عالم اسلام

مرے اللہ نے ہر عسر میں کچھ یُسر رکھے ہیں!

عالم نقوی

ہم تلبیس حق و باطل اور فساد بحر و بر کے بد ترین دور میں ہیں لیکن  چونکہ مرے اللہ نے ہر عسر میں کچھ یُسر، ضرور رکھے ہیں اس لیے یہ ناممکن ہے کہ عُسرِ شدید کے موجودہ مظاہر میں کچھ یُسرِ صریح  بھی پوشیدہ نہ ہوں۔

یہود و مشرکین  اہل ایمان کے  شدید اور دائمی دشمن ہیں،یہ تو خود قرآن میں موجود ہے لیکن اُن کے اَعوان و اَنصار بھی اَز خود ظاہر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کسی اور نے نہیں، خود ایک سعودی تاجر کی نیوز ویب سائٹ ’ایلاف ‘ نے اسرائل کے فوجی سربراہ کا یہ بیان اپنے پورٹل پر شایع کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کی ’’مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کی کوششوں ‘‘کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔

 اخوان ا لمسلمون کے قاتل فرعون ا لسیسی کے شہر قاہرہ میں ’عرب لیگ ‘ کے حالیہ  ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب اور بحرین نے اپنے اس مؤقف کا پھر اعادہ کیا کہ ’عرب ممالک کی سلامتی کے لیے  اصل خطرہ ایران اور حزب اللہ ہیں ‘!ایرانی نیوکلئر میزائلوں کو سبھی عرب ممالک کے  لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عرب لیگ کے  قاہرہ اجلاس میں اتوار ۱۹ نومبر کو  ایران کو کھلی  دھمکی دی گئی کہ اس کی ’جارحیت ‘ کے سامنے عرب ملک بُت بنے نہیں کھڑے رہیں گے۔‘

 اُدھر ابو ظبی کے ایک فوجی جرنل نے کہا ہے  کہ’’ہم (یعنی عرب  مسلم ممالک ) اسرائل کے لیے خطرہ نہیں۔ ہم تو اُس کے( یعنی صہیونی یہودی  اسرائل کے ) اتحادی ہیں۔ ‘‘

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین پہلے بھی ایک زائد موقعوں پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’اسرائل کا نہیں ایران کا ایٹمی پروگرام عرب ممالک کے خطرناک ہے‘‘!

۲۱ نومبر۲۰۱۷ کے اخبارات میں اسرائل کے وزیر توانائی  کا یہ  بیان  شاہ سرخی کے ساتھ شایع ہوا ہے کہ ’عرب اور دیگر کئی اسلامی ممالک کے ساتھ عرصہ دراز سے  اسرائل کے قریبی روابط ہیں لیکن اُن کے ناموں کو اُن ہی کی درخواست پر خفیہ رکھا جاتا ہے۔ عرب اسرائل روابط کا  بنیادی سبب اُن سب  کے مشترکہ دشمن ایران  اور اخوان ا لمسلمون (مصر )،حماس (فلسطین )اور حزب اللہ(لبنان) سمیت  خطے کی سبھی اسلام پسند طاقتیں ہیں۔ ‘‘گزشتہ ہفتے اُنہوں نے اسرائلی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’انتہا پسند اسلام کے خلاف وہ اعتدال پسند (ماڈریٹ اسلام والی ) عرب  ریاستوں کےساتھ کھڑے ہیں۔ ‘‘

 دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے، شاہ سلمان جن کے حق میں اپنے اقتدار   سے قبل از وقت دست بردار ہونے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں، علانیہ کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں ’ماڈریٹ اسلام ‘نافذ کرنے کا آغاز کر دیا ہے ! ملک کی شمال مغربی ساحلی پٹی پر پانچ سو ارب ڈالر کے خرچ سے ایک نئے اور عظیم الشان شہر کی تعمیر کا اعلان اسی مقصد سے کیا گیا ہے جہاں کے قانون اور ضابطے’’مغربی اور لبرل ‘‘ہوں گے ملک کے دیگر شہروں جیسےبا لخصوص ’’حرمین شریفین‘‘ جیسے   نہیں۔سعودی شہری ابھی تک ’وِیک اِنڈ‘ پر جن ’لبرل آسائشوں ‘ کے لیے بحرین جایا کرتے تھے وہ اب اُنہیں اپنے ہی ملک کے اِس جدید لبرل شہر میں مئسر ہوں گی۔ ‘

