عالم اسلام

فکرفردا- صالح وخالد، داعش اور ہم

احمدجاوید

سعودی عرب کے دارالحکومت میں دونوجوانوں( خالدابراہیم العرینی اور اس کے جڑواں بھائی صالح ابراہیم العرینی) نے محض اس لیےاپنی حقیقی ماں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا اور اپنے باپ بھائی کوخون میں لت پت چھوڑگیےکہ یہ لوگ دولت اسلامیہ شام وعراق(داعش)کےمخالف تھے۔ ان لڑکوں کی عمر ۲۰سال ہے، ماں ان کے داعشی نظریات کی مخالفت کرتی تھی، داعش میں شامل ہونے سے روکتی تھی اوراس نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ دہشت گردوں کے اس گروہ میں شمولیت اختیار کی تو وہ حکام کومطلع کردےگی۔دونوں لڑکوں نے نہ صرف ماں باپ اور بھائی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا بلکہ اس کے لیے ایسا بہیمانہ طریقہ اختیار کیاکہ سنیے تو روح کانپ اٹھے۔جانوروں کو ذبح کرنے والے چھروں اورچاپڑوں سے انہوں نے اپنی ماں پرتابڑتوڑوارکیے اور پھریہی اپنے باپ اور بڑے بھائی کے ساتھ کرکے فرارہوگیے جواب ایک مقامی اسپتال میں زندگی کی کشمکش میں مبتلاہیں۔اس دن ریاض سےیہ خبرآئی تو میںدیر تک اس سوچ میں مبتلاتھاکہ ہماری نئی نسلیں کہاں جارہی ہیں اور ہم کیا کررہے ہیں۔اسی کے ساتھ ایرانی اساطیرکامشہور کردار ضحاک ایک بارپھرنہایت شدت سے یادآیا ۔

وہ توران کے ایک بہت ہی نیک، عادل اوررحم دل بادشاہ مرداس کابیٹاتھا۔ مرداس کے دشمن جب اس کو کسی طرح زیرنہ کرسکے تو شیطان نے ایک سن رسیدہ عابد وزاہد کا روپ اختیار کرکے شاہ توران کے دربار میں رسائی حاصل کی اورپھر وہ اسکے بیٹے اور متوقع جانشین کا اتالیق بن بیٹھا۔بتدریج اس نے اس کے ذہن ودل پر قبضہ کرلیا۔یہاں تک کہ نوجوان شہزادے نےآئین عدل و جوانمردی کے نئے پیمانے گڑھے۔ وہ خودکو اپنے باپ سے زیادہ اہل اور باصلاحیت سمجھنے لگااور ہوس ملک گیری میں اس نے پہلے اپنے باپ اور پھر شہنشاہ جمشید کے جانشین فریدون کو قتل کردیا ۔اب ضحاک بلاشرکت غیرایک وسیع و عریض سلطنت کا مطلق العنان حکمراں تھاجس میں ایران و توران ہی نہیں اطراف کی دوسری ریاستیں بھی شامل تھیں۔ بادشاہ بن جانے کے بعداس کےگروگھنٹال نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرے جس سے اس کے دونوں کندھوں پر دوسانپ نمودار ہوئے۔یہ سانپ نوجوانوں کا مغز کھاتے تھے ۔ہر دن دو خوبرو نوجوان لائے جاتے ان کو قتل کیاجاتا اور ان کے مغز سے ضحاک کے شانوں پرپھنکارتے سانپوں کے پیٹ کی آگ بجھائی جاتی ۔ وہ سانپ بستی کی بستی اور قوم کی قوم کے نوجوانوں کا مغز کھاتے چلے گئے ۔قصہ طویل ہے اور مختلف اندازمیں بیان کیا جاتا ہے ۔ہم نہیں جانتے کہ اس اساطیری کہانی کی اصل حقیقت کیا ہے اور ان میں سے کونسی روایت زیادہ درست ہے لیکن اس سے آج کسی ذی شعورمسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ آج کے ضحاک کے سانپ بھی نوجوانوں کا مغز کھاتے ہیں اور یہ بڑی تیزی کے ساتھ بستی کی بستی کوسرپھرےبے دماغ نوجوانوں سے بھرتے جارہے ہیں ۔خالد اورصالح کی بےرحمی، بے عقلی اور جنون و شقاوت کوئی معمولی اقعہ نہیں ہے، سعودی عرب کی راجدھانی میںاس انسانیت سوز واقعہ کے محرکات و عوامل پرسنجیدگی سے غورو فکرکرنے کی ہی ضرورت نہیں اس رجحان کے انسداد کے لیے سخت سے سخت اقدام کر نے کی ضرورت ہے ورنہ یہ وبا پوری امت کو نگل جائےگی۔یہ سوچ کرہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا بھی وقت اب نہیں رہ گیاہے کہ یہ تویہ ایک شاذونادرواقعہ ہےاور یہ کہ سعودی عرب کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔کیونکہ آج دنیا بھر کے ہزاروں خالد اور صالح انتہاپسندی کے اس جراثیم سے متأثر ہیں جس کی اسلام میں اگرچہ کہیں کوئی گنجائش نہیں لیکن بدقسمتی سے مسلم ملکوں اور قوموں میںاس کی آبیاری مختلف شکلوں میں اور بڑے پیمانے پر کی گئی ہے۔ اگرشام اور عراق سے آنے والی انٹلی جنس رپورٹوں پر اعتماد کریں تو اس وقت وہاں دنیاکے ۱۰۰ملکوں سے آنے والے40 ہزارغیرملکی دہشت گرد موجود ہیںجن میں اکثریت کم سن نوجوانوں کی ہے۔

