عالم اسلام

عصر حاضرکے چیلینجیز اور ہماری ذمہ داری

محمد صابر حسین ندوی

امت اسلامیہ جن پر آشوب وہلاکت خیز دور سے گزر رہی ہے، اور عالمی پیمانے پر جن مشکلات ودشواریوں کا سامنا ہے، انہیں نہ تو گنا جاسکتا ہے اور ناہی اس کی سکت لائی جاسکتی ہے، دنیا کا ہر خطہ ہر گوشہ، اور ہر ملک اسلام کے آگے پھن نکالے کھڑا ہے، جوا پنے زہریلے ڈنک سے جسم اسلامی کو مسموم کردینے اور اس کا وجود مٹادینے کے درپے ہے، کہیں عسکری وفوجی یلغار ہے، توکہیں فکری وتہذیبی سورش برپا ہے، کہیں ’’ماڈرن اسلام‘‘ کے نام پراسلام کو بازیچۂ اطفال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، تو کہیں صہیونی وصلیبی جنگ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو تہہ وتیغ کردینے اورانہیں جڑسے اکھاڑ پھینکنے پر آمادہ ہیں، مسلم مماملک کمزور وضعیف یا خوش آمد وجبین سائی کا شیوہ اپنائے ہوئے ہیں، تو وہیں اقلیات میں بسی مسلم بستیاں ؛اپنی دوچند اسلامی شعار کی حفاظت اور حقوق کے تحفظ کے تئیں اپنا سر قلم کروادینے اور پوری کی پوری فوج وفکر سے مزاحمت کو تیار ہیں۔ گویا وہ کہہ رہے ہوں :

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں

مؤمن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الہی

عصر حاضر میں اگر مسلمانوں کو تیر وتفنگ، سیف وسنان اور قید بندی کا خطرہ لاحق ہے، تو وہیں انہیں بہلانے، پھسلانے اور فکری ارتداد پر آمادہ کرنے کیلئے درہم وریال کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، اور اگر ان سب سے بھی کام نہ چلے تو ان کی ہستی کو نیست ونابود کردینے سے بھی کوئی دریغ نہیں ہے، مغربی استعماری، رشین فوج کشی، اور شیعی سازشوں نے اس قدر ہمت پائی ہے؛کہ وہ یک بیک مسلم ممالک کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردینے اور صفحہ ہستی سے ان کا وجود مٹادینے کے خواہاں ہیں ، کبھی افغانستان کو اپنی دشمنی کا جولان گاہ بنایا، تو کبھی عراق، لیبیا، مصر اور پھر آگے شام میں انسانیت کو شرمسار کرنے اور ان سے زندگی کا حق چھین لینے کا جواز حاصل کرلیا ہے، یہ عسکری چیلینج اگر خدا نہ خواستہ کن ہی صورتوں میں مسلمانوں نے برداشت کر بھی لیا ہو ؛تو انہیں اسلام مخالف ادب ولٹریچر، نصاب تعلیم، مسلکی اختلافات، اقتصادی بحران، طبقاتی، خاندانی اور فکری بنیاد پر ٹکرادینے اور الجھا دینے پر کاربند ہیں ، آج فکری وثقافتی یلغار، یوروپی مفکرین ومستشرقین بالخصوص میڈیا کا دورخاپن اور اسلام مخالف استعمال نے حالت دگر گوں کردی ہے، اور صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ کہیں اسلام کا دم واپسیں تو نہیں ؟۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صاف صاف یہ فرمادیا ’’یریدون أن یطفئو نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون ‘‘(توبہ:۳۲)آپ یہ سمجھ لیجئے ! اور جان لیجئے !کہ سازشوں کا طوفان اٹھے، اختلافات کا بحران ہو یا دشمنوں کی یلغار ہو، یا حالت ایسی بھی آن پڑے؛ کہ مسلمانوں کو رہ رہ کر اچک لئے جانے کا خطرہ ہو ؛تب بھی اسلام کا بال باکا بھی نہیں ہوسکتا، اس کے ساتھ کسی قسم کی کتر بیونت نہ ہو سکی ہے، نہ ہوگی ؛کیونکہ اس کامحافظ اللہ خود ہے، ’’وانا لہ لحافظون‘‘(یوسف:۱۲)، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن وحدیث کو اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہوئے عہد اولیں کی اتباع کی جائے، ایک طرف معاشرتی اصلاح وعائلی زندگی کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور فکری وتہذیبی اور ثقافتی چیلینجیز کے مقابلہ میں اسلای شعار کو بڑھاوا دیا جائے اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی جائے ؛بلکہ افراد سازی اور رجال سازی کے ذریعہ ایک ایسا ماحول تیار کیاجائے جو اسلام دشمنوں کو دندان شکن جواب دے سکے۔

