عالم اسلام

جسم جسم لہو لہان، بستی بستی آگ کا شعلہ

 رمیض احمد تقی                        

یہ دور مسلمانوں کے ہمہ گیر زوال کا دور ہے۔مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک دنیا کا کونہ کونہ مسلمانوں کے خون سے لالہ زار ہے؛جسم جسم لہو لہان، بستی بستی آگ کا شعلہ، بچہ بچہ ستم زدہ، جھلستے اعضا جلتے بدن، لٹکتی لاشیں بہتے خون، لٹتی عصمتیں اور آہ وبکا کرتے مردوزن؛ ظلم وبربریت اور سفاکیت وحیوانیت کا یہ دل سوز منظر تصوراتی آسیب زدہ کہانیوں جیسا لگتا ہے، مگر برما کے بے روح افسردہ بودھسٹ اور عدم تشدد کےخود ساختہ پجاریوں نے  برما میں حیوانیت ودرندگی کی جتنی بھی ممکنہ صورت ہوسکتی تھی، بلکہ اس سے بھی ماورا ظلم کی ایک نئی کہانی رقم کی ہے، کہ رواں رواں کانپ اٹھتا ہے، کلیجہ منھ کو آجاتاہے، دل حیران، عقل متحیراور آنکھیں پتھریاں جاتی ہیں کہ وہ انسان بھی ہیں؟

1962کے فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک روھنگیا مسلمان بودھسٹوں کے ظلم وستم کاشکارہوتےچلے آرہے ہیں۔اسی ظلم کی انتہانے 1970 میں تقریباً چھہ لاکھ برمی مسلمانوں کو ترکِ وطن کرنے پر مجبورکیاتھا۔ UN کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2012 سے اب تک پوری دنیا میں برمی مسلمان پناہ گزینوں کی تعداد 168، 000سے زائد تجاوز کرچکی ہے اور حالیہ بحران کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بنگلادیشی تنظیم ‘‘اتحاد جمعیات الروھنجیا بنغلادیش وبورما’’ نے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ25 اگست 2017 سے اب تک اس  فوجی تشدد میں تقریباً  6334 مسلمان شہید اور8349 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 1500سے زائد خواتین کی عزت لوٹی گئی اور 103  بستیوں کو نذرآتش کیا گیا ہے، جن میں 23250 گھر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، اس کے علاوہ 033500 لوگ بے گھر ہوئے اور جنگلات میں در درکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، تاہم ان میں سے  تقریباً28ہزار لوگ بنگلادیش پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ٍصوبۂ ارکان ورکھین کے دو کلو میٹر کاوہ پورا علاقہ جہاں کبھی زندہ انسان آباد تھا، آج وہ کھنڈروں میں تبدیل ہوچکا ہے، برساتی آندھیوں میں تنادار درختوں کی شاخوں کی طرح انسانی اعضا اور لاشیں جابجا بکھری پڑی ہیں، ٹھیلوں اور دیگر سواریوں پر مسلمانوں کی لاشیں ایسے پڑی ہیں، گویا جنگل میں لکڑیوں کو چننے والا بلاترتیب اپنی سواریوں پر لکڑیاں اکٹھا کرتا ہے۔ کئی کئی سیمل کے نوکیلے درختوں پر صنف نازک کی برہنہ لاشیں آویزاں ہیں، تو کسی شاخ پر جھلسی اور جھلستی انسانی جان۔ بچے ہیں کہ کسی کے پیر نہیں، تو کسی کے ہاتھ نہیں، تو کسی کی دونوں آنکھیں نکلی ہوئیں، تو کسی کے بازو اس کے جسم سے بزور طاقت کھینچ کھینچ کر اکھیڑے ہوئے، تو کوئی اپنی گود میں اپنے معصوم بھائی، بہن اور بچے کی جسم سے الگ کی ہوئی گردنوں کو رکھ کر اللہ سے فریا کرتا ہوا نظر آرہاہے، غرضیکہ الفاظ اور احساسات میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ ظلم وبربریت کی ایک ایک کہانی کو جو امن وانصاف کے ٹھیکہ دار بودھسٹوں نے برما کے مسلمانوں پر روا رکھاہے بیان کرسکے۔

  تاتاریوں کے ظلم وستم، ہٹلر کی انسانیت کشی کے قصوں سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے، مگر برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی اذیت ناک داستان اس سے بھی کہیں زیادہ خوف ناک، وحشنت ناک، الم ناک اور دل دہلادینے والی ہے۔

