عالم اسلام

فتح اللہ گولین تحریک کا ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت سے تعلق

اک قیامت بپا ہے یاں سرِ راہ

پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار

 15 جولائی 2016ء کی رات ترکی میں ترک عوام نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے زندگی اور موت کی جنگ لڑی۔ یہ بات ترکی سے باہر رہنے والوں حتیٰ کہ استنبول اور انقرہ سے باہر مقیم ترکوں کو بھی کچھ مبالغہ آمیز دعویٰ سی لگ سکتی ہے مگر اُس رات اگر قارئین کرام میں سے کوئی ایک ترکی کے اِن دو شہروں میں ہوتے تو تب اُن کو معلوم ہوتا کہ راقم الحرو ف کی زندگی و موت کی جنگ سے کیا مراد ہے۔

اُس رات دونوں شہروں میں فوجی باغیوں نے کسی بھی اشتعال کے بغیر ترکی کے نہتے عوام پر بے رحمانہ انداز میں فائرنگ کی، اُس رات باغی فوجیوں نے مرد یا زن، بوڑھے یا جوان کا کسی بھی طرح لحاظ کئے بغیرلوگوں کو ٹینکوں سے کچل دیا۔اُس رات فوجی غداروں نے ترکی کی پارلیمنٹ پر ایف 16 سے بمباری کی اور احتجاجی عوام پر فوجی ہیلی کاپٹروں سے  ایسی مشین گنوں سے فائرنگ کی جس کے استعمال کی اجازت صرف جنگوں میں دشمن فوجیوں سے لڑتے ہوئے ملتی ہے۔ مگر اُس رات ترکی کی فوج میں قدم بہ قدم انفلٹریشن کرکے اُسے اپنے مقاصد کے لیے بروئے کار لانے کی کوشش کی اور  مادی وسائل سے لیس  طاقت کے ظالم غلاموں نے قتل عام کرکے ترکی کے عوام کا سر خم کرنے کا اقدام کیا۔ مگر یہ قوم جو صدیوں سے صلیبی جنگوں سے عہدہ بر آ ہوئی اور بارہا مرتے مرتے پھر سے اُٹھ کھڑی ہوئی، اِس قوم نے ترکی کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو یہ کردکھایا کہ ہمیں غلام بنانا ممکن نہیں ہے!

اُس رات جب غدار فوجی عام لوگوں کے اوپر ٹینک چلاکر جارہے تھے تو لوگ اُن کو روکنے کے لیے ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے مگر وہ رکے نہیں۔ ایک ٹینک نے بتیس سالہ خاتون کے اوپر سے ایک نہیں تین چار دفعہ گزر گزر کر اُس کو کچل دیا۔لوگ پھر بھی ڈرے نہیں اور اور زیادہ غصے سے ٹینکوں پر وار کیا اورٹینکوں کو روکنے کے لیے آگے کھڑے ہوئے۔ پھر کسی نے سوچا کہ اِس کے ایگزوسٹ پائپ میں کپڑا گھسادوں ہوسکتا ہے کہ یہ رک جائے تو اُس نے اِس پر عمل کیا اور وہاں لوگوں نے اپنی قمیصوںکونکال کر ٹینک کے پائپ میں گھسادیا اور واقعی چند منٹ بعد ٹینک رک گیا اور اندر میں جو باغی تھے وہ دھوئیں کی وجہ سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے۔اور پھر کسی ایک جگہ کسی نے سوچا ہے کہ اگر میں ٹینک کی بیلٹ کے اندر بڑا پتھر ڈالوں تو شاید یہ رک جائے۔ اُس نے بھی اِس پر عمل کیا اور لوگوں نے ٹینک کی بیلٹ کے اندر پتھر اور لوہے کے ٹکڑے ڈال دئیے تو واقعتا اُس ٹینک کی بیلٹ بھی خراب ہوئی۔ پھر اِس کی خبریں واٹس اپ کے ذریعے ایک دو منٹ میں تمام استنبول اور انقرہ میں پھل گئیں اور لوگوں نے اِس پر عمل کرکے باغیوں کے کئی ٹینکوں کو ناکارہ بنایا۔ اب ترکی میں ہم سب کو علم ہے کہ اگرخدانخواستہ کوئی اور طاقت اِس طرح کی دیوانگی کرے تو ہمیں اُس کے ٹینکوں سے کس طرح نمٹنا ہے۔ پھر جب ایف 16سے باغیوں نے بالکل نیچے آکر لوگوں کے اوپر سے گزرنا شروع کیا جس وجہ سے بم دھماکے کی آواز اور شاک پیدا ہورہا تھا تو کچھ لوگ اُونچی عمارتوں کے اوپر چڑھ کر ایف 16عمارت کے نزدیک آتے ہی اُس کے اوپر وزنی چیزیں پھینکنے لگے حتیٰ کہ ایک شہری ایک ایف 16کے اوپر کود پڑا۔ اُس رات ترکی کے لوگوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے ڈر اور خوف کو اُٹھا ہی لیا۔ میں اپنے آپ کی بات دہرانا نہیں چاہتا ہوں مگر سوچئے کہ مجھ جیسا پچاس سالہ آدمی ہو اور وہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہو اور اُس کے دو چھوٹے  چھوٹے بچے ہوں اور اوپر سے یہ کمر کی بیماری کی وجہ سے بھاگ بھی نہیں سکتا ہو اگر یہ آدمی اُس رات فائرنگ کرنے والوں کی جانب بھاگتے ہوئے جاسکتا ہے تو آپ اندازہ لگالیجئے کہ اُس رات ترکی کے عوام پر کس طرح کا جذبہ طاری ہوا تھا کہ ہم سب ناقابل یقین قربانیاں دینے پر تیار ہوگئے۔

