عالم اسلاممذہبی مضامین

ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں توہین آمیز خاکوں کی نمائش کا اعلان

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

مذاہبِ عالم کا منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تجزیہ بتاتا ہے کہ اسلام ہی امن و امان  کا نقیب اور سلامتی و آشتی کا علم بردار ہے ؛اسی لیے ہرمسلمان کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کرام قابل احترام اور لائق تعظیم ہیں، یہی نہیں؛بلکہ ان پراور ان کی کتابوں پر ایمان لانا بھی لازم و ضروری  ہے۔ اسلام رواداری کا اس درجہ داعی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو   کافروں، مشرکوں حتی کہ ان کے معبودوں کو بھی بلا وجہ برا کہنےسےصاف طور پر منع کرتا ہے اور زندگی کے ہر موڑپراعتدال و عدم تشدد کا سبق سکھاتاہے؛لیکن جو قومیں اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتی ہیں وہ  مختلف حربوں سے اسلام کو بدنام کرنے، اس کے مبنی بر فطرت قوانین پر اعتراضات کی بوچھار کرنے  اوردنیا کے سامنے اس کی شبیہ کو مسخ کرنے کی ہر آن کوشش کرتی رہتی  ہیں، اسی مقصدبرآری کے لیے کبھی دہشت گردی کا الزام لگایاجاتاہے، کبھی توہین آمیز فلمیں بنائی جاتی ہیں، کبھی ایسے گیمز تیارکیے جاتے ہیں ؛جن سے شعائر اسلام کا استہزاء   واستخفاف ہوتا ہے  اور ان سب کے علاوہ اس عظیم شخصیت کی شان میں گستاخی کے ذریعہ  انسانیت نما درندگی کا وہ   جیتا جاگتا ثبوت پیش کیا جاتا ہے  جو مغرب کی فکر گستاخ کا غماز اور مادر پدر آزادی کا عکاس  ہوتا ہے۔

اسلام کی توہین؛ ایک جرمِ مسلسل:

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کوئی وقتی مسئلہ نہیں کہ اس پر مسلمان اپنے غم وغصہ کا اظہار کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرالیں اور اسے ہی کافی سمجھیں؛ بلکہ اگر صرف گذشتہ چند برس کی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ توہین ِاسلام غیرمسلموں کا ایک مسلسل رویہ ہے، جس کا ارتکاب غیر مسلم ایک تسلسل سے کررہے ہیں اور اس کو کافر حکومتیں لگاتار تحفظ عطا کرتی ہیں۔ ا س جرم کے مرتکبین ان کی آنکھ کا تارا اور ان کی عنایتوں کا مرکز ومحور ٹھہرتے ہیں۔

ان واقعات کے بارے میں حسب ِذیل اشارے اس مسلسل رجحان کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے تدارک کے لئے اُمت ِمسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنا، اس کی وجوہات تلاش کرنا اور اس کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے :

80 اور 90 کی دہائیوں میں سلمان رشدی کی شیطانی آیات اور تسلیمہ نسرین کے ناولوں کی اشاعت او رمغرب میں ان کی ریکارڈ تعداد میں فروخت، بعد ازاں ان دونوں ملعون شخصیات کو مغربی حکومتوں کا سرکاری پروٹوکول پیش کرنا اور ان کے گرد حفاظتی حصار قائم کرکے مقبولِ عام شخصیتوں کا درجہ دینا۔

جنوری 2000ء میں انٹرنیٹ پر ایک حیاباختہ لڑکی کے سامنے مسلمان نمازیوں کو اس حالت میں سجدہ میں گرا ہوا دکھایا گیا کہ وہ اس کی عبادت کررہے ہیں۔

ستمبر 2000ء میں انٹرنیٹ پر قرآن کی دو جعلی سورتیں ‘دی چیلنج’کے عنوان سے شائع ہوئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہ مظلوم سورتیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن سے نکال باہر کیا ہے۔ معاذاللہ

اکتوبر 2001ء میں ‘دی رئیل فیس آف اسلام’ نامی ویب سائٹ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب چھ تصاویر کے ساتھ ہتک آمیز مضامین شائع کئے گئے، جس میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے یہ تاثر اُبھارا گیا کہ مسلمان اپنے سوا تمام دیگر انسانوں بالخصوص یہود ونصاری کوواجب القتل سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر منسوب کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آپ دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گردی کا سبب ہیں۔ نعوذباللہ

نومبر 2004ء میں ہالینڈ کے شہر ہیگ میں Submission نامی فلم میں اسلامی احکامات کا مذاق اُڑایا گیا اور برہنہ فاحشہ عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریرکی گئیں۔ قرآنی احکام کو ظالمانہ قرار دینے کی منظر کشی کرتے ہوئے مغرب میں بسنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس دین سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے نتیجے میں وہاں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے۔ آخر کار ایک مراکشی نوجوان محمد بوہیری نے اس گستاخِ قرآن ‘وان گوغ’ کو اس کے انجام تک پہنچایا۔

