آس پاسخصوصیعالم اسلام

دینی قیادت کا المیہ!

اب بھی وقت ہے کہ قیادت حالات کا ادارک کر کے از سر نو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے، اپنی غلطیوں پر غور کیا جائے اور نئے انداز میں آگے بڑھا جائے۔

محمد عرفان ندیم

انتخابات ہوچکے، کچھ لوگ مسند اقتدار سنبھال چکے، اداروں نے فیصلہ سنا دیا، تاریخ کا فیصلہ مگرابھی باقی ہے۔ اس سارے ہیر پھیر میں البتہ ایک المیہ تھا جو دینی قیادت پر گزر چکا مگر قیادت ہنوذ دلی دور است کے عہد میں جی رہی ہے۔ ایک طوفان تھا جس نے سب کچھ ملیا میٹ کر کے رکھ دیا مگر دینی قیادت اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں کر پائی کہ شاید ابھی مزید تباہی کی منتظرہے۔

سماج کی اصلاح، ریاست مدینہ کا احیائ، عوام کے ایمان کی فکر، امت مسلمہ کی زبوں حالی اور ملک میں ا سلامی نظام کے قیام کی جو فکر دینی مدارس اور مذہبی قیاد ت کو ہے کوئی کورچشم ہی اس سے انکار کر سکتا ہے، افسوس مگر یہ ہے کہ یہ فکر کسی حکمت عملی میں نہ ڈھل سکی۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، ستر سال بیت چکے، ہزاروں کی تعداد میں مدارس اور لاکھوں ورکرہونے کے باوجود، یہ لوگ ملک کے کسی ایک کونے میں بھی اپنی خوابوں کی تعبیر نہیں ڈھونڈ سکے، تعبیر تو دور کی بات عوام تک اپنا بیانیہ تک نہیں پہنچا سکے، بیانیے کا ابلاغ تو دور ستر سالوں میں یہ اپنا بیانیہ تک تشکیل نہیں دے سکے، دل کو رووں کہ پیٹو ں جگر کو میں۔

پچھلے آٹھ دس سالوں میں ملکی سطح پر جو سیاسی و سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں اس میں اس قیادت کے لیے عبرت کے ہزاروں سامان پوشیدہ ہیں شرط مگر یہ ہے کہ کوئی سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لینے کو تیار ہو۔ جذبات کی بجائے ادارک کا قائل ہو اور جوش سے ذیادہ ہوش کا مقتدی ہو۔اس پرتاریخ اور ماضی البتہ گواہ ہیں کہ ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ماضی میں جو قیادت تیار ہو ئی جو اس وقت لیڈنگ پوزیشن میں ہے اس کا فکری ڈھانچہ ان خطوط پر استوار ہوا ہی نہیں جو حالات کا گہراادراک رکھتا ہو، وہ فکر اور مزاج ہی نہیں بن پایا جو ملکی اور عالمی حالات کا جائز ہ لے کر مناسب حکمت عملی تشکیل دے سکے۔ وہ فکری افق جس کی نشاندہی اقبال نے کی تھی عرصہ ہوا مفقود ہے، نتیجہ یہ نکلا کہ میرے جیسے سرپھرے قلم کاغذ پکڑ ے نوحہ لکھنے پر مجبور ہیں۔

سماج کی اصلاح اور امت مسلمہ کی نشاة ثانیہ کے لیے محض اخلاص کافی نہیں بلکہ حکمت عملی، جہد مسلسل اور بھرپور تیاری کے ساتھ میدان عمل میں اترنے کی ضرورت ہے۔ آج کہاجاتا ہے ہم محض کوشش کے مکلف ہیں میرا ماننا مگر یہ ہے کہ اگر کوشش ہی کر لی جاتی تو حالات مختلف ہوتے۔ حالات سے گھبرانے اور محنت سے جی چرانے کے لیے البتہ یہ بہانا خوب ہے۔

 ڈاکٹر طاہر القادری جیسا غیر سنجیدہ شخص پوری مذہبی قیادت کے لیے مثال ہے، ایک پلڑے میں ساری مذہبی قیادت کو رکھ دیا جائے دوسری طرف اکیلے طاہر القادری کو بٹھا دیا جائے تو موصوف کا پلڑا جھک جائے گا۔ اس کی پالیسیز اور طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس نے جو محنت کی اور حکمت عملی اپنائی اس سے انکار کرنا البتہ ممکن نہیں۔ ملک بھر میں سینکڑوں اسکول، منہاج القرآن کا نیٹ ورک، منہاج یونیورسٹی اور سینکڑوں کتب پر مشتمل اسلامک لٹریچر۔ ان کتب کی استنادی حیثیت مشکوک سہی مگر یہ کوئی چھوٹا کام نہیں۔ یہ سب کام ڈاکٹرطاہر القادری کی قیادت میں ہوا، دوسری طرف ساری مذہبی قیادت مل کر ایک یونیورسٹی تک نہ بنا سکی، تصنیف و تالیف کے میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ سرا نجام نہ دے سکی، اس کے باجود البتہ کوئی سوچنے کو تیار نہیں، وجوہات کچھ بھی ہوں مگر یہ المیہ ہے جس کاتاحال احساس دینی قیادت کو نہیں ہوا۔

