عالم اسلام

پھر ایک بڑے محاذ کی ضرورت ہے!

وصیل خان

ہلاکو خان سے کسی نے پوچھا کہ تم نے زندگی میں کبھی کسی پر رحم بھی کیا ہے ا س نے کہا کیوں نہیں میں بھی انسان ہوں، نیلے جاودانی آسمان کی قسم رحم کا جذبہ میرے بھی دل میں ہے ایک بارمیں کسی پہاڑی راستے سے گزررہا تھا ایک عورت کا بچہ نیچے کھائی میں گرگیا وہ رورہی تھی اس نے مددکی درخواست کی میرے اندرکا انسان جاگ اٹھا اور مجھ میں رحم کا جذبہ امڈآیا میں نے اپنے نیزے سے بچے کو اٹھالیا اور اس عورت کے حوالے کردیا۔ معلوم نہیں کہ یہ واقعہ افسانہ ہے یا حقیقت لیکن اس واقعے سے ایک حقیقت اس وقت خوب واضح ہوگئی جب یہ خبریں اخبارات کی زینت بنیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کرلیاہے جس سے پوری دنیا کے مسلمان اور امن پسند انسانوں میں ایک شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور ہر جگہ بڑے پیمانے پر احتجاجات ہورہے ہیں۔

ایسے میں ہندوستان کا اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹنگ کرنا ایک مثبت اور انتہائی خوشگوار اور منصفانہ قدم کہا جاسکتا ہے جو بلاشبہ ایک لائق تحسین عمل ہے جو اس بات کابھی غمازہے کہ ہندوستان فلسطین کے اس کاز کی نہ صرف مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ وہ آج بھی اپنے اسی موقف پر قائم ہے جو وہاں برسہا برس سے اسرائیل او ر امریکی مظالم کے خلاف فلسطینی عوام کی طرف سے جاری ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی مملکت کا قیام ایک صریح دھوکے بازی اور انتہائی قابل مذمت غاصبانہ عمل ہےاور برطانیہ و امریکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس کے پشتی بان بنے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ تو بہت پرانا قصہ ہے جس پر پانچ دہائیاں گزرچکی ہیں لیکن مبنی برحق فیصلہ ابھی بھی آنکھوں سے اوجھل ہے اور امن پسندوں کی ایک بڑی تعداد مایوس ہے کہ فلسطینیوں کو کیاانصاف مل پائے گا اور ان کی سرزمین سے اسرائیل کا ناپاک وجود ختم بھی ہوگا یا نہیں۔

خیر بات چل رہی تھی ہندوستانی موقف کی ہم دیکھ رہے ہیں کہ کئی دنوں سے اخبارات میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی سرکار کی خوب خوب ستائش ہورہی ہے اور ملک کے کونے کونےسے لال بجھکڑوں اور نام نہاد خودساختہ رہنماؤں کے باتصویر ستائشی بیانات شائع ہورہے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو صرف موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں اور جہاں جب بھی انہیں موقع ملتا ہےاپنے بیانات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری کردیتے ہیں اور اس کی آڑ میں وہ کس طرح اپنامنافع بخش کاروبار چلاتے ہیں جو اب کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ موجودہ سرکار ایک طویل عرصے سے غیر جمہوری عمل میں مصروف ہے جس نے اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کیلئے عرصہ ٔ حیات تنگ کررکھا ہے۔ گئو کشی کے نام پر درجنوں بہیمانہ قتل اور اب تین طلاق کو لے کر جس طرح قانون سازی کیلئے پیش قدمی کی جارہی ہے اس عمل نے جمہوریت پسند عوام کیلئے سخت مایوسی کے مقام پر پہنچادیا ہے۔ نکاح و طلاق ایک خالص مذہبی معاملہ ہے جو مسلم پرسنل لاکے دائرہ ٔ عمل میں آتا ہے ہر مذہب کے اپنے اپنے اصول و ضابطے ہوتے ہیں جن پر پوری طرح عمل کی انہیں آزادی ہے اور یہ آزادی تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۵کے تحت آئین نے انہیں دی ہے جس کی رو سے ہر مذہب کے پیروکار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے اپنی مرضی سے کسی مذہب کو اختیار کرسکتا ہے نہ اس پر کوئی جبر کیا جاسکتا ہے نہ ہی کوئی دباؤ ڈالاجاسکتا ہے۔ لیکن حکومت کا اس معاملے میں حد سے زیادہ دلچسپی لینے کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ اسے اسلام اور اس کے پیروکاروں سے ایک خاص قسم کی الرجی ہے جو کسی جمہوری ملک کیلئے مناسب نہیں۔

