عالم اسلام

کچھ نہیں کیا تو اب کچھ کریں

مدثر احمد

ہر سال کی طرح ایک سال اور کم ہوگیا، عیسوی سال ہی صحیح، یہاں عیسوی سال کو درج کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے یہاں عیسوی سال کا تذکرہ کرنا ممنوع ہے اور عیسوی سال کو لے کر ہمارے اہل علم حضرات میں دین و شریعت کا لاوا پھوٹ پڑتا ہے کہ عیسوی سال کا ذکر کیا جاتاہے اور ہجری سال کو اہمیت نہیں دی جاتی، چونکہ ہم اور آپ دارالحرب میں ہیں اس لحاظ سے عیسوی سال کے مطابق ہی اپنا لین دین کرتے ہیں، اپنی تنخواہیں لیتے ہیں، گھروں کا کرایہ ادا کرتے ہیں، مزدوروں کی مزدوری دیتے ہیں۔ صرف سال ہی نہیں بلکہ دن بھی عیسوی لحاظ سے ہی طئے کرتے ہیں، اتوار کا دن، جو عمومی چھٹی کا دن ہوتا، شادیوں و جلسوں کا دن ہوتا ہے اور پروگراموں و اجتماعوں کا دن ہوتاہے۔ جبکہ جمعہ صرف سوشیل میڈیا پر جمعہ مبارک تک محدود ہوچکا ہے۔ یہ حالت صرف ہم ہندوستانیوں کی ہی نہیں بلکہ اہل عرب کی بھی ہے۔ اب انہوںنے بھی جمعہ کی چھٹی کو کم مانتے ہوئے جمعرات یا سنیچر کو بھی چھٹی کا دن بنالیا ہے تاکہ انکے آرام کو مزید موقع ملے، ایسا نہیں کہ جمعرات کو جمعہ کی تیاری کرنے اورشب گزاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خیر سال 2018تو گزرچکا ہے، سابقہ سال میں ہم نے کیا ہے کیا نہیں اس پر غور کرنے کے بجائے ہمارے درمیان کے کئی لوگوں نے عیسوی نئے سال کو خوش آمد کہا، عیسوی نئے سال کی مبارکبادیاں دیں اور کئی لوگوں نے جشن و پارٹیاں بھی کیں۔ لیکن سوچیں کہ سابقہ سال ہم نے کیا کیا ہے؟ اپنے لئے کیا کیا ہے، اپنے والدین کے لئے کیا کام کیا ہے ؟۔ قوم کی کتنی فکر کی ہے ؟۔ خدمت خلق کس حد تک انجام دی ہے ؟۔ ملت کا درد کتنا کیا ہے۔ مجموعی طورپر ہم نے زندگی کے پچھلے سالوں کی طرح اس سال کو بھی یوں ہی گنوادیا ہے۔ خصوصََا مسلمان جن کے لئے دنیا چار دن کی ہے اور آخرت حقیقی زندگی ہے انہوںنے بھی اس سال کو کسی بھی طرح کی اہمیت نہیں دی ہے۔ انکے سامنے مسلمان کٹتے رہے، کسی نے کچھ نہیں کہا، انکے سامنے عورتیں لٹتی رہیں کسی نے کچھ نہیں کیا۔ انہیں اپنوںنے ہی مختلف کمپنیوں کے نام پر لوٹا کسی نے کچھ نہیں کیا۔ دین کے نام پر انہیں ٹھگا گیا کسی نے کچھ نہیں کیا۔ اللہ کے دین کو بدنام کیا ہم امتی ہونے کے ناطے اس پر آواز اٹھانے سے بھی قاصر رہے۔ ہمیں نمازیں پڑھنے سے روکا گیا ہم نے کچھ نہیں کیا۔ شرعی قانون میں مداخلت ہوئی ہم نے کچھ نہیں۔ اسلام کو بدنام کیا ہم نے کبھی جواب نہیں دیا۔ ماب لنچنگ میں درجنوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہماری پہچان، ہماری شناخت، ہماری روایتیں، ہمارے شہروں کے نام تک تبدیل کئے گئے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اہانت رسول ﷺ کے درجنوں معاملات پیش آئے ہم نے اس پر بھی کچھ نہیں کیا۔ بس کیا تو اتنا کیا کہ ہر جمعہ اور اتوار کو گوشت بناکرکھاتے رہے اور اپنی زندگیوں کو خوش و آباد سمجھتے رہے۔ آخر کب تک ہم مسلمان یوں ہی اپنی زندگیوں کو گنواتے رہیں گے ؟۔ آخر کب تک مسلمان ہوکر بھی مسلمان بننے سے گریز کرینگے ؟۔ آخر کب تک ہم اپنے دین و شریعت پر لگنے والی تہمتوں کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں گے ؟۔ آخر کب تک ہم اپنے آپکو صرف نام کے مسلمان کے طورپر پیش کرتے رہیں گے۔ سال آتے ہیں چلے جاتے ہیں، ہر لمحہ آتا ہے گزر جاتا ہے لیکن ہماری زندگیوں میں کیا تبدیلیاں آئیں، ہم نے اپنی زندگی کا حق کس طرح سے ادا کیا اس پر ہم نے شاید ہی کبھی غور کیا ہے؟

ہم آدمی تو ہیں لیکن انسان بننے کی کوشش نہیں کررہے ہیں جب آدمی انسان بن جائے اور انسان مسلمان بن جائے تو شیطان کے پاس کوئی کام ہی باقی نہیں رہے گا۔ لیکن ہم نے سید ھے سیدھے ہر بات پر شیطان کو ہی مورد الزام ٹہرایا ہے۔ جس طرح سے ہم نماز سے پہلے وضو بناتے ہیں، جس طرح سے عید سے پہلے کپڑے خرید کر اپنی عیدکی تیاریاں کرتے ہیں اسی طرح سے اپنی زندگی کو جینے کے لئے کچھ تیاریاں کرلیں تو یقینا اس کا اثر مثبت رہے گا اور اس اثر سے ہم بدلیں گے، سماج بدلے گا اور دنیا بدلے۔ جس سال ان کاموں کو انجام دیں گے اس سال کے بعد نئے سال کو ویلکم کہیں یا خوش آمدید کہیں یا پھر مبارکبادی دیں کوئی بات نہیں۔ لیکن ہر سال کو اپنا محاسبہ کریں یہ سب سے بڑی بات ہوگی۔

مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close