عالم اسلام

حکمت مومن کا گم شدہ خزانہ ہے!

عالم نقوی

یہ مضمون اسمعیل راجی فاروقی  شہید کی معرکہ آرا کتاب ’ علوم کی اسلامی تشکیل جدید‘ پر مبنی اور ان کی فکر سے مستعار ہے:

علوم کی اسلامی تشکیل جدید ضروری اس لیے ہے کہ جو علم بھی مبداء اور معاد  کے تصور سے خالی ہوگا یا مذکورہ تصور سے ماسواء  بنیادوں پر قائم و استوار ہوگا وہ  ایمان یا صحیح اعتقاد اور  عمل صالح  کی بیک وقت پابندی کے تصور سے بھی بے نیاز ہوگا۔

مبداء سے مراد ہے مبداءِ اول، یعنی حضرتِ اَحدیَت، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ یعنی زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ بھی ہے، اُس کے بلا شرکت غیرے خالق و مالک اور پروردگار کی ذات ِ اقدس۔

اور معاد سے مراد ہے  آخرت، یعنی یوم حساب یعنی  ایمان و عمل کی بنیاد پر سزا و جزا کے فیصلے کا دن۔ نبوت مبدا ء ثانی ہے اس لیے مبدا ء اول ہی میں شامل ہے۔ یعنی افضل مخلوق انسانوں میں سے منتخب شخصیت کا وہ عہدہ جس کے تحت اُسے مبداءاول  کا پیغام انسانوں تک پہنچانے کے لیے چُن لیا گیا ہو۔ جو یہ بتائے کہ ہم اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور اُسی کی طرف لَوٹ کے جانا  بھی ہے۔ جہاں آخرت کے دن ہمیں اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔ اور یہ کہ نہ صرف  انسان بلکہ کوئی بھی مخلوق بلا وجہ خلق نہیں کی گئی ہے۔ ربنا ما خلقت ھٰذا با طلاً !

آج ماڈرن علوم خواہ وہ سائنسی ہوں یا سماجی، ایمان  وعمل کی لازمی بنیادوں سے عاری ہیں۔ اگر چہ ابتداً ایسا نہ تھا۔ دوسری صدی ہجری سے ساتویں صدی ہجری  (یعنی آٹھویں صدی عیسوی سے چودہویں صدی عیسوی تک ) کا زمانہ  اسلامی سائنس اور علوم کی بالادستی کا زمانہ تھا۔ لیکن جب اپنی غلط کاریوں اور کفران نعمت کے سبب صہیونی و نصرانی سازشوں کے بارآور ہوجانے کی وجہ سے ہم سیاسی بالا دستی سے محروم ہوگئے تو اسلامی سائنس کی بالا دستی بھی قائم نہ رہ سکی۔ کیونکہ آزادی کے آداب و حدود جن کا اسلام نے پابند بنانے کی کوشش کی تھی ب’مغضوب علیہم اور ضالّین انسانوں کو بہت ناگوار تھے۔ یعنی جب مسلمان اسلام کے نفاذ سے معذور ہوا تو نظریاتی غلامی بھی اُس کا مقدر ٹھہری۔

شاق تھے انساں کو آزادی کے آداب و حدود

آخر اس کو بستہ ء زنجیر ِدُنیا کردیا

اس بے لگام آزادی نے ایک طرف ابا حیت کو جنم دیا تو دوسری طرف  علوم کے سیکولرائزیشن نے باز پُرس اور جواب دہی کے احساس  ہی کو فنا کر دیا۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

ترقی کا اصل مقصد، چاہے ترقی سائنس کی ہو یا تکنا لوجی کی، انسان کی خدمت  اور پوری بنی نوعِ انسانی کے لیے رحمت ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مبدا ء اور معاد  سے بے نیازی کے سبب ہوا و ہوس کو بالادستی ملی اور خود ترقی ہی عذاب بن گئی۔

ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے، بارودی سرنگوں کا قہر، کیمیاوی اسلحوں کی مصیبت، ماحول کی ناقابل تصور آلودگی، قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال  اور بربادی، پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور جاں گسل بیماریوں کا فروغ اِس ’ترقی‘ ہی کا نتیجہ تو ہیں !

ترقی نے تنزلی کی یہ صورت صرف اس لیے اختیار کی علوم اور سائنس کو مبدا ء اور معاد کی گرفت سے آزاد کر دیا گیا تھا۔ نتیجے میں انسان کو ’بستہ ء ِ زنجیر ِ دُنیا ‘ تو ہو نا ہی تھا !

  اسمعیل راجی شہید ایک عظیم اسلامی مفکر تھے۔ ’علوم اسلامی کی تشکیل جدید‘ اُن کی ایک مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے جسے عرصہ ہو ا ’المرکز ا لدراسات ا لعلمیہ علی گڑھ نے شایع کیا تھا۔ مصنف نے تو یہ کتاب آج سے چھتیس سال قبل ۱۴۰۳ ہجری میں تصنیف کی تھی لیکن اس کے اثرات  پوری اسلامی دنیا میں با ستثنائے ایران اشاعت ِکتاب کے دس بارہ سال بعد ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے۔ ایران کو ہم نے اس لیے مستثنیٰ رکھا ہے کہ وہاں تو  علوم کی اسلامی تشکیل جدید کا  یہ عظیم کام  اسمعیل راجی شہید کی اِس کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی کافی حد تک ہو چکا تھا۔ اسی کے نتیجے میں مذکورہ کتاب کی اشاعت سے پانچ سال قبل ہی وہاں اسلامی انقلاب برپا ہو ا تھا۔

