عالم اسلام

عربی زبان: فضیلت، اہمیت اور خصوصیات

منور علی رامپوری

زبان و بیان  اللہ رب العزت کی عظیم نعمتو ں میں سے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذریعہ  ہم  دوسروں کے خیالات  کو سمجھتے ہیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یوں تو دنیاا میں  سینکڑوں زبانیں ہیں،اور ہر زبان اہل زبان کے لئیے  اہمیت کی حامل ہے،مگر عربی زبان  اہل زبان  کے علاوہ ان کڑوڑوں مسلمانوں کے لئے بھی اہمیت کی حامل ہے جو دنیا کے  مختلف ممالک میں سکونت پذیر ہیں، کیوں کہ  عربی صرف  اظہار خیالات  اور معاش کا ذریعہ ہی نہیں  بلکہ   تفہیم حق اور تفہیم  اسلام کا بھی بنیادی ذریعہ ہے،جبکہ  اہل زبان کے لئے  اس کی دوہری اہمیت ہے،کیونکہ یہ  ان کے لئے اظہار خیالات کا بھی ذریعہ ہے،عربی تہذیب و ثقافت  اور مذہب کو سمجھنے کا بھی۔ اس کے علاوہ عربی  دنیا کے سب سے پہلے انسان  حضرت آدم کی زبان ہے،یہ جنتیوں کی زبان کی ہے،یہ سب سے افضل پیغمبر  اور سب سے  افضل  آسمانی کتاب  قرآن کریم کی زبان ہے،جیساکہ  ارشاد ربانی ہے:ہم نے قرآن کو عربی زبان میں  نازل کیا  ( اےاہل عرب ) تاکہ تم سمجھو( سورہ یوسف :۲) اور ایک دوسرے مقام پر اللہ رب العزت کا  فرمان ہے:بے شک یہ  قرآن رب العالمین  کا اتارا ہو اہے،اسے روح الامین  لیکر اترے  تمہارے دل پر  تاکہ تم ڈر سناؤ (یہ) روشن عربی زبان میں ہے(شعراء:۱۹۳)

ایک دوسرے مقام پہ فرمایا:یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات  قرآن عربی کے طور پر  تفصیل  سے بیان کی گئیں ہیں  جان کار لوگوں کے لئے(فصلت :۳)لہذا جب  اس کا انتخاب سب سے افضل کتاب کے لئے کیا گیا تو  یقینا یہ  تمام زبانوں میں افضل  زبان ہو گی، مگر آج کے دور میں  مسلمان  اس کی اہمیت  سے نہ آشنا ہیں،حالاں کہ   اسلام کی صحیح تفہیم و سمجھ  اسی زبان پر  موقوف ہے،اسی وجہ سے علما نے عربی زبان کو  سیکھنا  واجب قرار دیا ہے،کیوں کہ عربی زبان کے بغیر ہم نماز جیسے اہم فریضے سے  سبکدوش نہیں ہو سکتے،قرآن  کی تلاوت  بغیر عربی کے ممکن نہیں،اسی طرح  شریعت کے  قوانین کو  بلا واسطہ سمجھنا بھی  عربی زبان  میں مہارت کا مقتضی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام نے  عربی زبان کی خود بھی حفاظت کی اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائی، حضرت عمر کا فرمان ہے :‘‘ عربی  زبان سیکھو  کیوں کہ اس سے آداب نفسانیہ  میں اضافہ ہو تا ہے،عربی زبان سیکھو کیوں کہ یہ دین سے ہے’’ (بھیقی فی شعب الایمان،ایضاح الوقف و الابتدا)۔

اس کے علاوہ حضرت علی نے اس کی  حفاظت کے لئے  ابو الاسود دئلی  سے اصول وضوابط  تیار کرائے۔ عربی زبان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  عربی زبان کے فقیہ  امام ثعلبی فرماتے ہیں :جسے اللہ رب العزت  سے محبت ہوگی،اسے اللہ کے رسول  مصطفی ﷺسے بھی محبت ہوگی،جسے رسول عربی ﷺ سے محبت ہوگی  اسے  اہل عرب سے بھی محبت ہوگی،جسے  اہل عرب سے محبت ہوگی  اسے عربی  زبان سے بھی محبت ہوگی،جس زبان میں کتابوں  میں  سب سے افضل کتاب، سب سے افضل ذات پر نازل ہوئی،جو عربی زبان سے محبت رکھے گا  وہ  اس کے (سیکھنے سیکھا نے اور اس کی حفاظت )کا بھی  اہتمام کرےگا اور اس پر توجہ  بھی دے گا۔ (فقہ اللغہ،ص: ۱۱۱دار مھرات للعلوم،قاھرہ)

 ہر زبان  کی اپنی  اپنی خصوصیات ہوتی ہیں،مگر عربی زبان  کی کچھ ایسی خصوصیات ہیں  جو  اسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرتی ہیں،ان میں سے کچھ مندرجہ  ذیل ہیں :

(۱) سب سے اہم یہ ہے کہ یہ زبان قیامت تک باقی رہے گی ، دوسری زبانوں کی طرح   گمنامیوں کی   موت نہیں مرے گی،اس کا آغاز آفرینش  سے  تاحال پوری آب وتاب کے ساتھ باقی  رہنا بھی  اس کا بین ثبوت ہے۔ یہ کوئی  مفروضہ نہیں بلکہ  ایک حقیقت ہے جس کا  ثبوت ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کی حفاظت کا  اعلان کرکے  عربی زبان کو  دوام و بقا کا  سر ٹیفکیٹ فراہم کردیا،جیساکہ ارشاد ربانی ہے : ہم ہی قران کو نازل کرنے والے ہیں  اور ہم ہی اس  کی حفاظت کرنے والے ہیں (حجر:۹) یہ ایسی  خصوصیت ہے جو دنیا کی کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔

