عالم اسلام

رہ گئی اذاں روح بلالیؓ نا رہی!

شیخ خالد زاہد

انتھک بھاگ دوڑ کے بعد انسان اپنے سے وابسطہ لوگوں کیلئے معمولات زندگی کے لوازمات جمع کرتا ہے لیکن ان لوازمات کے ساتھ ساتھ اس انتھک محنت کا بھی کوئی صلہ ملتا دیکھائی نہیں دیتا۔ صلہ سے مراد قطعی کسی قسم کی خصوصی فرمانبرداری یا مادی فائدہ نہیں ہے۔ گھر کی ذمہ داری جس کے کاندھوں پر قدرت نے ڈالی ہے یہ اس پر فرض ہے کہ وہ ہر ممکن گھر والوں کی حلال روزی و رزق سے انکی اعانت کرے۔

یہ دور جاہلیت کی باتیں ہیں جب بے وجہ ہی لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے محلے میں کوئی بیمار ہوجاتا تو سارا کا سار امحلہ ہی بیمار کے گھر کے باہر بیٹھا رہتا، کیا معلوم کس وقت کس چیز کی ضرورت پڑ جائے اور بیمار کے گھروالوں کے پاس موجود نا ہو، جس کسی کے خود کچھ پاس نہیں ہوتا تھا وہ بھی گردن جھکائے پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں۔ غرض یہ کہ بغیر ماتھے پر شکن لائے گھر میں موجود خواتین بھی اس عمل میں اپنا حصہ کسی نا کسی طور ڈالا کرتی تھیں۔ خوف صرف ان جن بھوتوں سے ہوتا تھا جو دیکھائی نہیں دیتے تھے اور بچپن سے گھروالے یہ خوف ساتھ باندھ دیتے تھے۔ خصوصی دعاکروانے کیلئے وہ شخص بھی مسجد کا رخ کرلیتا تھا جو کہ جمعہ کی نماز کیلئے بھی مسجد کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔ بچوں کو بلاخوف گھر سے باہر کھیلنے کی اجاز ت مل جاتی تھی لیکن یہ ڈر بھی ساتھ باندھ دیا جاتا تھا کہ پکڑنے والا تھیلے میں ڈال کر لیجاتا ہے کہیں دور نہیں جانا، گلی میں بیٹھے بزرگ ان بچوں کے حفاظت کرنے والے تھے جو صبح سے لیکر رات گئے تھے گلیوں میں موجود ہوتے تھے، ان بزرگوں کی ایک بات یہ بھی بہت خاص تھی کہ بچوں کو بغیر کسی وجہ کہ روکا ٹوکا نہیں کرتے تھے جسکی وجہ سے بچوں میں ان بزرگوں کا ادب و احترام۔ معلوم نہیں شاگرد کن وجوہات کی بنا پر استادوں کا احترام کیا کرتے تھے۔ رشتوں کا کال بھی نہیں تھا اور شادیاں بروقت ہوجایا کرتی تھیں۔ آذان دینے والے مؤذن بھی محلے کا ہی کوئی بزرگ ہوا کرتا تھا اور اس کی آواز پر لبیک بھی کہا جاتا تھا، یہ وہ وقت تھا جب آذان اپنی اہمیت رکھتی تھی خاموشی اختیار کی جاتی تھی اور اس بات کی تلقین بھی کی جاتی تھی۔ ان ساری رونقوں، خیر و برکت کے پیچھے بڑوں کا ادب و احترام تھا۔

آہستہ آہستہ ہمارا معاشرہ بزرگوں کی صحبت سے دور ہوتا چلا گیا اس کی وجہ ان بزرگوں کا اللہ کو پیارے ہونا بنااور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ محلوں کے وہ چبوترے جن پر بچوں کی حفاظت کیساتھ ساتھ تربیت کرنے والے بیٹھا کرتے تھے سونے ہوتے چلے گئے پھر وہ چبوترے ٹوڑ دئے گئے اور ان جگہوں کو بھی گھر کی تعمیر میں شامل کرلیا گیا۔ کیونکہ یہ چبوترے ایسے آوارہ گردوں کی اماجگاہ بننا شروع ہوگئے تھے کہ جن کا کام محلے والوں کو کسی بھی طرح سے تنگ کرنا تھا۔