 سیدی حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒنے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’مسلم ممالک میں الامیت اور مغربیت کی کشمکش‘‘میں عصر حاضر کے مسلمانوں کیلئے ایک خاص لائحہ عمل کی طرف اشارہ کیا ہے، یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ داخلی وخارجی چیلینجیز کا بخوبی سامنا کیا جاسکتا ہے، آپ رقمطراز ہیں : ’’اس کاواحد راستہ یہ ہیکہ حقائق اور واقعات کا جرأت ودوراندیشی اور صحیح دینی روح اور دینی بصیرت کے ساتھ سامنا کیا جائے، اور ملک میں دین کی صحیح تعلیم کے مطابق ہمہ گیر، صالح اور ضروری تبدیلی کیلئے صدق دل اور اخلاص کے ساتھ کوشش شروع کی جائے، جن چیزوں کا ازالہ اور سد باب ضروری ہو، ان کا سد باب کیا جائے، جن اصلاحات کا نفاذ اور جن اسکیموں کا آغاز ضروری ہو ان کے آغازمیں دیر نہ کی جائے، اسلام، قرآن اور سنت رسول ؐ کی روشنی میں اور اسلامی حدود کے مطابق معاشرہ میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے، اہل ملک کو خوش حالی اور فارغ البالی کیلئے ضروری قدم اٹھائے جائیں ، کم ازکم جمہور کے ہر فرد کیلئے امکانی حد تک ضروریات زندگی کا بندوبست ہو، اس بیجا اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی فضول خرچی کو ختم کیا جائے، جو عوام کی حقیقی ضروریات بھی پوری ہونے نہیں دیتی، اغنیاء واہل ثروت میں ایثار کا مادہ اور ضروریات سے فاضل مال کے خرچ کا جذبہ اور ’’یسئلونک ماذا ینفقون، قل العفو‘‘ پر عمل کرنے کا شوق ہو اور فقراء میں استغناء وخودداری اور اپنے گاڑھے پسینے اور محنت وقابلیت سے اپنی ضروریات زندگی کی بندوبست کا جذبہ ہو، نظام تعلیم کو نئے سرے سے اس طرح ڈھالاجائے ؛کہ وہ اسلامی کے عقائد واصول اور عصر جدید کے تغیرات اور علوم ووسائل دونوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور دونوں کے تقاضہ پورے کرتاہو، اور نئی نسل میں ایک طرف ایمان ویقین، اخلاقی قوت، استقامت، خوداعتمادی وخودداری، اپنے دین پر غیر متزلزل یقین اور اس کیلئے قربانی کا جذبہ ہو، دوسری طرف قوت ایجاد، فکری استقلال، بلند ہمتی اور علوالعزمی پیدا کرنے اور جرأت وذہانت کے ساتھ مغرب کا مقابلہ کرنے کا جوہر اور اوصاف پیدا کرسکے۔

 اس انتشار اور بغاوت سے بچنے کیلئے عوام میں دینی روح، طاقت ورایمان، اخلاقی حس اور اسلامی شعور پیدا کرنا ہوگا، اس ذہنی انتشار اور بے دلی اور بغاوت کے جراثیم کا خاتمہ کرنے کیلئے ان کے اسباب ومحرکات کا مکمل ازالہ، حالات کی عمومی اصلاح اور سیرت وکردار میں تبدیلی کی ضرورت ہے، مغرب سے وہ لینا ہوگا جو اسلامی ممالک اور معاشرہ کیلئے مفید اور اس کے عقیدہ سے ہم آہنگ ہے، اور بجائے خود کوئی عملی اور ایجابی افادیت رکھتا ہے اور قوم وملک کو مظبوط کرسکتا ہے اور زندگی کی جد وجہد، سرفروشی اور دعوت الی اللہ کے مقصد میں مفید ہوسکتا ہے‘‘(۵۱تا۵۲)

دراصل زمانے کے ہر چیلیج کے ساتھ اس کے مثل تیار ی کرنااور انہیں کی زبان میں جواب دینا اسلامی فریضہ ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ وعدوکم وآخرین من دونھم لاتعلمونھم، اللہ یعلمھم وماتنفقون من شئی فی سبیل اللہ لیوف الیکم وأنتم لاتظلمون، وان جنحوا للسلم فااجنح لھا، وتوکل علی اللہ، انہ ھوالسمیع العلیم(انفال:۷)’’اور ان سے مقابلے کیلئے جس قدر بھی تم سے ہو سکے سامان درست رکھو، قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے جن کے ذریعہ سے تم اپنا رعب رکھتے ہو، اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی ؛کہ تم انہیں نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے وہ تمہیں پورا پورا دیدے گا اور تمہارے لئے ذرا بھی کمی نہ ہوگی اور اگروہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھئے، بیشک وہ خوب سننے والا ہے، خوب جاننے والا ہے ‘‘اس آیت میں اللہ تبارک وتعالی نے ان ذرائع اور وسائل کو اختیار کرنے اور مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ تلاش کرتے ہوئے ان خطرات و چیلیجیز کے وسائل تیار کرنے کی تلقین کی ہے، یقین جانئے ! کامیابی وکامرانی آپ کے لئے ہے، اور فٹح ونصرت کاوعدہ آپ ہی کیلئے ہے، بس علامہ اقبال کے اس شعر کو حرز جاں بنالیجئے!

جب عشق سکھاتا ہے، آداب سحر گاہی

کھلتے ہیں غلامووں پر اسرار شہنشاہی

عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی        

جس رزق سے آتی ہو پروز میں کوتا ہی

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close