خصوصیعالم اسلام

لارنس آف عریبیہ  (lawrence of arabia)

آصف علی

مشرق وسطیٰ میں بہت ہی بھیانک و خوفناک کھیل کھیلنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد اسلامی ممالک کے حصے بخرے کرنے کا پلان بنایا جا چکا اور اس پر برسوں سے کام جاری ہے، جس کے لیے بیک وقت مذہب اور قومیت کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ استعماری قوتیں رواز اول سے امت مسلمہ کی تقسیم کے نت نئے حربے آزماتی آئی ہیں اور یہی حربے ایک بار پھر نئی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑا کر، مگر پلاننگ یقیناً کسی ”لارنس آف عریبیہ“ کے دماغ کی اختراع معلوم ہوتی ہے۔ تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں متعدد علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ملوث ہیں، جو خاص منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ میں جاری خونریزی کو ہوا دے رہی ہیں۔ پوری اسلامی دنیا کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کے لیے نہایت عیاری کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں لڑائی کو مذہبی رنگ میں رنگا گیا اور دو مختلف فرقوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا گیا، جس سے اب ایک کلمہ پڑھنے والوں کے درمیان یہ تصادم بہت دور تک پھیلتا نظر آ رہا ہے، حالانکہ یہ مذہبی و مسلکی جنگ نہیں بلکہ ظالم و مظلوم، قاتل و مقتول اور جابر و مجبور کی جنگ ہے۔ یہ سب ان کی سازش کا حصہ ہے کہ ایک کلمہ پڑھنے والوں کو آپس میں لڑا کر اتنا کمزور کردیا جائے کہ ان کی ساری طاقت ختم ہوجائے اور پھر تعاون کے نام پر مسلم دشمن قوتیں یہاں آکر قبضہ جمالیں جیسے بہت سے جنگ زدہ مسلم ممالک میں مسلمانوں کی آپسی لڑائی اور نااہلی کی وجہ سے مسلم دشمن ممالک قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مسلم دشمنوں کے بنے جانے والے تانے بانے سمجھنے کے لیے اگر ہم ایک صدی پیچھے کو سفر طے کریں تو معاملہ آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

خلافت عثمانیہ تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرہ قلزم اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگزار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ خلافت عثمانیہ نے اگرچہ عربوں کو بہت مایوس کیا، جس سے عربوں میں خلافت سے کوئی دلچسپی نہ رہی اور خلافت خود بھی بہت کمزور ہو چکی تھی، لیکن سامراجی قوتوں کی آنکھوں میں امت مسلمہ کے اتحاد کی صورت میں کھٹک رہی تھی، جسے وہ کسی صورت بھی ایک جھنڈے تلے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ان حالات میں خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے کے لیے لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کو مخصوص انگریز چال ” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس مشن کے لیے برطانوی فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے ٹی ای لارنس کے طور پر جانا جاتا تھا، کو خلافت عثمانیہ کے زیر تسلط عرب علاقوں میں بغاوت پھیلانے کا فریضہ سونپا گیا۔ اس شخص نے عربی زبان پر عبور حاصل کیا اور اپنے آپ کو ایک عرب کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے بصرہ کی ایک مسجد میں ہزاروں مسلمانوں کے روبرو صرف دکھاوے کے لیے اسلام قبول کر کے یہ تاثر دیا کہ وہ سچے دل سے اسلام قبول کر رہا ہے۔ ”لارنس آف عریبیہ“ نے نہایت ہی شاطرانہ طریقے سے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات کو جگا کر خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کو منظم کیا، جس کے نتیجے میں جنگ عظیم اول کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے اور خلافت عثمانیہ اختتام پذیر ہوئی۔ آج مشرق وسطیٰ کو ان حالات تک پہنچانے کے پیچھے مسلمانوں کے لبادے میں چھپے یقیناً بہت سے ”لارنس آف عریبیہ“ چھپے ہوئے ہیں، جو ایک صدی پہلے قومیت کی آگ بھڑکا کر خلافت عثمانیہ کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور اب مذہب و قومیت کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کی تقسیم کا منصوبہ روبہ عمل ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس (16 اگست 1888ء – 19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس (T. E. Lawrence) کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھے جنہیں پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم اول کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں لارنس آف عربیہ (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ خطاب 1962ء میں لارنس آف عربیہ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے باعث عالمی شہرت اختیار کر گیا۔

1915 ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی، تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے ” تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی، لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی۔ انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی ریلوے لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہنچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔

ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جار ہا تھا۔اس پل کے قریب لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کر کھدائی شروع کروا دی، آثار قدیمہ کی کھدائی محض بہانہ تھی اصل مقصد برلن بغداد، ریلوے لائن کی جاسوسی تھا۔ یہاں سے وہ ہر روز خبریں لکھ کر لندن روانہ کرتا رہتا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے اس نے مزید غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کا انتخاب کیا اور خطیر رقم کا لالچ دیکر اس کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔ فائزی نے بڑی حقارت سے اسکی پیشکش ٹھکرا دی اور دھکے مار کر لارنس کو نکال دیا۔

 لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔ اس نے سلیمان فائزی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور کافی غوروفکر کے بعد فیصلہ کیا کہ برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اور اپنے ڈھب کا غدار اس کو پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لیے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے اس نے "پونڈ” پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ انکو باور کرایا کہ سيد زاده ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے۔

ابتداء میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہوگیا ہے۔

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Close