کیا ”آئی ایس آئی ایس “ خارجیوں کی جماعت ہے؟

عراق اور شام میں جو کچھ ہورہا ہے کیا اسلام میں اس کی گنجائش ہے؟کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کردیا جائے؟ کیا قرآن کے احکام میں اس کی گنجائش ہے کہ عام شہریوں کا خون بہا یاجائے؟ کیا معصوم بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کی اسلامی تعلیمات میں ذرہ برابر بھی جگہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر جو کچھ عراق اور شام میں داعش کے لوگ کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ جب غزہ میں فلسطینیوں کا اسرائیل خون بہاتا ہے تو سارا عالم اسلام چیخ اٹھتا ہے اور جب عراق میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے تو خاموشی کیوں ؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ مسلمانوں کو برادر کشی کی اجازت ہے؟ خون بہانے اور مرنے مارنے کے تمام حقوق ہم نے اپنے پاس ہی محفوظ رکھے ہیں ؟ اس وقت جوخبریں آرہی ہیں وہ دل کو دہلادینے والی ہیں اور اسلام ہی نہیں انسانیت کو بھی شرمندہ کرنے والی ہیں ؟ جو تصویریں اور ویڈیو عراق اور شام سے آرہے ہیں ان میں انسانوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ ذبح کرتے ہوئے دکھایا جارہا ہے، سوال یہ ہے کہ اگر یہ تصویریں درست ہیں تو داعش کا یہ عمل کس قدر ہیبت ناک اور انسانیت سوز ہے؟ وہ تنظیم جو خود کوپرچم اسلام کی علمبردار کہتی ہے اور اسلامی خلافت کے قیام کی دعویدار ہے اس کی جانب سے اس قسم کی حرکتیں شکوک و شبہات پیدا کر تی ہیں ۔ اسلام تو امن و سلامتی کا مذہب ہے، یہاں خون خرابے کے لئے کیا جگہ ہے؟ یہ تو اعتدال کا دین ہے یہاں انتہا پسندی کی گنجائش کہاں ؟ عراق اور شام سے آنے والی تصویریں جن ذرائع سے آرہی ہیں وہ مغربی ہیں یا مغرب نواز ہیں اس لئے تمام تصویروں کی سچائی پر یقین کرنا مشکل لگتا ہے مگر اسی کے ساتھ دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ خود داعش کے ذمہ داران الزامات کی تردید کیوں نہیں کرتے جو ان پر لگائے جارہے ہیں ؟ ان دنوں ایک بحث یہ بھی شروع ہوچکی ہے کہ داعش اور شدت پسند گروہ کیا آج کے خارجی ہیں ؟ یہ بحث اس لئے اٹھ رہی ہے کہ اسلام ایک اعتدال کا مذہب ہے اور یہاں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں مگر تاریخ میں خارجیوں کا جو کردار رہا ہے وہ ان انتہا پسندوں سے ملتاجلتا ہے جو آج ساری دنیا میں خلفشار مچائے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان کے ساتھ محض اس بنیاد پر ہمدردی رکھتا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل جیسے دشمنان اسلام سے مقابلہ کر رہے ہیں اور جن بیرونی طاقتوں نے عالم اسلام پر قبضہ کر کھا ہے نیز ان کے وسائل کو مغرب لے جارہے ہیں ان سے یہ مقابلہ کر رہے ہیں ۔

خارجی کون ہیں ؟

ساتویں صدی عیسوی میں ،جب کہ خلیفہ راشد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا دورخلافت تھا سب سے پہلے اسی زمانے میں خارجیوں کا ظہور ہو اتھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کے احکامات پر شدت کے ساتھ عمل پیرا تھے اور اعتدال کے راستے سے بھٹکے ہوئے تھے۔ یہ اپنے مقاصد کی بر آوری کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے یہاں تک کہ ہتھیار بھی اٹھاتے تھے اور مسلمانوں کا قتل کرنے سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔ ”خارجی “کا لفظی مفہوم ہے”باہر نکل جانے والا“۔ دوسرے الفاظ میں باغی بھی کہا جاسکتا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں ان کا سب سے پہلے ذکر جنگ صفین کے حوالے سے ملتا ہے۔ یہ جنگ صفین کے مقام پر ۷۳ھ میں لڑی گئی تھی اوردونوں جانب مسلمانوں کے ہی دو گروہ تھے۔ ایک گروہ کی قیادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کر رہے تھے جب کہ دوسرے کی امیر معاویہ۔جنگ کا خاتمہ صلح پر ہوا اور جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف لوٹ رہے تھے تو ان کی فوج میں دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ ان کے احکام پر عمل پیرا تھا اور انھیں خلیفہ برحق مانتا تھا مگر دوسرے گروہ نے ان کی مخالفت شروع کردی اور یہ کہنا شروع کیا کہ انھوں نے صلح کر کے غلط کیا ہے۔ اس گروہ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور راستے میں ہی الگ ہوگیا۔ اس کا ماننا تھا کہ کوئی خلیفہ نہ رہا اور نہ ہی کوئی عالم اسلام کا حکمراں رہا۔ اب مسلمان خود ہی اپنے طور پر اپنا نظام چلائیں ۔ انھوں نے حضرات علی و امیر معاویہ دونوں کی مخالفتت کی اور اس میں وہ اس قدر سخت ہوئے کہ انھیں قتل کرنے کی سازش بھی رچی۔ یہی وہ گروہ تھا جسے خارجی کہا جانے لگا۔ بعد کے دور میں ان کے اثرات بڑھے اور کئی مقامات پر اس گروہ کا ہاتھ فتنہ پردازیوں میں دیکھا گیا۔

