عالم اسلاممنطق و فلسفہ

کیا معراج کے وقت مسجد اقصٰی موجود نہیں تھی؟

ملحدین کا اعتراض اور اس کا مسجد اقصٰی کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور آرکیالوجیکل حقائق سے جواب۔ملحدین کا اعتراض اور اس کا مسجد اقصٰی کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور آرکیالوجیکل حقائق سے جواب۔

 ڈاکٹراحید حسن

ملحدین کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کے وقت مسجد اقصٰی موجود ہی نہیں تھی اور قرآن کا بیان نعوذ بااللہ غلط ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصٰی سے معراج کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ اس پہ ایک سوال ہے کہ اگر اس وقت مسجد اقصی موجود نہیں تھی پر قرآن نے سفر معراج میں مسجد اقصی کا ذکر کیا تو اس وقت کسی ملحد یا کافر نے قرآن پر یہ اعتراض کیوں نہیں اٹھایا۔

معراج کے منکرین کہتے ہیں کہ مدینہ کو مکہ والے اقصٰی کہتے تھے اور یہ سفر مدینہ کی طرف تھا۔ اس پہ ایک سوال ہے تو جو بیت المقدس مدینہ سے بھی دور تھا اس کو کیا کہتے تھے۔ ہر دور کی جگہ کو اقصٰی کہتے تھے تو پھر ایران کو اقصٰی کیوں نہیں کہتے تھے روم کو اقصٰی کیوں نہیں کہتے تھے۔

قدیم دور میں موجودہ پورے بیت المقدس یعنی قدیم یروشلم کو اقصٰی کہا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شہر میں معراج کی رات کسی مقام پہ انبیاء کے ساتھ نماز ادا کی جس کو قرآن نے مسجد اقصٰی قرار دیا ۔ لہذا اگر مسجد اقصٰی اپنی موجودہ حالت میں نہیں بھی تھی بلکہ اپنے ان کھنڈرات پہ قائم تھی تو بھی قرآن کا بیان مسجد اقصٰی کا غلط نہیں ہے کیونکہ پورے یروشلم کو عرب اقصٰی کہتے تھے اور اسی کے ایک مقام پہ شب معراج کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انبیاء کو نماز کی امامت کرائی۔ لہذا قرآن کا بیان مکمل طور پہ درست ہے۔

یہ پڑھیں 

Originally, all of Jerusalem was known as the masjid al-aqsa, or "distant sanctuary,” but the term eventually came to be applied to the main mosque in the city. It is not certain when the first mosque was built on this site – the first mosque in Jerusalem, the Mosque of Umar, was built in 638 and may have stood here. In 680, the Christian pilgrim Arculf described a mosque that appears to be on this site.
The earliest mosque that was certainly built here was constructed by the Umayyads around 710 AD, only a few decades after the Dome of the Rock. Under Abbasid rule, it reached its greatest extent by the end of the 8th century with 15 aisles.
http://www.sacred-destinations.com/israel/jerusalem-al-aqsa-mosque

یہ انگلش پیراگراف کہتا ہے کہ ابتداء میں تمام یروشلم یعنی بیت المقدس کو اقصٰی کہا جاتا تھا اور بعد میں یہ اصطلاح صرف اس شہر کی ایک مسجد مسجد اقصٰی کے لیے استعمال ہونے لگی جس کو موجودہ حالت میں مروان بن عبدالمک  نے تعمیر کیا لیکن اس کی بنیاد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رکھ چکے تھے۔ لہذا قدیم دور میں موجودہ پورے بیت المقدس یعنی قدیم یروشلم کو اقصٰی کہا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شہر میں معراج کی رات کسی مقام پہ انبیاء کے ساتھ نماز ادا کی جس کو قرآن نے مسجد اقصٰی قرار دیا ۔ لہذا اگر مسجد اقصٰی اپنی موجودہ حالت میں نہیں بھی تھی بلکہ اپنے ان کھنڈرات پہ قائم تھی تو بھی قرآن کا بیان مسجد اقصٰی کا غلط نہیں ہے کیونکہ پورے یروشلم کو عرب اقصٰی کہتے تھے اور اسی کے ایک مقام پہ شب معراج کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انبیاء کو نماز کی امامت کرائی۔ لہذا قرآن کا بیان مکمل طور پہ درست ہے۔

ایک عیسائی زائر آرکف نے اسی جگہ پہ ایک مسجد کو بیان کیا جہاں پہ آج مسجد اقصٰی قائم ہے اور یہ بات آج تک تاریخ میں معلوم نہیں کہ اس مقام پہ پہلی مسجد کب تعمیر کی گئی لیکن کئی اسلامی ذرائع کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے ہی یہ جگہ مقدس تھی یا اس سے بھی پہلے سے

