عالم اسلام

عید آئی، ساتھ لائی ہزاروں غم

الطاف جمیل ندوی

میرے بس کی بات نہیں کہ اس خوشی و مسرت کے آنے پر دو باتیں کر سکون پر یہ سوچ کر کہ شاید میرے لئے ذخیرہ ہو سوچا چلو کرلوں دو باتیں  میرے بچوں نے ضد کی کہ ہمیں ہر حال میں کھیلونے اور نئے کپڑوں کے جوڑے لا کر دو بچوں کا ہاتھ تھام کر بازار کا رخ کیا ایک ذرق برق اور چکا چوند میں نہلائی دکان میں گیا جہاں کپڑوں کے جوڑے اور کھلونوں نے بھر مار تھی پر قرینہ سے ہر چیز سلجہی ہوئی بچے کھیلونے خریدنے میں مگن اور نئے جوڑے پسند کرنے لگئے میں کاونٹر پر گیا ان کی رقم ادا کرنے اسی لمحے ایک معصوم سا بچہ سامنے آیا بولا انکل مجھے کچھ دو اللہ کے لئے صورت سے بڑا ہی پیارا بچہ  کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے ہاتھ میل کچیل سے آٹے ہوے بڑی ہی شائستہ زبان میں مجھ سے مخاطب ہوا کچھ دیجئے اللہ کے لئے میں نے انتہائی شفقت سے بھیک مانگنے کا سبب پوچھا تو بتایا انکل میرے بابا ایک اچھے پڑھئے لکھے اور بیوپاری  تھے پانچ نمازوں کے پابند اور اچھے انسان مگر انکل کچھ سال پہلے گھر سے گئے تب سے ممی اور دیدی ڈھونڈ رہے ہیں پر بابا نہیں مل رہے ہیں  اب تو ممی اکثر روتی رہتی ہے اور ہمارے گھر میں کوئی اور نہیں جو کچھ کما سکے میں ہی ایک مرد ہوں اپنے گھر میں باقی کوئی نہیں اب کام نہیں مل رہا ہے اس لئے بھیک مانگتا ہوں  تھوڑا اور کریدا تو معلوم ہوا کہ اس کا والد شھید کیا گیا ہے اور یہ معصوم کہنے سے ڈرتا ہے پوچھا تو بتایا کہ ممی کہہ رہی تھی بابا کا شہید ہونا بتاو گئے تو تم بھی مارے جاو گئے  میرا سر شرم سے جھک گیا اور آنسو پونچھتے ہوئے جو پیچھے مڑ کر اپنے بچوں کو دیکھا تو دونوں اپنے کپڑوں کے جوڑے کھیلونے اس معصوم کو دے رہے تھے کہ لو ہمارے بابا کو رونے کے سوا کچھ آتا نہیں ہے اور دونوں مسکراتے ہوئے مجھ سے بولے بابا چلو گھر چلیں ہمیں کھیلونے نہیں آپ چاہئے اگر آپ شہید ہو جاو گئے تو ہمیں بھیک مانگنی پڑے گئی ؎

