خصوصیعالم اسلام

عصر حاضر میں مساجد کا مطلوبہ کردار (دوسری قسط)

محمد آصف ا قبال

 اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلامی ریاست کی تشکیل و استحکام کا تذکرہ جب ہمارے سامنے کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے جس مسجد کا خیال ذہن میں آتا ہے وہ مسجد نبوی ہے۔ اس صورت میں مسجد نبوی کی اہمیت وکردار کو نہ صرف سمجھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے شب و روز اور ان میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے نتیجہ میں اس کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ مسجد بنوی سے زیادہ اہمیت مسجد الحرام کی ہے۔ کیونکہ وہاں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کا تعمیر کردہ اللہ کا پہلا گھر، خانہ کعبہ موجود ہے۔ ساتھ ہی بیت المقد س کے بعد امت محمدیہ کا تاقیامت قبلہ بھی وہی ہے۔ ہم کہیں گے کہ آپ کی دونوں باتیں درست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے محترم مسجد "مسجد الحرام "ہے اور اس کے بعد”مسجد نبوی "ہے۔ لیکن ہجرت کے بعد مدینہ میں جو کردار اسلامی ریاست کی تشکیل و استحکام میں مسجد نبوی نے اور اللہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے ادا کیا، وہ کرداردنیا کی کسی دوسری مسجد کا نہیں ہے۔ اس موقع پر لازماً یہ سوال ہمارے ذہن میں اٹھنا چاہیے کہ رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مسجد میں نبوی کے ذریعہ اسلام کی توسیع و اشاعت میں وہ کون سا کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں اسلامی ریاست کے قیام واستحکام میں مسجد نبوی کا خیال سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے؟قبل اس کے کہ اس پر روشنی ڈالی جائے آئیے مسجد نبوی کی مختصر تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے چلیں۔

مسجد نبوی کی تعمیر کا آغاز ۱۸؍ ربیع الاول سنہ ۱یک ہجری میں ہوا۔ حضور اکرم ؐ نے مدینے میں ہجرت کے فوراًبعد مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور خود بھی اُس کی تعمیر میں بھر پور شریک رہے۔ مسجد کی دیواریں پتھر اور اینٹوں سے بنائی گئیں جبکہ چھت درخت کی لکڑیوں سے بنائی۔ مسجد سے ملحق کچھ کمرے بھی بنائے جو آنحضرت ؐ اور ان کے اہل خانہ اور بعض اصحاب ؓ کے لئے مخصوص تھے۔ مسجد نبوی جس جگہ قائم کی گئی وہ دراصل دو یتیموں کی زمین تھی۔ ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر بضد تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمین شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال کی جائے۔ لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بلا معاوضہ زمین قبول نہیں فرمائی۔ دس دینار قیمت طے ہوئی اور آپ ؐ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکو اس کی قیمت اداکرنے کا حکم دیا۔ بعد میں اس مقام پرمسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کے لیے استعمال ہوئے، اورسادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔ مسجد سے متصل ایک چبوترا بھی بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہیں تھا۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے کیا۔ بعد میں مختلف ادوار میں کئی مسلم حکمرانوں نے اس میں توسیع اور تزئین و آرائش کا کام کروایا۔ گنبد خضراء کو مسجد نبوی میں امتیازی خصوصیت حاصل ہے جس کے نیچے محمدصلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک ہیں۔

 اللہ کے رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے سنگریزوں پر بیٹھ کر معاشرہ کے تمام مسائل کو قرآن حکیم کی روشنی میں نہ صرف حل فرمایابلکہ آپ ؐکی تمام اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں بھی یہیں سے انجام دی گئیں۔ سینکڑوں مہاجرین کی اس چھوٹی سی بستی میں منتقل ہونے کے بعد آبادی کے مسائل اور ان نووارد افراد کو معاشرے میں ضم کرنے کے مسائل تھے جنہیں اسی مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کر مواخات کی شکل میں حل کیا گیا۔ نئی مملکت کے تمام سیاسی مسائل کے حل، قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ ہاوس کا کردار، عدالتی فیصلوں کے لئے سپریم کورٹ کا کردار، تعلیم وتعلم کی سرگرمیاں، رفاہی کاموں کا مرکز، تجارت و زراعت کے مسائل کے لئے چیمبر آف کامرس اور ایگریکلچر ہاوس، دفاعی اقدامات اور جنگی حکمت عملی کے لئے بطور مرکز، کسی علاقے میں جہاد کے لیے لشکر روانہ کرنا ہویاجہاد کی تربیت کا مرحلہ ہو، غرض رسول اللہ محمد ؐنے مسجد نبوی کو مسلم معاشرہ کا محور ومرکز بنادیا۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو صرف عبادت کی جگہ قرار نہیں دیا بلکہ اس سے لوگوں کی سماجی، سیاسی، علمی اور زندگی کے ہمہ جہت پہلوئوں اور ان سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بھی اس مسجد کو مرکز کی شکل میں بھرپور اور مکمل استعمال کیا۔ پھر یہی مسجد وہ عظیم مرکز ٹھہراجس نے، نہ صرف مسجد ومدرسہ کا کردار ادا کیا بلکہ زندگی کے تمام  شعبہ ہائے زندگی پر محیط مسائل کا حل بھی پیش کیا۔ نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے صدیوں کے الجھے ہوئے تمام مسائل حل ہوگئے۔ ساتھ ہی مدینہ منورہ کا معاشرہ، دنیا کے تمام معاشروں کے لیے ایک عظیم الشان مثالی معاشرہ بن کر سامنے آیا۔ آج مسجد کے اُسی کردار کی تجدید ہمیں کرنی چاہیے جو کردارمحمد صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین کے زمانے میں اداکیا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی عصر حاضر کے مسائل میں مساجد کامطلوبہ کردارکیا ہونا چاہیے، آئیے اس پر بھی غور کرتے ہیں۔