مسلم کشی خارجیوں کی عادت

برادر کشی کی ابتدا تو مسلمانوں مین پہلے ہی ہوچکی تھی مگر خوارج نے اسے بڑھاوا دیا۔انھوں نے بعض معتبر صحابہ کے قتل کی سازشیں کیں اور انھیں کافر قرار دے کر واجب القتل سمجھا۔ ایک مقام پر کچھ خارجی جمع ہوئے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ تین لوگ تین حکمرانوں کا قتل کردیں ۔ جن میں ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے جن کا دارالخلافہ کوفہ تھا۔ دوسرے امیر معاویہ تھے جن کی راجدھانی دمشق تھی اور تیسرے عمروبن العاص تھے جو مصر کے گورنر تھے۔ منتخب شدہ تینوں لوگوں نے یہ طے کیا کہ ایک مخصوص دن میں وہ جائیں اور ایک مخصوص تاریخ میں فجر کی نماز کے دوران ان تینوں حکمرانوں کا قتل کردیں ۔ چنانچہ پلان کے تحت تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچے اور حملہ بھی کیا۔ امیر معاویہ اس حملے میں معمولی طور پر زخمی ہوئے مگر بچ گئے۔ مصر کے گورنر عمروبن العاص اس دن اتفاق سے بیمار تھے اور فجر کی نماز میں موجود نہیں تھے ان کی جگہ پر کوئی دوسرے صاحب نماز کی امامت کر رہے تھے جن پر حملہ کر کے ایک خارجی نے قتل کردیا۔ البتہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ابن ملجم خارجی کا حملہ کامیاب ہوگیا جس کی تاب نہ لاکر آپ شہید ہوگئے۔ اس دور میں خارجیوں کی دہشت اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ حضرت علی کو خفیہ طور پر دفن کیا گیا۔ اندیشہ تھا کہ وہ آپ کے جسم مبارک کو قبر سے نکال کر بے ادبی کریں گے۔ خارجیوں کا فتنہ یہیں پر نہیں تھما انھوں نے تو آپ کے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی کفر کا فتویٰ جاری کردیا اور واجب القتل قرار دے دیا۔

خارجیوں کی پہچان شدت پسندی

کارجیوں کی پہچان تھی شدت پسندی۔ وہ مذہب کے معاملے میں بے حد شدت پسند ہوتے تھے اور اعتدال سے بہت دور تھے جبکہ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ اسی شدت پسندی نے ان کے دل میں اسلام کے عظیم بزرگوں کے تعلق سے غلط فہمی پیدا کی ۔ خارجی عام طور پر عبادت گزار اور دین کے پابند ہوتے تھے۔ وہ گناہ کبیرہ کو بھی کفر سمجھتے تھے اور ان کاماننا تھا کہ یہ معاف نہیں ہوسکتا اور اس کے ارتکاب سے آدمی اسلام سے کارج ہوجاتا ہے۔ اسی لئے وہ مسلمانون کوکافر قرار دینے میں جلد بازی کیا کرتے تھے۔ مسلمانوں میں اس قسم کے گروہ بعد میں بھی پیدا ہوتے رہے اور آج بھی ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جو مسلمانوں کو مشرک و بدعتی کہنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں ۔ ایسا کرنے والے صرف اپنے آپ کو اور اپنے گروہ کو ہی پکا موحد اور مسلمان مانتے ہیں ، باقی ساری دنیا کو گمراہ سمجھتے ہیں ۔

