خصوصیعالم اسلام

منزل اور حکمتِ عملی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

  کسی شخص کو کہاں پہنچنا ہے؟ اسے ‘منزل’ کہتے ہیں اور وہاں تک پہنچنے کے لیے وہ جو وسائل و ذرائع اور تدابیر اختیار کرتا ہے اسے ‘حکمتِ عملی’ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ منزل تک پہنچنا مقصود ہوتا ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے اختیار کیے جانے والے وسائل و ذرائع اصلاً مقصود نہیں ہوتے، اس لیے ان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ اگر آدمی کو ایک وسیلہ سے منزل تک پہنچنے میں کوئی دشواری ہو تو کوئی حرج نہیں کہ وہ دوسرا وسیلہ اختیار کرلے۔ اس کا اصل ہدف اس وسیلہ کا استعمال نہیں، بلکہ منزل تک رسائی ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ منزل ہر وقت اس کی نگاہوں کے سامنے ہو، ہر لمحے اس پر واضح رہے کہ اسے پہنچنا کہاں ہے؟  وہ آزاد ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے جو راستہ چاہے اختیار کرے، ایک راستے میں کوئی رکاوٹ ہو تو دوسرے راستے پر چلے، ایک تدبیر ناکام ہو تو دوسری تدبیر اپنالے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو دہلی سے لکھنؤ پہنچنا ہے تو وہ اس کے لیے حسبِ سہولت کوئی راستہ اور کوئی ذریعہ اختیار کرے گا۔ وہ اسٹیشن پہنچے اور معلوم ہو کہ ٹرین کینسل ہوگئی ہے تو بس کے ذریعے سفر کرنے کو سوچے گا۔ اگر کسی فوری ضرورت سے وہاں جلدی پہنچنا ہو تو فلائٹ کے ذریعے جانے کی کوشش کرے گا۔ اگر حکومت نے وہاں داخلہ پر پابندی عائد کردی ہے، جیسا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر ہوتا ہے، اور وہاں پہنچنا مصلحت کا تقاضا ہو تو وہ اپنی شخصیت کو خفیہ رکھ کر وہاں پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ گویا لکھنؤ اس کی منزل ہے اور جس ذریعے سے بھی وہ وہاں پہنچ سکے اسے اختیار کرنے میں وہ آزاد ہے۔

 انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ وہ اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچائیں، انھیں شرک اور بت پرستی سے بچائیں، اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیں، انسانوں کو انہی جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائیں، ظالموں کو ان کے ظلم سے اور سرکشوں کو ان کی سرکشی سے روکیں اور سماج میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو :

 لَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡمِيۡزَانَ لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ‌ۚ(الحدید:25)

 ” ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ "

  تمام انبیاء نے یہ کام انجام دیا۔ ان کا مقصدِ بعثت ایک تھا، ان کا ہدف ایک تھا، ان کی منزلِ مقصود ایک تھی۔ لیکن اس کے لیے انھوں نے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم ستارہ پرستی اور بت پرستی میں مبتلا تھی۔ انھوں نے بڑی حکمت کے ساتھ اس سے ‘مُحاجّہ’ کرکے ستارہ، چاند اور سورج کے ‘معبود’ نہ ہوسکنے اور کسی قادرِ مطلق ہستی کا پابند ہونے کو ثابت کیا۔ اسی طرح انھوں نے بتوں کی بے حیثیتی واضح کرنے کے لیے بت خانے کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔ اس طرح وہ یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ جو خود کو نہیں بچا سکتے وہ دوسروں کی حفاظت کیا کرسکتے ہیں؟! یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک حکمت عملی تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قوم سے مناظرہ و مباحثہ کرنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے جو حضرت ابراہیم نے اختیار کیا اور بتوں کی بے حیثیتی واضح کرنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے بتوں کو توڑنا۔ جب بھی کسی کو بتوں کی بے حیثیتی واضح کرنی ہو، ضروری ہے کہ وہ بتوں کو توڑے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا وسیلہ اختیار کرنا اس کے لیے درست نہیں ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام نے ایک وسیع اور عظیم الشان سلطنت چلائی اور اس کے ذریعے اللہ کا حکم اس کے بندوں میں نافذ کیا اور ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت و سلطنت کا قیام مقصودِ اصلی ہے، بلکہ یہ مقصودِ اصلی (اللہ کی حکم رانی) کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کی حیثیت ایک ذریعہ سے بڑھ کر نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، جو سیکڑوں برس غلامی کی زندگی گزار چکے تھے۔ فرعون اور اس کے کارندے اور پوری قبطی قوم ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سوچا کہ جب تک یہ مصر میں رہیں گے، صدیوں کی غلامی کے اثرات سے نجات نہیں پاسکتے۔ اس لیے انھوں نے جہاں فرعون کو توحید کی دعوت دی اور اسے انسانوں پر ظلم ڈھانے سے روکا وہیں یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو مصر سے جانے دے اور ان کی ہجرت کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہجرت راہِ دعوت کا لازمی پڑاؤ ہے، اس کے بغیر دعوت کی تکمیل نہیں ہوسکتی اور جب بھی کوئی دعوت پیش کی جائے گی تو اس پر ایمان لانے والوں کو ایک مرحلے میں لازماً اپنے وطن سے ہجرت کرنی پڑے گی۔

