عالم اسلام

حقیقی مرد میدان رجب طیب اردوگان!

عالم نقوی

یہ تحریر کس کی ہے نہیں معلوم لیکن کسی طاہر جمال صاحب نے اسے فیس بک سے اُٹھا کر وہاٹس ایپ پر پوسٹ کر دیا ہے۔ لیکن یہ اس لائق  ضرور ہے کہ تحریری شکل میں محفوظ ہوکر اخبار کے قارئین کے اُس حلقے تک بھی پہنچ جائے جس  کی رسائی سوشل میڈیا تک نہیں ہے۔

 ترکی کے مرد آہن رجب طیب اردوگان کی کامیابی اور مقبولیت کا راز، اُن کارناموں میں پوشیدہ ہے جو انہوں نے نہایت پا مردی، استقلال، دیانت داری اور بے لوثی کے ساتھ،صرف  گزشتہ  دس برسوں میں انجام دیے ہیں  جو  تمام مسلم حکمرانوں کے لیے نہایت روشن و تابندہ  مشعل راہ  ہیں  بشرطیکہ وہ اسراف، انانیت، ظلم ، تکبر اور برادر کُشی  سے   پیچھا چھڑا  کر خدمت خلق اور فلاح انسانیت کی  حقیقی اسلامی راہ پر  گامزن ہو سکیں !

۲۰۱۳ میں ترکی کی مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی )  ایک ٹریلین ایک سو ملین ڈالر کے بقدر  تھی جو مشرقِ وُسطیٰ کی تین مضبوط ترین اقتصادی قوتوں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی جی ڈی پی کے برابر ہے۔

ترکی  نہ صرف واحد مسلم ملک ہے جو  دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں (گروپ۔ ۲۰) کے کلب میں شامل ہے بلکہ رجب طیب اردوگان  کا ہدف اپنے ملک کو ۲۰۲۳ تک دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت  بنانا ہے۔

استنبول کا بین ا لا قوامی  ہوائی اڈہ آج یورپ کا سب سے بڑا انٹر نیشنل  ائیر پورٹ ہے جہاں یومیہ ایک ہزار  دو سو ساٹھ پروازیں اترتی  ہیں۔ مقامی ائیر پورٹ کی روزانہ  ۶۳۰ فلائٹس  اس کے علاوہ ہیں اور صرف اتنا ہی نہیں، مسلسل تین برسوں سے، دنیا کی بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز بھی ترک ائیر لائنس ہی کے پاس ہے۔

    ماحولیاتی تباہی   با لخصوص فضائی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی  کے اِس دورِ نا ہنجار میں ترکی کو یہ انوکھا  اعزاز بھی حاصل ہے کہ  وہاں  پچھلے دس  برسوں  کے دوران دو اَرَب سات کروڑ سَتَّر لاکھ پھل دار اور دیگر مفید و کار آمد  درخت  لگائے جا چکے ہیں۔

اردوگان کے  اس دور حکومت میں ترکی نے  اپنا پہلا خود ساختہ  بکتر بند ٹینک پہلا ائر کرافٹ، پہلا ڈرون اور اپنا پہلا مصنوعی سیارہ بنا کر خلا میں چھوڑ دیا ہے جو بہت سے عسکری اور دیگر تزویری امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رجب طیب اردوگان نے پچھلے دس برسوں میں ایک سو پچیس نئی یونیورسٹیاں، ایک سو نواسی اسکول اور کالج، پانچ سو دس نئے بڑے اسپتال اور تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ اُنہتر ہزار نئے درجات پر مشتمل عمارتیں بنوائی ہیں تا کہ طلبا کی تعداد فی کلاس ۲۱ سے زائد نہ ہو اور ٹیچر ان پر بھر پور توجہ دے سکیں۔ ۲۰۰۸ سے جاری قرض اور  مالی بحران  کے دوران جب امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیس میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن  رجب طیب اردوگان نے اس کے بر خلاف حکم دیتے ہوئے ملک کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں  بلا کسی فیس کے مفت تعلیم  دینے کے احکامات جاری کر دئیے  اور عام اعلان کر دیا کہ اعلیٰ تعلیم کا سارا خرچ اُن کی حکومت برداشت کرے گی۔

دس برس قبل ترکی میں فی کس  اوسط آمدنی تین ہزار پانچ سو ڈالر سالانہ تھی جو ۲۰۱۳ میں بڑھ کر گیارہ ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی کس اوسط آمدنی سے بھی زیادہ تھی ! اور صرف یہی نہیں اس دوران ترکی کی کرنسی کی قیمت میں  کسی بھی طرح کی گراوٹ کے بجائے  پہلے سے تیس گنا اضافہ ہو گیا۔

ترکی نے ۲۰۲۳ تک اعلیٰ علمی تحقیقات کے لیے تین لاکھ اسکالرز کی تیاری کا نشانہ مقرر کیا ہے۔۔ ہندستان  اور پاکستان جیسے ملکوں کے بر خلاف ترکی میں تعلیم اور صحت  کا سالانہ بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ یہاں ایک استاد اور ڈاکٹر کی تنخواہ برابر ہے۔ اردوگان کے عہد میں انجینئرنگ  کالجوں میں  ۳۵ ہزار نئی ٹکنالوجی لیبا ریٹریز بنائی گئی ہیں۔

