عالم اسلاممذہبی مضامین

پیغام کربلا کو سمجھنا، وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

یوم عاشورہ کے دن روزہ رکھنا، اہل بیت اطہار سے محبت کا اظہار کرنا، قرآن خوانی کی محافل سجانا، نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول کی علمی و روحانی فیضان کا تذکرہ کرنا، ایصال ثواب کے لیے سبط رسولؐ اور دیگر شہدائے کربلا کے نام پر غریبوں، محتاجوں، بیوائوں، مریضوں، مفلسوں، یتیموں، بے سہارا لوگوں کی ضیافت کرنا، پیاسوں کو پانی و شربت پلانا، صدقہ و خیرات کرنا، یاد حسین ؓ کی مجالس کا اہتمام کرنا، بارگاہ حسینی ؓ میں منثور و منظوم خراج عقیدت پیش کرنا، سید الشہداء کے غم میں آنسو بہانا وغیرہ یقینا نہ صرف صدہزار لائق تحسین ہے بلکہ باعث اجر و ثواب اور اخروی نجات کا ذریعہ و ضامن بھی ہے لیکن واقعہ کربلا کے عظیم پیغام کو انہی امور تک محدود رکھنا اور سمجھنا امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسینؓ کی عظیم قربانی کی توہین کرنے کے مترادف ہے جس طرح قرآن حکیم کو جزدان میں لپیٹ کر اونچے مقام پر رکھنا قرآن مجید کا احترام نہیں بلکہ اس کلام مقدس کی توہین ہے چونکہ یہ کتاب عظیم کتاب عمل ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہماری زندگی کے ہر لمحہ قرآن مجیدکی تعلیمات کا آئینہ دار ہو جو تلاوت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح واقعہ کربلا کی یاد میں چند مخصوص اعمال بجالانے کی بجائے ہمیں چاہیے کہ پیغام واقعہ کربلا کی عملی حیثیت و حقیقت کو خود بھی سمجھیں اور اپنے اہل و عیال، عزیز و اقارب، امت مسلمہ کے ہر فرد کو اور اغیار کو بھی سمجھانے کی حتی الوسع کوشش کریں۔

واقعہ کربلا مرتی ہوئی انسانیت کو عزت کے ساتھ جینے اور وقار کے ساتھ مرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ واقعہ کربلا کا مقصد حصول اقتدار نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد وحید اصلاح معاشرہ تھا جو بغیر عمل کے ممکن نہیں۔ واقعہ کربلا میں کئی ایک پیغامات پنہاں ہیں جس کو سمجھنا اور عملی طور پر اپنانا وقت کا تقاضہ بھی ہے اور اہم ضرورت بھی چونکہ تاریخ انسانی شاہد ہے کہ اسی قوم کی عظمتوں کو دنیا نے مانا ہے جس کے گفتار و کردار میں ہم آہنگی ہو اور اس قوم کی تاریخ کو حرف غلط کی طرح مٹاکر رکھ دیا گیا جو بلا عمل باتیں کرنے میں ماہر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے واقعہ کربلا کی حقانیت کے اظہار میں مزید اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے چونکہ قافلہ حسینیؓ کے ہر فرد نے کئی رکاوٹوں کے باوجود قول و عمل میں کوئی فرق آنے نہیں دیا۔ بلا لحاظ مذہب و ملت ہر کوئی اس واقعہ کا گرویدہ ہے۔

یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ واقعہ کربلا سے جو پیغامات ہمیں ملتے ہیں اس پر صدق دل، حسن نیت اور عزم راسخ کے ساتھ عمل پیرا ہوجائیں جو حضرت سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ واقعہ کربلا کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالی ہر اس بندے کو آزماتا ہے جو صاحب ایمان ہونے کا دعوی کرتا ہے جو خالق کونین کی دائمی و جاودانی سنت ہے تاکہ بندے کی نیت اور اس کی نفسانی کیفیت، سرشت اور طینت لو گوں پر ظاہر ہوجائے۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ترجمہ: ’’کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہیں ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا ‘‘ (سورۃ العنکبوت آیت 2)

اس آیت پاک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان اور امتحان لازم و ملز ول ہے۔ اس ابتلا و آزمائش سے کسی صاحب ایمان کو مفر نہیں بلکہ ہر مومن کو اس میدان سے گزرنا پڑتا ہے جس کے عوض اللہ تعالی اس بندہ مومن کو اعلی و ارفع مقام و مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ کے ہاں بندے کے لیے ایک مرتبہ مقرر ہوتا ہے جہاں تک وہ اپنے عمل کی بدولت نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالی اسے آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اسے اس مرتبے تک پہنچا دے‘‘ (ابن حبان )  ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں ہونے والا ہجومی تشدد، گائے کے نام پر قتل، گھر واپسی کا شوشہ، شریعت میں مداخلت کرنے کی باتیں، اسلام اور ہر روز مسلم دشمنی میں چلائے جانے والے متعصب قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی نشریات و اشاعت جیسے واقعات سب اسی آزمائش و امتحان کی ایک شکل ہے۔ ایسے حالات میں واقعہ کربلا کا پیغام ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کا اثر قبول نہ کریں بلکہ پورے عزم و استقلال کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں اسی میں دائمی کامیابی مضمر ہے۔

