شخصیاتعالم اسلام

مبلغِ اسلام ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری القادری

محمد ریاض علیمی

ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری علیہ الرحمہ (۱۹۱۵ء۔ ۱۹۷۴ء) بیسویں صدی عیسوی کے نابغہ روزگار عالمِ دین، محقق اور فلسفی تھے۔ آپ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام مولانا محمد خلیل انصاری اور والدہ ماجدہ کا نام حسن آراء بیگم بنت علی حسن بن کریم بخش تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشہورو معروف صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت جمعہ کے دن ۱۴ شعبان المعظم ۱۳۳۳ھ بمطابق ۲۵جون ۱۹۱۵ء مظفر نگریوپی (انڈیا) میں محمد خلیل انصاری صاحب کے ہاں ہوئی۔ آپ شروع ہی سے نہایت قوی حافظہ اور غیر معمولی ذہانت کے حامل تھے۔ آپ نے چھ سال کی عمر میں سن ۱۹۲۱ء میں دوسال کے مختصر عرصہ میں قرآن مجید حفظ کیا۔ اس کے بعد آپ نے اسی سال مستقل طالبِ علم کی حیثیت سے’’ مدرسہ اسلامیہ میرٹھ‘‘ میں درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھنا شروع کیں ، یہی وہ مدرسہ ہے جہاں آپ نے پہلی مرتبہ عربی وفارسی زبان بھی سیکھی اور یہ سلسلۂ تعلیم ۱۹۲۴ء تک جاری رہا۔ آپ نے ۱۹۳۳ء میں یہاں سے سندِ فراغت حاصل کی۔

۱۹۳۳ء سے ۱۹۳۶ء تک آپ نے حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری علیہ الرحمہ (صدر شعبہ علومِ اسلامیہ)مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے قرآن وحدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوّف کی کتابیں پڑھیں ۔ آپ نے ۱۹۴۱ء میں مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے علومِ دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا جس کے بنیادی مضامین میں قرآن، حدیث، فقہ، اُصولِ فقہ، تفسیر، اصول، تفسیر، اُصولِ حدیث اور فرائض وغیرہ شامل تھے۔ آپ نے ۱۹۲۴ء میں درسِ نظامی کی تعلیم پرائیوٹ طور پر جاری رکھی اور انگریزی تعلیم کے لیے ’’میرٹھ کالج‘‘ میں داخلہ لیا۔ ۱۹۳۱ء میں جبکہ آپ کی عمر سترہ (۱۷) سال تھی، آپ نے مختلف انگریزی رسائل میں مختلف علمی و تحقیقی مضامین لکھنا شروع کردیے تھے۔ آپ نے ۱۹۳۵ء میں بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی دونوں کا امتحان ایک ساتھ دیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بی۔ اے میں خصوصی طور پر انگریزی ادب، فلسفہ، عربی، انگریزی، دینیات اور اردو جیسے مضامین منتخب کیے۔ دوسرا گولڈ میڈل فلسفے میں ۹۸ نمبر حاصل کرنے پر ملا۔ یہ برصغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ تھا جو تاحال برقرار ہے۔ آپ کے فلسفہ کا امتحان خود علامہ اقبال نے لیا تھا اور علامہ اقبال نے آپ کی علمی ذہانت اور فلسفہ میں کامل مہارت کو داد دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بچہ پیدائشی فلسفی ہے۔

