عالم اسلام

 عہدوں سے بے نیازی

جماعت میں کسی منصب یا عہدہ کی خواہش یا طلب سخت ناپسندیدہ ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جماعت اسلامی ہند کی نئی میقات ( اپریل 2019 تا مارچ 2023 ) کے لئے نائب امرا کے ناموں کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔ وہ ہیں انجینیر محمد سلیم، انجینیر سید امین الحسن اور جناب محمد جعفر۔ اس سے قبل امیر جماعت کے لیے انجینیر سید سعادت اللہ حسینی کا انتخاب اور قیّم (جنرل سکریٹری) کے لیے جناب ٹی، عارف علی کا تقرّر ہوچکا ہے۔

ہندوستان کی دینی جماعتوں، تنظیموں، اداروں اور مدارس کے بارے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں مناصب اور عہدوں کی طلب، خواہش، بلکہ ہوس پائی جاتی ہے۔ جو شخص کسی منصب پر فائز ہوجاتا ہے وہ آسانی سے اسے نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے موروثی بنانا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گروہ بندیاں ہوتی ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے، ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ جماعتیں یا ادارے دو دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی ہند میں مناصب اور عہدوں کی تقسیم کا ایک بے مثال، لائقِ ستائش اور قابلِ تقلید نظام موجود ہے۔

جماعت میں کسی منصب یا عہدہ کی خواہش یا طلب سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس کے دستور میں رکن مجلس نمائندگان، رکن مجلس شوریٰ، امیر جماعت، امیر حلقہ، امیر مقامی، ہر ایک کے لیے مطلوبہ صفات میں صاف لکھا ہوا ہے کہ  ” وہ اس منصب یا کسی اور جماعتی منصب کا امیدوار یا خواہش مند نہ ہو۔ ” دستور کی اس دفعہ کا اثر یہ ہے کہ ارکانِ جماعت میں عہدوں سے بے نیازی پائی جاتی ہے۔ مجلسِ نمائندگان، مجلس شوریٰ یا امیر جماعت کی طرف سے کسی کو کوئی عہدہ دیا جائے تو اسے وہ ‘اعزاز’ نہیں سمجھتا، بلکہ ‘ذمے داری’ گردانتا ہے۔ کوئی عہدہ نہ دیا جائے تو وہ غم گین نہیں ہوتا اور محرومی کا احساس اسے نہیں ستاتا، بلکہ خوش ہوتا ہے کہ ذمے داری سے بچ گیا۔ کوئی شخص پہلے کسی اونچے عہدے پر کام کررہا تھا، نئے نظم میں اسے کم تر عہدہ دے دیا گیا تو اس کی پیشانی پر بَل نہیں پڑتے، بلکہ وہ پہلے کی سی خوش اسلوبی اور دل جمعی سے مفوّضہ ذمے داری کو انجام دینے لگتا ہے۔

نئے نظم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ انجینیر سید سعادت اللہ حسینی کا نام پچھلی میقات میں بھی امیر جماعت کے لیے زیرِ غور آیا تھا، لیکن مجلسِ نمائندگان کے ارکان کی اکثریت نے جب فیصلہ کیا کہ ابھی مولانا سید جلال الدین عمری کو ہی امیرِ جماعت باقی رکھا جائے تو حسینی صاحب نے اسے ذرا بھی محسوس نہ کیا۔ پھر جب مولانا عمری نے انھیں نائب امیر مقرّر کیا تو پورے شرحِ صدر اور خوش دلی سے وہ ان کا تعاون کرتے رہے۔ اس مرتبہ بھی جب ان کے نام پر غور کیا جانے لگا تو انھوں نے ابتدا میں معذرت کی، لیکن جب ارکانِ مجلس  نے ان کے نام پر اپنی مہرِ تائید ثبت کر دی تو احساسِ ذمے داری کے ساتھ اس منصب کو قبول کرلیا۔ جناب ٹی، عارف علی گزشتہ میقات میں نائب امیر تھے، اِس میقات میں انھیں قیّم (سکریٹری جنرل) بنایا گیا تو انھوں نے اسے اپنے اسٹیٹس کی فروتری نہیں سمجھا۔ جناب محمد جعفر قیّم جماعت بھی رہے ہیں اور نائب امیر بھی۔ گزشتہ میقات میں انھیں کوئی منصب نہیں دیا گیا تھا تو انھوں نے اسے اپنی توہین نہیں سمجھا تھا۔ اب پھر انھیں نائب امیر بنادیا گیا ہے۔ گزشتہ میقات میں انجینیر محمد سلیم  قیّم اور جناب نصرت علی نائب امیر تھے۔ اس میقات میں انجینیر صاحب کو نائب امیر بنایا گیا ہے اور نصرت صاحب کو اب تک کوئی منصب نہیں دیا گیا ہے۔ نہ منصب سے محرومی کو توہین سمجھا گیا، نہ منصب پانے کو اعزاز گردانا گیا۔