اِس سلسلے میں کوئی جو بھی چاہے کہہ سکتا ہے یا تجزیہ کرسکتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ ہم یعنی ترکی کے عوام نے چاہے یہ ترکی کی اپنی ہی فوج کا ایک غدار ٹولہ یا پھر کوئی مذہبی لیڈر کیوں نہ ہو یہ ٹھان لی تھی کہ وہ پھر سے کسی کے غلام نہیں بنیں گے اور ترکی عوام کو اپنے منتخب صدر اور وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکتے دیکھنا ہرگز گوارہ نہیں تھا ۔ تو پھر لاکھوں لاکھ ترک باشندے  مرنے  مارنے پر تیار ہوکر سڑکوں پر آگئے۔ اس کے علاوہ ترکی کے عوام کے ساتھ ساتھ ترک پولیس نے اور جمہوریت کے حامی فوجیوں نے جو جو قربانیاں دیں اُن کی تفصیل میری پہلے والی تحریر میں آچکی ہے لہٰذااُن کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ مگر اُس رات واقعتا ترکی میں موت اور زندگی کی جنگ ہوئی جسے ترکی کے عوام اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے جیت گئے۔

اُس رات ترکی کے تقریباً ڈھائی سو باشندے شہید ہوگئے جن میں سے ایک سو ساٹھ عام شہری اور باقی پولیس کے اہلکار ہیں اور دو ہزار سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔ اِس کے بر عکس صرف چوبیس پچیس(24۔25) باغی فوجی ہلاک ہوگئے وہ بھی پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ کے دوران۔ ترکی کی عوام نے ان کا ظالمانہ رویہ  دیکھنے کے باوجود گرفتار ہونے والوں میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کیا۔ غصے میں آکر کچھ لوگوں نے اُن کو قتل کرنے کی کوشش کی مگر دوسرے لوگوں نے اُن کے سامنے آکر ’’یہ وطن کی اولاد ہیں!‘‘ کہہ کر اُن کو بچایا۔ حالانکہ وہ باغی تھوڑی دیر پہلے اِس وطن کی اولادوں کو بے دردی سے قتل کررہے تھے۔ اِس کے باوجود اِس قوم نے اپنی روایتی شفقت اور رحم دلی کا مظاہرہ کرکے اُن کو کچھ نہیں کیا۔

