عالم اسلام

قدروں کا زوال اور ہمارا طرز عمل 

ہمارا وجود اللہ و رسول کے وضع کردہ نظام واصول پر کہیں فٹ نہیں بیٹھتا، ہمارے اندر فکری بے راہ روی جڑپکڑتی جارہی ہے۔

وصیل خان

گذشتہ دنوں ہم دفتر کیلئےنکلے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک ایسا منظر دکھائی دیا جس سے طبیعت پر ایک عجیب قسم کا اضمحلال طاری ہوگیا، اور دیر تک دل بوجھل رہا۔ ایک مکان کے دروازے پر نحیف و ناتواں والدین زاروقطار رورہے تھے، چہرے اداس اور ستے ہوئے جن پر کرب و پریشانی کی لکیریں صاف دکھائی  دے رہی  تھیں۔ کچھ لوگ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کا حال دریافت کررہے تھے۔ ضعیف والدین اپنی روداد غم سناتے ہوئے کہہ رہے تھے، ہماری ایک ہی اکلوتی اولاد ہے ہم نےاس کے سکھ کیلئےہمیشہ اپنی جانیں قربان کیں لیکن آج وہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا بننے کو تیار نہیں، اس نے ہمیں گھر سے نکال دیا ہے، وہ گالیاں دیتا ہے یہاں تک کہ مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتا اس نے ہم پر طلم و ستم کے سارے پہاڑتوڑڈالے ہیں، اب ہم نے بھی یہ طے کرلیا ہے کہ دوسروں کے جھوٹے برتن صاف کرلیں گے، بھیک مانگ کر گزارہ کرلیں گے لیکن اس کے ساتھ نہیں رہیں گے یہاں تک کہ موت ہمیں ابدی نیندسلادے۔ اس طرح کے واقعات اب روز مرہ کے معمول بن گئے ہیں۔ قدروں کا زوال اس قدر تیز رفتار ہے کہ اب یہ کہانی ہر تیسرے گھر میں دوہرائی جارہی ہے۔ اخلاقی بگاڑ انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ اس صورتحال کی عکاسی اکبرالہ آبادی نےکچھ اس طرح سے کی ہے۔

   جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبزشجر امید کا تھا 

جب صر صر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑدیا 

ایک اور واقعہ ذہن میں ابھر رہا ہے اتفاق سے اس واقعے کا بھی میں ہی چشم دید راوی ہوں۔ دو سگے بھائی ہنسی خوشی ایک ساتھ رہتے تھے ضعیف بیوہ والدہ بھی ساتھ تھیں، بچوں کی شادیاں ہوئیں تو پھر آپسی اختلاف و انتشار کی بھی آندھیاں چلیں اور دونوں بھائیوں میں بٹوارہ ہوگیا، آنگن میں دیوار کھڑی ہوگئی۔ ماں کا بوجھ اٹھانے کو کوئی تیارنہ تھا اس طرح ماں کو بھی تقسیم کردیا گیا بالآخر ایک ایک ماہ ساتھ رکھنے پر سمجھوتہ ہوگیا اس طرح زندگی کی گاڑی جیسے تیسےگھسٹنے لگی، اس دوران جب ماں چھوٹےبیٹے کے ساتھ تھی بڑے بیٹے کے گھر گئی، بڑی بہونے کچھ خاص پکوان ماں کے سامنے رکھ دیئے،اسی دوران بڑا بیٹا آگیا بھائی کی رقابت میں اس نے ماں کو الٹی سیدھی سنائی اور طیش میں آکر ماں کے سامنے سے پلیٹ چھین لی، ماں دل مسوس کر رہ گئی اسےاس قدر تکلیف پہنچی کہ اس کےمنھ سے بددعا نکل گئی، اللہ نے اس کی فورا ً سن لی، دوسرے ہی دن بیٹے کو بخار آگیا، سارا بدن تپنے لگا اور کچھ ہی دنوں میں وہ کوڑھ جیسی موذی بیماری کا شکارہوگیا انجام کار اسی مرض میں اس کی موت ہوگئی۔عجیب بات ہے جس قوم کو خیر امت کےاعزاز سے نوازا گیا آج اسے ہی سب سے زیادہ اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ کون سی برائی ایسی ہے جو مسلمانوں کے درمیان نہیں پنپ رہی ہے۔ زندگی کے دھارے ہی غلط سمت بہنے لگے ہیں علامہ اقبال نے ٹھیک ہی تو کہا ہے ’بجلیاں جن میں ہیں خوابیدہ وہ خرمن تم ہو ‘۔ دیکھ لیجئے آج مسلمان کہاں جارہا ہے اور کس قدر بے راہ روی کا شکار ہے۔ پہلے ہی خطاؤں کا بوجھ کیا کم تھا، اب سوشل میڈیا اور فیس بک کا ایک نیا عذاب بھی سر پر مسلط کرلیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے جس سے ڈھیروں مثبت کام کئے جاسکتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کیلئے ماضی میں اس سے بہتر مواقع نہیں حاصل تھے لیکن اس سے کوئی مثبت فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے جو کچھ کیا جارہا ہے بالکل برعکس اور منفی۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت بری طرح ضائع کررہی ہے۔ سوشل میڈیا پر لایعنی اور غیر ضروری سوالات و جوابات اور بحث و مباحثے کئے جارہے ہیں جو کسی بھی صورت نہ ان کے حق میں بہتر ہیں نہ ہی قوم و ملت کو اس سے کوئی فائدہ پہنچنے والاہے۔ لوگ اپنی بڑی بڑی تصویریں فیس بک پر شو کرتے ہیں اور ماشا ءاللہ، بہت خوب، نہایت شاندار کے جوابات کےشدت سے منتظر رہتے ہیں اور اسی سے سکون و طمانیت حاصل کرتے ہیں۔ ذرا سوچیئے تو سہی کہ کیا یہی علامتیں ہیں دنیا میں عظیم اورمثالی انسان بننے کی۔ ایک اور خرابی بڑی تیزی سے پنپ رہی ہے جس نے ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج ہم اندر سے کچھ، اور باہر سے کچھ اور نظر آتے ہیں، ہمارے پاس ایک نہیں کئی کئی چہرے ہوگئے ہیں اور جہاں جیسا موقع ہو ان چہروں کا استعمال کررہے ہیں۔ ندافاضلی نے کیسی درست عکاسی کی ہے   ؎

