عالم اسلاممعاشرہ اور ثقافت

سالِ نو کی آمد: خوشی ومسرت کی نہیں احتساب کی ضرورت

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

  بہت جلد سال ِرواں رخصت ہونے والا ہے،اور2018 ء کے عیسوی کیلنڈر کی شروعات ہوگی،وقت نہایت تیز رفتا ری کے ساتھ گذررہا ہے،اور انسانی زندگی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب ِ قیامت کی جو پیشن گوئیاں فرمائی ہیں ان میں سے ایک وقت کا بہت ہی تیزی کے ساتھ گذرنا بھی ہے،آپ ﷺکا ارشاد ِ مبارک ہے کہ :قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ زمانہ قریب نہ ہوجائے، سال مہینہ کی طرح،مہینہ ہفتہ کی طرح،ہفتہ دن، دن گھنٹہ،اور گھنٹہ اتنا مختصر ہوجائے جیسے آگ کا شعلہ ( گھاس  کے تنکے پر) سلگ جاتا ہے( یعنی جھٹ سے جل کر بجھ جاتا ہے)۔ (ترمذی:۲۲۶۶)ماہ و سال کی یہ گردش برابر جاری رہے گی اور انسانی زندگی رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہونچ کر رہے گی،گذرا ہو اسال تلخ تجربات،حسین یادیں،خوشگوار واقعات،اور غم والم کے حادثات کو چھوڑکر رخصت ہوتا ہے،اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کرالوداع کہتا ہے۔ سال ختم ہو تا ہے تو حیات ِ مستعار کی بہاریں بھی ختم ہوتی ہیں،اور انسان اپنی مقررہ مدت ِ زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہو تارہتا ہے، اسی کو کہاکہ :

 ؎    غافل تجھے گھڑیا ل  یہ  دیتا  ہے  منادی

    گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی

     سال کا اختتام اور نئے سال کی شروعات خوشی و مسرت کا سبب نہیں بلکہ احتسا ب ِ نفس اورموقعِ عبرت و نصیحت ہے، کیوں کہ زندگی کے اوقات میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہورہی ہے، آگے بڑھنے اور نئے عزم وحوصلہ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ  تمام حقیقتوںکوجاننے کے باوجود نئے سال کا آغاز جشن وطرب کی محفلوں کو سجا کر اور اخلاق و شرافت کی حدوں کو پامال کر کے اور خواہشات و ارمانوں کا ناجائز طریقہ پر اظہارکرکے کیا جاتا ہے، اور بد تہذیبی کا طوفان برپا کیا جا تا ہے، رنگینیوں میں کھوکر اور مستیوں میں ڈوب کر نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