(۲)وسعت مفردات:

اتنی وسیع زبان   روئے زمین پر  اس وقت کوئی موجود نہیں،یہ کوئی عقیدت پر  مبنی بات نہیں ہے  بلکہ  منھ بولتی حقیقت ہےکیو نکہ  دیگر زبانوں میں ایک لفظ کے  لئے زیادہ سے زیادہ  دو چارمفردات   بمشکل مل سکیں گے،مگر عربی  زبان میں  ایک لفظ کے  دوچار مفردات کا پایاجانا  عام سی بات ہے ،جیسے غم کو بیان کرنے کے لئے مندرجہ ذیل الفاظ آتے ہیں: حزن،اسی،کآبہ،اسف،ھم وغیرہ۔ ہے  جیساکہ  اردو میں شیر کے لئے صرف ایک لفظ  شیر آتا ہے اور ہم جیسے عجمی اس کے تین عربی  معنی جانتے ہیں،لیث،اسد اور غضنفر۔ جبکہ   اس معنی کی ادائیگی کے لئےاہل عر ب کے ایک قول کے مطابق ۱۵۰ اور دوسرے قول کے مطابق ۵۰۰ الفاظ آتے ہیں۔ اسی لئے علامہ جلال الدین سیوطی نے   امام شافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ:عربی زبان کا احاطہ نبی کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔ (المزہر)

(۲)اشتراک لفظی:

عربی زبان میں ایک لفظ کے  کم سے کم دو معنی عام طور پر پائے جاتے ہیں  اور زیادہ کی کوئی  حد نہیں جیسے :عین کا معنی چشمہ،گھٹنا،جاسوس،نقدی اور آنکھ وغیرہ۔ جبکہ دوسری زبانیں اس سے خالی  ہیں۔

(۳)جس  لفظ کے شروع میں جو حرف  آتا ہے،اس  حرف میں پائی جانے والی صفات  کا اثر اس  لفظ کے معنی میں بھی  پایا جاتی ہے، جیسا کہ شین  کی ایک صفت تفشی ہے،تفشی  کا مطلب ہے کہ  حرف کی ادائیگی میں آواز  کھینچتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نکلے،ایسے ہی اس کے معنی میں  بھی پھیلاؤ کا معنی پایا  جائےگا جیسے:عربی میں جوانی کو شباب کہتے ہیں،کیونکہ جوانی میں  جسم کے جوڑ اور جزبات بڑھ جاتے ہیں،اسی طرح  قوانین الہیہ کو عربی میں شرع کہتے ہیں  کیونکہ خدا کا قانون ہمہ گیر ہے اور اس کا دائرہ تمام دنیا کو محیط ہے۔ یہ ایسی  خصوصیت ہے جس کا  دوسری زبانوں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

(۵)اختصار:

عربی زبان میں کم سے کم دو حرفی  اور زیادہ سے زیادہ سات حرفی  کلمات  ہوتے ہیں،مختصر کلمات  میں زیادہ سے زیادہ معنی کی ادائیگی  اس کا خاصہ ہے جیسے وعدہ کے لئے عربی میں وعد آتا ہے جس میں  تین کلمات ہیں  جبکہ انگلش میں اس کے لئے پرامس آتا ہے   جس میں سات حرف ہوتے ہیں،اسی طرح انگلش میں پندرہ حروف تک کے الفاظ  دیکھنے میں آتے ہیں جبکہ عربی میں سات آخری حد ہے۔

ان خصوصیات کے علاوہ بھی عربی زبان کی بہت سی خصوصیات ہیں،ان تمام خصوصیات  سے قطع نظر  اگر  عربی کو صرف بحیثیت زبان دیکھیں تو  آج کے دور میں عربی زبان  عالمی ترقی یافتہ زبانوں میں  پانچویں نمبر پر ہے،جن  پانچ زبانوں کو اقوام متحدہ  کی دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے،ان میں عربی  بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ عربی ادب  حکمت   و دانائی اورآداب   نفسانیہ  کے  بڑے حصہ پر مشتمل ہے۔ اسی لئے ابو عمرو بن علا معری کہاکرتا تھا: عربی شاعری کا  بہت کم حصہ تم تک  پہنچاہے،اگر تمہیں  سارا حصہ  مل  جاتا  تو علم وحکمت  اور شعر  و ادب  کا وافر حصہ  تمہارے  ہاتھ آتا(بحوالہ :عرفان عرب )آج کے دور میں عربی زبان محض مذہبی زبان نہ رہی بلکہ اب  یہ روزگار کی زبان بھی  ہے، کیونکہ یہ  عرب لیگ میں شامل  ۲۲ملکوں کی سرکاری زبان ہے، لہذاان ممالک میں روزگار کے بہترین  مواقع مل سکتے ہیں۔ اس لئے  مسلمانوں کو بالخصوص اور تمام اقوام عالم کو بالعموم  اس کو حاصل کرنا چاہئے۔ اہل اردو کو عربی کے حصول پر زیادہ توجہ دینا چاہئے کیونکہ اس سے اردو ادب میں ایک گراں قدر باب کے اضافے کے   حسین مواقع ہیں۔ آخر میں میں مدارس  اور عصری درس گاہوں کے ذمہ داران  سے عرض گذار ہوں کہ وہ اپنے  اداروں میں عربی کی تعلیم کو  مزید  بہتر بنائیں،ساتھ ہی ساتھ جدید عر بی سے بھی روشناش  کرائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close