی چار ا کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ جس کی تازہ مثال یہی ہے کہ جموں کا غیرمسلم طبقہ بھی اب مسلمانان کشمیر کے ساتھ سراپا احتجاج ہے۔ اگر اس قانون میں کوئی تغیر و تبدل کیا گیا تو وہ امن و امان کی خواب بن کر رہ جائے گئی۔ کسی کے مال و جان کا تحفظ ایک فسانہ بن جائے گا عفت مآب بہنیں اپنی پاک دامنی کو ترسیںگی۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اس سنجیدہ صورت حال کے پیش نظر اپنی منفرد سوچ اور فکر کی وابستگی سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا اور اپنے مذہبی تشخص کو باقی رکھنے کے لئے اس سلسلے میں اپنی حثیت کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا۔

ہندو مسلم سکھ عیسائی بودھ یکساں اس مصیبت کا شکار ہوں گئے اسی لئے بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھتے ہوئے سوچئے کہ ہم آئندہ نسلوں کے لئے کیا کر رہے ہیں اور کیا چھوڑ رہے ہیں اور اپنے وطن عزیز کا دفاع کر نے کے لئے کیا کررہے ہیں۔

آپ اس سلسلے میں کچھ کرنے کی ہمت کریں گے تو کامیابی آپ کے قدم چوم لے گئی۔ پُرامن طریقے اختیار کرتے ہوئے اوراتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک آواز ہوکر اپنی بات کو منوائے، دگر نہ پھر خون کے آنسو بھی بہاو ¿گئے تب بھی ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔

حالات کی مار جو آج سہہ نہیں پاو ¿ گے تو یقین کرلو پھر وہ دن بھی دور نہیں جب ہم اپنے سامنے اپنے لخت جگروں کو تڑپتے ہوئے دیکھیں گئے۔ ترستی ہوئی بیٹیوں کو دیکھیں گئے۔ یہ مصیبت کسی مخصوص طبقے پر نازل نہیں ہوگئی بلکہ اس نشانہ ہر صاحب دستار ہوگا، غریب بھی مار جھیلے گا اور امیر بھی ہاتھ ملتا رہ جائے گا کیوں کہ آنے والی مصیبت ایک بھیانک مصیبت ہے جس نے آرٹیکل 35A کے جنازے کا لبادہ اوڑھ کر آنے کی کوشش تیز کردی ہے.. وادی کشمیر کے

 جیالے لوگو تم ہمت و عظیمت کی راہ نہ چھوڑنا ,بس ایک بار یک زبان ہوکر اس مصیبت کاسامناکرو۔ یہ وقت کی پکار ہے۔ یاد رکھو کہ اس وطن کی خاک میں تمہارے پیارے مدفن ہیں علماءاولیاءکی مبارک زمین کو دوسرا فلسطین بننے نہ دیں۔ اپنے دلوںمیں موجود آہ و فغان کو یوں ضائع ہونے نہ دیں۔ تم میں قوت ہے، سوچوں کی اونچی پرواز ہے اوراگر اب نہ جاگئے تو جیتے جی مر جاﺅ گے لیکن تب تک بہت دیر ہوگی۔ غنیمت جانئے اس موقعہ کو عوام کی آواز و اتحاد کی گونج ایسی ہے جو بڑے سے بڑے قلعہ میں شگاف پیدا کرتی ہے۔ آپ چلئے تو کامیابی آپ کے قدم ضرور چومے گی ورنہ تمہاری داستان بھی نہ رہے گئی داستانوں میں۔

مزید دکھائیں

الطاف جمیل شاہ

سوپور، کشمیر

متعلقہ

Close