واقعہ کربلا کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ مومن اپنے اندر استقامت پیدا کرے چونکہ صاحب ایمان کو باطل طاقتوں کی جانب سے ہر وقت دولت و ثروت اور مادی وسائل کے عوض ایمان فروخت کرنے کی پیشکش کا شدید امتحان درپیش رہتا ہے اگر بالفرض محال ہم نے دنیوی لذات و شہوات کے حصول کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کرلیا تو دنیا و آخرت دونوں ہی تباہ و تاراج ہوجائیں گے۔ حضرت سیدنا اما م حسینؓ نے اپنے خانوادے اور ساتھیوں کو قربان ہوتے ہوئے دیکھنا برداشت کیا لیکن لمحہ بالبصر کے لیے بھی اسلامی تعلیمات کو فراموش کرنا گوارا نہ کیا۔ صدحیف کہ وہ قوم جو حضرت سیدنا امام حسینؓ سے محبت کرنے کا دعویٰ تو ضرور کرتی ہے لیکن یزیدی کردار پر عمل پیرا ہے۔ آج ہم اپنی خوشیوں کے لیے رشوت دے بھی رہے ہیں اور لے بھی رہے ہیں، ہم نفسانی خواہشات اور دنیوی مفادات کی خاطر ایمان کو بھی ضائع کرر ہے ہیں۔ کیا یہی واقعہ کربلا کا پیغام تھا ؟ یزیدی لشکر کا کوئی دائو قافلہ حسینیؓ کے کسی فرد کے پائے استقلال میں رمق برابرجبنش بھی پیدا نہ کرپایالہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی آج کے اس پرفتن دور میں بھرپور استقامت کا مظاہرہ کریںچونکہ اسی میں دنیو ی و اخروی نجات مضمر ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ ابن مسعودؓ سے مروی ہے رسول رحمت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے بعد صبر کا زمانہ آئے گا جو شخص اس زمانے میں دین سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائے گا اس کو تم میں سے پچاس شہیدوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا ‘‘ (کنزل العمال)۔

واقعہ کربلا کا تیسرا پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنی تعداد پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر اٹوٹ بھروسہ رکھیں۔ اللہ کا ارشاد ہے ترجمہ: ’’بارہا چھوٹی جماعتیں غالب آئی ہیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے اِذن سے‘‘ (سورۃ البقرۃ آیت 249) یعنی مٹھی بھر صاحب ایمان اللہ تعالی کی تائید و نصرت سے دشمن کے لشکر جرار کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج ہم اپنے وطن عزیز ہندوستان میں ہمیشہ اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ہم اقلیت میں ہیں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے معرکۂ کربلا میں خدا کی محبت سے سرشار حسینیؓ قافلہ صرف 72 نفوس قدسیہ پر مشتمل ہونے کے باوجود نہ یزیدکی فوجی کثرت و قوت سے پریشان ہوا اور نہ ہی خوف زدہ بلکہ پوری آب و تا ب، ایمانی حرارت اور کمال شجاعت کے ساتھ یزید کی طاقتور فوج سے مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔ رب ذو الجلال نے اصحاب کربلا کو باوجود قلیل تعداد میں ہونے کے جو دائمی شکیبائی اور کامیابی عطا فرمائی اس کی نظیر تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی ہے۔

واقعہ کربلا کا چوتھا پیغام یہ ہے کہ مسلمان قول و فعل کے تضاد سے بچیں چونکہ یہ فعل خدائے لم یزل کے نزدیک عظیم غضب کا موجب ہے۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ’’ اے ایمان والو ! تم کیوں ایسی بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ بڑی ناراضگی کا باعث ہے اللہ کے نزدیک کہ تم ایسی بات کہو جو کرتے نہیں ہو‘‘ (سورۃ الصف آیات 2-3) لیکن ہمارا یہ عالم ہے کہ ہم سب اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ کہ قرآن مجید نے اسراف کرنے والوں کو شیاطین کا بھائی قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسراف سے کام لے رہے ہیں۔ ہماری کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اسراف سے کام نہ لیا جارہا ہو۔ ہم اس بات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ قول و عمل میں تضاد منافقین کی نشانی ہے جن کا ٹھانا جہنم ہے۔ رب قدیر ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’بے شک منافق سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے دوزخ(کے طبقوں) سے‘‘ (سورۃ النسآء آیت 145)

