عالم اسلام

مسجدِ اقصٰی امریکہ کی جاگیر نہیں!

محمد وسیم

مسجدِ اقصٰی جسے بیت المقدس، یروشلم اور تیسرا حرم شریف بهی کہتے ہیں ، تینوں مذاہب یعنی یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کے درمیان مقدس سمجھا جاتا ہے، یہ ہمیشہ سے تینوں مذاہب کے لئے مقدس رہا ہے۔ اس کے لئے جنگیں بھی لڑی گئیں ، تاریخی اہمیت کا حامل یہ جگہ ہمیشہ سے عالمی توجہ کا مرکز بهی رہا ہے۔ اس کی اپنی تاریخ ہے۔ آج کل یہ یہودیوں کے قبضے میں ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس سرزمین کے ساتھ صرف مسلمانوں ہی نے انصاف کیا ہے۔ جب کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے جب بھی اس سرزمین پر قدم رکھا تو ظلم و تشدد ہی کی تاریخ رقم کی۔ عیسائی جب اس سرزمین پر آےء تو تقریباً 70 ہزار مسلمانوں کا قتل کیا، مؤرخین لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ فلسطین میں خون کی ندیاں به رہی ہوں – مگر جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین کی سرزمین پر قدم رکھا، تو انصاف اور امن کی بہترین مثال قائم کی، اس مقدس سرزمین کی تقدیس کی گواہی اللہ تعالیٰ نے بھی دی ہے، قرآن پاک کی سورہء بنی اسرائیل آیت نمبر 1 میں ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصٰی تک لے گیا، جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔

مسجدِ اقصٰی روےء زمین پر مسجدِ حرام کے بعد دوسری مسجد ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج جاتے ہوئے یہاں قیام کیا، اسی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 1 لاکھ 24 ہزار انبیائے کرام کی امامت فرمائی، یعنی تمام انبیائے کرام نے اس مسجد میں اپنا سر جھکایا ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہء اول ہے، جس کی طرف آپ نے 13 مہینوں تک چہرہ کر کے نماز پڑهی ہے، معراج سے واپس ہوئے تو ابوجہل نے ان سے مسجدِ اقصٰی کے بارے میں دریافت کیا۔ تو اللہ نے معجزاتی طور پر آپ کے سامنے مسجدِ اقصٰی کو ظاہر کر دیا، اس میں ایک وقت کی نماز پڑھنے کا ثواب دیگر مسجدوں کے مقابلے میں 500 گنا زیادہ ہے- خلیفہء دوم حضرت عمر رضی عنہ اپنے دس سالہ دور خلافت میں کبهی مدینہ سے باہر نہیں نکلے، مگر جب انهیں خبر ملی کہ اسلامی فوج فلسطین کے کنارے پہنچ چکی ہے اور مسجدِ اقصٰی مسلمانوں کے قبضے میں ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافت کی کرسی خالی چھوڑ کر محض ایک سواری لے دیوانگی کے عالم میں مدینہ سے مسجدِ اقصٰی کی طرف دوڑ پڑے، حضرت عمر کو چابیاں دی گئیں ، جب تک حضرت عمر وہاں رہے، مسجدِ اقصٰی میں عبادت کرتے رہے، مسجدِ اقصٰی میں پانی تک نہیں پیتے تاکہ یہ سفر صرف مسجدِ اقصٰی میں عبادت کے لئے خاص ہو، اس طرح سے انهوں نے مسجدِ اقصٰی کو ہر طرح کے کفر و شرک سے پاک کیا۔

ظالم و غاصب اسرائیل کو 1948 میں چند منٹوں کے اندر روس، امریکہ اور برطانیہ نے ملک کے طور پر تسلیم کر کے عالمِ اسلام کو گہرا زخم دیا، اسرائیل کو آئینی حیثیت تسلیم کر کے باطل طاقتوں نے عربوں کے سینے پر خنجر گھونپنے کا کام کیا ہے، یہ محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی صیہونی سازش تهی، جسے بزور طاقت دنیا کو منوایا گیا، اسرائیل کی حمایت ہمیشہ سے اقوامِ متحدہ اور امریک نے کی ہے، کیا وجہ ہے کہ اسرائیل اتنی بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود بھی امریکہ ہر سال اسے فوجی امداد مہیا کرتا ہے، غرض کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی حرامی اولاد ہے۔ جس کی دیکھ بھال باطل طاقتوں کی طرف سے مسلسل جاری ہے، ابھی حال ہی میں ظالم امریکہ نے ظالم اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے، یہ تاریخی ظالمانہ فیصلہ ہے، ویسے ظالم اسرائیل کا وجود ہی ناپاک ہے تو بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دینے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے، دنیائے انسانیت کو کیا یہ نہیں دکھتا کہ 1948 سے پہلے اس ملک کا وجود ہی نہیں تھا، اس کے ناپاک وجود کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل نے ظلم و ستم کی بھیانک تاریخ رقم کی ہے، مسجدِ اقصٰی کی حرمتوں کو ہمیشہ پامال کیا ہے، فلسطینیوں پر ہونے والے بے پناہ ظلم و ستم کے ذمہ دار وہ ظالم ممالک بھی ہیں ، جنهوں نے اسرائیل کو آئینی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔

قارئینِ کرام ! افسوس ہے کہ مسجدِ اقصٰی عرصہء دراز سے یہودیوں کے قبضے میں ہے، یہودی مسجدِ اقصٰی کی حرمت کی پامالی کرتے رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو کبهی اس میں نماز پڑھنے کا موقع میسر آ جاتا ہے تو کبهی ان کے لئے مسجد کے دروازے بند کر دےء جاتے ہیں۔ اسی سال رمضان میں یہودی فوجیوں نے مسجدِ اقصٰی میں گھس کر معتکفین اور نمازیوں کو زخمی کیا۔ مسجد کو نقصان پہونچایا، مگر ان کے ظالمانہ رویے کے خلاف فلسطینی مسلمان بے پناہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں – دنیائے کفر کان کھول کر یہ بات سن لیں کہ فلسطین کی ایک انچ جگہ بھی اسرائیل اور امریکہ کی جاگیر نہیں ہے، مسجدِ اقصٰی صرف مسلمانوں کا ہے- بیت المقدس دو بار فتح ہوا۔ ایک بار حضرت عمر کی خلافت میں اور دوسری بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے عہدِ حکومت میں – اور ایک بار پھر اللہ کے حکم سے مسجدِ اقصٰی ایک مومن جماعت کے ہاتھوں فتح ہوگا، یہودیوں کو ذلت و رسوائی نصیب ہوگی، اس وقت درخت اور پتھر بھی بول اٹھیں گے کہ اے اللہ کے بندے ! اے مسلمان ! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے، آءو ! اور اسے جلدی سے قتل کر ڈالو.(صحیح مسلم، حدیث : 2921)-