ایک استاد نے اسکول میں ایک طالب علم کے کاندھے پر تھپکی نما ہاتھ رکھ دیا جس پر طالب علم نے ایسا ردعمل ظاہر کیا کہ استاد شرم سے پانی پانی ہوگیا، یعنی شاگرد نے استاد سے انتہائی تلخ لہجے میں استفسار کیا کہ آپ نے مجھ پر ہاتھ کیوں اٹھایا، استاد ہذا کیلئے یہ ایسا مقام تھا کہ زمین پھٹ جاتی اور وہ اس میں گڑھ جاتے۔ یہ صرف ایک بچے کی کہانی ہے جو ہم تک عینی شاہدین کے توسط سے پہنچی ہے جس سے یہ معلوم چلانا مشکل نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کس کس معاشرے کی تقلید میں تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ اس واقع کی اہم بات یہ ہے کہ یہ کسی بین الاقوامی طرز پر چلنے والے اسکول کا نہیں ہے بلکہ یہ واقع جس اسکول میں رونما ہواہے وہ اسلامی تعلیمات و اقدار و تربیت کے علم بردار ہیں۔ اب جب ایسے اسکول کے نظام میں طالب علم کا ایسا قابل فہم رویہ ترتیب پا رہا ہے تو پھر دیگر نظام میں کیا ہورہا ہوگا۔ہم ساری معاشرتی بدتہذیبی کا ذمہ دار بین الاقوامی نظام تعلیم پر ڈالتے چلے آرہے ہیں جبکہ خود کشی کرنے والے بچے سرکاری اسکولوں کے بھی ہیں۔

ہم والدین بچوں کو اسکول، مدرسے یا دیگر تعلیمی درسگاہوں میں بھیج کا اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ سمجھ بیٹھے ہیں اور بچوں کو سمجھانے کیلئے ہمارے پاس ایک انتہائی غیر اخلاقی جملہ رہ گیا ہے کہ تمھیں معلوم ہے کہ تمھاری فیسوں کی مد میں کتنی رقم خرچ ہورہی ہے۔ والدین یا سرپرستوں کا غصے اور جذبات میں کہا جانے والا یہ جملہ بچے کہ دل و دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے ہمیں اب تو اس کا اندازہ ہوجانا چاہئے جبکہ آئے دن کم سن بچوں کی خودسوزی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

دنیا میں ہر طرف فساد برپا ہو چکا ہے دنیا اجتماعیت سے انفرادیت کی طرف تیزی سے پلٹ رہی ہے جیسا کہ انسان غاروں میں رہتا تھا اور صرف اپنی ضرورت کو ضرورت سمجھتا تھا۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری کی حد تک ذمہ دار ہوچکا ہے معاشرتی ذمہ داری پروہ اسوقت بات کرسکتا ہے جب وہ اپنی انفرادی ذمہ داری پوری کرلیگا جوکہ اتنی آسانی سے پوری ہی نہیں ہوتی۔ ہماری تنقید سامنے والے کیلئے تو ہے لیکن اس تنقید سے ہم خود کو اور اپنے اہل خانہ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ جیساکہ مذکورہ بالا سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اجتماعیت سے انفرادیت کا سفر شروع کررکھا ہے اور یہ بچوں پر دھیان دینے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا شروع کررکھی ہے بچے اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، درحقیقت کا معاشرے کا بہت نقصان ہوتا ہی چلا جا رہا ہے۔

آج ہم اس بات کا بھی دکھ کیساتھ تذکرہ کرتے ہیں کہ کوئی علامہ اقبال پیدانہیں ہورہے تو ہمیں سب سے پہلے انکے گھروں میں جھانکنا پڑے گااس ماحول کو کھوجنا ہوگا جہاں انکی تربیت اور پرورش ہوئی۔ اس ایک تلخ حقیقت پر سے پردہ اٹھاؤنگا کہ ناہی والدین اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح سے نبہا رہے ہیں اور انکی دیکھادیکھی اساتذہ بھی خانہ پوری کر کے اپنی نوکریاں کر رہے ہیں۔ معاشرے کی بگاڑ کی رہی سہی کثر جنسی ہراسگی نے پوری کر دی ہے۔

پچھلے دنوں کراچی میں حبیب اللہ نامی بچے نے خود کشی کی اس بات سے قطعہ تعلق کے اس کیس کا کیا انجام ہوا، خود کشی کرنے والے بچے کی عمر دیکھو۔ اسی طرح بدعنوانی کیلئے ایک رکشے والے نے اپنی جان دی۔ ایسا نہیں ہے کہ مسجدوں میں، مدرسوں میں اور دیگر درسگاہوں میں کچھ سمجھایا یا سکھایا یا سمجھایا نہیں جا رہا لیکن علامہ اقبال کی باکمال نظر نے اسی وقت کیلئے یہ شعر کہے جس پر اس مضمون کا اختتام کر تا ہوں ؎

رہ گئی آذاں روح بلالیؓ نا رہی!
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نا رہی!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close