عالم اسلام

نام و نہاد اتحاد کے لیے اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے 

احساس نایاب

بہت ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری  قوم  لاوارث ہوچکی ہے، چند بے حس، بزدل، کمزوراور مفاد پرست لوگوں کی وجہ سے، جنہیں ہم اپنا قائد اور رہنماء مانتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا اسے ہم ان کی لاپرواہی یا کوتاہی کہیں یا اپنی حرماں نصیبی؟؟؟جو ہزاروں، لاکھوں علماء، رہنماء اوردانشوران کے ہوتے ہوئے آج ہماری قوم کو دنیا کے آگے اپنی مظلومیت کا رونا رونا پڑرہا ہے، ہمیشہ اوروں کی مدد کی خاطر اٹھنے والے ہمارے ہاتھوں کو آج خود اپنا حق مانگنے کے لئے دشمن کے آگے پھیلانا پڑرہا ہے،  جیسے کہ ہم اپنا حق نہیں بھیک مانگ رہے ہوں، اور سرحد پہ آئے دن اپنے جانباز نوجوانوں کی شہادت کے باوجود ہمیں اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑرہا ہے۔ آئے دن بے زبان جانوروں کے نام پہ معصوم انسان موت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، بےگناہ ہونے کے باوجود اپنی زندگی کے طویل اور قیمتی لمحات کو بےبنیاد الزامات کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے َگذارنا پڑرہا ہے اور انصاف کے لئے غیروں کی چوکھٹوں پہ گھٹنے ٹیکتے ہوئے ناک رگڑنی پڑرہی ہے۔

دراصل ان حالات کی وجہ ہمارے چند ضمیر فروش، ایمان فروش قائدین اور چند اہل جبہ، عمامہ ودستار والے ہیں , جنہیں نہ اپنے سر پہ پہنی ٹوپی کی پرواہ ہے، نہ چہرے پہ سجی داڑھی کی عزت، یہ تو بس اسلامی لباس پہنے اپنے مفاد کے لئے سیاستدانوں کے آگے پیچھے دم ہلاتے ہوئے چاپلوسی کررہے ہیں، تاکہ قوم کے نام پہ خود کے لئے چند سکے خیرات میں حاصل کرسکیں، اور کل تک جن شخصیات پہ قوم کو ناز ہوا کرتا تھا، جن کی موجودگی سے امت مسلمہ فخر محسوس کیا کرتی تھی، آج ان کی حرکتیں دیکھ کر قوم کا سر شرم سے جھک چکا ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ جس طرح سے یوگا ڈے پہ ایک عورت کی سربراہی میں اہل جبہ ودستار کو کمر ہلاتے دیکھا ہے استغفراللہ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ یوگا جیسے شرکیہ عمل کو اسلامی شعار میں شامل کرکے ہی دم لیں گے اور ان فتنہ بازوں کی وجہ سے دشمن اپنے مقصد میں پوری طرح سے کامیاب ہوچکے ہیں جس کی جیتی جاگتی مثال چند نام نہاد علماء ہیں جو اسلام دشمنوں کے اشاروں پہ کٹھ پتلی کی طرح ٹھمک رہے تھے، اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں، اللہ کے احکامات سب کچھ بھلا کر آنکھوں پہ ذاتی مفادات کا چشمہ لگائے انہیں یہ تک نظر نہیں آرہا تھا کہ ملک بھر میں کس طرح ہمارے نوجوانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

وہیں دوسری طرف نام نہاد اتحاد کے نام پہ رمضان میں افطار پارٹیاں عروج پر تھیں اور اب عید ملن کے نام پر قوم و ملت کی گاڑھی کمائی کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، کیا ہمارے مؤقر علماء کی ذمہ داریاں صرف جلسے جلوس، کانفرنس، سیمینار اور اس طرح کے غیر ضروری پروگرامس تک ہی محدود ہوچکی ہیں اور نام نہاد اتحاد کے نام پہ یکطرفہ طور پر غیروں کی جی حضوری کرنا آخر یہ کہاں تک ضروری ہے ؟ کیا حکمت مصلحت میں صرف یہی رہ گیا ہے ؟؟

 مانا کہ ملک میں قومی ایکتا اور اتحاد کے لئے کچھ چیزیں بے حد ضروری ہیں، لیکن کیا قومی یکجہتی اور اتحاد کے لئے تمام تر قربانیاں صرف مسلمان ہی دیتے رہیں گے , اس طرح سے اتحاد کا مظاہرہ وہ بھی تو کرسکتے ہیں، آخر قومی یکجہتی کی کوششیں صرف مسلمان ہی کیوں کرتے ہیں؟ کبھی ان کی طرف سے بھی تو یہ کوششیں ہوں، یکطرفہ اتحاد اور قومی یکجہتی کتنا مفید ثابت ہوگا؟ سوچنے والی بات ہے کہ جس طرح اتحاد کے نام پہ مسلمان ان کے مذہبی تہوار میں شرکت کر کے شرکیہ اعمال انجام دے رہے ہیں ویسے ہی کبھی وہ بھی تو آگے آئیں اور ہمارے ساتھ عید بقرعید کی نماز ادا کرتے ہوئے ہمارے مذہبی اعمال میں شرکت کریں تاکہ معاملہ دونوں طرف سے برابر والا ہو، لیکن نہیں یہاں پہ تو ہر بار ہمیں ہی اس طرح کے اعمال کرنے پڑتے ہیں، کبھی مندر کی صفائی کے لئے جھاڑو لیکر نکلتے ہیں تو کبھی کسی شری شری کے ساتھ مل کر اللہ کے گھر کو غیروں کے ہاتھوں سونپنے کی بات کہہ ڈالتے ہیں ، شاید ہمیں اللہ  پہ بھروسہ نہیں رہا، شاید ہمارا ایمان مضبوط نہیں رہا، شاید ہمیں اپنی طاقت پہ یقین نہیں رہا!!

