خصوصیعالم اسلام

زندہ تحریریں

آج سید قطب کا یومِ شہادت ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج سید قطب کا یومِ شہادت ہے۔ 1966 میں آج ہی کی تاریخ میں انھیں اسلام پسندی کے جرم میں تختہ دار پر چڑھادیا گیا تھا۔ ان کی تحریروں میں بَلا کا زور اور زبردست کاٹ ہوتی تھی، جس سے باطل بُری طرح تلملا جاتا تھا۔ آج بھی بہت سے لوگ ان پر تلملاتے اور کسک محسوس کرتے ہیں۔ ذیل میں ان کی چند منتخب تحریریں پیش کی جا رہی ہیں کہ یہی ان کو بہترین خراجِ عقیدت ہے۔

(1) اخوان کا مستقبل :

اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کی شہادت پر انھوں نے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا :

"آج بھی اخوان کی ‘عمارت’ اسی طرح متنوّع مشکلات سے دوچار ہے جس طرح ماضی میں تھی، لیکن آج اس کی بنیادیں پہلے سے زیادہ گہری اور اس کی دیواریں پہلے سے زیادہ بلند اور مضبوط ہیں۔ آج وہ نفس میں راسخ عقیدہ، تاریخ میں ثبت ماضی، مستقبل کی امید اور زندگی کا مقصد ہے اور ان سب کے پسِ پردہ اللہ کی مشیت ہے، جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا اور امام شہید کا خون ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

جو شخص بھی اس ‘عمارت’ کے بارے میں بری نیت رکھتا ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ‘فاروق’ کی سرکشی اس کی ایک اینٹ بھی نہ ہلا سکی اور نہ اس میں معمولی سا بھی شگاف پیدا کر سکی، جب کہ اس کی پشت پر انگلینڈ اور امریکا بھی تھے۔ اسے سوچ لینا چاہیے کہ مستقبل اسی عقیدے کا ہے جس پر اخوان کی عمارت قائم ہے اور اسی اجتماعی نظام کا ہے جو اس عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔” (اسلام اور مغرب کی کش مکش، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، (ص243)

(2) غلام کون؟ 

” غلام وہ نہیں جو معاشرتی حالات اور اقتصادی مسائل کی بنا پر غلام بننے پر مجبور ہو جائیں، بلکہ غلام حقیقت میں وہ لوگ ہیں جو معاشرتی حالات اور اقتصادی مسائل سے مجبور نہ ہوں، پھر بھی بہ رضا و رغبت غلامی کرنے کے لیے ٹوٹے پڑتے ہوں۔………

غلام وہ لوگ ہیں جو بڑے بڑے محلوں اور عظیم جائدادوں کے مالک ہیں، جن کے پاس وافر مقدار میں مال و دولت ہے، جنھیں کام اور پیداوار کے ذرائع حاصل ہیں اور ان کی جانوں اور مالوں پر کسی کا قبضہ نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ‘آقاؤں’ کے دروازوں پر بھیڑ لگائے رہتے ہیں، ان کی غلامی قبول کرنے اور خدمت کرنے کے لیے ٹوٹے پڑتے ہیں، خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنوں میں طوق اور اپنے قدموں میں بیڑیاں ڈال لیتے ہیں اور بڑے ہی فخر و مباہات اور تکبر کے ساتھ غلامی کا لباس پہنتے ہیں۔ ……..

غلام وہ ہیں جو آزادی سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ایک آقا انھیں دھتکارتا ہے تو وہ دوسرا آقا تلاش کرنے لگتے ہیں، اس لیے کہ ان کے نفوس کو غلامی کی شدید ضرورت ہے۔……

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مستقبل آزاد لوگوں کا ہے۔ مستقبل ان غلاموں کا ہے نہ ان کے آقاؤں کا جن کے قدموں میں یہ غلام ناک رگڑتے ہیں۔ …… لیکن آزادی کے لیے کچھ قربانیاں ضروری ہیں۔جب غلامی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں تو کیا آزادی کے لیے قربانیاں نہیں دینی پڑیں گی؟! ” (اسلام اور مغرب کی کش مکش، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ص138۔143)

(3) نظریہ اور عملی نمونہ :

"اس نظریہ کے لیے کوئی زندگی نہیں جو کسی انسان کے سانچے میں نہ ڈھلا ہو اور جس نے کسی ایسے زندہ وجود کی شکل نہ اختیار کی ہو جو روے زمین پر کسی انسان کی صورت میں چلتا پھرتا ہو۔ اسی طرح اس میدان میں اس انسان کا بھی کوئی وجود نہیں ہے جس کے دل میں کسی ایسے نظریے نے گھر نہ کیا ہو جس پر وہ حرارت اور اخلاص کے ساتھ ایمان رکھتا ہو۔
نظریہ اور فرد کے درمیان فرق کرنا روح اور جسم یا لفظ اور معنی کے درمیان فرق کرنے کے مثل ہے۔ بسا اوقات ایسا کرپانا ناممکن ہوتا ہے۔ اگر نظریہ کو فرد سے الگ کردیا جائے تو اکثر وہ فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ صرف اسی نظریے کو زندگی ملتی ہے جس کی پرورش کسی انسان کے خونِ جگر سے ہوتی ہے۔رہے وہ افکار جو اس پاکیزہ غذا سے محروم رہتے ہیں وہ مردہ ہوتے ہیں اور ان میں انسانیت کو ایک بالشت بھی آگے بڑھانے کی سکت نہیں ہوتی۔” (روح کے نغمے، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی،ص19)

