عالم اسلامملی مسائل

کیا امت مسلمہ ایک جسد واحد نہیں؟

عالم نقوی

یمن، سعودی عرب، ایران، سیریا، لبنان،  بحرین،  عراق، الجیریا، لیبیا، نائجیریا اور پاکستان و افغانستان  وغیرہ کے حالات میں نیا کیا ہے ؟

 مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ،   جدال باہم  اور برادر کشی سے  کبھی خالی نہیں رہی۔گزشتہ ہزار ڈیڑھ ہزار برسوں کے دوران  یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے مسلمانوں کو اتنا  نقصان نہ پہنچایا  ہوگا جتنا خود  انہوں نے آپس میں لوٹ مار اور خونریزی کے ذریعے  ایک دوسرے کا نقصان  کیا ہے۔

آج بھی سیریا سے یمن تک اور بحرین سے نائجیریا تک قاتل اور مقتول، ظالم اور مظلوم دونوں مسلمان ہی تو ہیں !

یمن کی جنگ میں  امریکہ، نہ صرف سعودی فوجی گٹھ بندھن کو ہتھیاروں کی سپلائی  کررہا  ہے بلکہ’حوثی باغیوں ‘ کے خلاف  سی آئی اے کے ذرائع سے حاصل کردہ خفیہ معلومات بھی  فراہم کر تا رہا ہے۔ امریکہ میں سرگرم ایک اسرائلی سیکیورٹی کنٹریکٹر ابراہم گولن نے  اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا ہے   کہ سعودی فوجی گٹھ بندھن نے انہیں یمن میں ٹارگٹ کلنگ کا ٹھیکہ بھی دے رکھا ہے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ ویسی ہے جیسی عراق و پاکستان  وغیرہ میں ’کرائے کے امریکی فوجیوں ‘ کے ذریعے عرصہ دراز سے جاری ہے !

گولن کی کمپنی  ’اسپئیر آپریشن گروپ ‘ کو یمن کی سیاسی پارٹی ’الاصلاح  کے لیڈر انصاف علی مایو سمیت سبھی خاص لوگوں کو راستے سے ہٹائے جانے کے احکام بھی ملے تھے۔ ان کی کارروائی میں انصاف علی مایواتنے  زخمی ہو گئے تھے کہ انہیں مردہ سمجھ لیا گیا  تھا لیکن وہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ روپوش ہو کر حکومت مخالف  اپنی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گولن کی کمپنی کے پرائیوٹ فوجیوں نے یمن کے متعد د اہم لیڈروں کو قتل کیا ہے۔ اسپئیر آپریشن گروپ کو ان کاموں کے لیے پندرہ لاکھ ڈالر ماہانہ مل رہے تھے۔ مگر اب وہ اپنی کمپنی فروخت کرنا چاہتاہے۔

ایک یمنی ویب سائٹ کی مانیں تو فی الوقت حقیقت یہ ہے کہ سعودی فوجی گٹھ بندھن  امریکی امداد کے باوجودیمن میں شکست کے دہانے پر ہے۔ یمنی ویب سائٹ ’نجم الثاقب ‘نے ’’یمن کے خلاف جارحیت کی آخری سانسیں‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ سعودی اور اماراتی فوجیں  بھاری نقصان اٹھانے کے بعد ’الحدیدا‘محاذ پر یمنی فوجوں کے گھیرے میں آچکے  ہیںاور قریب ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں یا مارے جائیں۔ صرف اسی ایک محاذ پر ۱۲۲۴ سعودی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ جارح فوجی گٹھ جوڑ کی تین سو سے زائد فوجی   گاڑیاں  اور  پانچ اسلحہ گودام  تباہ کیے جا چکے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ یہ سعودی فوجی گٹھ بندھن کے یہ فوجی اگر آگے بڑھتے ہیں تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا اور اگر پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے ہیں  تو انہیں ہر حال میں ہتھیار ڈالنے پڑیں گے۔

  دوسری طرف غزہ میں اسرائل اپنی  ننگی  جارحیت  جاری رکھنے اور معصوم فلسطینیوں کے قتل عام  کرتے رہنے کے باوجودنہ فلسطینیوں کے حوصلے پست کر سکا ہے نہ حماس کو ایسا نقصان پہنچا سکا ہے کہ وہ  صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرتے رہنے کی طاقت و ہمت سے مھروم ہو جائےجس کے نتیجے میں اسرائل کے وزیر جنگ لبر مین کو مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے جو فی الواقع صہیون مخالف جیالوں کی ایک بڑی سیاسی   جیت  سے کم نہیں۔البتہ یہ بھی درست ہے کہ حماس کا نصب العین محض کسی اسرائلی وزیر کا استعفیٰ نہیں غزہ سمیت پورے فلسطین کی آزادی اور  غاصب و ظالم  صہیونی ریاست کا  مکمل خاتمہ ہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ حماس قیادت دیگر مسلمانوں کی طرح بغلیں بجانے کے بجائے یہی کہہ رہی ہے کہ ان کی جد و جہد اسرائل کے خاتمے اور  پورے فلسطین کی آزادی کامل تک جاری رہے گی ان شا ء اللہ !

لیکن سوال یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا کیا کر رہی ہے ؟ایران اور ترکی جیسی طاقتیں برما (میانمار ) اور چین کے خلاف کیا کر رہی ہیں جنہوں نے روہنگیا اور ایغور مسلمانوں کا صرف جینا ہی دوبھر نہیں کر رکھا ہے بلکہ ان کا پہلا اور آخری ہدف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہی نہ رہیں۔ انہیں زندہ رہنا ہے تو اسلام کو چھوڑ دیں، غیر مسلم ہو کر رہیں !خود وطن عزیز ہندستان کے بعض علاقوں میں پچھلے پانچ برسوں سےمسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے رکوانے کے لیے ایران اور ترکی وغیرہ بڑے مسلم ملکوں  نے کیا کیا ہے؟کیا مسلمان ایک جسد واحد نہیں؟ اور خود بھارت کے نام نہاد مسلم رہنما  مسلمانوں کو خوفزدہ کیے جانے اور شعائر اسلامی پر مسلسل حملوں کے خلاف کیا کر رہے ہیں؟

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close