معصوم بچوں کو کس گناہ کی سزا دی گئی؟

1

ہلال احمد

قندوز میں دردناک حادثہ کے بعد خون میں لت پت معصوم دستاربند حفاظ کرام کی لاشیں اور بکھرے ہوئے چیتھڑے نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے، یہ معصوم بچے کہیں کے بھی ہوں آخر ان کو کس گناہ کی سزا دی گئی؟  کیا مسلمانوں کا خون پانی ہے؟  کیوں پوری دنیا اس سانحہ پر خاموش ہے؟  کیوں آوازیں بندھ گئی ہیں ؟ بولتے کیوں نہیں میرے حق میں ؟  آبلے پڑ گئے زباں میں کیا؟

 سفید لباس، سر پر عمامہ اور سفید ٹوپی میں یہ چہچہاتے معصوم نونہال چند ساعتوں میں باغ عدن کے کیاروں میں پہنچا دیئے گئے، ان کے ماؤں کو دلاسہ کون دے، باپوں کو کاندھا کون لگائے، بے سہارا اور منتظر ماؤں اور ان کی آنکھ کو روشنی کہاں سے ملے،  یہ بچے صبح گھر سے بخوشی سر پر عمامہ باندھ کر ماؤں کو بوسہ دیکر کھکھلاتی مسکراہٹ کے ساتھ جدا ہوئے ہوں گے لیکن کیا پتہ رہا ہوگا کہ یہ الوداعی تقریب میں شرکت ان کی آخری شرکت ہے اور اس تقریب کے بعد کوئی تقریب نہیں ہوگی۔۔۔۔

ماؤں کی مسکراہٹ اور خوشی کے آنسو غم کے آنسو کب بن گئے انہیں احساس تک نہیں ہوگا، ان کی پتھرائی آنکھیں اپنے سپوتوں کے انتظار میں پھڑک رہی ہوں گی، انہیں اپنی سونی گود کو دلاسہ دینے کے لیے کوئی نہیں ہوگا، مائیں اب کس کو چھاتی سے لگا کر دل کی ٹھنڈک حاصل کریں گی، بہنیں کس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خوشی کے لمحات شیئر کریں گی۔  قندوز کے اس سانحے نے جس میں سو سے زائد معصوم کو درندوں نے اپنی آہنی پنجوں کا شکار بنا لیا آخر ان کے دل کس پتھر سے بنے ہیں جو ان معصوموں پر ترس نہیں کھائے، ظالموں اور دشمنوں کو ان معصوموں سے کس چیز کا خطرہ رہا ہوگا؟  کیا قرآن کریم کی تلاوت اس کی حلاوت اور مٹھاس سے خطرہ تھا؟  آخر انسانیت کیوں گونگی بن چکی ہے۔ ان معصوموں کے حق میں نام نہاد مفکرین اور ملحدیں کیوں چپی سادھے ہوئے ہیں،  کیا ان معصوموں کی جان جان نہیں،  ان کا دل  دل نہیں تھا۔۔۔ ہر ایک کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ آخر خطا کیا ہے ان معصوموں کا؟  شاید پوری انسانیت جواب نہ دے سکے۔

الفاظ نہیں جن سے اس کربناک اور جانکاہ حادثہ کو بیان کیا جاسکے، یہ ہمارے معصوموں کی طرح اپنی ماؤں کے دل جگر تھے۔۔۔۔ کیا یہ ظالم اہنے بچوں کو ایک طمانچہ مارنے والے پر خاموش رہ سکتے ہیں ؟  بڑی امیدیں وابستہ رہی ہوں گی ماؤں کی ان معصوم حفاظ کرام سے، ساری امیدیں آرزویں اور خوشی پل بھر میں آنسو کی بوند میں تبدیل ہوگئے۔ ۔۔ سینے میں دل رکھنے والے انسان کا دل پٹ پڑا آنکھوں سے بے ساختہ آنسو اور دل سے دعائیں نکل رہی ہے۔ یہ عندلیب و بلبل اب جنت میں اڑ رہے ہوں گے۔

اے ماؤں اب میرے لیے دعا کرو میں یہاں جنت الفردوس میں خوشی خوشی تکیہ لگا کر بیٹھا قرآن سنا رہا ہوں ہم سب ایک ساتھ پڑھ رہے تھے اب یہاں جنت میں ایک دوسرے سے گلے مل باہوں میں باہیں ڈال کر مست ومگن سیر و تفریح کررہے ہیں خدا کی بنائی ہوئی جنت میں چہل قدمی کررہے ہیں،  اب ہمیں کو زک اور تکلیف نہیں پہنچا سکے گا اب ہم بالکل محفوظ ہیں،  یہاں خیریت سے ہیں آپ کی گود سے نکل کر ایک ایسی جنت میں پہنچ چکے ہیں جہاں تمام آرام کے باوجود رہ رہ کے تمہاری یاد ستاتی ہے پر کیا کروں یہاں سے واپسی ممکن نہیں اور تم سے ملنا اور تمہارے آنسو پوچھنا بس میں نہیں۔ ۔۔۔۔

بس بابا کا خیال رکھنا بہنوں کو تکلیف نہ ہونے دینا اور بھائی ہمیں یاد کریں تو انہیں دلاسہ دیکر بہلا لینا، ہم تمام حفاظ مع دستار ہرے بھرے سرسبز وشاداب فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں،  اپنا خیال رکھنا میں بہت خوش ہوں ساتھیوں نے مدرسہ میں ساتھ دیا اور آج یہاں دوڑ دھوپ اچھل کود مستی میں مگن ہیں،  اس ڈالی اس ڈالی پر چھلانگ لگا رہے ہیں آج یہاں ابو کے ڈانٹ ڈپٹ کا خوف نہیں آج گھر واپس جانے کی فکر نہیں،  یہاں نہ نیند ہے نہ خمار ہے بس موج ہی موج ہے۔ آپ اپنا خیال رکھنا میں یہاں بہت خوش وخرم ہوں۔ ۔۔۔۔ اللہ آپ کا محافظ ہو

خدا حافظ۔

تبصرے