شب خون مارکر ترکی پر قبضہ کرنے کا قدم اُٹھانے والے یہ لوگ کون تھے؟ یہ لوگ کون تھے جو خفیہ انداز میں نجانے کتنے سالوں سے ترکی کی فوج کے اعضاء میں وبا کی مانند پھیل گئے؟ اور یہ لوگ کون تھے جنھوں اپنے ہی لوگوں سے دیوانگی کی حد تک نفرت کرکے بے دردی سے اُن پر فائرنگ کی اور ٹینکوں سے اُن کو کچل دیا؟ یہ لوگ سیکولرزم کے حامی لوگ نہیں تھے نہ ہی قوم پرست تحریک۔ کیونکہ اُس رات ترکی کے سیکولر اور قوم پرست تحریکوں سے وابستہ لوگ بھی اِس فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل پڑے۔ تمام شواہد ایک ہی طرف اشارہ کررہے تھے اور وہ تھے فتح اللہ گولین صاحب اور ترک فوج کی طرح ترکی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں رچے بسے ہوئے اُن کے کارکنان۔

پھر سالوں سے امریکہ میں مقیم اور بزعم خود اور اپنے پیروکاروں کے مطابق مہدیٔ زمانہ (!!!) اِن محترم نے مغربی میڈیا والوں کو اپنے پاس بلاکر انٹرویو دیا۔ پہلے تو اُنھوں نے فرمایا کہ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا خود ساختہ ڈرامہ ہے۔ چلئے ایک منٹ ہم نے اِس غلط بیانی کو سچ قرار دیا۔ مگر اس کے بعد اُنھوں نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں کیں اُن کو سن کر تو عقل دنگ رہ جائے۔ واقعتا اُن کی باتوں میں ترکی کی حکومت کو چھوڑیئے، بغاوت کو ناکام بنانے والے ترک عوام سے نفرت کا جو بیان تھا اور اُن کے چہرے کے حرکات و سکنات سے اپنی قوم سے دشمنی کا جو اظہار تھا اُسے دیکھ دیکھ کرتو میں وحشت میں پڑگیا کہ خدایا یہ کیا ہورہا ہے؟ ایک ایسی شخصیت جس کی رحم دلی اور شفقت و مرحمت کا پرچار سالوں سے نہ صرف ترکی میں بلکہ تمام دنیا میں کیا جاتا ہے اُس شخص کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے اِس انداز میں نفرت آمیز اور نازیبا الفاظ سننا تو سچ مچ انسان کے تمام تر انسانی اعتقادات و تیقّن کو مسمار کردیتا ہے۔ اگر کوئی میری بات پر یقین نہ کرے تو میں امریکہ کے اِن عزیز مہمان کی ویڈیو یقین نہ کرنے والوں کی خدمت میں پیش کرسکتا ہوں۔ کیونکہ اگر یہ ویڈیو میں خود نہ دیکھتا تو شاید میں بھی یقین نہ کرتا، مگر اُن کے انٹرویو دیکھنے کے بعد اور اُن کے اپنے ہی منہ سے اپنی ہی قوم کے لیے نفرت بھرے الفاظ سننے کے بعد مجھے سمجھ میں آگیا کہ پندرہ جولائی کو باغی فوجیوں نے کس ذہنی محرک کی برانگیختگی سے ترکی کے نہتے عوام کو گولیوں، میزائلوں اور ٹینکوں کے ذریعے وحشیانہ انداز میں قتل کیا کیونکہ اُن کے دل میں وہی نفرت تھی جس کا مظاہرہ امریکہ کے اِن عزیز مہمان کے لہجے میں ہورہا تھا۔ اور تب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اِس ناکام بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولین صاحب کا ہاتھ ہے اور تب مجھے سمجھ آگیا کہ ہمارے صدر جناب رجب طیب اردوغان، فتح اللہ گولین صاحب کی خدمت تحریک جسے اردو میں ترکی تلفظ کی رو سے ہزمت لکھا کرتے ہیں کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ کے نام سے پکارتے ہوئے کیا کہنا چاہتے ہیں۔

امریکہ کے یہ عزیز و محترم مہمان ایک ڈرامائی انداز میں اور درد بھرے لہجے میں مغربی میڈیا کو بتاتے ہیں کہ’’ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں میرے کارکنوں کے گھروں کو نذر آتش کرتے ہیں اور اُن کو اپنے اپنے گھروں سے نکال کر ذبح کرتے ہیں!‘‘ سبحان اللہ! نعوذ باللہ من ذالک!جھوٹ ہو تو ایسا!