دوسری طرف فلسطینی صحافی اور کالم نگار رمزی بارود نے  اپنے تازہ ترین کالم میں لکھا ہے کہ انسانوں کو انسانوں سے کاٹنے کے لیے اور انسانوں کو انسانوں کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے لیے دنیا میں اب تک ستر (۷۰) بلند وبالا دیواریں کھڑی کی جاچکی ہیں جن میں سب سے اونچی اور سب سے زیادہ ناقابل عبور دیواریں اسرائل نے فلسطینیوں بستیوں کے گرد اُٹھا رکھی ہیں۔  اپنے ہی شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے لیے نفرت کی دیواریں اٹھانے کا فن وہ اب ہندستان جیسے اپنے   دوسرے دوست ممالک کو بھی برآمد کر رہا ہے۔

لیکن، سنگین عسر کے ان تمام مظاہر کے درمیان یسر کی علامتیں بھی نمایاں ہیں۔

 مثلاً امریکہ جیسی نام نہاد سپر پاور شمالی کوریا جیسے چھوٹے سے کمزور ملک  سےاتنی  خوف زدہ ہے  کہ اسے ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے ! نام نہاد سیکیورٹی پر اتنی دولت خرچ کر ڈالنے کے باوجود کہ جو دنیا سے بھوک، بے روز گاری بے آسرائی اور افلاس کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے کافی سے بھی زیادہ ہوتی آج دنیا کے سبھی صہیونی یہودی اور اُن کی معاون و مددگار قومیں اور قوتیں  شدید  خوف کی  نفسیات میں مبتلا ہیں۔ اسرائل امریکہ اور ان کے دوستوں کی بپا کردہ پندرہ سالہ عالمی ’وار آن ٹیرر‘(دہشت گردی کے خلاف جنگ ) کے باوجود دنیا کی یہ حقیقی دہشت گرد طاقتیں آج ایران، اخوان، حماس اور حزب ا للہ سے خوفزدہ ہیں !

کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں ، کہ حق ’سُپر پاور ‘ کے ساتھ نہیں ’مستضعفین ‘ کے ساتھ ہے ! اور یہ کہ مستقبل( نہ سہی قریب، بعید ہی سہی ) ظلم و فساد کا نہیں عدل و صلاح کا ہے !انشا ا للہ۔

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. عالم نقوی کا یہ تجزیہ مبنی بر حقیقت ہے. عسر اور یسر کا فلسفہ از آدم تا ایندم چلتا رہے گا. اگر یہ سلسلہ موقوف ہوجائے گا تو صرف یسر کی جلوہ نمائ ہوگی اور اگر صرف عسر کا جبر ہوگا تو وہ بھی کائنات کے فطری مزاج سے ہم آہنگ نا ہوگا. چنانچہ قیامت تک ایسا ہوتا رہے گا. حالیہ دنوں کی خبریں کافی تشویشناک ہیں. بڑے نقصانات کے امکانات ہیں اللہ بھر حال اپنی سنت کو جاری کرکے رہے گا. عرب کے بادشاہوں کواپنی دینی ذمہ داری ادا کرنا چاہیے. لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے. مصر میں السیسی کا ظلم؛ اخوانیوں کی مظلوم دعائیں… وغیرہ ایسا لگتا ہے کہ اب وقت حساب آگیا ہے. ہم لوگوں کو اللہ کے حضور گڑگڑاکر دعا کرنا چاہئیے.

متعلقہ

Close