آپ نے ۱۹۴۲ء میں ڈاکٹر سید ظفر الحسن کی زیرِ نگرانی ’’اسلامی اخلاق اور فلسفہ ما بعد الطبیعیات ‘‘ ( Islamic Moral and Metaphysical Philosophy)میں ڈاکٹر یٹ کے لیے تحقیق شروع کی۔ ڈاکٹر سید ظفر الحسن نے آپ کے اس تحقیقی کام کی بہت تعریف کی، اُن کے علاوہ ڈاکٹر سر ضیاء الدین (وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علیگڑھ) نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مولانا محمد فضل الرحمٰن انصاری کی تحقیق فلسفیانہ فکر کے لیے بہت اہم ثابت ہوگی۔ ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۷ء تک آپ پی۔ ایچ۔ ڈی کے لیے تحقیق کرتے رہے، جب یہ تحقیق مکمل ہوگئی تو اُن دنوں ہندوستان میں ہنگامے شروع ہوگئے، ڈاکٹر سید ظفر الحسن کراچی چلے گئے، اس منتقلی میں اُن کے پاس مولانا انصاری کا گراں قدر مقالہ گُم ہو گیا۔ پاکستان بننے کے تھوڑے عرصے بعد۱۹۴۹ء میں ڈاکٹر سید ظفر الحسن کا انتقال ہوگیا۔ اس تحقیقی مقالہ کی دوسری نقل ڈاکٹر انصاری کی ذاتی لائبریری میں تھی، جب آپ نے پاکستان ہجرت کی تو آپ کی لائبریری لوٹ لی گئی اور امرتسر کے مقام پر آپ کی کُتب چھن لی گئیں ۔ اس طرح آپ کی کئی سال کی محنت سے تیار کردہ مسودے ضائع ہوگئے۔

آپ کو علم القرآن، علم الحدیث، علم الفقہ، علم الکلام، علم قراء ت وتجویداورعلمِ تصوف سمیت متعدد جدید علوم یعنی علم معاشیات (Economics)، علم عمرانیات، علم تاریخ، علمِ قانون، علم طب، علم ریاضی، علم نفسیات، طبیعیات، میتھالوجی اور تاریخ وغیرہ میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ تقابل ادیان اور فلسفہ آپ کے سب سے پسندیدہ موضوعات تھے۔، الغرض علم حاصل کرنے کی پیاس تمام زندگی آپ کے ساتھ رہی۔ علیگڑھ میں قیام کے دوران آپ نے طب کے متعلق بھی پڑھا، خاص طور پر آپ ہومیو پیتھک میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔

آپ سفیرِ اسلام حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کے خلیفہ اور خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ کی ملاقات سفیرِ اسلام سے اس وقت ہوئی جب آپ ایف۔ ایس۔ سی کے طالب علم تھے۔ ایک دن کالج سے واپسی پر ایک مسجد سے نورانی چہرے والے بزرگ کو نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس دوران آپ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ لوگ آپ کے آس پاس کھڑے ہوکر دست بوسی کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر انصاری نے اپنے ایک دوست سے ان بزرگ کے بارے میں دریافت کیا تو دوست نے ان بزرگ کا تعارف کرایا اور ایک دن وہ انصاری صاحب کو لے کر حضرت کی خدمت میں لے گیا۔ انصاری صاحب کی جیسے ہی ملاقات ہوئی تو حضرت شاہ صاحب کے دل سے ایسی نورانی کرنیں نکلیں کہ انصاری صاحب ان کرنوں کے سحر میں کھو کر رہ گئے اور مستقل طور پر حضرت کے ہو رہ گئے۔ انصاری صاحب کافی عرصہ حضرت کی خدمت میں رہے اور متعدد سفر میں بھی حضرت کے ہم سفر رہنے کا شرف حاصل رہااور حضرت کے پرائیویٹ سیکریٹری کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ مبلغِ اسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۴۹ء میں حجازِ مقدس سے خط لکھ کر آپ کو بلایااورحطیم کعبہ میں آپ کوبیعت کرنے کے بعد سلسلہ عالیہ قادریہ غوثیہ نجیبیہ علیمیّہ اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ نجیبیہ علیمیّہ وغیرہ سلاسل کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔ آپ علیہ الرحمہ ۱۹۳۶ء میں رشتۂ   ازدواج سے منسلک ہوئے۔ آپ کا نکاح سفیر اسلام حضرت علامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ کی بڑی صاحبزادی امۃ السبوح سے ہوا۔

