عالم اسلام

ڈاکٹر ذاکر نائک کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی

محمد وسیم

ہندوستان کے صوبہ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے داعیء اسلام ، مبلغ اسلام ، عظیم اسلامک اسکالر ، تقابلِ ادیان کے ماہر اور شاہ فیصل ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ذاکر نائک دو سالوں سے میڈیا اور باطل حکومتوں کے نشانے پر ہیں ، بغیر کسی ثبوت کے محض اسلام دشمنی میں ان کو مختلف طریقوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جولائی 2016 میں بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں ہوۓ بم دھماکے میں کئی لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں ، بنگلہ دیشی اخبار بجاۓ اس کے کہ دہشت گردانہ حملے کی تحقیق کرتا اس حملے کا ذمہ دار امن کے داعی اور امن کے پیامبر ڈاکٹر ذاکر نائک کو ٹھہرا دیا ۔ پھر کیا تھا ہندوستان میں مسلمانوں کے بعض طبقوں اور اسلام دشمنوں کو ڈاکٹر ذاکر نائک کو بدنام کرنے کا موقع مل گیا۔ جب معاملہ سنگین ہو گیا تو بنگلہ دیشی اخبار "ڈیلی اسٹار” نے دوسرے ہی دن غلط خبر شائع کرنے پر معافی مانگ لی اور ڈاکٹر ذاکر نائک کو دہشت گردانہ حملے کا ذمہ ٹھہرانے سے انکار کر دیا ۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہندوستان میں ان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے اور ان کو بدنام کرنے کی کوششوں میں کمی نہیں آئی۔

ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف چند دنوں پہلے ہندوستانی میڈیا میں نہ جانے کہاں سے جھوٹی خبر پھیلائی گئی کہ آج رات ڈاکٹر ذاکر نائک کو میلشیا سے گرفتار کر کے ہندوستان لایا جا رہا ہے ، میڈیا میں بیٹھے ناجائز وجود رکھنے والوں اور حکومتی اشاروں پر امن پسندوں کے خلاف کتوں کی طرح بھونکنے والوں نے جھوٹی خبریں پھیلا کر شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے ڈاکٹر ذاکر نائک سے اسلامی اخوت کی بنیاد پر تعلق رکھنے والوں کو شدید پریشانی ہو گئی کہ کہیں ان کے خلاف بڑی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش تو نہیں ہو رہی ہے، ڈاکٹر ذاکر نائک کی حفاظت کے لئے نہ جانے کتنے ہاتھ دعاؤں کے لئے اٹھ گئے، نہ جانے کتنے دل مغموم ہو گئے اور نہ جانے کتنی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، مگر اللہ تعالی کی رحمت ہو ملیشیا کی حکومت پر کہ جس نے ڈاکٹر ذاکر نائک کی حمایت کا اعلان کر کے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا، اسی چیز کو قرآن پاک کی سورہء بقرہ آیت نمبر 54 میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کفار و مشرکین اسلام پسندوں کے خلاف تدبیر کرتے ہیں اور اللہ تعالی اسلام دشمنوں کے خلاف بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

ہندوستانی میڈیا جولائی 2016 سے لے کر اب تک دو سالوں سے لگاتار ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا کر ہندوستانی عوام کو گمراہ اور مسلمانوں کو بے چینی میں مبتلا کرتا رہا ہے ، ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے تو صحافتی اقدار کی ساری دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں ، آپ ذرا دیکھئے کہ کس طرح سے نیوز چینلوں نے جھوٹی خبریں پھیلانے کی ناپاک کوشش کی_ Times Now نے خبر چلائی کہ نریندر مودی کا ملیشیا دورے کا مقصد ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف شکنجہ کسنے کے لئے تھا ، Ndtv نے خبر چلائی کہ ایک پولیس آفیسر نے ان کو خفیہ طور پر بتایا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو بھارت لایا جا رہا ہے. ABP News نے خبر چلائی کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو ملیشیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ 7 گھنٹوں کے اندر بھارت میں ہوگا. ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے لئے ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کی لعنت ہو میڈیا والوں پر اور جھوٹی خبروں پر خوشی منانے والوں پر، جو بغیر کسی ثبوت کے خبریں چلا کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں_ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ملیشیا کے وزیر اعظم مآثر محمد نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ملیشیا کے با عزت شہری ہیں اور ان کو بھارت کے حوالے کئے جانے والے مطالبے کو مسترد کرتے ہیں۔

قارئین کرام ! داعیء اسلام کی راہیں ہمیشہ پر خطر رہی ہیں ۔ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے والے یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی منزل آسان ہے ، اس لئے جو بھی اسلام کے پیغامِ امن کو دنیا کے سامنے عام کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سازشیں کی جائیں گی ، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسلام کی حقانیت تمام ادیانِ باطلہ پر ثابت ہو کر رہے گی ، اگرچہ کفار و مشرکین ناپسند ہی کیوں نہ کریں ، ڈاکٹر ذاکر نائک اسی تعلیمات کو دنیا کے سامنے عام کر رہے ہیں جو آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن و حدیث کی شکل میں مکہ کی سرزمین پر نازل ہوا تھا ۔ مگر شرک و بدعت کے حامیوں ، مسلمانوں کی بعض گمراہ جماعتوں اور اسلام دشمنوں کو اسلام کی یہ تبلیغ پسند نہ آئی اور وہ بجاۓ حزب اللہ بنتے حزب الشیطان بن گئے۔ انٹرپول اور ہندوستان کے بعض اداروں نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو باعزت بری کیا ہے اور ان کو کسی بھی جرم میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے مگر اس کے باوجود بھی ہندوستانی میڈیا اور حکومت بے شرمی کی انتہا پر ہے جو ان کے خلاف اب بھی جھوٹی خبریں پھیلانے میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے دشمنوں کی ہمیشہ ذلت و رسوائی ہوئی ہے مگر ہر قسم کی ذلت و رسوائی کے باوجود بھی انھیں شرم نہیں آتی۔ ڈاکٹر ذاکر نائک امن کے داعی اور اسلام کے سپاہی ہیں جب کہ ان کے خلاف سازشیں کرنے والے شیطان کے حمایتی ہیں اور ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close