آج کے شدت پسنداورگروہِ خوارج

اس وقت جو ساری دنیا میں اسلام کے نام پر اعتدال سے دوری کا راستہ اپنایا جارہا ہے اورقتل و غارت کا سلسلہ چل رہا ہے اس میں بھی وہی خارجیت کی جھلک دکھائی دےتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کا نام لیتے ہیں اور بہت ہی شدت کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں ۔ یہ نماز روزہ اور احکام ااسلام کی پیروی میں دوسروں سے آگے ہیں ۔ کہیں یہ لوگوں سے زبردستی نماز پڑھواتے ہیں تو کہیں داڑھی منڈوانے والوں یا ایک مشت سے کم کرنے والوں کو کوڑے لگواتے ہیں ۔ خواتین کو پردہ کرانے میں اس قدر شدت برتتے ہیں جو اسلام کے حکم سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے کسی بھی شخص کو زبردستی نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کیا۔ کسی کو کوڑے مار کر داڑھی نہیں رکھوایا اور اس انداز میں کواتین سے پردہ نہیں کرایا جس انداز میں یہ شدت پسند گروہ کراتے ہیں ۔ مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام ہوا اور یہاں تمام لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلامی شریعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔

داعش خارجیوں کی جماعت ہے؟

عراق میں جو ان دنوں داعش نامی گروہ ابھرا ہے وہ بھی اسلام کا پابند ہے اور خلافت اسلامیہ کئے قیام کا داعی ہے۔ عام سنی مسلمان بھی خلافت کے حامی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شیعہ مسلمانوں کا قتل کیا جائے یا غیر مسلموں کے اوپر مطالم ڈھائے جائیں ۔ اسلام کی نظر میں کسی بھی جاندار کا قتل سب سے بڑا جرم ہے۔ قرآن کریم میں ایک جاندار کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے آدمی کے احترام کو کعبہ کے احترام سے بڑھ کر قرار دیا ہے۔ ایسے میں داعش کے تعلق سے جو خبریں آرہی ہیں اگر وہ درست ہیں تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ یہ جماعت بھی خارجیوں جیسی جماعت ہے۔ اسلام نے کسی کے بے گناہ کے قتل کی اجازت نہیں دی ہے وہ مسلمان ہو یا گیر مسلم۔ البتہ اس امر کی تصدیق ضروری ہے کہ داعش کے تعلق سے جو خبریں آرہی ہیں وہ درست ہیں ۔

داعش کے خلاف علماءکے فتوے

دولت اسلامی عراق وشام (داعش)نے جس خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے، وہ کس قدر درست ہے؟ کیا وہ قیام خلافت کی مجاز ہے؟ مجوزہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کیا خلیفہ بننے کا اہل ہے؟اس کے اقدامات اسلامی ہیں یا غیر اسلامی؟قتل و خونریزی کی سیاست کیا اسلامی جہاد کا حصہ ہے یا غیر اسلامی حرکت ہے جس کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے؟ داعش کے تعلق سے جو خبریں آرہی ہیں ان میں کتنی سچ ہیں اور کتنی مغرب کی اسلام دشمن میڈیا کی اختراع؟یہ سوالات اہم ہیں اور ان کا جواب تب ہی ٹھیک ٹھیک دیا جاسکتا ہے جب عراق و شام کے محاذ جنگ سے آنے والی خبریں آزاد ذرائع سے آئیں اورایمانداری سے ان کا تجزیہ کیا جائے۔ کبھی خبر آتی ہے کہ داعش جو خود کواسلام دشمنوں کا دشمن کہتا ہے،اس نے مسلمانوں کے خلاف ہی محاذ جنگ کھول رکھا ہے، تو کبھی میڈیا بتاتا ہے کہ اس نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں غیرمسلموں پر عرصہ