آخر میں میں اپنی تحریر کے آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ مسجدِ اقصٰی مسلمانوں کا ہے، ہم فلسطینیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ان کی ہر سطح پر حمایت کرتے ہیں – جب کہ اسرائیل کو ظالم حکومت تسلیم کرتے ہیں اور امریکہ کے ظالمانہ فیصلے کو ہم کبهی بھی برداشت نہیں کریں گے، نہیں کریں گے، نہیں کریں گے۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نےیروشلم کواسرائیل کی راج دھانی تسلیم کرلیاہے,لیکن افسوس کہ ہم مسلمانوں کو
    پتہ ہی نہیں کہ یروشلم کی حیثیت کیا ہے؟
    ہم جانتے ہی نہیں کہ اس سرزمین کا اسلام میں کیا کردار رہا ہے؟
    ہمیں نہیں پتہ کہ کیوں فلسطین کے مسلمان آج تک اپنے خون پہ بیت المقدس کی نماز کو فوقیت دیتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ فلسطینی مائیں اپنے لاڈلوں کو جنتے ہی بیت المقدس کی حفاظت کے لئے وقف کر دیتی ہیں۔
    آئیے۔ پیچھے چلتے ہیں۔
    آپ کو پتہ ہے؟ حضور اکرم ص کی معیت میں مسلمان اسلام کے اولین دور میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ہیں۔
    کیا آپ جانتے ہیں؟
    حضور ص نے جب معراج کا سفر کیا تو پہلے مکہ سے مسجد الاقصی بیت المقدس تک براق پہ زمینی سفر کیا جس کو اسرٰی کہتے ہیں۔ بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت کی۔ نماز پڑھائی اور امام الانبیاء کے مقام سے سرفراز ہوئے۔ اور اسی بیت المقدس سے عرشِ الٰہی کی طرف سفرِ معراج کا باقاعدہ آغاز کیا۔
    کیا معلوم ہے آپ کو؟
    خلافت کے تقریباً بارہ سالوں میں سیدنا عمر فاروق رض جزیرہ عرب سے باہر نہ گئے۔ ایک دفعہ گئے۔ پتہ ہے کب؟
    جب ان کو پتہ چلا کہ اسلامی افواج بیت المقدس یروشلم کے باہر پہنچ گئی ہیں اور بیت المقدس کے مذہبی رہنما خلیفہ سے مل کر بغیر کسی جنگ کے بیت المقدس کی حوالگی پہ آ مادہ ہیں۔ سیدنا عمر رض ایک اونٹ اور ایک غلام کے ساتھ دیوانہ وار مسلسل سفر کر کے قبلہ اول کی آزادی کے لئے دوڑ پڑے۔ مسند خلافت کو خالی چھوڑ دیا۔
    پھر باہمی چپقلش کے نتیجے میں پھر سے جب غیر مسلموں نے بیت المقدس پہ قبضہ کر لیاتو اپنی ساری حربی عمر کو بیت المقدس کی آزادی کے لئے وقف کرتے ہوئےجدوجہد کرتے کرتے عماد الدین زنگی۔ پھر نورالدین زنگی اس دنیا سے چلے گئے۔ اور زنگی کے شاگرد اور سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے مسلسل کئی سال تک جنگ کر کےگھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھ کر۔ بیت المقدس کو واپس امت مسلمہ کی جھولی میں ڈال دیا۔ اور اس کے بعد بھی تقریباً پانچ برس تک صرف اپنے حوصلے اور قلیل سپاہ کے ساتھ انگلستان۔ فرانس۔ اٹلی سمیت کئی ممالک کی افواج سے لڑتا رہا۔ بیت المقدس کو غیروں سے محفوظ رکھا۔
    جی ہاں۔
    یہ وہی بیت المقدس ہے۔ جس کو حرم شریف کا درجہ حاصل ہے۔ مکہ اور مدینہ کے بعد پورے روئے زمین پہ سب سے مقدس ترین جگہ یہی بیت المقدس ہے۔
    یہ وہی بیت المقدس ہے۔ جس پہ قبضہ کرنے کے خواب صدیوں سے یہود دیکھ رہے تھے۔ آج ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ بیت المقدس۔ یروشلم ہی وہ جگہ ہے جو اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اسرائیلی جمہوریت ناچ کرے گی۔ جہاں پرائم منسٹر ہاؤس ہو گا۔ جہاں صدارتی محل ہو گا۔ جہاں سپریم کورٹ ہو گی۔ جہاں امریکی ایمبیسی ہو گی۔
    اس اعلان کو عالمی امن کی طرف مضبوط قدم بھی کہا گیا۔
    جہاں ساٹھ۔ پینسٹھ سال سے فلسطینی مسلمان ذبح کئے جاتے رہے۔ کبھی عرب اسرائیل جنگ کے نام پہ۔ کبھی اسرائیلی مقبوضات کے نام پہ۔ کبھی ہیکل سلیمانی کے نام پہ۔ کبھی یہودیوں کے پیدائشی حق کے نام پہ۔ وہی بیت المقدس کھلم کھلا ببانگ دہل اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔
    نہ میرے کان پہ جوں رینگی نہ ہی کسی اور کو کوئی دھچکہ لگا۔ لٹ گئی فلسطینی ماں۔ پٹ گئے نہتے بچے۔ لہو رنگ اوڑھ لیا جوانوں نے۔ کہ شاید کبھی کوئی مسلمان ریاست ان کے شانہ بشانہ آ کر کھڑی ہو جائے۔ شاید۔ شاید کوئی سیدنا عمر رض کی سیرت سے کچھ سیکھ جائے۔ شاید کوئی صلاح الدین ایوبی کا دیوانہ بن جائے۔ شاید کوئی عثمانی خلافت سے قبلہ اول کی حفاظت کا سبق لے لے۔
    لیکن میرے لاڈلے بڑے۔ میرے ممالک کے سربراہ۔ میرے رہنما۔ میرے اکابرین۔ میرے سر کے تاج سبھی۔ اپنی اپنی بساطوں میں الجھے بیٹھے ہیں۔ قومی ریاستوں کی تقدیس میں مگن۔
    ہاں۔ کچھ دیوانے ہیں۔ جو تڑپ اٹھے۔ یقیناً تڑپ اٹھے ہونگے۔ شاید انہوں نے قسمیں بھی کھا لی ہوں۔ شاید وہ لائحہ عمل بھی تیار کر رہے ہیں۔ وہ ننھی ابابیلوں کا کردار ادا کرنے پہ بسر و چشم آمادہ ہیں۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔ ان کو عظیم مقصد کے حصول میں کامیاب کرے۔
    ۔
    باقی رہے ہم سب اور ہمارے اہل دانش محض مکالمہ ہی کر سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے مسائل بہت۔
    ایک سوال خود سے ضرور کیجئے گا۔ کیا مکہ یا مدینہ پہ کوئی اس طرح کا بیان داغنے کی جرات کرے تو آپ ایسے ہی ٹھنڈے جذبات کے ساتھ بیٹھے رہیں گے؟ نہیں نا۔
    تو جان لیجئے۔ مکہ۔ مدینہ۔کے بعد بیت المقدس۔ یہ تینوں جگہیں اسلام میں حرم شریف کا درجہ رکھتی ہیں۔ اپنے جذبات اور سوچ کو سلانے سے قبل بیت المقدس کا درجہ ضرور یاد کر لیجئے گا۔
    _رہے نام *اللہ* کا_

متعلقہ

Back to top button
Close