اُن کے مذکورہ جملہ کو سننے کے بعد طبعی طور پر انسان کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان پیدا ہوتا تھا کہ اگر ترکی میں فوجی بغاوت کے پس پردے  وہ ذات اقدس (!!!) کارفرما نہیں تو وہ اپنے حامیوں کے ذبح ہونے کی کونسی بات کرتے ہیں؟ مرنے والے توتقریباً چوبیس پچیس(24۔25) باغی فوجی ہیں۔ خیر وہ بھی ہلاک تو ہوئے مگر ذبح تو نہیں ہوئے ۔ اگراُن کا کہنا سچ ہے اور اگر اُن کے کارکن ذبح ہوئے(کہ یہ سفید جھوٹ ہے ترکی میں نہ کسی کو ذبح کیا گیا اور نہ ہی کسی کے گھر کو نذر آتش کیا گیا ہے) تو صرف وہ چوبیس پچیس باغی ہوئے ہیں اور کوئی نہیں۔ اگر وہ ہلاک شدہ باغی اُن کے حامی یا کارکن ہیں تو ٹھیک ہے وہ اُن کا سوگ منائیں اوراِس کے بر عکس اگر وہ باغی اُن کے کارکن نہیں تو پھر وہ کس کا سوگ مناتے ہیں؟ اگر امریکہ کے یہ مہمان عزیز سوگ مناتے ہیں تو پھر اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک طرح کا جرم کا اقرار ہے کیونکہ اُن کا بالواسطہ کہنا یہ ہے کہ وہ باغی میرے کارکن تھے!

شاید جس ملک کے وہ عزیز مہمان ہیں اُس ملک میں ترکی میں ہونے والے خون خرابہ کا ایک فی صد بھی کسی گروہ نے کیا ہوتا تووہ لوگ صرف کرنے والوں کو نہیں اُن کی اگلی پچھلی نسلوں کو بھی نہیں بخشتے لیکن ترکی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسا کچھ ہوگا اور ہونے کا امکان ہے۔ بس اُن کے سرغناؤں کے لیے پھانسی کی سزا کی بات ہوتی ہے وہ بھی بس بات ہوتی ہے قطعی کچھ بھی نہیں۔

پھر امریکہ کے یہ پیارے مہمان اپنے بیان میں فرماتے ہیں کہ’’ترکی کی عوام’’ بھیڑوں کا گلہ‘‘ ہیں اورپھر اپنے پیروکاروں کے پرچاروں میں ایک چیونٹی کو مرتے دیکھ کر رونے والے اِس رحم دل عظیم انسان (خیر وہ بذات خود اپنے وعظ و تبلیغ میں اپنی رحم دلی کا ذکر بار بار دہراتے رہتے ہیں) آگے بڑھ کر ترکی میں جمہوریت کو بچانے کی خاطر سڑکوں پر نکل کر شہید اور زخمی ہونے والے ہزاروں کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں کہ ’’یہ احمقوں کا گروہ‘‘  اپنے صدر کے حکم سے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔‘‘

پھر امریکہ کے انسان دوست یہ محترم ترکی کے عوام کو بددعائیں دے کر دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ یہ شروعات ہے ترکی میں اِس سے بھی بدتر صورتحال پیدا ہوگی!‘‘

نعوذ باللہ من ذالک! ثم نعوذ باللہ من ذالک! یہ محترم اِس قدر عظیم اور رحم دل ہیں کہ اُن کے دہن مبارک سے مسلسل بددعائیں اور لعنت ملامت برس رہی ہے!

پھر امریکہ کے یہ مہمانِ بصد احترام اپنے روحانی انکشافات کو اپنے ہر دل عزیز مغربی میڈیا والوں کے سامنے پیش کرکے فرماتے ہیں کہ ’’ترکی حکومت داعش کے دہشتگروں کو ترکی میں تربیت دینے کے بعد امریکہ، فرانس اور انگلینڈ بھیجتی ہے۔ ترکی کے ہسپتالوں میں داعش کے دہشتگروں کا علاج ہوتا ہے۔‘‘ نعوذ باللہ من ذالک! شاید اُنھوں نے اِس طرح کے واقعات کا علم خواب میں مشاہدہ کرنے کے بعد ہوا ہوگا تو ہو!

