عالم اسلام

جلد بازی کی ذہنیت اور اُمت مسلمہ

ابراہیم جمال بٹ

’’طویل مدتی مسائل کے حل کی تلاش میں طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے تاہم یہ طویل سفر صبر آزما ہوتا ہے کیوں کہ اس سفر میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ اس سفر میں مصائب وآلام انسان کی اِس راہ میں رُکاوٹ ڈالنے کی بے حد کوششیں کرتے ہیں جو اس کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ ‘‘

جلد بازی عصر حاضر کے لوگوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، ہر وہ کام جس میں فائدہ محسوس کرتا ہے، جلد از جلد اس کی حصولیابی ہو جائے، اس کے لیے انسان جان توڑ کوششیں کرتا ہے تاہم ان کوششوں میں اگر انسان یہ بات ذہن نشین کر لے کہ میری اس جلد بازی کی وجہ سے ہی میرا فائدہ ہو سکتا ہے تو یہ سوچ اکثر وبیشتر اس کے نقصان کا باعث بن جاتی ہے کیوں کہ جلد بازی بذات خود ایک ایسا وصف ہے جس میں کام میں عجلت کا سہارا لیا جاتا ہے، صبر اوراستقامت کو خیر باد کہہ کر جلد بازی کو ہی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ گویا صحیح کام ہونے کے باوجود بھی اس میں نقصان کا زیادہ شائبہ رہتا ہے۔ اس کے برخلاف ایک ایسا انسان بھی اس دنیا میں پایا جاتا ہے جو کہ کام میں سست روی کا شکار ہو کر فائدے اور کامیابی کی ضمانت کو ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ طریقۂ سست رفتاری اُس کے ذہن وقلب پر سوار ہوکر اسے کاہل اور بے ضمیر بنا دیتی ہے اور کاہل وسست رفتاری سے کام کرنے والا سستی کا ہی شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

تیسرا انسان وہ ہوتا ہے جو کام میں نہ ہی جلد بازی دکھاتا ہے اور نہ ہی سست روی کا شکار ہوجاتا ہے بلکہ ان دونوں انتہاؤں کے برخلاف ایک ایسا معتدل طریقہ اختیار کرتا ہے جس میں اگرچہ اسے طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے لیکن اصل کامیابی اسی طویل سفر سے گزر کر ہی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس معتدل عمل سے اس کے اندر صبر کا مادہ پیدا ہوتا ہے، اسے مصائب وآلام سے سابقہ پیش آتا ہے جس میں وہ ثابت قدمی کا سہارا لے کر استقامت کا مظاہرہ کر پاتا ہے۔ یہ اوصاف اس کے اندر ون کو نہ صرف مضبوط سے مضبوط تر کر دیتا ہے بلکہ اسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند سخت سے سخت کام کے لیے کھڑا  بھی کر دیتا ہے۔

امت مسلمہ کے موجودہ مسائل جن کے حل کے لیے مختلف لوگوں کی طرف سے مختلف مشکلات کھڑے کر دئے گئے ہیں ان مسائل کے حل اور تدارک کے لیے مختلف قسم کے لوگ اپنی اپنی سوچ کا سہارا لے کر طریقے اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن حل ہونے کے بجائے امت مسائل میں مزید اُلجھتی ہی جارہی ہے۔ اس اُلجھائو کے نتیجے میں ملت سے وابستہ لوگوں کے درمیان ہی تضاد کھڑا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں آپسی انتشار جنم لے کر ایک دوسرے کو ہی پچھاڑنے کی نوبت آپہنچتی ہے اور اس طرح کامیابی کے بجائے ناکامی اپنا مقدر بن جاتی ہے۔ مسائل کی اس دنیا میں آج جن اہم چیزوں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ان میں ایک اہم اور خاص چیز جلدی بازی کی ذہنیت کے بدلے مستقل اور پائیدار سوچ وعمل کا ہونا ضروری ہے۔ یہ سوچ انسان کو ان مقاصد سے ہمکنار کرا سکتی ہے جو اس کی زندگی کی تگ ودو میں حائل ہو چکی ہیں ۔

