عالم اسلام

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

عالم نقوی

شیطان رشدی (برطانیہ )کی ابلیسی  کتاب اور گیرٹ ولڈرز(ہالینڈ) کے شیطانی   خاکوں کے درمیان تیس(۳۰)طویل برسوں کا وقفہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں نے  بالعموم  اور مسلم حکمرانوں نے با لخصوص، سقوط ِبغداد، سقوطِ ہسپانیہ، سقوط ِخلافتِ عثمانیہ اور سقوطِ سلطنت    دہلی وحیدر آباد غیرہ  سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ اب  تو، مجاہد سید کی طرح :

اپنی تنہائی کی گفتار  سے ہم تھک گئے ہیں

روح پر ہوتے ہوئے وار سے ہم تھک گئے ہیں

بار، گزری ہویہ صدیوں کا، رَہا شانوں پر

اپنی اِس عظمت ِکردار سے ہم تھک گئے ہیں!

وہ تو غنیمت ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے عوامی احتجاج کی بدولت نیدر لینڈر کے سیاسی دہشت گرد اور فاشی  ممبر پارلیمنٹ گیرٹ ولڈرز نے ایمسٹرڈم میں  ۳۱اگست (۲۰۱۸)کو  توہین رسالت پر مبنی خاکوں کا مقابلہ ’منسوخ ‘ کرنے کا اعلان کر دیا، ورنہ ایران، ترکی، لبنان اور پاکستان کے سِوا، ستّاون مسلم ملکوں اور اُن کے ’او آئی سی ‘ اور ’خلیج تعاون کونسل ‘ جیسے نام نہاد عالمی  اداروں کی جانب سے  تو کسی ’’اجتماعی کوشش اور مشترکہ فیصلے ‘‘ کا ابھی تک کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ البتہ اس سلسلے میں ترکی، لبنان، ایران اور پاکستان کی جانب سے ہونے والی کوششوں کا،وہ کم مقدار یا بے اثر ہی سہی، اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگا۔

مسلمانوں نے ’اہل ایمان کے دائمی دشمنوں ‘سے قرآن کے متنبہ کرنے کے باوجود اگر  ’رشتہ ولایت ‘ نہ استوار کیے ہوتے اور’ نیکی و تقوی میں ایک دوسرےپر سبقت لے جانے‘ کے منشائے قرآنی پر عمل کرنے کے  بجائے، وہ پیرویِ اِبلیس میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ہوڑ میں نہ پڑتے تو، اَوّل تو اُمّت میں شیطان رشدیوں کی پیدائش ہی نہ ہوتی  اور اگر صہیونیت کے زیر اثر علاقوں میں کوئی  بد نصیب پرچم عداوت لے کر کھڑا بھی ہوجاتا تو، مسلم ملکوں کی جانب سے، اگر  اُسے، اور اُس کو تحفظ فراہم کرنے والے انسانیت دشمن ملکوں کو، بر وقت اور قرار واقعی سبق سکھانے کی اجتماعی  کوشش کی جاتی اور مسلمانانِ عالَم بنی اسرائل کے نقش قدم پر چلنے بجائے، ترجیحی بنیادوں پر’ کرنے کے کام‘ ‘کررہے ہوتے  تو گیرٹ ولڈرز جیسے ’ سامریوں ‘ کی تو مجال ہی نہ تھی کہ وہ رحمت للعالمین ﷺ کی توہین کرنے کی ابلیسی ہمت کر سکیں۔

  کیونکہ پھر  عالمی منظر نامہ یہ ہوتا کہ جس طرح طاقتور صہیونی دنیا میں ’ہولوکاسٹ ‘پر سوال اُٹھانا  ’اظہار ِرائے کی  آزادی ‘کے زُمرے میں شامل  نہیں، بلکہ، ’ قابل دست اندازی قانون جرم ہے‘، اُسی طرح پوری دنیا میں۔ ۔بلا استثنیٰ پوری دنیا میں پھر  ’توہینِ رسالت ‘ کوبھی ’اظہار رائے کی نام نہاد ابلیسی آزادی ‘کے بجائے  ’قابل ِ دست اندازی قانون جرم ‘ بنایا  اور بنوایا جا چکا ہوتا !

 ایران، سعودی عرب، ترکی وغیرہ  ستاون (۵۷)مسلم ملک اور پوری دنیا کے سَوَا اَرَب سے زائد مسلمان اِن تیس برسوں (۳۰)میں جب  اتنا بھی نہیں  کر سکے، تو، کمین و رذیل گیری ولڈرز اور اس کے حامی شیطانوں کو تو ’جنون ِعظمت ‘ میں مبتلا ہونا ہی تھا !