  اسلام نے تربیت کا جو نظام قائم کیا ہے وہ ہر دو سطح پرموجود ہے۔ وہ فرد کی اصلاح پر بھی توجہ دیتا ہے ساتھ ہی معاشرہ کی اصلاح پر بھی۔ یہیں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ معاشرہ کی اصلاح میں زندگی کے وہ تمام شعبہ ہائے حیات شامل ہیں جہاں فرد کا تعلق معاشرہ کے سب سے چھوٹے یونٹ”خاندان "سے وابستہ ہے نیز دور حاضر کے مختلف افکار و نظریات سے بھی، جنہیں، ہم معاشرہ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ مزید غورفرمائیے تو معلوم ہوگا کہ اسلام نے جو نظام حیات فراہم کیا ہے اس میں فرد اور معاشرہ، انفرادی اور اجتماعی ضرورتوں کے پیش نظر تمام مسائل کا حل اور ان کے مادی و روحانی ارتقاء پر بھی توجہ فرمائی ہے۔ لہذا فرد کی زندگی کے مختلف مراحل جنہیں ہم بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی اور بڑھاپے میں تقسیم کرتے ہیں، میں درپیش معاملات کو صحیح بنیادوں پرقائم رکھنے میں مساجد اور اس کے تحت انجام دی جانی والی سرگرمیاں اہم ترین کردار ادا کرسکتی ہیں۔ دوسری جانب معاشرہ کے اجتماعی مسائل اور درپیش معاملات کو صحیح رخ دینے میں بھی مساجد بھر پور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تیسری جانب ریاست کے وہ اعلیٰ ذمہ داران جو حکومت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں اور سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، اگر وہ مسلمان ہیں توانہیں بھی عدل و انصاف کی تلقین و یاد دہانی اور صراط مستقیم پر قائم رکھنے میں، مساجدکا اہم ترین کردار ہے۔

ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے؟تو اس کا آسان ترین جواب یہی ہے کہ مسجد میں جب ایک انسان داخل ہوتا ہے، تو گرچہ وہ دنیا کے شب و روز کی مصروفیات میں اعلیٰ یا ادنیٰ کوئی بھی مقام رکھتا ہو، اس کی موجودگی اس بات کی شہادت ہے کہ وہ خدائے واحد کو اپنا رب اعلیٰ ماننے کو تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے پورے وجود کے ساتھ، جس میں نہ صرف اس کا جسم اور اس کے مختلف اعضاء شامل ہیں، ، سجدہ کرتا ہے بلکہ اس کی پسند اور ناپسند بھی رب العالمین کی پسند اور ناپسند ہے، اس کے افکار و نظریات وہیں ہیں جو رب العالمین نے اپنے رسولوں کے ذریعہ مختلف شکلوں میں ہم تک پہنچائے ہیں، جنہیں عموماً ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے نام سے جانتے ہیں۔ پھر  یہی وہ عبادت کا تصور ہے جس کی بنا پر انسان، بندگی میں فرشتوں سے آگے نکل جاتا ہے اور جس کی بنا پر اسے اشرف المخلوقات سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ وہیں یہ بات بھی آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسجد، عربی لفظ، سجد سے بنا ہے۔ جس کے معنی ہی خشوع و خضوع اور عاجزی سے سرجھکانا اور عبادت کے ارادہ سے سر کو زمین پر رکھنا ہے۔ مسجد کا لفظ ظرف مکاں ہے جس کا مطلب سجدہ کرنے کی جگہ ہے۔ اصطلاح میں اس سے مراد وہ مقام یا جگہ ہے جہاں مسلمان بغیر کسی رکاوٹ کے اللہ کی عبادت اور بندگی کے لیے جائیں  اور انفرادی یا اجتماعی شکل میں نماز ادا کریں !    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری)

مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close