 افوس کی بات یہ ہے کہ اس انسانی بحران پر پوری دنیا اور پوری دنیا کی میڈیا کے لب سلے ہوئے ہیں۔ مغربی دنیا میں اگر کسی ایک انسان کا قتل ہوجاتا ہے، تو بشمول مسلمانی ممالک کے پوری دنیا سوگ وار ہے، لوگ مومبتیاں روشن کرکے پیدل مارچ کرتے ہیں اور ہر ملک کا صدر ووزیرآعظم فوراَََ ٹوئیٹ کرکے رنج وغم کا اظہار کرتا ہے اورظالم کے خلاف کی جانے والی ساری کارروایوں کی تائید کرتا ہے، مگربرما میں تین سالوں سے مستقل کوئی ایک نہیں، ایک سو بھی نہیں، ہزار بھی نہیں، لاکھوں کی تعداد میں لوگ قتل جارہے ہیں، عزتیں لوٹی جارہی ہیں، بچوں کو الیکٹرک شاک سے ڈرا ڈرا کرکے مارا جارہا ہے، بستیوں پر بستیاں ویران کی جارہی ہیں، مگر کہیں سے کوئی آواز نہیں آتی، کسی بھی ملک کا کوئی ذمہ دار کوئی ٹوئیٹ نہیں کرتا، چاروں طرف بالکل سناٹا ہے، گویا کچھ ہوا ہی نہیں!

  اس کو آپ کیا کہیں گے کہ جب فرانس میں کچھ لوگوں کا قتل ہوجاتاہے، تو پوری دنیا والوں کے شانہ بشانہ ہمارے یہ مسلم حکمراں کھڑے نظرآتے ہیں اور کاسہ لیسی میں محلات اوربرجوں کی روشنیاں تک بجھانے کا حکم صادر فرما آتےہیں؛بلکہ ہندوستانی ریاست اڑیسہ میں ایک غریب شخص کے پاس ایمبولنس کے کرایہ کے لیے پیسےنہیں ہوتے ہیں، تووہ اپنی بیوی کی لاش کو لے کرسولہ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل  ہی طے کرلیتاہے، تو بحرینی حکمران کی انسانیت کو ٹھیس پہنچتی ہے اور اس کو نو لاکھ روپیے کی مدد کرکے پورے عالمی میڈیا میں واہ واہی بٹورتا ہے، مگربرما کے مسلمان شاید  انسان نہیں، ان کی تکلیف کوئی تکلیف نہیں، ان کا بچہ کوئی بچہ نہیں اور ان کی جان کوئی جان نہیں؛ اسی لیے جب ان پر ظلم وبریت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، تو ان کے انسانی جذبے میں ہڑبونگ پیدا نہیں ہوتی؟ ان کی غیرت کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچتی اور ان کاضمیر انہیں ملامت نہیں کرتا!

 او آئ سی، یو این اور حقوق انسانی سے متعلق ساری تنظیموں کی آنکھیں صرف اسی وقت کھلتی ہیں جب کسی غیر مسلم کاقتل ہوتا ہے اورجب مغربی دنیا میں کسی  غیرمسلم پر کوئی ظلم ہوتاہے۔سعودی عرب جو عالم اسلام کی قیادت کی بات کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کو سجدہ کریں، لیکن کیا اس نے اپنی پوری تاریخ میں واقعی کبھی مسلم قیادت کا حق ادا کیا ہے، ظاہر ہے جس کی بنیاد ہی دھوکہ دھری اور خیانت پر ہو، وہ دوسروں کی خیانت پر کیا بولے گا؟ اور اسی بے حسی کاخمیازہ آج پورا عالم اسلام بالخصوص برمی مسلمانوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

  پاکستان کو بھی اپنی طاقت اور ایٹمی پاور پر بڑا ناز ہےاور یہ دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر ہندوستان سے الگ ہوا ہے، لیکن شعائر اسلام کی سب سے زیادہ دھجیاں اسی نے اڑائی ہے، مجاہدین کا چوغہ پہن کر نہتوں پر ظلم کیا ہے، اپنے ہی خانما کو لوٹا اور ویران کیا ہے۔آج اگر سب سے زیادہ غصہ اور افسوس کسی ملک کے حکمراں پر  ہوتا ہے، تووہ حکومت پاکستان  ہے۔