 بات ذراتلخ ہے لیکن ہے سچی کہ آج دنیابھرمیں اسلام کےمبلغوں اورعالموں کی شکل میںانگنت ضحاک سرگرم ہیں جن کےسانپ کی مرغوب غذا کچے ذہن کے نوجوانوں کا مغز ہے، بہت سے حسن بن صباح  ہیں جو نوجوانوں سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین رہے ہیں ،انہیں اپنا ذہنی غلام بنارہے ہیں ،اس کی جنت انہیں زندگی جیسی خدا کی عظیم نعمت وامانت کے بارے میں سوچنے نہیں دیتی یا پھر انتقام درانتقام کا وہ چکر ہے جس کوپیغمبراسلام ﷺنے جانسوز جدوجہدسےتوڑاتھا لیکن اسلام دشمن طاقتوں نے پھرزندہ کردیا لیکن سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ضحاکوں کے سانپ نوجوانوں کے مغز کھا رہے ہیں ، ابن صباح کی جنت ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین رہی ہے ،سوال صرف یہ بھی نہیں ہے کہ انتقام در انتقام کے چکرنے ملکوں اور قوموں کا مستقبل تباہ کیا ہواہے، بے گناہوں کو خاک وخون میںتڑپارہاہے ، سوال یہ ہے کہ اس چکرکوتوڑنےکا راستہ، کچےذہنوں سے زہرنکالنے کا طریقہ اور دہشت گردی کے بڑھتے رجحان کاعلاج کیا ہے؟اوران ضحاکوں کے سانپ سے نوجوانوں کو بچانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

 بہ غور دیکھیں توانتہاپسندی کے وہ جراثیم جو آج قدم قدم پر غضب ڈھارہے ہیں نہ ایک دو دن کا قصہ ہیں اور نہ کسی خاص علاقے یامٹھی بھرلوگوں تک محدود ،برسہابرسہاکی آبیاری نے اس سوچ کو ایک وبائے عام میں بدل دیاہے۔یہ جراثیم اب ان گھروں میں بھی سرایت کررہے ہیں جہاں کل تک اس قسم کے کسی نئی یاپرانی گمراہی کی کوئی گنجائش نہیں تھی،اس کی تازہ مثال ابراہیم الارینی کا خاندان ہےکہ جس کے گھرکوہی داعش نے میدان قتل وغارت بنادیااورگھرکے بڑوں کو اس وقت خبر ہوئی جب پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔یہ بھی کہہ دینا آسان ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کی کہیں کوئی گنجائش نہیں، یہ تو اسلام دشمن طاقتوں کی سازش کانتیجہ ہے لیکن اگر یہ غیروں ہی کی سازش ہے تو اس سے اپنے نوجوانوں کو بچانے کے لیے جتنے بڑے پیمانے پرکام کرنے کی ضرورت تھی اس کا احساس شاید ہم میں سے بہت ہی کم لوگوں کو ہے۔لے دے کےایک تحریک منہاج القرآن اوراس کے بانی ا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری کو دیکھتے ہیں جنھوںنے صحیح معنوں میں اس خطرے کو محسوس کیااور اسلام کی آڑ میں معصوم ذہنوں میں زہربھرنے والوں کے فریب کا پردہ چاک کرنے کی بروقت اور سچی جدوجہدکی ۔پہلے تودہشت گردی کے تعلق سےتقریباً سات سو صفحات پرمشتمل مبسوط فتویٰ جاری کیا جو’ دہشت گردی اور فتنۂ خوارج‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئی اور ترسیل و ابلاغ کے جملہ ذرائع استعمال میں لاکردوردور تک پہنچائی گئی، پھردنیاکے مختلف ملکوں میں نوجوانوں کے لیے ڈی ریڈکلائزیشن کیمپ کے انعقاد کی مہم چھیڑی اور حال ہی میںمنھاج القرآن یونیورسٹی کے اسکالرز نے پانچ جلدوںمیں ایک درسی کتاب مرتب کی ہے جو اس موضوع پر ایک جامع نصاب ہے۔معاشرے کے ہرطبقہ کے لیے الگ الگ مرتب کردہ یہ نصاب اگرایک جملہ میں کہا جائے تواپنے پڑھنے والوں پر واضح کرتاہے کہ اسلام کیا ہے اور کیانہیں ہے یا یہ کہ قرآن اپنے ماننے والوں سے کیا کیا مطالبات کرتاہے۔ظاہر ہے کہ ایک ایساشخص جو علم رکھتاہو کہ اسلام کیا ہے ، اسلام کے نام پرکسی ضحاک یا اس کے سانپ کا شکار نہیں ہوسکتا۔