کیونکہ اتحاد کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کے شرکیہ اعمال کو انجام دیں، بلکہ اصل اتحاد تو یہ ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ اتحاد کا پرچم لہرائیں کیونکہ یہی ہمارا دستور کہتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے من مطابق کھانے،  پہننے، جینے اور اپنے مذہبی تہوار منانے کی پوری آزادی ہے، یہ ہر ہندوستانی کا بنیادی حق ہے جسے دستور نے اسے دیا ہے اور کسی فرد یا تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو ان چیزوں سے روک سکے۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ موجودہ حالات میں نہ تو کسی انسان کو کھانے کی آزادی ہے نہ پہناوے کی، نہ ہی مذہبی عبادات کو انجام دینے کی!!!

ذرا سوچیں! ان حالات میں ہمارے قائدین، اہل جبہ و دستار عید ملن اور یوگا  جیسے پروگرامس میں ان لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے گل پوشی اور شال پوشی کرکے کون سی اتحاد کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں؟ اگر سچ میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے تو اور بھی کئی طریقے ہوسکتے ہیں، اسٹیجس سجانا اور یوگا جیسی شرکیہ اعمال میں عورت کی تال پہ کمر ہلانا ہی ضروری نہیں تھا۔۔۔۔۔

اللہ نہ کریں ان کا دیکھا دیکھی کل کو ہماری نوجوان نسل غیر مذاہب کے رسومات کو انجام دینے لگ جائیں، غیر مذاہب میں رشتے استوار کرنے لگ جائیں، جس طرح مغربی تہذیب میں آج ساری دنیا رنگ چکی ہے اور ہمارے قائدین، اہل جبہ و دستار کے اندر جو ڈر ہے وہ ڈر ہماری نسلوں کے اندر نہ آجائے اور جس طرح آج اہل جبہ و دستار یوگا پہ ٹھمکے لگارہے ہیں کل کو بھرتناٹیم یا کسی اور چیز پہ تھرکنے لگ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ابھی جو نظروں کے آگے سے گذر رہا ہے اسے دیکھنے کے بعد کچھ بھی ناممکن نہیں لگ رہا، جب اہل جبہ و دستار سب کچھ جانتے بوجھتے ایسی حرکتیں کرسکتے ہیں تو آج کل کے نوجوان جو دین سے دور ہیں وہ انجانے میں کیا کچھ نہیں کرسکتے، ویسے ابھی تو ماڈل کی طرح پیش ہوچکے ہیں اور آپ کو دیکھ کر آپ کے نقش قدم پہ کوئی نہ کوئی چلنے کی کوشش ضرور کریں گے۔۔

ذرا سوچیں! آخر کب تک ہم اس طرح ڈر کر دوسروں کے اشاروں پر ناچیں گے اور دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی گذاریں گے، ہمارے آباو اجداد نے تو کبھی ہمیں ایسی زندگی گذارنے کی سیکھ نہیں دی، تو آج ہم کیوں اپنی نسلوں کو ایسی زندگی کا آئینہ دکھا رہے ہیں۔

جن اہل علم کے مضبوط کندھوں پہ امت کی قیادت اور صحیح رہنمائی کی ذمہ داری ہے آج وہ کندھے کیوں اتنے کمزور ہوچکے ہیں؟ صحیح رہنمائی کرنے والوں کے قدم کیوں لڑکھڑا رہے ہیں ؟؟؟ جو خود بھٹک رہے ہیں وہ کیا کسی کو راہِ راست پہ لائیں گے؟

افسوس صد افسوس کہ جو اہل جبہ و دستار اسلام مخالف شرکیہ عمل یوگا کے نام پہ تھرک رہے ہیں، اتحاد کے نام پہ اوروں کی زبان میں منمنارہے ہیں، آخر وہ یہ کیوں بھول چکے ہیں کہ انہیں تو قوم کی خاطر دشمن کے آگے چنگھاڑنا ہے۔

 ناجانے ہمارے رہنماؤں کے حوصلے اتنے پست کیوں ہوچکے ہیں جو یہ اللہ کے گھر کا سودا کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔

 آخر انہوں نے ہمارے بزرگانِ دین کی شجاعت، دلیری اور بہادری کو کیوں فراموش کر دیا ہے؟

ان کا مقصد تو بس اتحاد کے نام پہ اپنا الو سیدھا کرنے تک ہی محدود رہ گیا ہے، شاید ایسے چند نام نہاد علماء کی وجہ سے آج ہماری قوم بدحال ہو چکی ہے، اور ذلت و پستی کے غار میں گر چکی ہے۔ اور ایسے نام نہاد علماء کی وجہ سے ہمارے حق پرست، نیک، دیندار علماء اور دانشوران بدنام ہورہے ہیں، جبکہ ہمارے سچے علماء کے لئے ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور ہمیں اپنے ایسے سچے حق گو بیباک علماء پہ ناز ہے، جنہیں نہ بھیک میں ملی دولت اور نہ ہی ذلت والی زندگی قبول ہے اور نہ ہی رسوائی کی موت منظور ہے، اور ہمیں اپنے ایسے علماء پہ پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ ایسے فرضی، فریبی اور مفاد پرست نام نہاد علماء کے فتنہ اور شر سے امتِ مسلمہ کو بچائینگے۔۔۔۔!

مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close