وہ سارے کبوتر جو محصور ہیں خوں آشام بلاؤں میں

تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاؤں میں​

 عید کا سماں ہے ، ہر انسان شاداں و فرحاں ہے ، بچے اجلے لباس پہنے اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود میں مگن ہیں ، ایک بچہ افلاس و یاس کی تصویر بنے آبدیدہ نگاہوں سے حسرت کے ساتھ بچوں کو کھیلتے اور خوش ہوتے دیکھ رہا ہے دور نبوت کے زمانے میں ایک انتہائی شفقت بھری آواز پر بچہ چونک جاتا ہے  بیٹا آپ نے نئے کپڑے کیوں نہیں پہنے؟ یہ سوال سن کر بچے کی آنکھوں میں آنسو تیز ہو گئے ، کہنے لگا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے ۔ اصرار پر کہنے لگا کہ میرے والدین نہیں ہیں، کون مجھے نہلا دھلا کر تیار کرے گا، کون میرے لئے نئے کپڑے لائے گا؟۔ یہ سن کر سوال کرنے والا آبدیدہ ہو گیا، پیار سے پوچھا۔ کیا تم یہ نہ چاہو گے کہ میں تمہارا باپ بن جاؤں، فاطمہ تمہاری بہن ہو، علی تمہارے چچا ہوں، اور حسن اور حسین تمہارے بھائی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔بچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گیا۔آپ اسے ساتھ لے گئے، نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنائے ، یہ سب دیکھ کر بچے کی چہرے پر بھی بشاشت آ گئی، اک حوصلہ ملا کہ اس کا بھی کوئی ہے۔ بچہ گیا اور دوسرے بچوں میں گھل مل گیایہ ایک چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر خوشی کے سب سے بڑے موقع کے حوالے سے ہمارے لئے مشعل را ہ ہے۔ رحمت کائنات، فخر موجودات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں درس دیا کہ”عید صرف خوش ہونے کا ہی نہیں بلکہ خوش کرنے کا نام ہے، اور اصلی خوشی وہی ہے جو دوسرے کے چہرے پر سجائی جائے  اب جبکہ ہم عید الاضحی کے دن کے بلکل قریب ہیں تو کیا ہم اس بار تھوڑی دیر کے لئے کیا سوچ سکتے ہیں کہ امت مسلمہ کے وہ بیٹے جو امت کے کل پر اپنا آج قربان کرگئے ہیں ان کے بچوں کا ان کے والدین کا ان کے اجڑے گھروں کا کیا ہوگا کیا وہاں آج کے دن چراغاں  ہوگا یا وہاں سے صرف آہین اور سسکیاں بلند ہوں گئیں درد و کرب میں ڈوبی صدائین گونجیں  گئیں یہ کرنے کی بات ہے کہ ہم کہاں تک اپنی خوشیوں  میں بیکسی و بے بسی کا شکار امت کو اپنی خوشیوں میں شریک  ہونے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں کیونکہ اب تو بس ہر طرف امت مسلمہ کے یتیم بچوں کی بیواؤں  کی فوج نظر آتی ہے یہ مرحلہ تب زیادہ اذیت ناک ہوجاتا ہے جب ہم پڑھتے ہین سنتے ہین کہ اتنے مسلمانوں  نے مزہب تبدیل کردیا اتنے بچے غیرون کے رحم و کرم  پر  چھوڑ دے گئے ہین جن کا کوئی پرسان حال نہیں شامی مہاجرین ہوں کہ برمی مہاجرین ہوں ہر دو کے بارے میں اخبارات میں سوشل میڈیا پر خبر آئیں کہ عزت مآب بہنوں  کی عزتیں لوٹی  گئیں   روٹی کے چند ٹکڑوں کے بدلے ان کی آہین سسکیاں بلند ہوئیں یقین کرے میرا تو قلب و جگر  چھلنی ہے یہ اندوہ ناک حالات سن کر یا جان کر کہ امت مسلمہ کی کثرت کے باوجود کیا ایسے ہی رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی  امت کی بیٹیاں بچیاں سسکتی رہیں گئیں وہ عید کب آئے گئی جب انہیں تحفظ ملے گا جب یتیم کو اس کی عیدی ملے گئی اللہ کرے ہم اس درد و کرب کا سمجھ جائیں اور اپنے آس پڑوس  میں سسکتے لوگوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا عزم مصمم کرکے خیر دارین حاصل کریں۔

عید کیا ہے؟

 ایک تہوار ، خوشی کا تہوار ۔ خوشی کا تہوار وہ قدر مشترک ہے جو ہر قوم اور مذہب میں پائی جاتی ہے،اور ہر قوم کے کچھ دن اور مواقع ایسے ہیں جن میں وہ خوشی مناتے ہیں، انداز اپنے اپنے مذہب، تہذیب اور روایات کے مطابق ہوتے ہیں۔ اسلام ایک مکمل اور فطری دین ہے ،فطرت انسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے بھی اپنے پیرو کاروں کے لئے خوشی اورغم کے حوالے سے نہ صرف تعلیمات دی ہیں بلکہ خوشی اور تفریح کے مواقع بھی مہیا کیے ہیں اسلام صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس لئے دیگر اقوام کے مقابلے میں ہماری خوشیاں منانے کا انداز بھی ذرا مختلف ہوتا ہے۔ عہد رسالت میں دیکھیں تو عید کے دن مسجد نبوی کے صحن میں نیزہ بازی کے مقابلے ہو رہے ہیں، مختلف فن کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر دیکھتی رہتی تھی۔

