عالم اسلام

عصر حاضر کی مسلم خواتین اور جدید فیشن

اسرار احمد شفیع

بلاشبہ موجودہ دور ایک انقلاب آفریں دور ہے، تہذیب وثقافت کی یلغار ہے، علوم وفنون کا بول بالا ہے، تعلیم وتعلم کا اجالا ہے۔ الغرض آج کا دور جملہ اعتبار سے ایک حیرت انگیز دور ہے، پوری دنیا یورپ اور مغرب کے انقلابات سے حیرت زدہ ہے اور اس کے ہر ہر عمل کی اس قدر دلدادہ ہوچکی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس سے بہتر کوئی آئڈیل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانی معاشرہ کا ہر فرد چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم بغیر یورپ کی نقالی کیے اپنے آپ کو انسان ہی نہیں تصور کرتا۔(إلا من رحم ربی)یورپ اور مغربی کلچر کا یہ بھوت اور ناسور مسلم معاشرے کے اندر اتنی تیزی کے ساتھ سرایت کر رہاہے کہ اس پر قد غن لگانا نا ممکن تو نہیں پر مشکل ضرور ہے، ہر فرد حیران وششدر ہے کہ آخر کیا ہورہا ہے؟ چونکہ یہ دور انتہائی ماڈرن ہوچکا ہے اور اس نشے میں ہر کوئی سادگی کو چھوڑکر اس رنگینی کی طرف بے خوف وخطر بھاگ رہا ہے جس کی حقیقت سراب سے بھی کمتر ہے۔

آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں میں ملوث ہوچکا ہے جس کو ہم قیامت کی نشانی سے تعبیرکرسکتے ہیں، مسلم قوم کی بیٹیوں کا لباس، ان کی مخلوط تعلیم، ان کا آزادانہ پارکوں اور رقص گاہوں کی سیر کرنا، کال سینٹروں اور آفسوں میں نوجوان لڑکوں کے ساتھ بلاتامل جاب کرنا، موبائل فون اور نیٹ کا غلط استعمال، نیم عریاں لباس زیب تن کرنا، یونیورسٹیوں میں مختلف کورسوں میں داخلے لینا، ہرطرح کے مسابقے اور ڈیبیٹ میں کھل کر شرکت کرنا، بازاروں اور دوکانوں میں آزادانہ گھومنا آج کے مسلم پروفیشنل گھرانوں کی بہن بیٹیوں کا ایک عام رو ہوچکا ہے، اور ان کے سرپرستوں کو یہ خبر نہیں کہ آخر ان کی عزت خیر وعافیت میں ہے یا نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کی نام نہاد دنیوی ترقی اور نوکری سے مزید خوش وخرم نظر آتے ہیں، اور مارے فخرسے معاشرے میں سر تان کر لوگوں کو لڈو بانٹتے ہیں کہ ہماری فلاں بیٹی نے فلاں کالج ٹاپ کیا۔

آمدم برسر مطلب! آج اگر ہم سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ہر جگہ لڑکوں سے زیادہ نوجوان لڑکیوں کا ہجوم ہے، ریلوئے اسٹیشن ہو یا ایر پورٹ، استقبالیہ دفتر ہو یا عام آفس ہر جگہ لڑکیاں ہی لڑکیا ں مطلو ب ہیں! اور اس کو لاگو کراکے ہمارا دانشور طبقہ بڑے طمطراق سے کہتا پھرتا ہے کہ ہماری حکومت بڑا اچھارول نبھا رہی ہے،لڑکوں اور لڑکیوں کے برابر حقوق مل رہے ہیں، ان کو اچھی اچھی جاب مل رہی ہے اب وہ کسی کی محتا ج نہیں رہیں گی، پوری انسانیت اس تعمیر وترقی کی انوکھی مثال دے رہا ہے، یہ ہے غیر ت کا فقدان۔

اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ مذہب اسلام کی تعلیمات فطرت کے عین موافق ہے، اسلام نے عورتوں کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے اس طرح کی نظیر اور مثال نہ کسی دنیوی مذاہب میں ہے اور نہ ہی مل سکتی ہے،

مذہب اسلام عورتوں کو مخاطب کرکے یہ حکم صادر کرتا ہے:

{وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الأولی}(الاحزاب:33)

یعنی عورتوں کا ٹھکانہ اور ان کی پناہ گاہ گھر کی چہار دیواری ہے ،

یہی وجہ ہے کہ بڑے تاکیدی انداز میں بصیغہ امر مخاطب کیا گیا ہے کہ تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور جاہلیت کی طرح مظاہر ہ نہ کرو، گویا کہ وہ اللہ جس نے اپنی مخلوقات کو پیدا کیاہے وہ اچھی طرح ان کی مصلحتوں کو جانتا ہے کہ کون سی چیز ان عورتوں کے لیے زیادہ مناسب ہوسکتی ہے گھر کی چہار دیواری یا بازاروں میں دندناتے پھرنا۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے آج عورتیں گھروں سے زیادہ باہردکھائی دیتی ہیں، اور اس پر مزید کہ اگر کوئی خاتون پردے کا اہتمام کرتی ہے تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ذرا بھی ماڈرن نہیں، ذرا بھی تہذیب وثقافت کا خیال نہیں،اور جو لوگ بے پردہ گھومتی پھرتی ہیں انھیں سب سے زیادہ مثقف تصور کیا جاتا ہے۔ کیا مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنا، مردوں جیسا لباس زیب تن کرنا، مردوں جیسی چال ڈھال اختیا ر کرنا، بازاری محفلوں اور دیگر قسم کی تقریبات میں شرکت کرنا یہی سب سے بڑی ترقی ہے، یہی آزادی نسواں ہے اگر جواب ہاں ہے ،تو سن لیجیے اس نبی (ﷺ)کی وعید شدید جس کی محبت کا ہم دم بھرتے ہیں، اور محاسبہ کریں اپنے نفس اور اپنے گھر کی عورتوں کا اور سوچیں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہمارے اہل خانہ اس وعید کا شکار تو نہیں ہورہے۔ آپ نے فرمایا:

{صنفان من أہل النار لم أرہما بعد، قوم معہم سیاط کأذناب البقر یضربون بہا الناس، ونساء کاسیات عاریات، مائلات ممیلات، رؤوسہن مثل أسنمۃ البخت المائلۃ، لا یدخلن الجنۃ ولا یجدن ریحہا، وإن ریحہا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا}(صحیح مسلم/حدیث:2128،ومسند احمد/حدیث: 8665 عن أبی ہریرۃ)

جہنمیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے دیکھا نہیں ہے، ایک قسم ایسی ہوگی جن کے پاس گائے کے دم کی طرح کوڑے ہوں گے جس سے لوگوں کو ماریں گے، اور دوسری قسم ایسی عورتیں جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوںگی، مٹک مٹک کر اور اپنے مونڈھوں اور کولہوں کو ہلا ہلا کر چلنے والی ہوںگی، ان کے سر اونٹ کے کوہان کے مانند ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہونے نہیں پائیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو میسر ہوگی اگرچہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت تک محسوس کی جاسکتی ہے۔

علامہ ابن عبدالبر ؒ فرماتے ہیں:

کہ نبیﷺ کا مطلب وہ عورتیں ہیں جو اتنا رقیق اور باریک لباس پہنتی ہیں جو بدن پہ تو ہوتا ہے لیکن اس سے ستر پوشی نہیں ہونے پاتی تو ایسی عورتیں درحقیقت ”عاریات” کے قبیل سے ہیں۔(امام سیوطی نے اسے تنویر الحوالک میں3/103) نقل کیا ہے، بحوالہ:حجاب المرأۃ المسلمۃ للألبانی)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ(ﷺ) نے فرمایا: کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے اورنہ ہی کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو جبکہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو۔ (بخاری/رقم:290، مسلم/رقم:1341)

مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں ہم اگر اپنے گرد وپیش کا جائزہ لیں تو حقیقت بالکل اسی طرح نظر آتی ہے، آج کی مسلم عورتوں کا حد درجہ باریک لباس پہننا، ان کا ایک دوسرے ساتھ بغیر کسی حرج کے اٹھنا بیٹھنا ، اکیلے بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنا ایک خاص مشغلہ بن چکا ہے،اور اس پر مزید ان کے لیے آئیڈیل بھی بنیں تو وہ بھی فلموں کی فاحشہ اور بازاری عورتیں جن کا نہ کوئی دین ہے نہ دھرم،حالانکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے چاہیے تو یہ تھا کہ ان کے لیے اسوہ ہوتیں امہات المومنین اور صحابیات( رضوان اللہ علیہن أجمعین)جیسی پاک ہستیاں جن کے تقدس کی تعریف عرش والا آسمان سے کرتا ہے اور جن کی عزت وآبرو پر کیچڑ اچھالنے والے پر آسمان سے براء ت نازل کرتا ہے۔

مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی رفعت وبلندی کو پہچاننے کی کوشش کریں، کیونکہ انھیں مذہب اسلام نے بہت ہی بلند مقام عطا کیا ہے ،جس کی دلیل کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت ہی کافی ہے :

{من عمل صالحا من ذکر أو أنثی وہو مؤمن فلنحیینہ حیاۃ طیبۃ ولنجزینہم أجرہم بأحسن ماکانوا یعملون}(النحل:97)

جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مر د یا عورت بشرطیکہ ایما ن ہو تو ہم اسے یقینا نہایت ہی بہتر زندگی عطا فرمائیں گے، او ر ان کے اعمال کا اس سے کہیں زیادہ بہتر بدلہ عنایت کریں گے جتنا کہ وہ کرتے تھے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

{الدنیا کلہا متاع وخیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ}(مسند احمد:6567،سنن نسائی:3232)

کہ دنیا کی ساری چیزیں فائدہ کی خاطر ہی بنائی گئیں ہیں، لیکن دنیا کی سب سے بیش بہا دولت اور سب سے قیمتی چیز نیک اور صالح عورت ہے۔

اس لیے ہر مسلمان عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وقار اور رتبے کو پہچانیں، نہیں تو وہ دن آنے والا ہے جب ان سے ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں باز پرس ہوگی تو اس وقت سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہ ہوگا، مزید چلتے چلتے ہم اپنے مسلم بھائیوں سے آخر ی بات عرض کرتے چلیں کہ آپ اپنی بہو، بیٹیوں کی حفاظت کریں اور اغیار کی نقالی سے انھیں کوسوں دور رکھیں ، کیونکہ اسلام کی تعلیمات کو اپنانے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی مضمر ہے۔(اللہ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے، آمین

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close