عالم اسلام

عیدالفطر: مسلمانوں کے لیے انعام کا دن

و عیدین کی راتوں میں شب بیداری کرکے قیام کرے اس کا دل نہیں مرے گا جس دن کے سب لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔

مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی

رمضان المبارک کا برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ الوداع ہو رہاہے، عظیم مہمان تھا جس نے روزہ داروں کا بھی اکرام کیا اور انہیں مختلف قسم کی خوشیوں سے سرفراز فرمایا، اب یہ رونقیں سال بعد کسی کی زندگی ہوئی تو نظر آئیں گی، رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی عید کی رات شروع ہوجاتی ہے۔ جسے عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے اس رات کوعبادات میں ہم مسلمانوں نے گزارنا تھا لیکن مختلف قسم کی خرافات اس چاند رات میں کی جاتی ہیں۔

حضوراکرمﷺ نے فرمایا:جو عیدین کی راتوں میں شب بیداری کرکے قیام کرے اس کا دل نہیں مرے گا جس دن کے سب لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔ (ابن ماجہ)

ہمیں اس رات کو اللہ کے آگے گڑگڑانا چاہیے اور اپنی مزدوری مانگنے کے لئے بے قرار ہونا چاہیے۔  زیادہ سے زیادہ استغفار و نوافل پڑھنے چاہئیں تاکہ اللہ تعالی ہمارے روزوں اور عبادات کو قبول فرمائے۔ لیکن چاند رات کو ایک خرابی یہ بھی کی جاتی ہے کہ ماہ مبارک کے وہ تمام انوار و برکات جو مسلمانوں نے حاصل کی ہوتی ہیں اس رات میں لہوولعب میں مشغول ہوکر ضائع کردی جاتی ہیں ۔ وہ تمام خرافات جن سے عام مسلمان بچے رہتے تھے اس رات میں وہ سب خرابیاں پھر سے نمودار ہوجاتی ہیں ۔
حدیث شریف میں اس کی رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کی رات میں ثواب کی نیت سے جاگ کر عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ فضیلت کے اعتبار سے فطر کی رات رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی طرح ہے۔ اس رات کو لیل الجائزیعنی انعام کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ (قیام رمضان لمحمد بن نصر المروزی، ص: 262)

عیدالفطر انعام کا دن 

یکم شوال مسلمانوں کی عید کا دن ہوتا ہے اس دن روزہ داروں کو انعامات سے پھر نوازا جاتاہے۔ عید کا لفظ عود سے بنا ہے، جس کا معنی ہے: لوٹنا، عید ہر سال لوٹتی ہے اور اسکے لوٹ کر آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ فطر کا معنی ہے: روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے روز روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالی بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں ، لہذا اس دن کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔

حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:کہ جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں ، اے مسلمانو!اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو!تمھیں قیام اللیل کا حکم دیا گیا، لہذا تم نے اسے بجا لایا، تمھیں دن میں روزے کا حکم دیا گیا، تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی؛ لہذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے۔
تمھارے رب نے تمھاری مغفرت کردی۔ اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ۔ یہ یوم جائزہ (انعام کا دن)ہے۔ (الترغیب والترھیب،  حدیث نمبر: 1659)

عید کے دن کی سنتیں اور مستحبات

عید کے دن مندرجہ ذیل اعمال مستحب ہیں۔ غسل کرنا۔ مسواک کرنا۔ مباح عمدہ کپڑے پہننا۔ خوشبو لگانا۔ شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا۔ صبح سویرے بیدار ہوناتاکہ ضروریات سے فارغ ہوکر جلدی عید گاہ پہنچ سکے۔ نماز عید الفطر کے لیے جانے سے پہلے کچھ میٹھی چیز کھانا (جیسے طاق عدد کھجور وغیرہ) عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا۔ فجر کی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا۔ پیدل عید گاہ جانا۔ عید کی نماز کے لیے عید گاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ عید الاضحی میں بھی عید الفطرکی طرح ان اعمال کو کیا جائے مگر عید الاضحی کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے۔
نبی اکرم ﷺجب عید الفطر کی نماز کے لیے جاتے تو گھر سے نکلتے وقت یہ پڑھتے تھے: اللہم ا نی خرجت لی مخرج العبدِ الذلیلِ.