لیکن افسوس تو یہ ہے  مسلم ملکوں، مسلم شاہوں اور مسلم حکمرانوں کی اکثریت اب بھی  ’اہل ایمان کے دائمی دشمنوں ‘سے دوستی کرنے اور انہیں تجارتی فائدے پہنچانے میں مصروف ہے !انا للہ و انا الیہ راجعون۔ سرفراز بزؔمی (۹۷۷۲۲۹۶۹۷۰)کے لفظوں میں :

’’یہ مجاوران کعبہ کہاں آگئے خدایا۔ ۔۔ترے دوستوں سے نفرت، ترے دشمنوں سے یاری ! ‘‘

 حرمین شریفین کے چاروں طرف جو پانچ، سات ستارہ اور اس سے بھی زیادہ ’مُترِفین ‘ والے  ’اِسرافی تعیش‘ کے حامل  جو بے شمار کثیر منزلہ ہوٹل  ہیں  اُن کی اکثریت کے منافع کا غالب حصہ، اَہلِ ایمان کے دائمی دشمنوں ہی کے پاس تو جاتا  ہے !

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اور قلبِ مسلم میں اِسرائل کے صہیونی خنجر کا پیوست ہونا بھیاُس وقت کے   مسلم حکمرانوں  اور مسلم اَہلِ حکمت کی غیر حکیمانہ بلکہ منافقانہ پالیسیوں ہی کا شاخسانہ ہے۔ اور قاضی شُرَیح کی تاریخ تو ابھی قریب اڑتیس سال قبل بھی دہرائی جا چکی ہے جب ایک بڑے عرب  ملک میں پوری مسلم دنیا سے اپنے ہم خیال  و ہم مسلک علما ء کو جمع کر کےاُس محضر پر دستخط لیے گئے تھے جس کی رُو سے جنگ ِخلیج اور امریکہ کی حمایت جائز قرار پائی  تھی !خاص بات یہ ہے اس محضر پر وطن عزیز ہندستان کےایک  نامور عالم دین کے دستخط بھی تھے۔( جن کا نام ہمیں معلوم ہے لیکن ہم بوجوہ اُسے یہاں ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ )

 یمن پر جنگ مسلط کرنے کے لیے سعودی عرب، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات مصر، مراکش، اردن، سوڈان اور سنےگال سمیت  چالیس سے زائد مسلم ملکوں کا اتحاد تو ابھی کل کی بات ہےجو آج بھی جاری ہے۔ اور شاید’ رواؔنڈا‘(مشرقی افریقہ )  کی طرح۔ ۔جہاں حکومت کے سر گرم  مجرمانہ و ظالمانہ تعاون سے’ ہوؔتو ‘قبائل نے ’توتسیؔ ‘  قبائل کےپانچ لاکھ سے زائد (وکی پیڈیا کے مطابق بیس لاکھ ) افراد کو مار ڈالا تھا۔ ۔’باغی‘ حوثی قبائل کے مکمل نسلی صفائے تک جاری رہے۔روانڈا کے قاتل و مقتول بھی ہم مذہب تھے اور یمن کے قاتل و مقتول بھی!

یہ بات سخت تشویش کی ہے وزیر اعظم  نریندر مودی پہلے بھارتی حکمراں ہیں جنہوں نے (جولائی ۲۰۱۸ میں ) روانڈا کا دورہ کیا ہے اور ظالم و نسل پرست ’ ہوؔتو‘ حکمرانوں کو بے مانگے دو سو ملین(بیس کروڑ)  ڈالر(ہندستانی کرنسی میں ۱۴۰۰کروڑ روپئے )کی’ مدد‘ دی ہے۔ نفرت انگیز جھوٹے پروپیگنڈے اور اشتعال انگیز  افواہوں اور جھوٹی خبروں (فیک نیوز ) کےابلیسی حربوں کے ذریعے   توتسی قبیلے کے لاکھوں افراد کی نسل کشی  کے پس منظر میں  وزیر اعظم مودی کے اِس   دورے کے خطرناک  مُضمرات  کا اندازہ لگا نا کچھ مشکل نہیں۔

 ہم سرِ دست اپنی طرف سے مزید کچھ کہنے کے بجائے (سوائی مادھو پور راجستھان کے شاعر) سرفراز بزمی  ہی کے درج ِذیل اشعار پر اپنا کالم تمام کرتے ہیں کہ :

کیوں ہوئی ہے اتنی ارزانی ہمارے خون کی۔ ۔اپنی عظمت کس نے اپنے ہاتھ سے مدفون کی کانپتی تھی سلطنت تیرے خرام ناز سے۔ ۔آہ تو ڈرتا ہے  اَب ناقوس کی آواز سے !

اے جنیؔد و اکبؔر و اخلاؔق و پہلؔو کے لہو۔ ۔۔یاد رکھ اللہ کا فرمان ہے ’’لا تقنطوا‘‘  !

 جبر کی تصویر کوئی نیل کا فرعون ہے۔ ۔۔بے عصا موسیٰ کے لب پر’’انتُم ا لاَعلون‘‘ ہے !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close