عالم اسلام

رمضان اور اتحاد امت

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اسلام کی خوبی اور خصوصیت یہ ہے کہ اسلام میں افتراق سے زیادہ اجتماع، دوری سے زیادہ یکجائی اورفرقہ بندی سے زیادہ قربت وحدت  پر زور دیا گیا ہے، سارے مسلمانوں کا ’’رب ‘‘ ایک، ’’دین ‘‘ ایک، ’’قرآن ‘‘ ایک، ’’شریعت‘‘ ایک، ’’قبلہ ‘‘ ایک جو ان کے آپسی اتحاد واتفاق کا ثبوت ہیں ، اسی طرح رمضان المبارک میں بھی کچھ عوامل اور اسباب ایسے ہیں جو مسلمانوں کے اتحاد اور ’’وحدت امت‘‘ پر دلالت کرتے ہیں ۔ دیگر ماہ وشہور کے مقابل اس ’’اتحادامت ‘‘ کا خوب مظاہرہ اس ماہ ِ مبارک میں ہوتا ہے۔

۱۔ ماہ رمضان کوروزہ کی فرضیت سے قبل ہی سے، اس کے ماہِ نزول قرآن ہونے کی وجہ سے شرافت اور فضیلت حاصل ہے، اور خود قرآن کریم میں جا بجا ’’وحدت امت ‘‘ کی دعوت کی دی گئی ہے، مسلمانوں کی مابین پھوٹ اور تفرقہ بازی اور فرقہ بندیوں کو ناپسند کیا گیا ہے، رمضان المبارک کے موقع مسلمانوں کو خصوصا یہ سبق یاد رکھنا چاہئے،اس ماہ کے ماہ نزول قرآن ہونے کی وجہ سے قرآن کا یہ پیغام مسلمانوں کے پیش نظر رہے کہ قرآن کریم میں جا جا بجا اتحاد اتفاق کی دعوت دی گئی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے :

’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَائً  فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ إِخْوَانًا‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)

(اور مضبوطی سے تھام لو اللہ کی رسی کو سب (مل کر)اور تفرقے میں نہ پڑو اور اللہ کی نعمت کو یاد کروجو اس نے) تم پر کی جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے الفت ڈال دی تمہارے دلوں میں تو تم ہوگئے اس کی نعمت (مہربانی)سے بھائی بھائی )

اور اسی طرح ارشاد خداوندی ہے :

’’ وَتَعَاوَنُوا علَی البِرِّ والتَّقْوی وَلَا تَعَاوَنُوْا علی الاِثْم وَالعُدْوَان‘‘ ( سورۃ المائدۃ : ۲)

( اور آپس میں نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر آپس میں مدد نہ کرو )۔

۲۔ مسلمانوں کے مابین ایک نقطہ اتحاد ماہ رمضان یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان بیک دم، بیک وقت روزہ کے لئے فجر سے پہلے کھانے سے رک جاتے ہیں اور ایک وقت میں اذان مغرب سے پہلے افطار کرتے ہیں ۔ جو ان کی اکائی اور وحدت کا بین ثبوت ہے۔

۳۔ رمضان المبارک میں مسلمانوں کے مابین ایک نقطہ اتحاد یہ بھی ہوتا ہے کہ سال کے دوسرے ماہ واوقات وشہور کے بالمقابل رمضان المبارک میں باجماعت نماز کا اہتمام بغیر کالے گورے، شکلوں اور رنگوں اور نسلوں کے اختلاف کے ایک امام کے پیچھے ادا کرتے ہیں ، اس کی اتباع واقتدا ء کرتے ہیں ، اس کے رکوع پر رکوع کرتے ہیں ، سجدہ پر سجدہ، اس کے سلام پھیرنے پر سلام پھیرتے ہیں ، جو ان کے اتحاد واتفاق اور ’’وحدتِ امت‘‘ کے علامت اور نشانی ہے، اسی طرح نماز تراویح بھی باجماعت مسجد میں ادا کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے مساجد مسلمانوں کے قراء ت، نماز، عبادت اوردعاء سے معمور ہوجاتے ہیں ، یہ خود ان کے آپسی اتحاد کا مظہر اتم ہے۔

۴۔ مسلمان یکجا روزہ رکھ کر، اپنے آپ کو اللہ کے حکم پر بھوکا اور پیا رکھ کر اپنے غریب مسلمانوں بھائیوں کی بھوک اور پیاس کا احساس اپنے اندر پیدا کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے صدقات میں اضافہ ہوجاتاہے، ان کے اندر جذبہ انفاق فزوں تر ہوجاتا ہے، اس طرح مسلمانوں کے مابین ہمدردی اور غم خواری پنپتی ہے، جو بجائے خود ان کے آپسی اتحاد واتفاق کا ایک نمونہ ہے۔

۵۔ یہی وجہ ہے کہ مالدار اور اغنیاء غریبوں اور مسکینوں کے غربت کے مداوا اور علاج کے غرض سے اپنے اموال کی زکاۃ رمضان المبارک میں نکال کر ان کے غربت اور افلاس کے خاتمے کا سامان کرتے ہیں ۔

۶۔  رمضان المبارک میں اجتماعی افطار کا نظم اغنیاء اور امراء کرتے ہیں ، جس میں بلا تفریق امیر وغریب کے افطار کا نظم ہوتا ہے، جو کہ مسلمانوں کے آپسی اتحاد واتفاق کا مظہر ہوتا ہے۔

۷۔ گھروں اور خاندانوں اور محلوں اور پڑوسیوں میں بھی افطار کی دعوتوں کا نظم ہوتا ہے، اس طرح مسلمانوں کا آپسی اتحاد اور اجتماع ہوتا ہے۔

۸۔ اسی طرح رمضان المبارک میں جو دینی اور قرآنی حلقے ہوتے ہیں ، جس میں دین کی بات سنائی جاتی ہے، مسلمانوں کو اعمال پر ابھارا جاتا ہے، ان حلقوں میں مسلمانوں کی شرکت اور ان کا یکسوئی کا ساتھ حلقے کی شکل میں مجتمع ہو کر سننا یہ خود مسلمانوں کی اجتماعیت کا نمونہ ہوتا ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے آپسی اتحاد اورواتفاق اور اور ’’وحدت امت‘‘ اور ’’اتحاد امت ‘‘ کامظہر اتم اور اعلی وارفع نمونہ ہوتا ہے، بہت سارے امور میں یہ مہینہ بلا کسی تفریق کے غریب اورامیر کے عمل کو اکٹھا کرتا ہے، سب میں درد اور بھوک اورپیاس کی شدت کا احساس پیدا کرکے غریب کی غربت اورمفلسی کے علاج کا سامان اور داعیہ وجذبہ امراء میں پیدا کرتا ہے، سب یکجا اور اکھٹا ہو کر مساجد میں تراویح، تلاوت قرآن، دعا وعبادات، دین وایمان کے مذاکرے اور اعتکاف جیسی عبادت اور شب قدر کی تلاش وجستجو کے لئے اکٹھا ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close