راستے میں آہستہ (عید الفطر میں اور عید الاضحی میں بلند)آواز سے تکبیر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھتے جانا۔

صدقہ فطر

جو مسلمان اتنا مالدار ہے کہ ضروریات سے زائد اس کے پاس اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہے جتنی قیمت پر زکوۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر عید الفطر کے دن صدقہ فطر واجب ہے،  چاہے وہ مال و اسباب تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گزرے یا نہیں ۔ غرضیکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے زکوۃکے فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانی ضروری نہیں ہیں ۔ بعض علما ء کے نزدیک صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصاب زکوۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل و اعیال کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔

صدقہ فطر کے واجب ہونے کا وقت

عید الفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے اور جو بچہ صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا ہے ا سکی طرف سے ادا کیا جائے گا۔

صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت

صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ہے، البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لئے جانے سے قبل ادا کر دیا جائے۔ (بخاری،  مسلم )

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے، (بخاری )

نماز عیدالفطر کی ادائیگی تک صدقہ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نماز عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں ۔  لیکن زیادہ تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں کیونکہ اس سے صدقہ فطر کا مقصود اور مطلوب ہی فوت ہو جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابل قبول زکوۃہو گی اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے، (ابو داؤد )

صدقہ فطر کی مقدار

کھجور اور کشمش کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں علما ء امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ کا ایک پیمانہ ہے صدقہ فطر ادا کرنا ہے، البتہ گیہوں کو صدقہ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علما ء امت میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ گیہوں میں بھی ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنا ہو گا جبکہ علما ء امت کی دوسری رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابو ہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر، اور اسماء رضی اللہ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان و پاکستان کے بیشتر علما بھی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں گیہوں آدھا صاع ہے، یہی رائے مشہور و معروف تابعی حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی تحریر کیا ہے کہ صدقہ فطر میں آدھا صاع گیہوں نکالنا کافی ہے (الاختیارات الفقیہ )

عید الفطر کی نماز کا طریقہ

” میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عیدالفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں "

عید الاضحی کی نیت میں صلو ۃ عیدالفطر کی بجائے صلو ۃ عیدالاضحی کہے باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے، امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک اللھم)پڑھیں پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں اسی طرح تین مرتبہ کہیں لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور باندھ لیں ، امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار یا حسب ضرورت زیادہ وقفہ کرے پھر امام تعوذوتسمیہ آہستہ پڑھ کر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ جہر سے پڑھے مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلی سورۃ فاتحہ اور ساتھ کوئی سورۃ کی قرآت جہر سے کرے بہتر یہ ہے کہ سور الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں قراٗت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد تعوذ و بسم اللہ و الحمد سے پہلے اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قراٗت سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے یہی افضل و اولیٰ ہے
واضح رہے کہ عید الاضحی کی نماز بھی دو رکعتیں ہیں جو اسی طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ ان دونوں نمازوں کے بعد خطبہ واجب ہے؛ لہذا امام دو خطبے پڑھے گا اور مقتدی کو خاموشی کے ساتھ ان خطبوں کو سننا چاہیے. ٰٓیہ مختصراً عیدین کے مسائل بھی ذکر کر دیے گئے ہیں.

اللہ پاک ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے اور خوشیوں کے یہ لمحات بار بار نصیب فرمائے (آمین یارب العالمین)

مزید دکھائیں

مولانا محمد طارق نعمان

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی جامع مسجد خالد بن ولید فیزٹاؤن پکھوال روڈ مانسہرہ کے خطیب، مسجد فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ کے امام اور مدرسۃ البنات صدیقہ کائنات و جامعہ اسلامیہ انوارِ مدینہ مانسہرہ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ موصوف صوبائی اسلامک رائٹر موومنٹ کے پی کے کنونیر ہیں۔ آپ کے مضامین روزنامہ اسلام، اوصاف، ایکسپریس، جنگ، اخبارنو، شمال، جرات وغیرہ کے علاوہ دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ

Close