یعنی گلین صاحب  اپنے موقف کی سچائی دکھانے کے لیے اور ترکی حکومت کے خلاف مغربی ممالک میں رائے عامہ ہموار کرنے کی خاطر ترکی کو داعش کا مرکز بتارہے تھے۔ مگر کیا اِن محترم کو یہ علم نہیں کہ ترکی میں امریکہ جس کی مہمان نوازی سے وہ بہرہ ور ہیں، کے کئی جاسوس شہر شہر کی گشت میں ہیں اور ترکی کے انجرلک کے ہیڈکوارٹرز میں امریکن اور یورپین فوجی موجود ہیں جو صرف دمشق اور عراق کیا تمام ترکی میں جو بھی ہوتا ہے اُس پر اُن کی گہری نظر ہے۔ یعنی اگر ترکی میں سچ مچ داعش کی تربیت ہوتی تو اب تک امریکہ نے ترکی کا حشر نشر کیا ہوتا۔ ہاں اِن محترم کے الزامات پر مغربی میڈیا اور کچھ پاکستانی اور عرب میڈیا بھی یقین کرلیتے ہیں کیونکہ یہ اُن کے کام میں آتا ہے۔

میں پھر دہرارہا ہوں کہ اگر امریکہ کے اِن محترم مہمان کا انٹرویو میں خود اپنے کانوں سے نہ سنتا اور ویڈیو نہ دیکھتا تو شاید یقین ہی نہ کرتا۔ کیونکہ اپنے آپ کو مصلح عہد حاضر اور مہدیٔ زمانہ قرار دینے والے ایک فرد کے دل میں اپنی قوم سے اور اپنے ملک سے اِس قدر لامتناہی نفرت و بغض موجود ہوگا، میں یقین ہی نہیں کرپاتا۔ مگر صد افسوس کی بات ہے کہ اُنھوں نے ایسے بیانات اپنے ملک اور قوم کے خلاف اپنے پیارے مغربی میڈیا والوں کے سامنے دئیے ہیں۔ حالانکہ اُنھیں علم ہے کہ عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی پر مغرب والوں نے جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کرکے اپنے ملکوں میں رائے عامہ تیار کیا اور پھر اُن دونوں ملکوں کو برباد کرکے چھوڑدیا اور لاکھوں بے گناہوں کو قتل کیا۔ اگر اُن کے الزامات کے بل بوتے مغرب والے ترکی کے ساتھ یہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ترکی کے لاکھوں بے گناہوں کو قتل کریں گے تو کیا یہ عمررسیدہ صاحب امریکہ میں خوشی منائیں گے؟ اُنھیں معصوموں کے خون سے ہولی کھیل کر کس طرح کا سکون ملے گا اور وہ کس نفرت کا بدلہ لیں گے ترکی کی عوام سے؟

در اصل باتوں باتوں میں وہ سچائی کی بات بھی کہے دیتے ہیں مگر طیش میں آنے کی وجہ سے اُنھیں پتہ نہیں چلتا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُنھیں اِس کا پتہ چلتا ہو مگر وہ اِس طرح سے قو م کو ہراساں کرنا چاہتے ہوں۔ اللہ اعلم بالصواب! خیر ویسے بھی ترکی کے سیکولرزم کی محافظ فوج کے چیف آف اسٹاف خلوصی آکار صاحب نے بتایا ہے کہ جس دن اُن باغی فوجیوں نے اُن پر تشدد کرنا شروع کیا تو اُن باغیوں میں سے ایک افسر نے اُن سے کہا کہ میں آپ کو اپنے ’’روحانی لیڈر‘‘ فتح اللہ گولین صاحب سے فون پر بات کراتا ہوں اُن سے بات کرنے کے بعد آپ بھی ہمارے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوجائیں گے!

تاکید فی التاکید، اقرار علی الاقرار! اِن کو سننے کے بعد راقم الحروف مزید اور کیا لکھے؟