¿ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ عام مسلمانوں کی بات کریں تو ایک طبقہ اگر داعش کی مخالفت کر تا ہے تو دوسرا طبقہ اسے مسلمانوں کا نجات دہندہ اور دشمنان اسلام کے خلاف شمشیر برہنہ سمجھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جہاں ایک طرف بعض علماءکی طرف سے اس کے خلاف فتوے آرہے ہیں وہیں عراق و شام کے ان جنگ جووں کے دوش بدوش مغرب کے پروردہ گورے نو مسلم بھی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں ۔ انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کچھ مفتیوں نے داعش کو اسلام دشمن قرار دیا ہے اور اس کے احکام کو اسلام کے خلاف بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام فتوے سرکاری مفتیوں کے ہیں جو اسلام نہیں اپنی حکومت کے مفاد کے تحت جاری ہوتے ہیں ۔ ان کے اس خیال کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال ایسے مفتیوں کی کوئی کمی نہیں جنھوں نے داعش کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں اور اس کی حرکتوں کو اسلام کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان میں سعودی عرب کے سرکاری مفتی شیخ عبدالعزیز الشیخ، مصر کی حکومت کے ماتحت الازہر یونیورسیٹی (قاہرہ) کے مفتی شوقی علام ،ترکی کے ایک اسکالر محمد گورمیزاور امریکہ و یوروپ کی کچھ مسلم تنظیمیں اورشیعہ وسنی علماءشامل ہیں ۔ حالانکہ عالم اسلام کے عام علماءکی طرف سے اب تک خاموشی دیکھی جارہی ہے اور وہ کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ ادھر کچھ دن پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ اسلامی علوم کے مرکز ندوة العلماء(لکھنو)کے ایک عالم دین نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی تائید کی ہے۔

سعودی مفتی نے خارجیوں کے مثل قرار دیا

جن علماءنے داعش اور اس کے خلیفہ کی مخالفت میں فتوے جاری کئے ہیں ان میں سعودی عرب حکومت کے سب سے بڑے مفتی شیخ عبدالعزیز الشیخ کا فتویٰ ہے کہ القاعدہ اور داعش اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور ان کی حرکتیں کسی بھی طرح سے اسلام تعلیمات کے موافق نہیں ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ انتہا پسندی اور جنگ جوئیت اس دنیا کے لئے ہلاکت خیز ہیں اور اس سے انسانیت تباہ ہوتی ہے اور یہ سب کسی بھی طرح سے اسلام کا حصہ نہیں ہے۔ سعودی مفتی نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں انتہا پسندی کو خارجیت کے مماثل قرار دیا تھا جو عہد نبوت کے بعد ظاہر ہوئی تھی اور جس نے خلیفہ اسلام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جان لے لی تھی۔

غور طلب ہے کہ سعودی عرب ابتدا میں داعش کے حامیوں میں شامل تھا لیکن یہ تب تک تھا جب تک کہ وہ شام کے صدر بشر الاسد کے خلاف لڑ رہے تھے مگر اب جب کہ ان کی لڑائی امریکہ اور مغربی ملکوں کے خلاف ہورہی ہے نیز سعودی عرب انھیں اپنے لئے بھی خطرہ ماننے لگا ہے تب سے یہ لوگ اس کی مخالفت کرنے لگے ہیں ۔حالانکہ داعش کو ہتھیار اور روپئے سے مدد کرنے والوں میں امریکہ اور سعودی عرب وغیرہ شامل تھے اور انھیں کی مدد سے وہ آج اس مقام تک پہنچا ہے کہ خود ان کے لئے خطرہ بن جائے۔ سعودی سرکاری مفتی کے فتوے پر نیوز ایجنسی رائٹر کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف فتوے جاری کرانے والی سعودی عرب سرکار خود ہی انتہا پسند وہابی ہے اور اس نے اسلام کے نام پر سخت قوانین کے ذریعے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی عائد ہے ۔یہاں شیعہ مسلمانوں کو اپنی پہچان چھپانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور وہ اپنے طریقے کے مطابق مذہبی ارکان کی ادائیگی بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔ رائٹر کی خبر کے مطابق سعودی عرب کے ہزاروں نوجوان اس وقت داعش میں شا مل ہو کر امریکہ اور اس کے عرب پٹھووں سے جنگ کرنے کے لئے بے چین ہیں ۔

مصری علماءکے فتوے

سعودی عرب کے سرکاری مفتی کے بعد مصر کے سرکاری مفتی نے بھی داعش کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے اور اس کی حرکتوں کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔عالم اسلامی کی مشہور یونیورسیٹی الازہر (قاہرہ) کے مفتی اعظم ابراہیم نعم نے تو باقاعدہ انٹرنیٹ پر اس کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے اور فیس بک کے ذریعے بھی داعش کے خلاف ماحول تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے حال ہی میں العربیہ ٹی وی چینل پر آکر عام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ داعش کی مخالفت کریں کیونکہ وہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف اقدام کر رہا ہے۔ مصر کے ہی ایک دوسرے سرکاری مفتی شوقی علام نے بھی ایک بیان جاری کرکے داعش کے جنگ جووں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور ان کی انتہا پسندی و تشدد کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے داعش کی حرکتوں کو اسلام کے خلاف بتایا اور کہا کہ اس سے اسلام کی شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اور مقامی سطح پر لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترک عالم کا فتویٰ

