عالم اسلام

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے؟

آج نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر ہمیں خون کے آنسو پینے پڑتے ہیں۔  کردار و اخلاق، شرم و حیا، صبر و استقامت، عزم و شجاعت، ادب و احترام اور خیر و بھلائی جیسی صفات سے نوجوان محروم ہوتے نظر آرہے ہہیں۔

شاہ مدثر

نو جوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دُور ہوتا ہے۔ بلاشبہ نوجوان ہی امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے۔ باہمت، باشعور، متحرک، پرجوش اور پرعزم نوجوان ہر زمانے میں اسلامی انقلاب کے نقیب رہے ہیں وہ قومیں خوش نصیب ہوتی ہیں جن کے نوجوان فولادی ہمت اور بلند عزم و استقلال کے مالک ہوتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ ان قوموں کا مقدر ہوتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے دلیری سے مقابلہ کرنے کا ہنر جانتے ہو۔ وہ قومیں ہمیشہ سرخرو رہتی ہیں جن کے نوجوان طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہو۔ جوانی وہ عرصۂ حیات ہے کہ جس میں ہمتیں جوان اور حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

محترم قارئین ! یہی وجہ ہے کہ انبیاء ؑ و رسل ؑ اور ہر دور کے مصلحین کی انقلابی پکار پر نوجوانوں نے ہی سب سے زیادہ توجہ دی ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس حوالے سے بے شمار واقعات موجود ہیں۔ اور قرآنِ مجید میں بھی متعدد مقامات پر اسلام پسند نوجوانوں کے تذکرے ملتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى، وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا(الكهف)

وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انھیں مزید رہنمائی بخشی، اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کردیا جب انہوں نے کھڑے  ہو کر اعلان کیا کہ: "ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور الٰہ کو نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو یہ ایک بعید از عقل بات ہوگی.”

یہ وہ نوجوان تھے جنھوں نے وقت کے ظالم حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رب العالمین پر ایمان لا کر حق پرستی کا اعلان کیا۔ ان چند نوجوانوں نے اپنے زمانے میں جو کردار ادا کیا وہ تمام نوجوانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ اسی طرح سے قرآن مجید نے حضرت موسٰی ؑ پر ایمان لانے والے چند نوجوانوں کا تذکرہ کیا۔ حضرت موسٰی ؑ کو ان کی قوم نے باربار جھٹلایا لیکن وہ چند نوجوان ہی تھے جنھوں نے کٹھن حالات میں حضرت موسٰی ؑ کی نبوت پر ایمان لاکر ان کا ساتھ دیا۔ اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاْءِھِمْ اَنْ یَّفْتِنَھُمْ ط وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِج (یونس ۱۰:۸۳)

’’موسٰی ؑ کو اسی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربراہ لوگوں کے ڈر سے کہ فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا‘‘۔

چنانچہ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی جوانی کے متعلق چند روایات آئی ہے کیونکہ اسلام  میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے، جوانی ایک عظیم نعمت ہے، اور قیامت کے دن اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا۔ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فر مایا: ’’یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پا نچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے۔ عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ جوعلم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟ (ترمذی)

اسی طرح حضرت عمر بن میمونؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: ایک جوانی کوبڑھاپے سے پہلے، صحت کوبیماری سے پہلے، خوش حالی کو ناداری سے پہلے، فراغت کومشغولیت سے پہلے، زندگی کوموت سے پہلے۔ (ترمذی )

 ایک اور حدیث میں نوجوانی کی عظمت کا ذکر ملتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ… نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

 "سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالٰی قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا.” [ان سات لوگوں میں ایسا نوجوان بھی شامل ہے جس نے اپنی ساری جوانی اللّٰہ کی عبادت میں گزاری ہو۔]

ہمیں اسلامی تاریخ میں نوجوانوں کے کردار پر کئی واقعات کثرت سے ملتے ہیں۔ عمر کے اسی مرحلے میں نوجوان صحابہؓ نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ دورِ شباب ہی میں حضرت علیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت عمرو ابن العاص، حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابن عباسؓ اورحضرت ابن زبیرؓ نے نبی کریمﷺ کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی قربانیوں کو پیش کیا۔ اسی دورشباب میں صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور محمدبن قاسم جیسے مسلم سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو روشن و تابناک بنایا۔ اسلامی تاریخ غیور نوجوانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، تاریخ میں ایسے ایسے نوجوان پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی جوانی کےایک ایک لمحہ کو قیمتی جانا، اپنی جوانی میں  بڑے بڑے کام انجام دئیے، کئی جنگوں میں بڑی بڑی فتوحات حاصل کرلیں۔ وہ باقار شخصیتیں تھیں ان کے کردار میں وہ رعب و دبدبہ  تھا کہ دوسری قومیں اور افواج اُنکے نام سے تھرتھرا اُٹھتی۔ اُنکے سایہ سے شیطان بھی دور بھاگ جاتا۔ جس سرزمین پر یہ قدم رکھتے وہ جگہ اللہ کے حکم سے اُنکے قبضے میں آجاتی۔ انہوں نے میدانِ جہاد میں ایسے جوہر دیکھائے کہ رہتی دنیا تک اس کی مثالیں ملنا مشکل ہے۔ یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی کا صحیح استعمال کیا، اپنی صلاحیتوں کو اللّٰہ کے دین کے لئے قربان کیا۔