یادر ہے کہ اس فلم کا سکرپٹ نائیجریا کی سیاہ فام مرتد عورت عایان ہرشی علی نے لکھا تھا، جب یہ عورت ہالینڈ میں سکونت پذیر ہوئی تو مسلمانوں نے اس کی سرگرمیوں پر احتجاج کیا، آخر کار ڈچ حکومت نے ا س عورت کے تحفظ کے لئے اسے سرکاری پروٹوکول فراہم کردیا۔

جنوری 2005ء میں فُرقان الحق نامی کتاب شائع کرکے اس کو مسلمانوں کا نیا قرآن باور کرانے کی مذموم مساعی شروع کی گئیں۔ 364 صفحات پر مشتمل ا س کتاب میں 88آیات میں خود ساختہ نظریات داخل کئے گئے جس کی قیمت 20 ڈالر رکھی گئی۔

مارچ 2005ء میں امینہ ودود نامی عورت نے اسریٰ نعمانی کی معیت میں امامت ِزن کے فتنے کا آغاز کیا اور مغربی پریس نے اس کو خوب اُچھالا۔

مئی 2005ء میں نیوز ویک نے امریکی فوجیوں کی گوانتا ناموبے میں توہین ِقرآن کے 50 سے زائد واقعات کی رپورٹ شائع کی جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔

ستمبر 2005ء میں جیلانڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار میں توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا گیا۔ جس کے بعد وہاں کے کئی جرائد نے اُنہیں دوبارہ شائع کیا۔ بعد ازاں فروری 2006ء میں کئی مغربی اخبارات نے ان توہین آمیز کارٹونوں کو اپنے صفحہ اوّل پر شائع کیا۔

نبی رحمت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا یہ سلسلہ ان چند سالوں پر محیط نہیں بلکہ دشمنانِ اسلام نے آپ کی شانِ رسالتؐ کو ہمیشہ اپنی کم ظرفی اور کمینگی کے اظہار کے لئے نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ قرونِ وسطیٰ میں جان آف دمشقی (700 تا 754ئ) وہ پہلا نامراد شخص ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرالزامات واتہامات کا طومار باندھا اور بعد ازاں اکثر وبیشتر مستشرقین نے انہی الزامات کو دہرایا۔ (ملخص ازتوہین آمیز خاکے ؛ اسلام اور عصری قانون)

ہالینڈ پارلیمنٹ کاا علان اور مسلمانوں کا امتحان :

تاریخ کاہر طالب علم بہ خوبی  جانتا ہے کہ اسلام دشمنی میں ہالینڈ سب سے آگے ہے جہاں فی الوقت اہانت آمیز کارٹونوں کے مقابلہ کا اعلان کیا جاچکاہے۔ ہالینڈ اس سے پہلے بھی اس قسم کی شرارت کرچکا ہے(جیساکہ درج بالا سطور سے معلوم ہوا)۔ وہاں کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت بھی ان حرکتوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ ہالینڈکی فریڈم پارٹی کے سربراہ ملعون گیرٹ وائلڈرز کی جانب سے توہین آمیز خاکے شائع کرنےکا اعلان کیاگیا؛جس پر کسی بھی مسلمان ملک کی جانب سے احتجاج نہیں کیا گیااور نہ امکان بھر مذمت کی کوشش کی گئی ؛جب کہ قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اس  مذموم اعلان کے خلاف احتجاج کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ اور حضورؐ سے محبت کا تقاضہ ہے، مسلمان کیلئے آقائے دوجہاں کی ناموس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ ہالینڈ پارلیمنٹ کے رکن نےگستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کرکے پوری امت کی غیرت کو للکارا ہے اور دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا امتحان لیاہے۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ سےمحبت و عقیدت  اسلام کا جزہے، ان کی فرمانبرداری واطاعت تکمیل ایمان کا سبب ہے اور ان سے وفاداری وشیفتگی اسلام کی اساس اور اہلِ اسلام کی شناخت ہے، ناموسِ رسالت کا تحفظ اورعظمتِ رسول کا تصور اربوں مسلمانوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے والا وہ ناقابلِ تسخیر جوہر ہے جو فدائیانِ نبوت اور شیدائیان ِرسالت کے نزدیک ایمانِ کامل کی بنیادی علامت سمجھا جاتا ہے؛جبکہ یہی دولت ِگراں مایہ اور سب سے بڑھ کر قیمتی سرمایہ فریب خوردگانِ مغرب کے یہاں محض مریضانہ جذباتیت ہے؛یہی وجہ ہے کہ آج اسلام سے عناد، تعلیمات ِ اسلامی سے نفرت، مسلم ثقافت کا تمسخر، مسلمانوں کو محکوم رکھنے اور ان پر ہر طرح کی بالا دستی قائم کرنے کا جنون، مسلم ممالک کے مادی وسائل کا استحصال، مسلم نوجوانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے اور ان کو عملی ارتداد کی راہ پر ڈالنے کی شبانہ روز کوششیں، مسلم ممالک کے سیاسی استحکام کے خلاف مکروہ سازشیں اور ان جیسے بے شمار ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے دشمنانِ اسلام، نہ صرف مسلمانوں کاجانی ومالی اتلاف کر رہے ہیں بلکہ زبردست پیمانہ پر ان کے دینی اعمال، تہذیبی اقدار اور مذہبی کردار کو بھی ملیامیٹ کر رہے ہیں۔