پھر ترکی کی منتخب حکومت کو تو کیا کرنا تھا؟ ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ملک ہو بغاوت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرے گا اور کرنے پر مجبور بھی ہے۔ ترکی حکومت نے بھی وہی کیا اور غداروں کے برے ارادوں کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کرائے۔ ویسے بھی اگر ترکی کی منتخب حکومت نے یہ اقدامات نہ کئے ہوتے تو یہ قوم ارباب اقتدار کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ یہاں یہ واضح کرنا چاہئے کہ یہ اقدامات ترکی کی منتخب حکومت کی جانب سے لئے جاتے ہیں۔ براہ راست ترکی کے منتخب صدر رجب طیب اردوغان صاحب کی جانب سے نہیں اور اکثر اقدامات کو ترکی کی مخالف پارٹیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ پھر مغربی سر زمین، جہاں ازل سے سورج غروب ہوتا ہے، میں یہ ضوفشانیاں کیوں ہونے لگی ہیں کہ ترکی حکومت کو اِس طرح کے سخت اقدامات یا پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق اور اقدار کی خلاف ورزی ہیں۔ الا ماشاء اللہ! نہتے عوام کو قتل کرنے والوں کے لیے انسانی حقوق لازمی ہے مگر مرنے والے بے گناہ لوگ کیا اُن کا کوئی انسانی حق نہ تھا؟

مغرب کے ساتھ ساتھ اردو میڈیا میں بھی ایک گروہ جس کے مذکورہ خدمت تحریک سے مختلف طریقوں سے مادی زیادہ اور معنوی کم روابط ہیں، وہ ترکی میں معطل ہونے والے گولین صاحب کے کارکنوں اور پیروکاروں کا نوحہ پڑھنے لگے کہ کیوں اتنی تعداد میں لوگ برطرف کئے جاتے ہیں یہ صرف رجب طیب اردوغان کی انتقامی کارروائیاں ہیں۔ میں اُن کو میر تقی میر کے ایک شعر سے جواب دینا چاہوں گا کہ:

اک قیامت بپا ہے یاں سرِ راہ

کچھ چھپا تو نہیں رہا یہ راز

ان شاء اللہ میں اِس تحریر کی دوسری قسط میں ترکی میں سرکاری ملازموں کی معطلی کے موضوع سے متعلق کچھ معلومات فراہم کروں گا شاید  نامعقول تجزیہ کرنے والوں کی تسکین ہوجائے۔

مزید برآں مذکورہ گروہ کے پیروکاروں کے بچھائے جال میں پھنس کر اِس خونی بغاوت کو ترکی میں اسلام اور سیکولرزم کی پرانی تعبیرات سے بیان کرنے کی کوشش کرنے والے سیکولر خیالات کے پاکستانی تجزیہ کار دوستوں  کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے اپنے مکانوں میں بند رہ کر پرانے اقدار اور بھولی بسری تعبیرات کے ذریعے اِس غداری کو سیکولرزم اور اسلام کی لڑائی کی صورت میں پیش کرنے سے باز آئیں۔ اُن کو شاید یہ سن کر افسوس ہوگا کہ ترکی کی سب سے سیکولر پارٹی جو اپنے آپ کو ترکی میں سیکولرزم کی محافظ ٹھراتی ہے اور جس کی رجب طیب اردوغان سے دشمنی تو بے مثال ہے، اِس پارٹی کے لیڈر محترم جناب قلیچ دار اوغلو نے بھی اِس فوجی بغاوت کی سخت مذمت کی اور اب کل ہی تقسیم اسکوائر میں جمہوری خلق پارٹی کے کارکنوں نے فوجی بغاوت کے خلاف ایک عظیم احتجاجی جلوس نکالا جس میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ اور یہ بھی مد نظر رہے کہ  غداروں کا ایف 16 جب ترکی پارلیمنٹ پر بمباری کررہا تھا اُس دوران پارلیمنٹ میں سیکولر جمہوری خلق پارٹی کے ممبر بھی فوجی بغاوت کی مذمت کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔

اِس لیے الانصاف، میرے پیارے تجزیہ کار بھائیو، الانصاف!!! ترکی میں شہیدوں کے خون سے جمہوریت بچی اور ترکی کے عوام، سیکولر، مذہبی، ترک، عرب، کرد اور سنی اور شیعہ مل کر ایک جسم واحد کی صورت میں اِس غداری اور خونی بغاوت کے سامنے کھڑے ہوئے تو پھر آپ کو کیا غم ہے کہ اِس عظیم جد و جہد کو سیکولرزم اور مذہبی ٹکراؤ کا رنگ دینے کی سعی میں مبتلا ہیں اور کیوں اب تک آپ مہربانی کرکے ہمارے شہیدوں کے خون کا مذاق اُڑانے سے باز نہیں آتے؟ (جاری)

مزید دکھائیں

خلیل طوقار

ڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

متعلقہ

Close