خصوصیعالم اسلام

 چوں کفر از کعبہ برخیزد

اب دیکھنا ہوگا کہ مملکت توحید، جو کتاب و سنّت پر عمل کی دعوے دار ہے، کس طرح مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہے ؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی

(جب کعبہ ہی سے کفر نکلنے لگے تو بے چارہ مسلمان کہاں جائے)

شاعر نے اس مصرعہ میں ‘کعبہ’ کو بہ طور استعارہ استعمال کیا تھا۔ اس بے چارے کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ ہوگا کہ کبھی اس کی کہی ہوئی یہ بات حقیقت کا روپ دھار لے گی اور کعبہ کے خدّام اور حرم کے پاسبان کفریہ حرکتیں کرنے لگیں گے اور کعبہ کے امام حرم کے منبر پر کھڑے ہوکر ان کی کفریہ حرکتوں کی تائید کریں گے اور ان کے ظلم و جبر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے، ترکی کے سعودی سفارت خانے میں، بہیمانہ قتل کی جوں جوں پرتیں کھلتی جا رہی ہیں، سعودی ولی عہد کے اس بھیانک جرم میں براہ راست ملوّث ہونے کے ثبوت فراہم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ 2 اکتوبر کو پیش آیا تھا۔ پندرہ دنوں تک سعودی حکومت مکرتی رہی کہ اسے خاشقجی کی کچھ خبر نہیں، کیوں کہ وہ سفارت خانہ آنے کے 20 منٹ بعد واپس چلے گئے تھے۔ سعودی ولی عہد نے بھی ایک انٹریو میں صاف انکار کیا اور خاشقجی کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ اب جب دو ہفتے کے بعد اعتراف کیا گیا تو کہا گیا کہ سفارت خانے میں خاشقجی کی کچھ لوگوں سے تو تو میں میں اور لڑائی ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ کتنا معصومانہ بیان ہے۔ اگر موت ایسی ہی اتفاقیہ ہوئی تھی تو لاش کہاں گئی ؟ دوسری طرف ترک ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات مظہر ہیں کہ مشتبہ سعودی ایجنٹس کی 15 رکنی ٹیم اس وقت سفارت خانے میں موجود تھی جب خاشقجی اپنی بعض دستاویزات لینے سفارت خانے پہنچے تھے۔ یہ لوگ دو پرائیوٹ طیّاروں کےذریعے اسی دن ترکی پہنچے تھے۔ سفارت خانے میں کچھ وقت گزار کروہ اسی دن واپس ہو گئے تھے اور مختلف طیاروں کے ذریعے انہوں نے ملک چھوڑ دیا تھا۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہڈیاں کاٹنے والی مشین اپنے ساتھ لائے تھے اور اس گروپ میں پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ اطلاعات مظہر ہیں کہ یہ لوگ سعودی خفیہ اداروں سے وابستہ مختلف اعلیٰ عہدے دار تھے اور ان میں سے متعدد کو سعودی ولی عہد کے مختلف غیر ملکی دوروں میں ان کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ ان لوگوں نے جمال خاشقجی کو انتہائی بے دردی اور سفّاکانہ طریقے سے قتل کیا، ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے، ہڈیوں کو کاٹا، اعضائے جسم سے چمڑا الگ کیا اور اس بدبختانہ عمل کی انجام آوری کے دوران موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان احمقوں کو نہیں معلوم ہوسکا کہ خاشقجی کے ہاتھ پر بندھی ہوئی ایپل گھڑی کے ذریعے ان کی یہ تمام گھناؤنی حرکتوں کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ہورہی ہے۔

سعودی حکومت نے اب جاکر کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس نے محکمہ انٹیلیجنس کے نائب سربراہ احمد العسیری اور ولی عہد کے سینیئر مشیر سعود القحطانی کو برطرف کردیا ہے اور 18 افراد کو خاشقجی کی موت پر پردہ ڈالنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ اب تک کی تحقیقات اس جانب اشارہ کررہی ہیں کہ یہ سفّاکانہ قتل منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ہے اور اس میں سعودی ولی عہد کی ایما شامل ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ مملکت توحید، جو کتاب و سنّت پر عمل کی دعوے دار ہے، کس طرح مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہے ؟!

یہ محض سادہ قتل کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ‘محاربہ’ اور فساد انگیزی ہے، جس کی سزا قرآن میں یہ بیان کی گئی ہے کہ” ایسے مجرمین کو دردناک اور عبرت ناک سزا دی جائے، ان کو بری طرح قتل کیا جائے، ان کو سولی پر چڑھا دیا جائے اور ان کے ہاتھ پر کاٹ دیے جائیں۔ (المائدہ:33)

عہد نبوی میں اسی طرح کے ایک واقعے میں جب کچھ لوگوں نے ایک چرواہے کو قتل کر دیا تھا اور بیت المال کے اونٹ ہنکا لے گئے تھے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان مجرموں کو عبرت ناک سزا دی تھی۔ آپ نے ان کے ہاتھ پیر کٹوا دیے تھے، ان کی آنکھیں پھوڑوا دی تھیں اور انہیں تپتی ہوئی زمین پر تڑپتے ہوئے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ ( بخاري: 1501، مسلم: 1671)

کتاب و سنت میں تو قصاص کا حکم دیاگیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ "(المائدہ:45) کتاب و سنّت کی تعلیم تو یہ ہے کہ جرم کوئی بھی کرے، وہ کسی بھی سماجی حیثیت کا مالک ہوں، قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد زرّیں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے :

"وايم الله، لو أن فاطمة بنة محمد سرقت لقطعت يدها ".(بخاری:3475، مسلم:1688)

"اللہ کی قسم، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا "

اب جب کہ سارے آثار و قرائن سعودی ولی عہد کے مجرم ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، کیا خادم حرمین شریفین اپنے ولی عہد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے ؟اور اس سے قصاص دلوائیں گے ؟

اس موقع پر ایک عجیب صورت حال سامنے آئی ہے۔ امام حرم نے منبر حرم سے خطبہ دیتے ہوئے سعودی ولی عہد کو کھلی چھوٹ دی اور انھیں تمام الزامات سے بری قرار دیا۔ رابطہ عالم اسلامی کے ارکان کی طرف سے بھی ولی عہد کی حمایت میں بیان جاری ہوا۔ اس سے ہم بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں ظلم و جبر کی کیا صورت حال ہے ؟ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا کیا حشر کیا جاتا ہے ؟ اور وہاں علماء و مشائخ اور دانش وروں کو اظہار رائے کی کتنی آزادی حاصل ہے ؟

سعودی مملکت میں رہنے والوں کو تو کسی حد تک معذور قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن جو لوگ سعودی تسلط سے آزاد ہیں وہ کیوں مہر بلب ہیں؟ وہ کیوں ظلم و جبر، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور شہری آزادیوں سے محرومی پر خاموش ہیں؟

جن لوگوں نے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا ہے اور دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے وہ بہت زیادہ خوش فہمی میں نہ رہیں۔ ظلم کی ٹہنی زیادہ نہیں پھلتی۔ اللہ تعالی کفر وشرک کو تو گوارا کرلیتا ہے، لیکن ظلم کو زیادہ دنوں تک پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیتا۔ اس نے ظالموں کو دھمکی کے انداز میں فرمایا ہے:

وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ(الشعراء:227)

” اور ظلم کرنے والوں کو عن قریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ "

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close