عید الاضحی کے موقعہ پر ہر مسلمان اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا انتظام کرتاہے۔ایثار و محبت کے عملی نمونے بھی نظر آتے ہیں، لوگ قربانی کے گوشت عزیز و اوقارب، غرباء و مساکین میں تقسیم کرکے اسلامی اخوت و بھائی چارگی کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ پھر عید کے بعد جذبات آہستہ آہستہ مدھم ہوجاتے ہیں، لوگ بھائی چارگی، جذبہ ایثار، قربانی کا فلسفہ آہستہ آہستہ بھول جاتے ہیں۔ اور واپس اسی روش پر آجاتے ہیں جس پر سال کے بقیہ مہینے قائم تھے، حالانکہ یہ اسلامی تہوار، خاص مہینے، خاص ایام انسان کی پوری زندگی کی تربیت کے لئے ہوتے ہیں کہ سال میں ایک بار قربانی کرکے سال کے بقیہ مہینوں میں بھی جذبہ ایثار و قربانی قائم رکھا جائے۔ سنت ابراہیمی کو ادا کرتے وقت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی سیرت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، تو سال کے بقیہ ایام میں بھی ان کی سیرت کو مشعلِ راہ بنایا جائے ، نہ کہ کچھ دنوں کے لئے ان کا نام زور و شور سے ہر محلے کی مسجد میں لیا جاتا ہے مگر سال کے بقیہ ایام میں نہ تو ان کی سنت پر روشنی ڈالی جائے اور  نہ ہی قربانی کرنے والے ان کی سنت و سیرت پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کریں جیسے قربانی کے وقت چھری پھیری تھی، ویسے ہی سال بھر کے لئے اپنی خواہشاتِ نفسانی کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ الغرض ہم اسلامی تہواروں کو محض رسم کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ پھر ذہن میں یہی بات آتی ہے کہ شایدعید و عشرہ ذوالحجہ کے دوران جو تکبیریں بلند ہورہی تھی، اب وہ سسک رہی ہوگئیں۔

  عید الاضحی دوسری عید  ہے جو سنت ابراھیمی کے عظیم الشان تاریخی واقعے کی یاد دلاتى ہےجسمیں ایک طرف ابراہیم خلیل اللہ کی محبت الہی میں قربانی کے تقاضوں کا علم ہوتا ہے تودوسری جانب اسماعیل ذبیح اللہ کے والدین کی فرمانبرداری میں ایثاروقربانی کا بے مثالی سبق ملتا ہے.سنت ابراہیمی کے اس تاریخ سازعمل کو حضورپاک صلى اللہ علیہ وسلم نے سنت مؤکدہ کے ذریعے اپنی امت کے لئے دائمی رضاء الہی کا ذریعہ بنایا جسکے باعث آج کروڑوں فرزندان توحید ہرسال قربانی کے ذریعے اس عزم کا اظہارکرتے ہیں کہ راہ حق میں اگرمال کی طرح جان بھی دینا پڑے تواسوۂ ابراہیمی کی پیروی میں اس سے دریغ نہ کریں۔

مسلمانوں کو عید کی خوشیوں اور رونق کیساتھ ساتھ کچھ مسلم ممالک میں فتنے، بے چینی، اور خانہ جنگی انہیں غمگین بھی کر دیتی ہے، ہر مسلمان امت مسلمہ کو لاحق کمزوری ، و اختلافات دیکھ کر برا محسوس کرتا ہے۔

امت اس وقت سخت تکلیف میں ہے، اس لئے ہر صاحب استطاعت شخص پر ضروری ہے کہ وہ امت کی اصلاح کیلئے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی، جس طرح امت کے پہلے افراد کی اصلاح ہوئی تھی۔