فروری ۱۹۷۷ کے انقلاب اسلامی کے بعد ایران کی مدبر اور دانشمند اسلامی قیادت نے پہلا کام یہی کیا تھا کہ میڈیکل اور انجینیئرنگ سمیت عصری تعلیم  کے تمام اداروں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو فوری طور پر بند کر کے علوم جدیدہ کی اسلامی تشکیل جدید کا یہ کام  جنگی پیمانے پر شروع کر دیا تھا اور عالمی لومۃ لائم اور چیخ پکار کے باوجود تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کو اس وقت تک موقوف رکھا گیا تھا  جب تک کی مذکورہ کام کم سے کم ضرورت کو پورا کرنے کے لائق نہیں ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ علوم اسلامی کی تشکیل جدید کا یہ کام ایران میں کسی مرحلے پر بند نہیں ہوا اور آج بھی جاری ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ صہیونی مغربی، بالخصوص امریکی معاشی تکنیکی اور علمی پابندیوں کے باوجود نیو کلئیر تکنالوجی کے ’غیر جنگی سِوِل استعمال ‘پر اِس درجہ قادر ہو چکا ہے کہ اُس نے ایسی سیمنٹ تیار کر لی ہے جس  سے بنی ہوئی چھتوں اور دیواروں کو امریکہ اور اسرائل کے وہ  جدید ترین ’بنکر بسٹر بم ‘ بھی نہیں توڑ سکتے جو پہاڑوں کے اندر گھسنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جنہوں نے افغانستان کی مشہور ’’تورا بورا ‘‘پہاڑیوں میں بڑی تباہی مچائی ہے !اور یہی سبب ہے کہ ایران ایٹمی توانائی کا جنگی استعمال یعنی نیو کلئیر اسلحہ سازی نہیں کر رہا ہے !

اس کے بعلاوہ ایران نے اللہ کی مدد اور توفیق سے  مغرب کی مدد کے بغیر، محض اپنے بل بوتے پر کمپیوٹر ٹکنا لوجی، خلائی (اسپیس) تکنالوجی اور میزائل ٹکنالوجی   میں ایسیمحیر العقول کامیابیاں حاصل کی ہیں جنہوں نے اسرائل، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور چین سب کو انگشت بدنداں کر رکھا ہے۔ امریکی جاسوس ڈرون  کو ایران کی فضائی حدود میں بہ حفاظت اتار لینا اور سیریا میں اسرائلی ڈرون کو مارگرانا اس کا ثبوت ہیں۔

بقیہ اسلامی دنیا میں بھی یہ کام آج ایران ہی کی طرح کامیابیوں کی نئی بلندیاں  سر کر رہا ہوتا اگر بعض عرب ممالک نے براہ ِملوکیت  و صہیونیت، اسلام ِراستین کوعراق و افغانستان اور یمن و سیریا میں  سبوتاج   نہ کیا ہوتا۔ یہ صہیونیت کے  عرب غلام ہیں جنہوں نے  ایک طرف پچھلے پچیس تیس برسوں کے دوران با لخصوص، اخوان ا لمسلمون، حماس، سرایا الجہاد، حزب اللہ، لبنان، افغانستان، غزہ، عراق، ایران، یمن، ،کویت، بحرین، سیریا، لیبیاا و ر نائیجیریا وغیرہ  کو  تاراج  کیا ہے اور دوسری طرف علوم اسلامی کی تشکیل جدید کے کام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔

 حقیقی دہشت گردوں  نے  اگر اخوان ا لمسلمون، حماس، حزب اللہ اور ایران کو دہشت گرد قرار دے کر اور اُنہیں نقصان پہنچانے کی ہر اِمکانی کوشش کے ذریعے اکیسویں صدی میں  مغضوب علیہم بنی اسرائل کے لیے ’’حبل من الناس ‘‘بن جانے  کا کام نہ کیا ہوتا تو آج زمینی  صورت حال  مختلف ہوتی۔

لیکن، مکرو ا و مکر اللہ۔ ایران، انڈو نیشیا و، ملیشیا سے با لعموم اور  اکیسویں صدی کے مرد آہن رجب طیب اردوگان کی دانشمند اور پُر اَز حکمت قیادت میں ترکی سے بالخصوص  نہایت امید افزا اشارے مل رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ایران اور ترکی کی دینی و سیاسی قیادت  کو یہودی  قرار دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کو صہیونی کھیل سمجھتے ہیں وہ ، فی الواقع ان ہی  بد بخت منافقین میں سے  ہیں جو ایران اور حزب اللہ اور حماس و اخوان ا لمسلمون کودہشت گرد کہتے ہیں اور اہل ایمان کے دائمی دشمنوں کے معاون و مددگار بنے ہوئے ہیں !

برادر عزیز محمد مجاہد سید کے لفظوں میں حقیقت یہی ہے کہ یہاں لشکروں کی کمی نہیں یہاں صرف قحط رِجال ہے۔ اور یہ کہ:

عشق اب ہم سے یہاں کار ِدِگر چاہتا ہے

یعنی اَب کار ِجنوں، طشت میں سر چاہتا ہے

اس لیےاب:

طشت میں سر لے کے اپنا جائیں گے سوئے عدو

کیا ہمیں غم اب جو پیارے منحرف ہونے لگے!

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close