عالم اسلام

عید: رمضان کا انعام

یہ عید کا دن اللہ تعالی کی طرف سے روزہ داروں کےلیے انعام کا دن بھی ہے۔ اس دن اللہ تعالی روزہ داروں کو مغفرت کا پروانہ عطاء کرتے ہیں اور عنایات و اکرام کا ان پر خاص نزول ہوتا ہے۔

محمد طارق اعظم

رمضان المبارک جو نیکیوں کا موسم بہار ہے اس کے لمحے لمحے سے آپ نے ایمانی اور احتسابی کیفیت کےساتھ خوب خوب استفادہ کیا ہوگا اور کر رہے ہوں گے۔ رمضان المبارک کا مہینہ اپنے نفس کو گناہوں کی گندگیوں سے پاک کرنے کا اور نور ایمان سے منور کرنے اور اعمال صالحہ سے سنوارنے کا مہینہ ہے۔ گویا یہ ہمارے لیے ایک تربیت کا مہینہ ہے کہ ہم اس ماہ میں اپنے اندر طاعات کا شوق، معاصی سے نفرت، عبادت اور صبر کی اسپرٹ پیدا کریں۔ قرآن پاک نے اس مفہوم کو اپنے بلیغ انداز میں اس طرح ادا کیا ہے; ” لعلکم تتقون ” شاید تم تقوی گذار بن جاؤ۔

اس تربیتی اور بابرکت ماہ کا اختتام ایک ایسے عظیم الشان دن پر ہوتا ہے جسے ہم عیدالفطر کے نام سے جانتے ہیں، یہ اسلام کے دو عیدوں میں سے ایک عید یا دو تہواروں میں سے ایک تہوار ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان کے یہاں دو دن مقرر تھے جن میں کھیل کود کرتے تھے۔ آپ صلى الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں دنوں کو اللہ تعالی نے تمہارے دو بہتر دنوں سے بدل دیا ہے۔ عید الأضحی اور عید الفطر سے۔ (سنن ابی داؤد ۱۱۳۴)

مذہب اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت دیکھیں کہ خوشی کے اس موقع پر لہو و لعب اور ہنگامہ آرائی کے بجائے تسبیح و تہلیل اور شکر و امتنان کی تعلیم دی، اجتماعی طورپر دوگانہ ادا کرنے کو ایک عظیم عبادت قرار دیا  اور یہ عمل تعلیمات اسلام کی وحدانیت اور اجتماعیت کا ایک حسین مظہر قرار پایا۔ جبکہ دیگر اقوام کے تہواروں میں شاید ہی لہو و لعب اور ہنگامہ آرائی کے سوا کچھ نظر آئے۔

جہاں مسلمانوں کےلیے یہ دن خوشی کا دن ہے وہیں یہ دن خدا کے حضور شکر بجا لانے کا بھی دن ہے کہ رب کریم نے ہمیں رحمتوں، برکتوں اور بخششوں سے بھرا ایک مقدس ماہ عطا کیا، اس میں عبادت کی توفیق عطا کی اور ہمیں گناہوں سے پاک کیا۔ قرآن پاک میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہے: "و لتکملوا العدۃ و لتکبروا اللہ علی ما ھداکم ولعلکم تشکرون ” تاکہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ نے جو تمہیں راہ دکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو اور تاکہ تم شکر گذار بنو۔

یہ عید کا دن اللہ تعالی کی طرف سے روزہ داروں کےلیے انعام کا دن بھی ہے۔ اس دن اللہ تعالی روزہ داروں کو مغفرت کا پروانہ عطاء کرتے ہیں اور عنایات و اکرام کا ان پر خاص نزول ہوتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ : جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزےدار بندے اور بندیوں پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں اے میرے فرشتو! اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کردیا فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جاے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کردیا جو اُن پر عائد تھا پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھے پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے عُلوِشان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور ان کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: تم لوگ واپس جاؤ میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمہارے سیّاٰت کو حسنات میں تبدیل کردیا پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے کہ ان کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ (البیھقی فی شعب الایمان)

عید کے دن کےساتھ عید کی رات (جسے عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے) بھی انتہائی اہمیت اور فضیلت کی رات ہے، افسوس کہ جسے ہم شاپنگ، عید کی تیاریوں اور واہیات کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔ حدیث پاک میں اس رات کو لیلۃ الجائزہ کہا گیا ہے یعنی انعام ملنے والی رات۔ اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالی کی جانب سے اپنے بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے۔(شعب الایمان) اس رات میں عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن نہ مردہ ہوگا اور نہ خوفزدہ۔ (ابن ماجہ) اس رات میں عبادت کرنے سے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ (ترغیب و ترہیب) اس رات میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی ہے۔ ( مصنف عبدالرزاق)

خدا ہمیں اس مبارک رات کے ضیاع سے بچائے۔

اسی طرح عید کا یہ دن ہمارے لیے احتساب اور جائزے کا بھی دن ہے۔ ہم نے رمضان المبارک میں عبادات کا کس قدر اہتمام کیا۔ روزے کا مقصد جو تقوی تھا وہ حاصل ہوا یا نہیں، اگر حاصل ہوا تو کس قدر ہوا۔ صبر کی اسپرٹ کہاں تک پیدا ہوئی۔ اس رمضان سے میری زندگی میں انقلاب برپا ہوا یا نہیں۔ حقوق اللہ کےساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا احساس کس قدر بیدار ہوا۔ اللہ تعالی کی بخشش عام سے کچھ حصہ ہمیں نصیب ہوا بھی یا نہیں یا یہ مبارک ماہ یونہی غفلتوں کی نذر ہوگئے اور ہم محروم کے محروم ہی رہے، بجائے خدا کی رحمت اور مغفرت کے خدا کی غضب اور لعنت کے مستحق ٹہھرے۔

یہ سوالات ہیں جو ہمیں خود سے کرنے ہیں اور اس آئینہ خانے میں خود کا جائزہ لینا ہے۔ درحقیقت حقیقی عید تو اسی شخص کی ہے جس نے اس رمضان کو ایمان و احتساب کےساتھ گذارا ہو اور روزے کا مقصد تقوی کو حاصل کیا ہو۔ عید محض نئے کپڑے پہن لینے، سوئیاں کھا لینے اور گھروں گلیوں کو سجا لینے کا نام نہیں ہے۔ اس لیے خوشی منانے کےساتھ احتساب بھی ضرور کریں۔

شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں لیکن

قبول حق ہیں فقط مرد حُر کی تکبیریں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close