ترکی حکومت کے مذہبی امور کے ڈائرکٹر محمد گورمیزبھی ان علماءمیں شامل ہین جنھوں نے داعش کی مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق خلافت کے اعلان اور خلیفہ مقرر کئے جانے سے اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ موصوف جس ادارہ  مذہبی امور کے ڈائرکٹر ہیں اس کا قیام اس وقت ہوا تھا جب ترکی میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تھا اور ترکی کو ایک انتہا پسند سیکولر اسٹیٹ قرار دیا گیا تھا۔ گورمیز کے مطابق عیسائیوں اور دوسرے غیرمسلم طبقوں کو تبدیلی مذہب کا حکم دینا یا پھر موت کے گھات اتارنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

داعش کے خلاف جنگ جائز

داعش کے خلاف پورا مغرب متحد ہوچکا ہے اور عرب کے حکمرانوں کو بھی ان کے اندر خطرہ محسوس ہورہا ہے اس لئے سبھی مل کر جنگ کر رہے ہیں ۔ ادھر عراق میں سرکاری اور غیر سرکاری طور زبردست اتھل پتھل جاری ہے اور اس سے عوام کے ساتھ ساتھ علماءبھی متاثر ہورہے ہیں ۔ عراق کے بڑے شیعہ علماءمیں سے ایک آیت اللہ علی سیستانی نے شیعوں سے اپیل کی ہے کہ وہ داعش کے خلاف ہتھیار اٹھائیں اور جنگ کریں ۔ انھوں نے اسے مسلمان کے خلاف مسلمان کی لڑائی قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ شیعہ مسلمانوں کاداعش کے جنگ جووں کے خلاف ہتھیار اٹھانا جائز ہے۔ غور طلب ہے کہ عراق کی موجودہ حکومت خالص شیعہ سیاست دانوں پر مشتمل ہے جس کے خلاف داعش نے جنگ شروع کی تھی اور اسے بڑی تعداد میں مقامی سنیوں کی حمایت ملی تھی۔ اس طرح سے عراق میں اسے شیعہ۔سنی جنگ کی شکل میں بھی دیکھا گیا تھا۔ ایران سرکار جو کہ ہمیشہ شیعہ، سنی اتحاد کی علمبردار رہی ہے اس نے بھی اپنے دیرینہ حریف امریکہ اور یوروپی طاقتوں سے ان جنگ جووں کے خلاف ہاتھ ملا لیا ہے۔ اس پس منظر میں آیت اللہ سیستانی کے فتوے کی الگ اہمیت ہے۔

داعش کی مخالفت اور حمایت

داعش کی مخالفت کرنے والوں میں رابطہ عالم اسلامی کے کچھ ممالک شامل ہیں ۔ واضح ہوکہ اس عالمی ادارے میں ۷۵ مسلم ممالک شامل ہیں مگر سب نے اس کی مذمت نہیں کی ہے۔ یونہی انگلینڈ کے ایک سو شیعہ وسنی اماموں نے اس کے خلاف آواز بلند کیا ہے۔ امریکہ کی ایک مسلم تنظیم The Council on American-Islamic Relations(CAIR) نے داعش کے احکام کو حقوق انسانی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ، مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے خلاف متحد ہوں ۔ ان تنظیموں اور علماءکے علاوہ بھی مسلمانوں کے اندر سے داعش کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے مگر عام مسلمانوں کے اندر کوئی بڑا ردعمل نہیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ان سے صرف اس لئے ہمدردی رکھتا ہے کہ یہ لوگ امریکہ اور مغرب کی استعماری اور مسلم دشمن قوتوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ۔ ان کے ذہن میں ہی سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ میڈیا میں جو کچھ آرہا ہے وہ کتنا درست ہے؟ لوگوں نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ طالبان یا صدام حسین کے خلاف میڈیا جھوٹ بولتا رہا ہے۔ مغرب کے مسلمانوں میں ایک بڑا طبقہ داعش کی حمایت میں آرہا ہے اور گورے جنگ جووں میں سے بعض محاذ جنگ پر پہنچ چکے ہیں ۔ عرب ملکوں میں اپنے حکمرانوں کے خلاف بے چینی پائی جاتی ہے اور یہاں کے عوام کا ایک طبقہ داعش سے نہ صرف ہمدردی رکھتا ہے بلکہ ہزاروں مسلم نوجوان جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

 



⋆ غوث سیوانی

غوث سیوانی
غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس اسلامی مدارس کا علم …