اس بار مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد 19 سے بڑھاکر 25 کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے سلسلے میں ارکانِ مجلسِ نمائندگان کی آرا سامنے آئیں تو کچھ نام پرانے تھے، کچھ نئے، گزشتہ میقات کے بعض ارکانِ مجلس شوریٰ کا نام اِس بار کی مجلسِ شوریٰ کی فہرست میں نہ آسکا۔ لیکن کہیں اضطراب کی لہریں نہیں اٹھیں، کچھ شکوک و شبہات ظاہر نہیں کیے گئے، بدگمانیاں قائم نہیں کی گئیں، محاذ آرائی نہیں ہوئی۔

اس بار تو ایک عجیب صورت حال پیش آئی۔ ارکانِ مجلسِ شوریٰ کے ناموں کا اعلان کیا گیا تو اس میں جناب ٹی، کے، عبد اللہ (کیرلا) کا نام نہیں تھا۔ موصوف ایک طویل عرصے سے مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ وہ جماعت کے بزرگ ترین ارکان میں سے ہیں اور جماعت کے سرکردہ لوگوں میں سے ہیں ۔ فہرست کا آخری نام ڈاکٹر سلیم خاں کا تھا۔ تھوڑی دیر میں جماعت کے شعبۂ تنظیم کو پتہ چلا کہ ناموں کا اعلان کرنے میں کچھ غلطی ہو گئی ہے۔ ٹی، کے عبد اللہ صاحب کے حق میں اتنی آرا آئی ہیں کہ ان کا نام شامل ہونا چاہیے۔ فوراً تصحیح شدہ دوسری فہرست جاری کی گئی، جس میں ٹی، کے عبد اللہ صاحب کا نام شامل کیا گیا اور ڈاکٹر سلیم خاں کا نام حذف کردیا گیا۔  لیکن ڈاکٹر صاحب نے ذرا بھی برا نہ مانا۔

ہندوستان کی دینی جماعتوں اور اداروں نے اگر عہدوں سے بے نیازی کی اس روش کو اختیار کیا ہوتا تو وہ انتشار دیکھنے کو نہ ملتا تو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور دوسروں کی نظر میں امت کی جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ اس روش کو اگر اب بھی اختیار کر لیا جائے تو حال اور مستقبل کے بہت سے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    اللہ رب العزت ہی کے لئے شکر لازم ہے۔ یہ اس کا فضل خاص رہا ہے جماعت پر۔
    احتیاط ضرور رکھنی چاہئے کہ دلوں میں کہیں ان جماعتی صفات پر فخر و مباہات کے جذبات، کسی چور دروازے سے داخل نہ ہوں۔ اور، کہیں ہمارا فکری و تربیتی نظم کمزور نہ پڑے، افراد جماعت کےتزکیہ میں کوئی جھول نہ آنے پائے، کہ یہ صفات اسی کی پروردہ ہوتی ہیں !

    کیا ہی اچھا ہوتا کہ محترم رضی الاسلام صاحب، جو جماعت کے ذمہ داروں میں ہیں، ان اہم نکات کا ذکر کرتے۔
    اور ——-
    یہ آخری پیراگراف میں جو نصیحت امت کے اداروں، اور دینی جماعتوں کو کی ہے، بے محل لگتی ہے۔ یہ تو آپ موازنہ کر رہے ہیں جماعت کی خوبیوں کا اوروں کی کمزوریوں کے ساتھ ! ایسی نصیحت سودمند نہیں ہو سکتی، بلکہ الٹا ہم پر فخر جتانے کا الزام آئے گا !

متعلقہ

Back to top button
Close