یہ مسجد آج جس جگہ پہ واقع ہے اسے کوہ معبد یا Mount temple کہتے ہیں اور مسلمان اسے حرم شریف کہتے ہیں۔ اس جگہ کو رومیوں کی طرف سے مقرر یروشلم کے یہودی بادشاہ ہیروڈ نے 20 قبل مسیح میں وسعت دی لیکن اس کی مقدس حیثیت بہت قدیم وقت سے ہے۔

بیس قبل مسیح سے پہلے اس کی تاریخ معلوم نہیں لیکن اسلامی اور یہودی ذرائع کے مطابق یہ جگہ پہلے حضرت ابراھیم علیہ السلام پھر ان کی اولاد میں سے حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام حضرت سلیمان علیہ السلام اور پھر ان کے بعد کے انبیاء کی عبادت گاہ رہی۔

لہذا اس جگہ کی مقدس حیثیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت یعنی آج سے چار ہزار سال قبل سے مسلم ہے اور یہ جگہ کئی انبیاء کا معبد رہی۔ لہذا  اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے وقت اپنی موجودہ حالت میں نہیں بھی تھی تو بھی اس کے مسجد ہونے اور اس کے وجود سے اقرار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پہلے موجود مسجد کو رومیوں نے تباہ کر دیا تھا اور اس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوبارہ رکھی گئی بنیادوں پہ مروان بن عبد الملک نے دوبارہ تعمیر کرایا لہذا مسجد کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے وقت اپنی موجودہ حالت میں نہ ہونے سے واقعہ معراج اور قرآن کو بالکل غلط نہیں کہا جا سکتا۔

1930ء میں مسجد اقصٰی کی تعمیر نو کے درمیان اس سے حاصل ہونے والی لکڑی پہ کی گئی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ تحقیق نے انکشاف کیا کہ استعمال شدہ لکڑی نویں صدی قبل مسیح یا اس سے بھی پرانی ہے جو لبنان اور سائپرس سے لائی گئی تھی۔ یہ بات پھر ظاہر کرتی ہے کہ یہاں مسجد اقصٰی بہت قدیم وقت سے موجود تھی جس کو رومیوں نے تباہ کر دیا تھا اور اسی مسجد کی موجودہ جگہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پہ روانہ ہوئے اگرچہ یہ اس وقت اپنی موجودہ حالت میں نہیں تھی۔

لہذا یہ مسجد بعد کی تعمیر نہیں بلکہ بہت قدیم ہے ۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے مصر کی طرف ہجرت کی تو اس کی نگرانی مقامی آبادی کے حوالے کرکے گئے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروکار تھی۔ 586 یا 587 قبل مسیح میں بابلیوں نے یروشلم کی فتح کے بعد اس مسجد کو تباہ کردیا اور مقامی یہودی آبادی کو بابل کی طرف جلاوطن کردیا۔ بعد میں جب ایرانیوں نے بابل پہ غلبہ حاصل کیا تو اس مسجد کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔ اس کے بعد 70 عیسوی میں جب یروشلم یعنی بیت المقدس کی یہودی آبادی نے رومیوں کے خلاف بغاوت کی تو رومیوں نے ایک بار پھر اس مسجد کو شہید کردیا اور اس کو فضول مادوں کے ضائع کرنے کی جگہ میں تبدیل کر دیا یہاں تک کہ 636ء میں مسلمانوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں بیت المقدس کو فتح کیا اور ایک بار پھر مسجد کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا گیا۔ لہذا یہ بالکل نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مسجد پہلے سے موجود ہی نہیں تھی۔

حوالہ جات:

1:Hartsock, Ralph (Aug 27, 2014). "The temple of Jerusalem: past, present, and future”. Jewish Culture and History. 16 (2): 199–201.doi:10.1080/1462169X.2014.953832.
2:Michigan Consortium for Medieval and Early Modern Studies (1986). Goss, V. P.; Bornstein, C. V., eds. The Meeting of Two Worlds: Cultural Exchange Between East and West During the Period of the Crusades. 21. Medieval Institute Publications, Western Michigan University. p. 208.ISBN 0918720583.

3: N. Liphschitz, G. Biger, G. Bonani and W. Wolfli, Comparative Dating Methods: Botanical Identification and 14C Dating of Carved Panels and Beams from the Al-Aqsa Mosque in Jerusalem, Journal of Archaeological Science, (1997) 24, 1045–1050.
4:  "Second Temple-era mikveh discovered under Al-Aqsa mosque”. Israel Hayom. Retrieved June 29, 2012
5: http://www.visitmasjidalaqsa.com/islamic-history-of-al-masjid-al-aqsa/
6: http://www.islamicparty.com/alaqsa/chapone.htm
7: http://lostislamichistory.com/the-al-aqsa-mosque-through-the-ages-1/
8: http://www.sacred-destinations.com/israel/jerusalem-al-aqsa-mosque
9:https://www.dailysabah.com/

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close