ڈاکٹر انصاری نے اپنی زندگی میں پانچ مرتبہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے عالمی تبلیغی دورے فرمائے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار افریقہ کے مخصوص علاقوں میں گئے اور وہاں دینِ اسلام کا پیغام پہنچایا۔ بے شمار افراد آپ کے دستِ حق پرست پر تائب ہوئے اور دینِ اسلام قبول کیا اور اپنی زندگیوں کو قرآن وسنت کے احکام کے مطابق ڈھالا۔ آپ نے اپنی عالمی تبلیغی مصروفایت کے باوجود تصنیف تالیف کا مقدس فریضہ بھی انجام دیا۔ آپ کی تصانیف میں قرآنِ حکم کا عمرانی فلسفہ (سورۃ العصر کی تفسیر) اور اسلام اور مارکس ازم کے علاوہ انگریزی زبان میں The Beacon Light، The Christian World in Revolution، Muhammad: The Glory of the Ages، Muslims and Communism، Islam and Christianity in the Modern World، Islam and Western Civilization، Philosophy of Worship in Islam کے علاوہ متعدد کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے۔ یہ وہ تصانیف ہیں جو آپ نے مستقل طور پر تحریر فرمائیں ۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف جرائد و رسائل میں بھی آپ کے تحقیقی مضامین شائع ہوتے رہے۔

آپ کا تحقیقی مقالہ انگریزی میں دو جلدوں پر مشتمل بنام The Quranic Foundations and Structure of Muslim Societyآج بھی اہل علم اور دانشوروں کے لیے مستند و معتبر کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی ناقابل فراموش خدمت یہ ہے کہ آپ نے نارتھ ناظم آباد کراچی میں ایک ادارہ المر کز الاسلامی (World Federation of Islamic Mission)۱۹۵۸ء میں قائم کیا جہاں زیادہ تر غیر ملکی طلباء حالات حاضرہ کی ضروریات کے مطابق تبلیغِ اسلام کی تربیت حاصل کرکے اپنے اپنے علاقوں میں فرائض تبلیغ انجام دیتے تھے۔ بقول ڈاکٹر انصاری صاحب اس ادارے سے ۴۱ (اکتالیس) ادارے وابستہ ہیں جو دنیا کے گوشے گوشے میں فرائضِ تبلیغ انجام دے رہے ہیں ۔ آج بھی اس ادارہ المعروف ’’اسلامک سینٹر ‘‘ سے بڑی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں اور دیہاتوں سے طلباء آکر اپنی تعلیمی پیاس بجھاتے ہیں اور علوم قدیمہ کے ساتھ ساتھ علوم جدیدہ سے آراستہ ہوتے ہیں ۔

ڈاکٹر انصاری ۱۹۷۴ء میں دل، پھیپھڑوں اور شوگر کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ اسی سال بروز پیر ۱۱ جما دی الاولیٰ ۱۳۹۴ھ بمطابق ۳ جون ۱۹۷۴ء کی صبح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ نمازِ جنازہ اُس وقت کے وفاقی وزارتِ اوقاف وحج کے مشیر جناب عبد القادر الگیلانی نے پڑھائی۔ آپ کا مزارِ پُر انوار المرکز الاسلامی نارتھ ناظم آباد بلاک بی، کراچی کے احاطے میں ہے۔ آپ کی رحلت کے بعد آپ کے مشن کو آگے بڑھانے والوں میں سب سے پہلے مولانا شیخ محمد جعفر علیمی القادری رحمہ اللہ کا نام آتا ہے جو ڈاکٹر انصاری کے بہت ہی زیادہ قریبی تھے۔ ڈاکٹر انصاری کے انتقال کے بعد آپ ہی جامعہ علیمیہ اسلامیہ (اسلامک سینٹر) کے روحِ رواں اور روئے تاباں تھے اور تمام معاملات اخلاص اور بحسن وخوبی انجام دیتے تھے۔

اسی طرح مولانا منظر کریمی رحمہ اللہ بھی آپ کے خاص شاگردوں میں تھے جو خاص طور پر مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمہ کے حکم پر اسلامک سینٹر میں مستقل طور پر تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔ اسی طرح مصطفی فاضل انصاری صاحب جو ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ کے صاحبزادے بقیدِ حیات ہیں وہ آج بھی اپنے والد ماجد کے افکار طلبا ء میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔، نیز ڈاکٹر شیخ عمران نذر حسین اور شیخ علی مصطفی وغیرہ بھی بقید حیات ہیں جنہوں براہِ راست ڈاکٹر انصاری سے علم و فنون کا وافر حصہ حاصل کیا اور آج بھی بیرونِ ممالک میں چراغِ انصاری روشن کیے ہوئے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close