اسی طرح بابری مسجد کا معاملہ جو برسوں سے دو فرقوں کے مابین افتراق و انتشار کا زہر گھول رہا ہے اورفیصلے کی تاخیرنےجس کی شدت کو مزید گہرا کردیا ہے۔ فرقہ پرست جماعتیں اسے اپنا  انتخابی ایشو بنائے ہوئے ہیں اور الیکشن کے موقع پر اس کا کھل کر فائدہ اٹھاتی ہیں لیکن ان پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی جبکہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ قضیہ جو دو فرقوں میں منافرت اور دوری پیدا کرے انتخاب کے دوران اس کے ذکر تک پر بھی پابندی لگنی چاہیئےلیکن ایسا نہیں ہورہا ہے ہاں اس بات کا ضرورخیال رکھا جاتا ہے کہ مسلم جماعتیں اس تعلق سے کچھ نہ بولیں یہاں تک کہ وہ اگر انصاف کا مطالبہ کریں تب بھی انہیں مجرمین و ملزمین کی صف میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔ حالیہ تناظر میں اقوام متحدہ میں  ووٹنگ کا معاملہ ہلاکو خاں کی ہی رحمدلی جیسا دکھائی دیتا ہے۔

گذشتہ دنوں لالو پرساد یادو چارہ گھوٹالے معاملے میں جیل بھیج دیئے گئے۔ گھوٹالےاور اس سے بھی بڑھ کے سنگین ترین جرم کرنے والے گھوم رہے ہیں انہیں آج تک کوئی سزا نہ دی جاسکی سزا کا یہ دہرا معیار یہاں برسوں سے جاری ہے سچ یہ ہے کہ لالوان دنوں سے نشانے پر تھے جب انہوں نے بہار میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا روکی تھی اور کبھی بھی انہوں نے فرقہ پرست جماعتوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا لیکن جاتے جاتے وہ ایک اہم اعلان کرگئے کہ فرقہ پرستوں کے خلاف ان کی لڑائی جاری رہے گی اور سماجی انصاف کیلئے وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے۔ دراصل فرقہ پرستی کے خلاف جنگ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور خوش قسمتی سے اس کے لئے ماحول سازگار ہوتا جارہا ہے۔ گجرات کے الیکشن میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے جس پختہ شعور اور بالغ نظری کا ثبوت دیا وہ اپنی مثال آپ ہے یہ الگ بات ہے کہ الیکشن میں کانگریس کی ہار ہوئی لیکن راہل گاندھی کسی مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے بغیر جس طرح مودی اور امیت شاہ جیسے گھاگ سیاستدانوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے اس نے نہ صرف لوگو ں کے دل جیت لئے ہیں بلکہ کانگریس کی بگڑی ہوئی وہ ساکھ بھی قدرے بحال ہوئی ہے جو کانگریسی لیڈران کی غیر دانشمندانہ اور مایوس کن کارکردگی کے سبب بے حد خراب ہوگئی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو تسلیم کرلیا ہے۔

بہرحال گجرات کے الیکشن سے بی جے پی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے جو سیکولر جماعتوں کیلئے ایک خوشگوار مستقبل کا  اعلانیہ ہے جس کا فائدہ سیکولر لیڈران اپنی حکمت عملی کے مثبت استعمال اور ایک عظیم اتحاد کے ذریعے پوری طرح اٹھا سکتے ہیں، ایک ایسا اتحاد جو ایمر جنسی کے بعد جے پرکاش نرائن کی قیادت میں طوفان بن کر اٹھا تھا جس نےکانگریس کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا تھا۔ آج ایک بار پھر اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ راہل گاندھی اور لالو یادو جیسے دیگر سیکولر لیڈران میں بلا شبہ اس قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔ ایسے پرآشوب ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے کہ مسلم لیڈر شپ بھی اپنے سابقہ عمل اور رد عمل پر نظر ثانی کرے اور سرجوڑ کر اس ناکامی کا سبب تلاش کرے جو مسلسل اس کا مقدر بنی ہوئی ہے۔وہ بھی اس اتحاد کا حصہ بنے کیونکہ آج اس اتحاد کی جتنی ضرورت ہے شاید اس سے قبل کبھی نہیں تھی۔

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close