  اسلام کی پوری تاریخ میں تجدید و احیائے دین کا کام انجام دینے والوں نے اسلام کی اشاعت اور غلبے کو اپنا نصب العین بنایا  اور اپنے زمانے کے حالات کا تجزیہ کرکے ان کے مناسب حکمتِ عملی اختیار کی۔ کبھی انہیں کام یابی ملی اور کبھی ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابن تیمیہ، امام عزّ بن عبد السلام، امام احمد بن عبد الأحد سرہندی (مجدّد الف ثانی)، امام احمد بن عرفان (سید احمد شہید)، غرض مجدّدین و مصلحین کی ایک کہکشاں ہے۔ دین کی تبلیغ و اشاعت، اسلام کی حفاظت اور غلبہ ان میں سے ہر ایک کا ہدف، منزل اور مقصود تھا۔ اس کے حصول کے لیے ہر ایک نے وہ حکمتِ عملی اختیار کی جو اسے بہتر لگی۔ مثال کے طور پر امام ابن تیمیہ نے تصنیف و تالیف کے ساتھ تلوار بھی اٹھائی اور جہاد میں عملاً حصہ لیا، جب کہ امام سرہندی نے خاموش تبلیغ اور اصلاح کی راہ اپنائی اور مغل حکم راں جہاں گیر کے درباریوں اور حکومتی کارپردازوں کو خفیہ طریقے سے خطوط لکھ شہنشاہ اکبر کی بے دینی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ اب کسی کے لیے یہ فیصلہ کرنا مناسب نہ ہوگا کہ ابن تیمیہ یا سرہندی کا فارمولہ ہر سماج اور ہر طرح کے ماحول میں کارگر ہے، کہیں بھی اس کو ‘اپلائی’ کیا جا سکتا اور اس کے فوائد و ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    موجودہ دور میں حکمت عملی کی بہترین مثال ہمیں ترکی کے ماحول اور معاشرے میں ملتی ہے۔ ترکی مسلم اکثریتی ملک ہے۔ وہاں صدیوں تک مسلمانوں کی حکم رانی اور اسلام کا بول بالا رہا ہے۔ لیکن 1924 میں جب خلافت کا الغاء ہوا اور مصطفیٰ کمال پاشا نے زمامِ حکومت سنبھالی تو اس نے سیکولرازم کو بہ جبر نافذ کیا، اسلامی شعائر پر پابندی عائد کردی، مسجدوں کو میوزیم اور اصطبل میں تبدیل کردیا، ترکی زبان کو عربی رسم الخط سے لاتینی رسم الخط میں تبدیل کردیا، دینی تعلیم کے ابتدائی مکاتب بند کردیے، اذان پر پابندی عائد کردی، یہاں تک کہ ترکی ٹوپی پہننا بھی جرم قرار دیا۔ الغرض اس نے اسلام کو دیس نکالا دیا اور مسلم ملک میں اسلامی شعائر اجنبی قرار پائے۔ اس صورت حال میں جن علماء نے ترکی میں اسلام کے تحفظ و بقا کے لیے کوشش کی ان میں شیخ بدیع الزماں سعید نورسی کی خدمات زرّیں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ انھوں نے سیاست کے میدان سے شعوری طور پر گریز کیا اور خاموش تبلیغ اور دعوت کی راہ اختیار کی۔ مختلف دینی موضوعات پر رسائل تصنیف کیے، جو ‘رسائل النور’ کے نام سے مشہور ہوئے اور انھیں بہت بڑے پیمانے پر پورے ملک میں پھیلایا۔ ان کی کوششوں کے غیر معمولی اثرات مرتّب ہوئے، ترکی سے اسلام کو کھرچ کھرچ کر پھینک دینے کی کوشش کرنے والے ناکام و نامراد ہوئے اور عوام کے دلوں میں اسلام کی آبیاری ہوتی رہی۔ یہ شیخ سعید نورسی کی کام یاب حکمت عملی تھی، لیکن اسے حکمت عملی کے دائرے ہی میں رکھنا درست ہوگا۔ یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ ہر ملک اور ہر سماج میں اسلام کی خاموش تبلیغ ہی مطلوب اور کارگر ہے اور علانیہ دعوت و تبلیغ سے فائدہ سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ بلکہ کسی دوسرے ملک میں وہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس سے مختلف حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔

موجودہ ترکی میں حکمت عملی کے تعلق سے ہمیں دو نمونے ملتے ہیں : ایک پروفیسر نجم الدین اربکان کا اور دوسرا ان کے جانشین رجب طیب اردوان کا۔ اربکان نے اسلام کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کی۔ سیاسی پارٹی تشکیل دے کر انتخابات میں حصہ لیا، لیکن ان کی راہ میں بار بار رکاوٹ ڈالی گئی۔ ان کی ایک پارٹی پر پابندی عائد کی گئی تو انھوں نے دوسری پارٹی بنالی، دوسری پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تو تیسری پارٹی تشکیل دے دی، انھوں نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت کی تشکیل کی تو اسے کالعدم قرار دیا گیا اور فوج قابض ہوگیی، یہاں تک کہ اربکان پر تاحیات سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس کے مقابلے میں اردوان نے سوچا کہ موجودہ ترکی میں ابھی اسلام کا نام لے کر سیاست کام یاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے انھوں نے زبان سے تو سیکولرازم ہی کا نام لیا، لیکن اقدامات برابر ایسے کرتے رہے جن سے اسلام اور مسلمانوں پر سے بے جا پابندیاں ختم ہوں، اسلامی شعائر پر علی الإعلان عمل کیا جا سکے، دینی تعلیم کو فروغ ملے اور مسلمان عزّت اور وقار کے ساتھ جی سکیں۔ اربکان اور اردوان دونوں کی سرگرمیوں کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید ترکی میں اربکان کی سیاست ناکام رہی اور اردوان کی سیاست کام یاب ہے۔ لیکن اسے قاعدۂ کلّیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر ملک اور ہر سماج میں اردوان کا فارمولہ ہی قابل عمل اور کام یابی کی ضمانت ہے۔ ہر ملک کے حالات مختلف ہیں۔ وہاں کے اسلام پسندوں کی ذمے داری ہے کہ وہاں کے حالات، وہاں کے باشندوں کی نفسیات، وہاں ممکنہ پیش آنے والی رکاوٹوں اور وہاں حاصل ہو سکنے والی سہولیات کا جائزہ لیں اور ان کو سامنے رکھ کر اپنی دعوتی حکمت عملی ترتیب دیں۔

جن ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، یا وہاں وہ قابلِ لحاظ تعداد میں رہتے ہیں، جہاں اسلام کا نام لینا جرم نہیں، بلکہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے، وہاں کے بارے میں بھی نورسی یا اردوانی حکمت عملی کو پسندیدہ، مطلوب اور ثمر آور قرار دینا درست نہیں۔ ایک حکمت عملی اگر کسی ملک میں کام یاب ہوئی ہو تو ضروری نہیں کہ دوسرے ملک میں بھی اسے کام یابی ملے، یا دوسرے ملک میں اسے اختیار کرنا ضروری ہو۔ حکمت عملی بدل سکتی ہے۔ بس ضروری ہے کہ ہدف متعین ہو، منزل نگاہوں کے سامنے ہو اور نصب العین واضح ہو۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

قدم چوم لیتی ہے خود بڑھ کے منزل

مسافر اگر اپنی ہمّت نہ ہارے  

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close