لیکن آج کے نوجوانوں کو دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے، اپنے معاشرے پر نظرڈالئیے اور دیکھئیے کہ آج کے مسلم نوجوان کہاں کھڑے ہیں؟ وہ کہاں مصروف ہیں؟  انکے مشاغل کیا ہیں؟   انکے شوق کیا ہیں؟   انکے معمولات کیا ہے؟ آج کے نوجوان ہمیں راستوں پر گھومتے ہوئے، سینما ہالوں میں وقت برباد کرتے ہوئے، اپنی گاڑیوں کی نمائش کرتے ہوئے، دوستوں میں آوارہ گردی کرتے ہوئے، فیس بک اور واٹس ایپ پر خودنمائی کرتے ہوئے مست نظر آتے ہیں۔ اس بے راہ روی نے نوجوانوں کی زندگی سے ایمان چھین لیا ہے۔ خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگی میں زہر گھول رہی ہے، ہر نوجوان سوشل میڈیا پر اپنی خوبصورتی کے کمالات بکھیرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ اپنے چہرے کو خوبصورت بنانے کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے، ہیئر اسٹائل یہودیوں جیسا اختیار کرنا اور پھر دوستوں سے دادِ تحسین حاصل کرنا، زیادہ سے زیادہ لائیکس اور فولورس بنانا یہ نوجوانوں کا مقصدِ زندگی ہوکر رہ گیا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ آج سب سے زیادہ نوجوان فیس بک اور واٹس ایپ پر عشقِ مجازی سے  تباہ ہورہے ہیں۔ لڑکیوں سے گھنٹوں تک فون پر باتیں کرنا اور دیر رات تک چیٹینگ کرنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے۔ ۔ آج نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر ہمیں خون کے آنسو پینے پڑتے ہیں۔  کردار و اخلاق، شرم و حیا، صبر و استقامت، عزم و شجاعت، ادب و احترام اور خیر و بھلائی جیسی صفات سے نوجوان محروم ہوتے نظر آرہے ہہیں۔

صد افسوس ہے ایسے نوجوانوں پر جو نمازِ فجر تک سوتے رہتے ہیں اور صبح بارہ بجے بیدار ہوتے ہیں، دوپہر 2 بجے ناشتے سے فارغ ہوتے ہیں۔ شام4 بجے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ اور رات دیر گئے دوستوں کی محفلوں میں آوارہ گردی کرتے ہیں۔ اور رات کے اخیر حصے تک سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں۔ اور جب مساجد سے فجر کی اذانیں آسمان کی فضاؤں میں بلند ہوتی ہے، تب اِنکی آنکھیں نیند کے لیے بند ہوتی ہے۔ آج اکثر نوجوانوں کا یہ مزاج ہوگیا ہے کہ وہ اچھا پہن کر، بن سنور کر فیس بک اور واٹس ایپ پر اپنی تصویروں کی نمائش کرتے رہیں۔ ان کے نزدیک کامیابی یہ نہیں ہے کہ اللّٰہ کے دین کی سربلندی کی کوشش کی جائے، اپنی صلاحیتوں کو اسلام کی نشر و اشاعت میں استعمال کیا جائے۔

نہ بے باکی، نہ بیداری، نہ ہشیاری

جوانی کتنی شرمندہ ہے آکر نوجوانوں میں

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ شیطان نوجوانوں کیساتھ بڑی سخت دشمنی روا رکھتا ہے، اس کیلیے وہ نوجوانوں کو اہل باطل کے قافلے میں شامل کر کے جہنم کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے، لہٰذا مسلم نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے مقصدِ زندگی کو سمجھیں۔ اپنی شناخت کو مٹنے نہ دیں۔ آج دشمنِ اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور ان کی پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور آج اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہورہے ہیں۔ مسلم نوجوان خود اپنے ہاتھوں اپنی شناخت سے محروم ہورہےہیں۔

اُمت کے نوجوان سے ’’مسلم ‘‘ ہونے کی شناخت چھن چکی ہے۔ وہ  عظیم صحابہ کے کردار اور طرز زندگی سے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں وہ کون ہے؟ ملت اسلامیہ سے تعلق ہونے کی حیثیت سے اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ وہ جانتے  ہی نہیں کہ موجودہ حالات میں اُن کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے؟

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

آج کا  مسلم نوجوان اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ سب سے بڑا چلینج آج کے دور میں مسلم نوجوان کے لیے یہی ہے کہ اُسے اپنے آپ کی پہچان نہیں ہورہی ہے۔ اور یہ پہچا ن اُسے صرف اُسی صورت میں حاصل ہوسکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ نوجوان   اپنی زندگی  کو  دانا شخص کی طرح گزاریں، اور ہر نوجوان اپنے نفس پر ضبط اور  نفسانی خواہشوں  کو تھامے، نفس کو خیر و بھلائی کی طرف متوجہ رکھے، اور  نفس کیلئے امنگوں بھرے اہداف مقرر کرے، جن کے ذریعے   عظمتوں کے زینے چڑھتا جائے، انہی اہداف کو اپنی زندگی میں  بھر پور کردار  ادا کرنے دے، مسلمان کی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا بول بالا کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے اوریہ ذمہ داری ہر دور میں جن سعید روحوں نے پوری کردی ہے اُن کی کشمکش کا کبھی بھی یہ مقصد نہیں رہا تھا کہ وہ اپنے لیے، عیش و عشرت اور دھن و دولت سے مزین زندگی پاسکیں۔ لہٰذا نوجوانوں کو چاہئیے کہ  وہ صحابہ کرامؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گذارے، قرآن و سنت کو اپنا معیار بنائے، فحاشی و عریانیت سے توبہ کرکے باحیا زندگی کو اختیار کریں۔ ۔ دورِ حاضر کے فتنوں سے خود کی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کرے۔ اپنی جوانی کو ہمیشہ بےد اغ رکھیں۔ تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی آپ کا مقدر بن سکے۔

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری

مزید دکھائیں

شاہ مدثر

عمرکھیڑ

متعلقہ

Close