     جب کہ نئے سال کی آمد پر انسان کوبہت ہی فکر مند اور بیدار ہوجا نا چاہیے،ماضی کے تجربا ت کی روشنی میں بہترین مستقبل کی تعمیر اور تشکیل میں منہمک ہونے کا وقت ہے، اپنی کوتا ہیوں اور غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ نئے عزائم اور ارادوں کو پروان چڑھانے کا موقع ہے،گذرتے وقت کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحات ِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم و ارادہ سبب ہے۔ زندگی جو اللہ تعالی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے اس کی قدر کرنا اور اس کو رب کی مرضیا ت کے مطابق گذارنے کی کو شش و جستجومیں لگے رہنا ہے ایک مومن کو زیب دیتاہے،انسان ایک ہی مرتبہ کے لئے دنیا میں بھیجا جاتا ہے، اور اس کو اپنے نامۂ اعمال کو سجانے اور خوب سے خوب تر بنا نے کی فکر کرنا ضروری ہے، وقت نہا یت برق رفتاری سے گذرجا تا ہے لیکن کامیابی اور کامرانی صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو اس کی قدر جانتے ہیں اور اس کو صحیح استعمال کرنے کے گرُ جانتے ہیں،اسی زندگی پر آخرت کی کامیابی بھی منحصر ہے،جو یہاں بوئے گا کل وہی آخرت میںکاٹے گا،جب دوزخ میں انسان کو ڈال دیا جائے گا تو دوزخی چیخ و پکار کرتے ہو ئے نکل جانے کی تمنا کریں گے، اس وقت ارشاد ہو گا کہ: بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچناسمجھنا ہوتا،وہ سمجھ لیتا؟۔ ( الفاطر:۳۷)حضرت علی ؓ فرمایا کرتے کہ : یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں،اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو۔ حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایاکہ : ائے ابن آدم!تو ایام ہی کا مجموعہ ہے،جب ایک دن گذرگیا تو یوں سمجھ تیرا یک حصہ بھی گذرگیا۔ (قیمۃ الزمن عند العلماء:۲۷)اور پھر نبی کریم ﷺ نے آدمی کے اسلام کی خوبی اور حسن یہ بتلائی ہے کہ وہ لا یعنی اور فضول چیزوں سے اجتناب کرنے والا بنے۔ ( ترمذی:۲۲۵۰)اس جہا ں کی تمام تر رونقیں اگرچہ کے انسان کے لئے بنائی گئیں ہیں لیکن انسان ایک مقصد کی تکمیل اور ہدف کو پور اکرنے کے لئے بھیجاگیا ہے، اسے اس دنیا میں بے لگا م نہیں چھوڑ دیا گیا، بلکہ خدا ئی فوج اس کے اعمال وافعال کی پوری پوری نگہداشت کررہی ہے اور خود اللہ تعالی انسانوں کی ہر نقل و حرکت سے  باخبر ہے،آج جس بے دردی کے ساتھ وقت کو ضائع کیا جا رہاہے اور بے کار مشغلوں میں قیمتی لمحات ِ زندگی کو برباد کیا جارہا ہے یقینا یہ نہا یت ہی قابل افسوس ہے،نئے سال کے عنوان پر جو اخلاق و کردار کا جنازہ نکالا جارہا ہے اور بے حیا ئی کو فروغ دیا جا رہا ہے کیا یہ ایک مومن کا شیوہ ہوسکتا ہے ؟ ؟اسلامی سال کی شروعا ت جب ہوتی ہے کیاخوب سادگی اور قربانیوں کا سبق دیا جا تا ہے اس کو بھی ملحوظ رکھنا چایئے،اسلامی سال کے آخری مہینہ میں مسلمان قربانی جیسی یادگار اور حج جیسے عظیم فریضہ کی ادائیگی سے فارغ ہوتے ہیں، اور اسی مہینہ میں نبی کریم ﷺ کے داماد ذو النورین حضرت عثمان غنی ؓکی المناک شہادت کا واقعہ رونماں ہوا،پھر سال کی شروعات ہوئی کہ پہلی ہی تاریخ کو امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ کی شہادت پیش آئی، اسی مہینہ میں نواسہ ٔ رسول ﷺ سیدنا حسین ؓ کی الم انگیز شہادت کا دلخراش حادثہ ہو ا،یہ تمام یا اس کے علاوہ اسلامی تاریخ کے بے شمار واقعات ایک مومن کو جن چیزوں کا پیغام دیتے ہیں آج ان تما م کو بھلا کر مسلمان مغربی تہذیب اور غیروں کی نقالی میں سال کی شروعات کرتے ہیں،جس مسلمان کی دلآویز تاریخ مقصد  ِحقیقی کے حصو ل میں قربانیوں کو دیتے ہوئے گذری ہو وہ نئے سال کی خوشی میں تعلیمات ِ اسلامی کو فراموش کر کے وقتی اور مادی لذتوں گم ہوجائے کیا اس کو یہ زیب دیتا ہے؟

     نیا سال خوشی کے بجا ئے ایک حقیقی انسان کو بے چین کردیتا ہے، کیوں کو اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اب میری عمر بڑ ھ نہیں رہی بلکہ رفتہ رفتہ کم ہو رہی اور برف کی طرح پگھل رہی ہے، وہ کس بات پرخو شی منائے ؟،اور کیوں رقص و سرودکی محفلیں آراستہ کرے؟، اور کس بنیا دپر مبارک بادیاں دیں ؟ بلکہ اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج ہمیشہ کے لئے غروب ہو جا ئے کچھ کر لینے کی تمنا اس کو بے قرار کر دیتی ہے، اس کے پا س وقت کم اور کام زیادہ ہو تا ہے، گویا:

؎     تھا بہت دلچسپ،نیرنگ سراب زندگی

 اتنی فرصت ہی نہ پائی جو ٹھہر کے دیکھتے

وہ اس موقع پر اپنے اعمال کا محاسبہ کر کے ایک نیا عہد کرے گا،اور کو تا ہیوں اور غفلتوں سے دامن جھاڑکر پوری تندہی کے ساتھ اعمال جمع کرنے اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی فکر میں رہے گا۔

     نیا سال وقتی لذت یا خوشی کا وقت نہیں ہے بلکہ از سر ِ نو عزائم کو بلند کرنے او رحوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے، عزم و ہمت کے ساتھ زندگی کا نیا سفر شروع کرنے اور باقی ایام ِ حیات کی قدر کرتے ہوئے کامیابی کی منزلوں کو طئے کرنے کا وقت ہے،لیکن جس کے ذہن و دماغ میں فانی رنگینیوں کا نشہ چھا یا ہو وہ بھلااس کی اہمیت کیا سمجھ پائے گا،اس کو نیا سال صر ف لذتوں کے پورا کرنے اور سیر و تفریح کر کے عارضی مسرتوں کو پورا کرنا ہوتا ہے، اور جس کے سامنے آگے کی منزل ہو، اور موت کا خیال ہو تو وہ ان اوقات کی ناقدری نہیں کرے گا،اپنی بساط بھر کوشش اعمال و اخلاق کو بنانے کی کرے گا،اور اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا پوری پا مردی کے ساتھ مقابلہ کرے گا،اورامتحانات کی گھڑیوں میں مستقل مزاجی کے ساتھ ڈٹا ہو ارہے گا۔ کیوں کہ:

 ؎    عزائم جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو

تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں  کرتے

     اسلام میں کس اہتما م کے ساتھ فرمایا کہ :جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی میں شمار ہو گا۔ ( ابوداؤد:۳۵۱۴)اور خوشی کے مواقع بھی بتلا ئے، نئے سال کی آمد نہ ہی خوشی کا موقع ہے اورنہ ہی جشن و سرور کا وقت، یہ تو ایک حسر ت کا موقع ہے کیوں کہ نبی کریم ﷺ کا ایک ارشاد ہے جس میں آپ ؐ نے فرمایا کہ ہر روز طلوع ہو نے والا سورج یہ اعلان کرتا ہے کہ:آج اگر کوئی بھلا ئی کرسکتا ہے تو کر لے،آج کے بعدمیں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آوں گا۔ ( متا ع ِ وقت اور کاروانِ علم:۵۴)بھلا جس کی عمر میں سے ایک دن، ایک ماہ،اور ایک سال ختم ہوگیا ہو،اور وہ موت کے قریب ہوچکا ہو تو اسے خوشی کیسے نظر آئے گی؟

     اس لئے ضرورت ہے اس بات کی کہ سال ِ نو کا آغاز غیر شرعی طریقہ پر کرنے سے گریز کیا  جائے،اور اس موقع پر جو خلاف ِ شریعت کا م انجام دئے جا تے ہیں،اور فضول و لا یعنی امور اختیا ر کئے جا تے، جو نا شا ئستگی اور بد اخلاقی کے مظاہرے ہو تے ہیں، عیسائیوں کے طریقہ کے مطابق جو نیو ائیر کا استقبال کیا جا تا ہے،کیک کاٹ کر اور مبارک بادیا ں دے کر جو اپنی تہذیب کا مذاق اڑایا جا تا ہے اسی طرح شور و شغب اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والی جو حرکتیں کی جا تی ہیں،ان تمام چیزوں سے مکمل اجتناب، اور اپنے نو نہانوں کو ان تمام سے روکا جا ئے، اسلامی تعلیمات سے اپنی اولادکو آگاہ کریں،اور اسلامی سالِ نو کا تعارف،اور ماہ وسال کی یہ انقلاب انگیز تبدیلی سے حاصل ہو نے پیغامات سے واقف کر ائیں،ورنہ ہماری آنے والی نسلیں دین کی تعلیمات سے بے بہرہ ہو کر، عیسائی تہذیب و کلچر کی دلدادہ بن کر، اور مغربی طریقہ ٔ زندگی ہی میں کامیابی تصور کر کے پروان چڑھے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close