رجب طیب اردوگان کی اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے قبرص کے دونوں حصوں میں قیام امن کو یقینی بنا دیا ہےاور کردوں کے ساتھ برابری کی سطح پر امن مذاکرات کے ذریعے خون خرابہ بند کرا دیا ہے۔ اس دوران آرمینیا کے ساتھ اپنے قدیم مسائل کو سلجھایا ہے  جو نوے سال سے معلق چلے آرہے تھے۔

ترکی میں کارکنوں اور مزدوروں کی کم از کم اجرت میں بھی تین سو فی صد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے یہ اجرت ۳۴۰ لیرا سے بڑھ کر ۹۵۷ لیرا ہو گئی ہے۔ بیروزگاری کی شرح بھی ۳۸ فی صد سے گھٹ کر محض دو فیصد پر آگئی ہے۔

دس سال قبل جب اردوگان نے زمام حکومت سنبھالی تھی تو قومی بجٹ خسارہ ۴۷ اَرَب ڈالر تھا انہوں نے نہ صرف اس خسارے کو ’صفر ‘ تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی بلکہ ورلڈ بینک کے قرض کی ۳۰۰ سو ملین ڈالر کی آخری قسط ادا کر کے اُسے پانچ ارب ڈالر کا قرض بھی دے  دیا ! وہ اپنے دور حکومت میں  اب  تک قومی خزانے میں ایک سو ارب ڈالر کا اضافہ کر چکے ہیں جبکہ عالمی کساد بازاری، قرض اور  شدید مالی بحران  کے باعث بڑے یورپی ممالک اور امریکہ جیسے ملک بھی بے پناہ قرض اور سود کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

دس سال قبل ترکی برآمدات ۲۳ اَرَب ڈالر سالانہ تھیں آج اُس کی برآمدات ایک سو ترپن ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہیں۔ ترکی آج دنیا کے  ایک سو نوے ملکوں کو اپنا بنایا ہوا سامان بر آمد کرتا ہے جس میں چار پہیہ گاڑیاں اور الکٹرانک سامان سر فہرست ہے۔ یورپ کے بازار میں بکنے والی ہر تین   الکٹرانک اشیا میں سے ایک ترکی کی بنی ہوئی ہوتی  ہے۔

ترکی نے اپنے کوڑے کرکٹ سے ’ری سائیکلنگ ‘ کے ذریعے بجلی بنانے میں غیر معمولی مہارت حاصل کر لی ہے جس سے ترکی  کی ایک تہائی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے ۹۸ فی صد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔

ابھی حال ہی میں رجب طیب اردوگان نے ایک ٹی وی  پروگرام میں  ایک بچے کے ساتھ مباحثے میں شرکت کی جس میں ترکی کے مستقبل کے بارے میں  گفتگو ہوئی۔ اس بچے کی عمر بارہ برس سے زائد نہیں تھی۔ اردوگان نے اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کی اپنے اس عمل سے اردوگان نے ترک بچوں کو  قومی مسائل پر گفتگو اور مباحثے  میں حصہ لینے کی ایک غیر معمولی مثال پیش کی۔ اس سے ترکی کے ان بچوں کے روشن مستقبل کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اردوگان نے اپنی بیٹی کے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کر دیا اور حصول تعلیم کے لیے اسے یورپ بھیج دیا جہاں اسوقت حجاب پر پابندی نہیں تھی جبکہ ترکی کی یونیورسٹیوں میں حجاب غیر قانونی تھا۔ اب عدالتوں اور تعلیمی اداروں سب جگہ  سے حجاب پر عائد پابندی ختم ہو چکی ہے۔ نوے سال بعد ترکی کی یونیورسٹیوں میں اب  قرآن اور حدیث کی تعلیم بھی  دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔

اِس زمانے میں جب ایک  عرب ملک نے کرسمس کے موقع پر دنیا کا سب سے بڑا کرسمس درخت بنانے کا ریکارڈ بنایا اردوگان نے نئے سال کے موقع پر بحر اسود کے کنارے پر جس کے ایک طرف یورپ اور دوسری طرف  ایشیا ہے، سب سے بڑے معلق پل پر بسم ا للہ الرحمن ا لرحیم کے حروف پر مشتمل لائٹنگ (روشنی ) کا مظاہرہ  کیا۔ اردوگان ترکی کے نصاب میں عربی رسم ا لخط کو بھی دوبارہ واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

صدر اردوگان نے ابھی حال ہی میں سات سال کی عمر کے دس ہزار بچوں کے ایک جلوس کا اہتمام کروایا جو استنبول کی سڑکوں پر یہ اعلان کرتے ہوئے چل رہے تھے کہ وہ سات سال کے ہو گئے ہیں اب وہ نماز اور قرآن پاک کا حفظ شروع کریں گے !

مضمون نگار نے لکھا ہے خود مسلم  دنیا کے بہت سے لوگ ان  تمام اقدامات  کو’ اردوگان کی حماقتیں ‘ کہتے ہیں۔ ۔کاش  تمام مسلم ملکوں کے رہنما اسراف، تبذیر، ظلم ، تکبر   اور برادر کشی کے بجائے اردوگان جیسی کچھ حماقتوں کے ذریعے اپنا نام کمانے  کی ’بدعت ‘ کر سکتے ِ !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close