 اس وقت عام مسلمانوں کو جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ اعمال کی اصلاح اور رجوع إلی اللہ کا اہتمام ہے، دنیا بھر میں ظلم و فساد کی جو صورتِ حال ہے اس میں انسانوں کے اعمالِ بد کا بڑا دخل ہوتا ہے، وہ مسلمان کس قدر بے حس ہیں جن کی خوشیوں اور فضول خرچی پر مشتمل تقریبات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا، شام میں بچے بلک بلک کر دم توڑ رہے ہیں اور ہماری غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے عیش و عشرت میں مگن ہیں، حالات کی سنگینی ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح پر آمادہ کرنا چاہتی ہے  جسکے لئے آج عزمِ ابراہیمی درکار ہے۔ کیوں کہ عید قرباں پر بارگاہِ الٰہی میں قربانی کے ذریعے ہم اس درس کی تجدید کرتے ہیں جو عرب کے ریگ زار میں اللہ کے سچے پیغمبر نے اپنے فرزند کی قربانی پیش کر کے وفا شعاری کا عزم دیا، اور رب کریم کی اطاعت و فرماں برداری کا درس دیا، پھر عزم جواں چاہیے جس سے اسلام کی فصیل کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچانے کا سامان مہیا ہو سکے۔ کیا ہم اپنے زخموں سے با خبر ہیں؟عراق و افغان تباہ ہو کر رہ گئے، فلسطین میں خونِ مسلم کی ہولی کھیلی جاتی رہی، مصر و لبنان، شام و یمن اور لیبیا صہیونیت کی زد پر ہیں، ہمارے کلچر کو مغرب دوخانوں میں تقسیم کر رہا ہے، تعبیرات کا یہ طلسم اس کی مثال ہے،اعتدال پسند اور انتہا پسند،لیکن مسلمان مسلمان ہے وہ ان صہیونی تعبیرات سے اپنی شناخت کو مجروح ہوتا نہیں دیکھ سکتا،دنیا کے بہت سے خطے خونِ مسلم سے لہولہان ہیں، اسلامی ممالک میں باہم اتحاد نہیں معاشی طور پر مسلمانوں کو تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے، سیاسی لحاظ سے بھی ہم کم زور کر دیئے گئے اتنے کمزور کہ اب مسلمانوں سے ان کے انسانی حقوق تک چھینے جارہے ہیں انہین قربان کیا جارہا ہے۔

آج اسلامی تمدن پر حملہ ہے، اسلامی وضع قطع پر حملہ ہے اسلامی شعائر  کو مسخ کیا جارہا ہے اسلامی کلچر کو مٹایاجارہا ہے اور ہم ہیں کہ اب تک حالات و حوادث کا صحیح ادراک بھی نہیں کرپارہے اتحاد کی ازانین دینے والے خود افتراق کے اسباب پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں امت مسلمہ اپنے اپنے انا کے خول میں اس طرح جکڑی ہوئی ہے جس سے ان کا نکلنا کاردارد جیسا بن گیا ہے۔

عید الاضحی  کے ظاہری فوائد اور حکمتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اس دن دلوں کی اصلاح اور صفائی ہوتی ہے، اس دن مسلمانوں کے درمیان اخوت سے بھر پور راوبط استوار ہوتے ہیں، اس دن میل جول اور رشتہ داری جوڑنے کی دعوت دی جاتی ہے، سینوں سے کینہ، حسد، دھوکہ ، بغض مٹایا جاتا ہے، تا کہ پورا معاشرے میں تعاون کی مضبوط فضا قائم ہو، عید کے دن تمام کے تمام مسلمان ایک دوسرے کو سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں، ایک دوسرے کو ملنے کیلئے جاتے ہیں، خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں، رشتہ دار، پڑوسی سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں، جس سے دل صاف ہوجاتے ہیں، اخلاق بلندیوں تک پہنچ جاتا ہےاور ایک دوسرے کی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے آئے ہم عہد باندھ لیں یہ عید ہم بھی گزاریں گئے اس مقصد کی آبیاری کرنے کے لئے جو مقصد ہے اس عید سعید کا۔

مزید دکھائیں

الطاف جمیل شاہ

سوپور، کشمیر

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم
    الطاف جمیل ندوی سوپور کے ایک دور افتادہ گاون کے ہین یہ صاحب ابتداء ہی سے مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرتے رہے پر اپنے خیالات کا تجزیہ کرنے مین کسی بھی طرح سے ہچکچاتے نہیں برملا اظہار حق کردیئے ہین بہت بار اس سبب سے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا الطاف جمیل ندوی ایک غریب گھرانے کے ہین بچپن مین ہی والدین کی محبت سے محروم ہوگئے تھے بڑے قابل اور صالحہ نوجوان ہین تحریک اسلامی کے ایک گمنام داعی کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہین
    حفظ کرنے کے بعد ندوہ العلوم مین عالمیت سے فارغ ہوکر تدریس کا شعبہ سنبھالا اب تک اسی شعبہ سے وابستہ ہیں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی مین ایک کاروان جیسے ہین انتہائی شریف اور سادہ زندگی بسر کرتے ہین صاحب علم و ادب ہین علمی سطح پر بڑا کام کر رہے ہین
    اللہ تعالٰی سلامت رکھے
    میرے بھائی آپ کا سایہ قائم رکھے مولائے کریم

متعلقہ

Close