اس آیت پاک کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ پیر کرم شاہ ازہریؒ رقمطراز ہیں ’’بلندی کی طرف جو یکے بعد دیگرے درجے ہوتے ہیں انہیں اہل عرب درجات کہتے ہیں اور پستی کی طرف یکے بعد دیگرے جو درجے ہوتے ہیں انہیں درکات کہتے ہیں جہنم کے مختلف طبقات کے علی السبیل التنزل یہ نام ہیں (1) جہنم (2)لظی (3) حُطَمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویہ سب سے نیچے منافقوں کا یہی ٹہکانا ہے۔پیغام کربلا کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی روش کو بدلیں اور تائب ہوکر اپنی زندگی کو قرآنی احکامات کے مطابق ڈھالنے کی حتی المقدور کوشش کریں تب ہی مسلم معاشرے میں سدھار آسکتا ہے۔ واقعہ کربلا کا پانچواں پیغام یہ ہے کہ دین متین کی حفاظت کے لیے نہ صرف ہم مستعد رہیں بلکہ اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو اس مقصد عظیم کے لیے تیار کریں۔ ہم نے اہل خانہ کو اشیائے مایحتاج اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کے بعد یہ تصور کرلیا ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریاں نبھادی ہے جبکہ قرآن مجید کی آیت کی روشنی میں ہم سب پر یہ بھی لازم ہے کہ ہم اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بھی بچانے کی کوشش و سعی کریں۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ترترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ‘‘ (سورۃ التحریم آیت 6)

  اس آیت پاک کی تفسیر بیان کرتے ہوئے علماء کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو آتش جہنم سے بچانے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی، اپنی اولاد، اور اپنے ماتحتین کو بھی عذاب جہنم سے بچانے کی سعی و کوشش کریں یعنی ان کو بھی متبع شریعت بنائیں جس کی عملی تصویر حضرت سیدنا امام حسینؓ نے میدان کربلا میں چھ ماہ کے شیرخوار حضرت سیدنا علی اصغرؓ کی شہادت کی شکل میں پیش فرمائی۔ لیکن صد حیف کہ آج ہم قرآن مجیدکے اس فرمان کو فراموش کردینے کا ہی خمیازہ ہے کہ آج مسلم نوجو ان نسل بے راہ روی، آوارہ مزاجی کا شکار نظر آرہی ہے اور راہ حق سے بھٹک رہی ہے۔ اس فتنہ سے بچنے کے لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت بچپن سے ہی شروع کردیں۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں زندگی کا ہر لمحہ تصور بندگی کے ساتھ گزارنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی

Dr. S.S. Waheedulla Hussaini Quadri Multani was born on 20th October, 1973 at Hyderabad, India and grew up in a spiritual atmosphere. He is the fifth of ten children born to Abul Arif Shah Syed Shafiulla Hussaini al-Quadri ul-Multani Sajjadahnashin (authorized representative) of the Shrine of Hazrat Shah Syed Peer Hussaini al-Quadri ul-Multani, Muhaqqiq (may Allah sanctify his secret), Imampura Sharif, Hyderabad. He received an M.A. (Islamic Studies) and M.Com degrees from Osmania University Hydedrabad and Maulvi Kamil from Jamia Nizamia, Hyderabad. He was a gold medalist in Islamic Studies. He submitted his Ph.D. thesis on the topic “Grants given by the seventh Nizam, Mir Osman Ali Khan to Various Religious Personages and Institutions” under the supervision of Prof. Mohd. Suleman Siddiqi, Former Head, Department of Islamic Studies and Vice-Chancellor, Osmania University. As an orator, prolific writer and columnist, he has written extensively on ethical, educational, rational, political, economical, spiritual, remedial and doctrinal aspects of Islam and on the various issues pertaining to Sufism in the perspective of modern age. He is a regular contributor to the journals of national repute and dailies of Hyderabad, India, i.e., Siasat, Munsif, Etemaad, Rehnuma-e-Deccan, Rashtriya Sahara, Hamara Awam, Sahafi-e-Deccan and has published around 600 articles till date. He delivers weekend lectures under the caption “Mehfil-i Dars-i Quran-i Majid wo Tafsir” on every Saturday at Masjid-I Ibrahimi, Khaderbagh, Ring road, Hyderabad and Sunday at Masjid-i Habeeba Tolichowki, Seven Tombs Road, Hyderabad, for the last two decades. He has translated the Urdu book into English entitled “Anwar-i din” compiled by Dr. Abdur Rahseed Junaid. He also translated four units of study material of B.A. in the subject of History for Directorate of Distance Education, Maulana Azad National Urdu University. He also participated and presented a paper at the National Seminar organized by the Maulana Abul Kalam Azad chair at MANUU, Hyderabad in the mont410h of November, 2013. He worked as a Guest Faculty in the Department of Islamic Studies in MANUU. Presently he is associated with Henry Martyn Institute, Hyderabad as a senior faculty in the department of Islamic Studies. He is also an associate editor of the Journal published by HMI. The author can be reached at waheedmultani@gmail.com and his mobile no. is 09-9010345787.

متعلقہ

Close