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی   

جس کو بھی دیکھنا ہے کئی بار دیکھئے 

جیسا دیس ویسا بھیس ایک مثل ہے جو انسانی مکاری، فریب دہی اور مطلب پرستی کیلئے وضع کی گئی تھی آج اپنے قول و عمل کے ذریعے ہم اسی کی تصدیق و تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی اصول ہے اور نہ ہی ہم اسلامی تعلیمات کو اپنا کر جرأت مندی اور ہمت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اب تو ہم نے یہ عادت بھی بنالی ہے کہ سامنے تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں اور پشت بدلتے ہی غیبت، چغلیوں اور برائیوں کے انبار لگادیتےہیں، ان خرافات کا ہم اتنا زیادہ شکار ہوگئے ہیں، کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو یہ لعنتیں پوری طاقت سے ہر جگہ اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ مغالطہ ہونے لگتا ہے کہ غیبت، بہتان اور جھوٹ جیسی برائیاں ہم پر مباح تو نہیں ہوگئی ہیں، یا پھر اپنے فائدے کیلئے ہم نے انہیں جائز قرار دے دیا ہے۔ ماضی میں مسلمانوں نے اپنے اعلیٰ ترین کردارو عمل سے ایسی شناخت بنائی تھی کہ غیرمسلم بھی کہہ پڑتے تھے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا اور وہ اثبات و نفی کے درمیان نہیں رہتا، یعنی  ’ ہاں  ‘ اور ’ نہیں ‘ کے بیچ کی کوئی چیز وہ نہیں جانتا۔ ظاہر ہے اثبات و نفی کے درمیان کا عمل خود غرضی اور فساد کا ہی  سبب بنتا ہے اور سماج و معاشرے کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ لیکن اب ہماری شناخت یہی ہوگئی ہے کہ ہم ہاں اور نہیں کے درمیان ہی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہمارا کوئی معیار ہی نہیں رہ گیا ہے۔ آج جب ہم اپنے گردوپیش کاجائزہ لیتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہمارا وجود اللہ و رسول کے وضع کردہ نظام واصول پر کہیں فٹ نہیں بیٹھتا، ہمارے اندر فکری بے راہ روی جڑپکڑتی جارہی ہے۔ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کیلئے ساری اخلاقی حدیں پار کررہے ہیں۔ اصلاح معاشرہ کیلئے قرآن اور اسوہ ٔ رسول سب سے بڑا مآخذہے، اس سے تعرض و انحراف انتہاکو پہنچ رہا ہے۔ علماءاوردینی مدارس تو ہیں لیکن سب نفسانفسی کا شکار ہیں۔ خانقاہیں تو ہیں مگر وہاں سے وہ روحانی نظام غائب ہے، مسجدیں آباد ہیں لیکن دل کی دنیا ویران ہے۔ فرقہ بندی اور مسلکی انتہاپسندی عروج پر ہے۔ کیا ہمارے پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close