سیاسی سطح پر وہ ایک سے زائد مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے، قومی اور انٹرنیشنل میڈیا میں ان کا نام گونجتا رہا۔ انہوں نے کئی مرتبہ خمینی بننے اور خمینی طرز کا انقلاب لانے کی کوشش بھی کی گو کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے سبق تو بہر حال ان سے سیکھا جا سکتا ہے۔ اب بھی موصوف ملکی سیاست میں ہلچل مچائے رکھتے ہیں، یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ حکمت عملی، جہد مسلسل اور دن رات کی محنت سے ہوا۔ یہ فرد واحد کی حکمت علمی کا نتیجہ ہے دوسری طرف پوری دینی قیادت ستر سالوں میں ا یسی کوئی حکمت علمی ترتیب نہ دے سکی۔ دینی قیادت سے میری مراد صرف مذہبی سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہزاروں مدارس، ان کے مہتممین، تبلیغی و دعوتی جماعتیں اور دین کی فکر رکھنے والا ہر طبقہ اور انسان اس میں شامل ہیں۔

دوسری مثال عمران خان کی ہے، وہ جس طریقے سے بھی اور جن بیساکھیوں کا سہارا لے کر مسند اقتدار تک پہنچے اس پر بات ہو سکتی ہے مگر امر واقعہ یہی ہے کہ وہ منزل مراد کو پا چکے۔ پائیلو کوئیلو نے جو کہا تھا عمران خان اس کا واقعاتی ظہور بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اگر آپ کسی چیز کو پانے کی سچی خواہش اور تڑ پ رکھتے ہیں تو ساری کائنات اس چیز کو پانے میں آپ کے ساتھ اس سازش میں شریک ہو جاتی ہے۔ عمران خان کی کامیابی انہوں سازشوں کا نتیجہ ہے کہ اس نے کائنات کو اپنے عزم اور ارادے میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس نے بائیس سال جد و جہد کی، اس جد وجہد کی نوعیت پر کلام ہو سکتا ہے، اس کے طرز سیاست پر بھی تنقید ہو سکتی ہے مگر اس نے جو منزل پائی کوئی کھلی آنکھوں سے اس کا انکار نہیں کر سکتا۔

عمران خان کا مشن ملک سے کرپشن کا خاتمہ تھا، یہ مشن اہم سہی مگر دینی قیادت، ارباب مدارس اورامت کی نشاة ثانیہ کی فکر کرنے والوں کا مشن اس سے کہیں ذیادہ مقدس اور اہم ہے، افسوس مگر یہ ہے کہ یہ اس مشن پر کبھی سنجیدہ نہ ہوسکے، ان کی یہ فکر کسی حکمت عملی میں نہ ڈھل سکی، نتیجہ یہ نکلا کہ ستر سال گزرنے کے باوجود یہ لوگ ابھی اپنا بیانیہ تک تشکیل نہیں دے سکے۔ ان کی فکر اور تڑپ کائنات کو اپنے ساتھ سازش میں شریک نہ کر سکی اور ان کے ارادے کسی مجسم شکل کا روپ نہیں دھار سکے۔ اب لگتا یہ ہے کہ ان کی محنت، کوشش اور اخلاص کا واقعاتی ظہور کم از کم ہماری نسل کے سامنے تو ممکن نہیں۔

اب بھی وقت ہے کہ قیادت حالات کا ادارک کر کے از سر نو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے، اپنی غلطیوں پر غور کیا جائے اور نئے انداز میں آگے بڑھا جائے۔ محض ”کوشش کا مکلف “ ہونے کے خمار سے باہر نکلا جائے اور معاصرین کی حکمت عملی اور جد و جہد سے سبق سیکھا جائے۔

انتخابات ہوچکے، کچھ لوگ مسند اقتدار سنبھال چکے، اداروں نے فیصلہ سنا دیا، تاریخ کا فیصلہ مگرابھی باقی ہے۔ اس سارے ہیر پھیر میں البتہ ایک المیہ تھا جو دینی قیادت پر گزر چکا مگر قیادت ہنوذ دلی دور است کے عہد میں جی رہی ہے۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close