کیا یہ سوچ کر افسوس نہیں ہوتا کہ کہاں گئی ہمارے 34 مسلم ممالک  کی متحدہ فوجیں؟کہاں ہے ایران وپاکستان کی ایٹمی طاقتیں؟ اور کیا ہوگیااس عربی جاہ وجلال کو، جس سے پوری دنیالرزہ براندام تھی؟کیا یہ  سب مل کر بھی اپنے مظلوم بھائیوں کی دادرسی نہیں کر سکتے؟ ہرچند کہ حجاج بن یوسف ظالم تھا، مگر اپنی صرف ایک مسلم بہن کی آواز پر لبیک لبیک کہتا ہوا، ہزاروں میل دور کی مسافت کو گھوڑوں کے پیروں تلےروندتا ہوا ہندوستان پہنچ گیا اور راجہ داھر کو لوہے کا چنا چبانے پر مجبور کردیا، مگرآج تو مشرق ومغرب اور شمال وجنوب ہر طرف سے ہماری بہنیں اپنی عفت وعصمت کی گوہار لگارہی ہیں، لیکن پوری دنیا میں کوئی  بھی محمد بن قاسم کا کردار ادا کرنے والا نظر نہیں آتا؛کیونکہ ہم آج ہم بے حس اور بے غیرت ہوچکے ہیں، اسی لیے تو پوری دنیا میں ذلیل وخوار ہورہے ہیں۔

ان ناگفتہ بہ حالات میں  ترکی اور اردوگان حکومت نے جو پیش رفت کی ہیں ان کا کارنامہ یقیناً قابل ستائش ہے؛لیکن صرف روٹی کپڑا اور مکان ہی ان مظلوم اور ستم زدہ بھائیوں کا غم بھلانے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے آگے جن لاکھوں جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ان کا کیا ہوگا؟ تین سال قبل بھی جب بودھسٹ ان پر برق بے اماں بن کر گرے تھے، تب بھی ترکی حکومت نے خوب مدد کی تھی اورہزاروں کو اپنے گھر میں پناہ دیا تھا، مگر کیا ان کا وہ مسئلہ حل ہوگیا؟

 درحقیقت عدم تشدد کے پجاری یہ بودھسٹ انسانی خون پی پی کر باؤلے ہوچکے ہیں، ان کا علاج صرف تلوار ہے، ورنہ آج یہ کسی کی مداخلت پر خاموش ہوجائیں گے، مگر پھر کل مسلمانوں پر قہر برسائیں گے، عورتوں کو بے آبرو اور بچوں کو قتل کریں گے؛ہمیں تو ظالم ومظلوم دونوں کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا حکم ہے  اور ان سفاک ظالموں کی اس سے بہتر کیا خیرخواہی ہوسکتی ہے کہ برماکے مظلوم مسلمانوں کے  لیےروٹی، کپڑا اور مکان کے انتظام کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ایمانی قوت اور شوق ِشہادت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ وہ مستقبل میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوکراپنےخلاف اٹھنے والی تمام مخالف ہواؤں کا رخ بدل سکیں، کیونکہ ظالم کو ظلم سے روکنا بھی اس کے ساتھ خیرخواہی ہے۔لیکن اگر ہم ہر مظلوم مسلمانوں کی صرف روٹی، کپڑا، مکان اور پیسے سے مددکرتے رہے، ان کی استقامت اور ان کو مستحکم بنانے کی فکر نہیں کیے، تو جیسا ماضی میں ہواہے، مستقبل اس سے کہیں زیادہ وحشت ناک ہوگا، چنانچہ فلسطین لٹتا رہااور ہم پیسے  دے کرصرف ان کی بنیادی ضرورتوں ہی کو پوری کرتے رہے، شام وعراق میں بھی ہم نے پیسے خرچ کیے، کشمیر میں بھی پیسے خرچ کیے جارہے ہیں اور برما کے لیے بھی ہمارے سرمایہ کاروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ملک شام چھہ حصوں میں منقسم ہو کر برباد ہوگیا۔عراق بھی تاراج ہوگیا، افغانستان میں بھی دھواں دھواں ہے، بدقسمتی سے قطر بھی اپنوں کے درمیان محصور ہوچکاہے۔آج یہ چند مسلم ممالک کے مسائل ہیں کل یہی ہماراعالمی مسئلہ بن جائے گااور پھر اس وقت کوئی ہماری موافقت میں کھڑاہونے والانہیں ہوگا۔جب پوری عیسائی دنیا مل کردو الگ عیسائی ریاستیں قائم کراسکتی ہے، تو پوری مسلم دنیا مل کر برما اور کشمیر میں مسلمانوں کی الگ ریاستوں کی بنیاد کیوں نہیں ڈال سکتے؟

مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close