عالم اسلام

مسلم ممالک کے درمیان تنازعات!

ابراہیم جمال بٹ

جنگل کا راجا ،شیر ایک دن گہری سوچ میں تھا کہ ایک نیا حربہ کون سا استعمال کروں جس سے شکار بھی آسان ہو جائے اور کوئی مزاحمت بھی نہ کرنی پڑے۔ کچھ دیر سوچ بچار کے بعد راجا جنگل کی سیر پر نکل پڑا کہ اس نے چند گائیں دیکھیں …کیا دیکھتا کہ اُن میں آپسی تال میل اور یکجہتی ہے… شیر ان کی یہ خصوصیت دیکھ کر سوچ میں پڑا، دور ایک دوسری جگہ بیٹھ کر کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک اس کے خوفناک چہرے پر امسکراہٹ نمودار ہوئی… شیر کھڑا ہوا اور ایک آواز نکالی جس سے پورا جنگلی علاقہ لرز اٹھا…!

چند روز بعد شیر کا پھر اسی جانب سفر ہوا، لیکن اس بار شیر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے دھاڑتا ہوا چل رہا تھا…جس سے پورا جنگل کانپنے لگا… جب شیر اس جگہ پہنچا جہاں اس نے یہ رنگ برنگی گائیں دیکھی تھیں تو کیا دیکھتا ہے کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ایک دیوار کی مانند بیٹھی ہیں … شیر کو دیکھ کر اگرچہ کسی حد تک انہیں خوف ہوا لیکن شیر اپنا دوسرا چہرہ ان کے سامنے اختیار کر کے اُن سے بولا… کیا ہو رہا ہے…؟ جب کہ اس دوران ایک ایک کر کے سبھی گائیں کھسکتی جا رہی تھیں …!

 شیر نے جب یہ دیکھا تو آخری اکیلی گائے سے بولا گھبرائو مت میں تمہارے ساتھ کچھ نہیں کروں گا… مجھے تم سے بے حد ہمدردی ہے، تمہاری نسل ہی مجھے اچھی لگتی ہے… البتہ یہ جو کالے رنگ کی گائے ہے مجھے اس نسل سے ہی نفرت ہے، اور جس سے مجھے نفرت ہو اُسے میں زندہ نہیں رہنے دیتا…تم مزے کرو، تمہارے ساتھ کوئی نہیں چھیڑ سکتا… مگر خبردار !یہ میری باتیں جو میں نے تم سے کہیں کسی کو کہنا نہیں بصورت دیگر میں دوست اور دشمن میں فرق نہیں کرتا… گائے نے اپنی خیریت سمجھ کر ہاں میں ہاں بھر لی اور وہاں سے کھسک گئی… شیر یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا…!

شیر آگے بڑھ کر جب خوف کی ماری دوسرے رنگ کی گائے کے درمیان آدھمکا تو وہ ڈر کے مارے ہانپنے لگی… شیر نے اسے بھی اسی طرح تسلی دی اور اسے اس بات کا اطمینان دلایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی۔ ایک ایک کر کے سبھی گائیوں سے یہی یہی باتیں اور طریقہ اختیار کر کے جب شیر تھک گیا تو، ہنستے ہنستے شیر اپنی کھچار میں پہنچ گیا… تھکاوٹ کی وجہ سے جلد سو گیا…صبح جب نیند سے بیدار ہوا تو اس کے چہرے پر ایک بار مسکراہٹ پھر نمودار ہوئی… اپنے آپ سے مخاطب ہو کر بولا کہ اگر ان گائیوں کے درمیان کا یہ رشتۂ محبت و یکجہتی نہ ٹوٹتا تو ان پر کنٹرول حاصل کرنا ناممکن تھا… اب ایک ایک کر کے سب شکار ہو جائیں گی اور زیادہ مزاحمت بھی نہیں کرنی پڑے گی… واہ  واہ  واہ…

شیر اپنے کھچار سے باہر آیا اور سفر پر روانہ ہوا … خوفناک قدم ڈالنے کے ساتھ ساتھ شیر نے دھڑام سے اپنی خوفناک بھی آواز نکالی…پورا جنگل ہانپنے لگا، لیکن شیر تھا کہ کسی جانور کو ہاتھ بھی نہیں لگایا…!

پہلے ایک گائے کو پھر دوسری، تیسری اور اس طرح سبھی گائیں شکار ہو گئیں اس کی شکار ہو گئیں …یہ منظر دیکھ کر پہلی والی گائے کو اپنی یکجہتی یاد آگئی۔ اسے اب یہ محسوس ہو گیا کہ شیر نے کیسی چال چلی… اب نہ ہی ہماری یکجہتی رہی اور نہ ہی ہمارا نام ونشان… شیر اس کی آنکھوں سے آنسو دیکھ رہا تھا اور بولا… میں شیر ہوں … جنگل کا راجا ہوں …اور راجا دوراندیشی اور چاپلوسی اختیار نہ کرے تو کیسا راجا… ہا  ہا  ہا…!

پھر آخر میں پڑی اس غمگین اور بے سہارا گائے پر بھی جھپٹا اور مزے سے کھا گیا…!

برابر یہی صورت حال آج مسلم ممالک کی ہے… عالمی پولیس مین کا کردار ادا کرنے والے امریکہ نے ایک ایک کر کے سب ملکوں کے سربراہان کو ایک ایسا چاکلیٹ تھما دیا، جو اصل میں چاکلیٹ نہیں زہر ہے… بجائے اس کے کہ مسلم ممالک ان کے اس بظاہر ’’مدھر سندیش‘‘ کو سمجھ جاتے …وہ پے درپے اسی کی طرف لپک رہے ہیں … ایران، عراق، افغانستان، شام، سوڈان، یمن، پاکستان، اور اب سعودیہ وقطر کا تنازعہ کھڑا کراکے خود دور تماشائی بنا بیٹھا ہے… گویا اس کی وہ ساری خواہشیں جو اس نے اپنی خواب گاہ میں دیکھیں تھیں ، وہ پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ مسلم ممالک اپنی اپنی سوچ کر تباہی کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں لیکن خیال کر رہے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں …کیوں ہم ان کے اپنے ہیں جو کبھی اپنے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہمارے مسلم حکمرانوں کی اس سوچ پر وائے افسوس صد افسوس …!

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close