(4) پاکیزہ مقصد کے لیے گھٹیا وسائل اختیار کرنا درست نہیں۔

"میرے لیے یہ تصور کرنا دشوار ہے کہ ہم کسی گھٹیا وسیلے کو کام میں لاکر کسی پاکیزہ مقصد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔پاکیزہ مقصد کسی پاکیزہ دل ہی میں زندہ رہ سکتا ہے۔ پھر اس دل کے لیے کیوں کر ممکن ہے کہ کسی گھٹیا وسیلے کو بروئے کار لانے کو گوارا کرے اور اس وسیلے کو استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کرے؟ ہم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں پہنچنے کے لیے کسی کیچڑ بھرے راستے سے گزریں گے تو ضروری ہے کہ اپنی منزل تک کیچڑ میں لت پت ہوکر پہنچیں۔ کیچڑ سے ہمارے پیر بھی گندے ہوجائیں گے اور وہ جگہیں بھی جہاں ہمارے پیر پڑیں گے۔ یہی حال اس وقت ہوگا جب ہم کوئی گھٹیا اور گندہ وسیلہ اختیار کریں گے۔ گندگی ہماری روح سے چپک جائے گی اور اس کے برے اثرات ہماری روح پر بھی پڑیں گے اور اس مقصد پر بھی جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ” (روح کے نغمے، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، (ص19۔20)

(5) امریکی اسلام

” امریکہ اور اس کے حلفا مشرقِ وسطی کے لیے ‘امریکی اسلام’ چاہتے ہیں، وہ اسلام جو صرف کمیونزم کا مقابلہ کرتا ہے۔ انھیں وہ اسلام مطلوب نہیں جو استعمار کا مقابلہ کرتا اور ظلم و زیادتی اور سرکشی سے برسرِپیکار رہتا ہے۔ …….

منعِ حمل کے بارے میں اسلام کا نظریہ معلوم کیا جا سکتا ہے، عورت کے پارلیمنٹ میں جانے یا نہ جانے کے بارے میں اسلام کی رائے دریافت کی جا سکتی ہے، نواقضِ وضو کا مسئلہ پوچھا جا سکتا ہے، لیکن ہمارے معاشرتی یا اقتصادی مسائل یا مالی نظام کے بارے میں ہرگز اسلام کی رائے نہیں معلوم کی جا سکتی، ہمارے سیاسی اور قومی امور اور استعمار سے تعلقات کے بارے میں کبھی اسلام کا نظریہ نہیں معلوم کیا جا سکتا۔ اسلام اور جمہوریت، اسلام اور حسن سلوک، اسلام اور عدل جیسے موضوعات پر ایک مقالہ کیا، پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، مگر اسلام اور نظامِ حکومت، اسلام اور قانون سازی، اسلام کا غلبہ، جیسے موضوعات پر نہ قلم اٹھ سکتا ہے نہ کبھی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ……..

یہ ہے ‘امریکی اسلام’، جسے کمیونزم کا مقابلہ کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے، لیکن وہ اسلام جو کمیونزم کی طرح استعمار کا بھی مقابلہ کرتا ہے، اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ جو اسلام زندگی پر حکم رانی کرتا اور اسے صحیح رخ عطا کرتا ہے، اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتا۔ ………

لیکن اسلام کے حقیقی علم بردار اس کے نام پر مکمل اور ہمہ گیر معاشرتی عدل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ اسے استعمار اور سرکشی کی خدمت کے لیے آلہ کار نہیں بنانا چاہتے، بلکہ اس کے ذریعے عدل، عزت اور احترام چاہتے ہیں۔ وہ اسے پروپیگنڈہ کا ایک ذریعہ نہیں بنانا چاہتے، بلکہ حق و سربلندی کے راستے میں جدوجہد کے لیے ڈھال بناتے ہیں۔ "……..  (اسلام اور مغرب کی کش مکش، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، (126۔131)

(6) ذلّت کا تاوان

” بعض کم زور لوگ خیال کرتے ہیں کہ عزّت کے لیے بھاری اور ناقابل برداشت تاوان ادا کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ ذلّت و رسوائی کو گوارا کر لیتے ہیں، بہت معمولی اور گھٹیا زندگی گزارتے ہیں، ہمیشہ ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے رہتے ہیں، اپنی پرچھائیوں سے خوف کھاتے اور اپنی آوازِ بازگشت سے لرز اٹھتے ہیں، ہر آواز کو اپنے خلاف گردانتے ہیں۔ تم انھیں زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے۔ انجامِ کار یہ ذلیل لوگ عزّت کے اخراجات سے زیادہ بڑا تاوان ادا کرتے ہیں۔ …..
میں نے ایسی قوموں کو دیکھا ہے جو ایک مرتبہ آزادی کے اخراجات ادا کرنے سے کتراتی ہیں، نتیجۃً انھیں کیی بار غلامی کا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔ ……

حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ارضِ مقدس پر حملہ کرکے قابض ہوجانے کا حکم دیا، لیکن انھوں نے اس حکم سے پہلو تہی کی۔ چنانچہ عزّت کے اخراجات ادا کرنے سے اعراض کی بھاری قیمت انھیں چالیس سالہ صحرا نوردی کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ اگر وہ عزّت اور فتح مندی کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہوجاتے تو انھیں اس کا دسواں حصہ بھی نہ خرچ کرنا پڑتا۔ ……..

تاوان ادا کرنا ہر ایک پر لازم ہے، خواہ وہ افراد ہوں یا جماعتیں یا قومیں۔ اب انھیں اختیار ہے کہ وہ یہ تاوان عزّت، عظمت اور آزادی کے لیے ادا کرتی ہیں یا ذلّت، رسوائی اور غلامی کے لیے۔ ” (اسلام اور مغرب کی کش مکش، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، (ص132۔137)

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close