جلد بازی انسان کی سوچ اور اس کی اندرونی طاقت وصلاحیت کو دھیرے دھیرے ختم کر دیتی ہے۔ کیوں کہ ایک انسان جب جلد بازی میں کسی کام کا بھیڑا اٹھا لیتا ہے، وہی کام جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ’’صحیح‘‘ بھی ہوتا ہے، جب اصل ہونے کے باوجود وہ انسان اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو اس کے اعضائِ جسمانی ہی نہیں بلکہ اس کی باطنی زندگی کا ایک ایک اعضاء جواب دے دیتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں کم ہمتی اور سستی ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ اسے اکثر وبیشتر اپنے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیتی ہے اور اس طرح وہ ناکامی کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے ’’ناکارہ ‘‘ہی بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ نہ صرف اس کی جلد بازی کی ذہنیت کی وجہ سے ہو تا ہے بلکہ سستی کا بھی اس میں عمل دخل ہے۔ جو کام اپنے وقت پر نہ کیا جائے اس کا فائدہ بے وقت انسان کو خوشی نہیں دیتی ہاں اگر اقتضائے وقت، مستقلاً اور پامردی کے ساتھ وہ اس کام میں محو جدوجہد رہتا ہے تو صبر، استقامت اور پامردی اس کی رگ رگ میں جابس جاتی ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’اگر کامیاب ہونا ہے تو بہادر شیروں جیسی زندگی گزارو، شیر تھک کر بھی ہار نہیں مانتا بلکہ ایک کے بعد ایک کوشش کرتا ہے اور اس کوشش کے دوران اسے مختلف قسم کے طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں ، اس کے اندر ہمت اور طاقت کا اس قدر احساس ہوتا ہے کہ وہ ہر جگہ اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے لیکن ہر مقام پر ایک ہی طریقے کا سہارا نہیں لیتا بلکہ جہاں جس طریقے کی ضرورت پڑتی ہے اسی کا سہارا لے کر آگے بڑھتا ہے۔

ملت اسلامیہ کی موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان اپنے اندر جذبہ خالص رکھ کر نہ تھکنے، نہ جھکنے والی سوچ پیدا کریں ، بلکہ اپناطرز زندگی اس طرح ترتیب دیں کہ اس کی ایک ایک کوشش میں صبر، استقامت اور ولولہ ہو، تاکہ وہ کام بنیادی کام اصل طور سے اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے۔ ملی مسائل ہوں یا دینی مسائل، سیاسی مسائل ہوں یا سماجی وگھریلو مسائل، ان مسائل کو یکمشت اور یکدم حل نکالنے کی کوشش کرنا اگرچہ کبھی کبھار ممکن ہوتا ہے لیکن اکثر وبیشتر ان مسائل کے حل کے لیے دیرپا اور صبر آزما انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ عالمی حوالے سے موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مسلمان غیروں کے ہاتھوں کٹ مر رہا ہے اور اس کے مدمقابل ملت اسلامیہ کے پاس عجلت اور فکری غلامی کی ذہنیت جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہے نقصان ملت اسلامیہ کا ہو رہا ہے۔ اس سوچ اور طریقہ کار پر وہ مسائل جو اب لگ بھگ ایک صدی سے لٹکے آرہے ہیں ان کے حل کے لیے کسی جذباتیت اور عجلت کا سہارا لیا جانا اقتضائے وقت نہیں ہے، اس کے لیے دوررس اور ایسی سوچ رکھنے والے گروہ کی ضرورت ہے جو ملت کے تئیں مخلص بھی ہوں اور باضمیر بھی ہوں ۔ جن کے اندر للہیت ہو، جو باکردار اور باصلاحیت ہوں ، جنہیں صرف آج پر نہیں بلکہ جو کل گزر چکا ہے اور جو کل آنے والا ہے اس پر بھی دور رس نظر ہو۔ کسی نے کیا خوب کہاہے کہ:

’’مسائل حل ہونے کو ہوں اور انسان اس سوچ میں رہے کہ اب کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ، صرف چند دنوں میں ہی وہ سب کچھ حاصل ہونے والا ہے، یہ سوچ انسان کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے میں حائل ہو جاتی ہے اور حل ہونے والا کام بھی بگڑ کر رہ جاتا ہے، ہاں اگر انسان مستقلاً اور پامردی کے ساتھ برابر اس وقت تک جڑا رہے جب تک مسئلہ کا حل اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے، تو لمبی مسافت بھی قریب دکھائی دیتی ہے اور آئندہ آنے والے ایام میں بھی خوشحالی اور کامیابی نظر آتی ہے۔

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close