جب یہ امکان موجود ہے کہ دنیاکے کسی بھی آئین و قانون کی طرح اسلام اور قرآن سے بھی آپ ہدایت کی بجائے گمراہی کشیدکریں اور صرف قرآن کے پڑھ لینے یا اس پر ایمان رکھنے کے دعوے سے ہدایت نہیں ملتی اور ایسے لوگ انسانی معاشرے کے کسی بھی گروہ میں ہوسکتےہیں جوکتاب ہدایت سے بھی گمراہیاں ہی سمیٹیں تواہل حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام اور قرآن کو ہمیشہ اس طرح پیش کرتے رہیں کہ اس کے حقیقی مطالبات سے انحراف کے دروازے بندرہیں ۔کوئی شیطان کسی بھی بھیس میںآپ کے درمیان گھس کر کوئی ضحاک اور اس کے سانپ نہ پیداکرے ۔کچے ذہنوں پر اس کی پھونک اثراندازنہ ہو۔یاد آتاہے کہ ملک کی ایک سب سے بڑی مسلم تنظیم کے رہنماایک ٹی وی اینکر کے اس سوال کے جواب میں( جو وہ بارباردوہرارہاتھا) کہ دہشت گردوں کا تعلق ایک خاص مسلک سے ہے،بہت زور ڈال کراور بلند آواز میں کہنے لگے کہ آپ بتائیں کہ ہندوستان کاسب سے بڑا موسٹ وانٹیڈ کون ہے؟ وہ یقیناً یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ان کے مسلک کانہیں ہے یا یہ کہ وہ ان کے مخالف مسلک کا ہے یا پھر وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ یاتو مسلمانوں میں کہیں کوئی دہشت گردنہیں ہے یاہے تو اس میں کسی مسلک و مکتب فکر کی کوئی تخصیص نہیں ہے گمراہ نوجوان کہاں نہیں ہیں۔ میں دیرتک سوچتارہاکہ اگریہی سچ ہے تو آخر اس مرض کا علاج تلاش کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا ہمارے صرف یہ کہتے رہنے سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی کہ اسلام میں کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو اس راہ پر چل رہے ہیں وہ مسلمان نہیں ہوسکتے یایہ کہ جو دہشت گرد ہیں وہ کسی اور مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، ہم یا ہمارے بچے نہیں ہیں؟ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہ نہیں کیا۔تحریک منہاج القرآن نے اس طرز فکروعمل کے برعکس اپنی ذمہ داری محسوس کی اورہر اس نوجوان کوخواہ مسلم ہویا غیرمسلم، سنی ہو یا شیعہ،وہابی ہو یاغیروہابی، سلفی ہو یا صوفی اپنے ہی ریوڑ کی بچھڑی ہوئی کالی بھیڑ سمجھا جس کے ذہن کےکسی بھی گوشے میں تشدد یا انتقام کا کوئی زہر پل رہا ہو اور انہوں نے اپنی بساط بھر انسانی ہمدردی اوراسلامی اخوت کا سچاحق ادا کرنے کی جدوجہد کی۔خالد اورصالح کے چہروں کو دیکھنےکےبعدمجھےہمیشہ سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوا کہ ان کی اس کوشش کوہراس نوجوان تک پہنچانے کی ضرورٹ ہے جس کوآج کے ضحاک اپناشکاربناسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close