جیساکہ سابقہ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ  حالیہ کچھ عرصہ سے اعداء اسلام نے اپنی یہ پالیسی بنا رکھی ہے کہ آزادی اظہار اور حریتِ رائے کی آڑ میں نبی اکرم ﷺ کی ذات وصفات کو نشانہ بنا یا جائے، آپ کی بلند پایہ شخصیت کو مجروح کرنے کے لئے نت نئی سازشوں کا جال بُنا جائے، توہین آمیز کارٹونوں، فلموں، تصویروں، کتابوں اور اشتھاروں کی اک باڑ لگائی جائے اور پوری امت ِ مسلمہ کے خلاف زبردست قسم کی جارحانہ مہم چھیڑ کر انہیں، اشتعال انگیز ی، قانون شکنی اور آزادانہ احتجاج پر مجبور کیا جائے اور نتیجۃ ً بقائے امن، تحفظ قانون اور ان جیسی دل فریب اصطلاحات کو بنیاد بنا کر خانہ جنگی، قتل وغارت گری اور قید واسیری کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا جائے ؛ تاکہ مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پِس کر رہ جائیں کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

قابلِِ غور بات:

یوں تو محسن کشی کی بدترین مجرمانہ حرکتوں اور گستاخانہ کار روائیوں سے انسانیت کا دامن ہمیشہ داغ دار رہا ہے، بد نصیب لوگوں نے تو اپنے والدین تک پر ستم ڈھائے، اپنے ہمدردوں، خیر خواہوں، استاذوں، اور رہنمائوں کے ساتھ بھی دشمنوں جیسا سلوک کیا، تلاش وجستجو سے ایسی بے شمار مثالیں ہر قوم ومذہب میں مل جائیں گی، اس لحاظ سے پیغمبر ِ اسلام ﷺ کی شخصیت ان ناہنجاروں اور خدا بیزاروں کا پہلا نشانہ اور اولین ہدف نہیں ہے۔ چناں چہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار لکھتا ہے:”بہت کم لوگ اتنے بدنام کئے گئے جتنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کیا گیا، قرونِ وسطی کے عیسائیوں نے ان کے ساتھ ہر الزام کو روا رکھا ہے۔ "

A History of Medievalکا مصنف جے جے سانڈرز لکھتا ہے:

"اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیغمبر عربی کو عیسائیوں نے کبھی ہمدردی اور توجہ کی نظر سے نہیں دیکھا، جن کے لئے حضرت عیسیٰ کی ہستی ہی شفیق و آئیڈیل رہی ہے۔ صلیبی جنگوں سے آج تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو متنازعہ حیثیت سے ہی پیش کیا جاتا رہا او ران کے متعلق بے سروپا حکایتیں او ربے ہودہ کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔ "(ملخص ازتوہین آمیز خاکے ؛ اسلام اور عصری قانون)

کرنے کے چندضروری  کام:

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ان مواقع پر کیا کرنا چاہئے؟ تاکہ صحیح معنی میں ہم شریعت کے احکام کے مطابق ناموس رسالت کادفاع کرسکیں، اگرہم واقعۃً مسلمان ہیں اور حدو د شریعت میں رہ کرتاج نبوت ورسالت کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں توہمیں مندرجۂ ذیل امور کی طرف خاص توجہ دینی چاہئےجو مولاناعبدالرحیم صاحب فلاحیؔ نے قدرے تفصیل کےساتھ ذکر فرمائے ہیں :

(۱)اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی اورغیراسلامی نظریات، افکار، خیالات، عادا ت اطوار، تہذیب وتمدن، معاشرت، سیاست وغیرہ سے کلی اجتناب کرناہوگا، خاص طورپر فیشن پرستی اورمادی افکارکوپوری ہمت اوراستقلال کے ساتھ چھوڑناہوگااورسادگی گذار نی ہوگی، یہی سب سے ـپہلے کرنے کے کام ہے؛مگراسے چھوڑکرامت دیگرغیرشرعی طریقوں کواختیار کررہی ہے۔

(۲)عالمی طور تمام مسلمانوں کو متحدہ ہو کرU.N.O.کوایسے قانون کے وضع کرنے پر مجبور کرنا ہوگا، جس میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت کرنے والوں کو قتل کی سزا دی جائے۔

(۳)یورپ جو ان تمام غلیظ وناپاک حرکتوں کی پشت پناہی کررہا ہے، اسے مندرجہ ذیل طریقوں سے سبق سکھایا جائے:

(الف)مسلمان مغربی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔

(ب)ڈالر، یورواورپاؤنڈکے ذریعہ معاملہ نہ کرکے اس کی ویلیو کو کم کرنا چا ہئے۔

(ج)پورے عالم میں دین اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح تعارف پیش کرنا چاہئے۔

(د)اپنے علاقوں میں ایسی کمیٹیاں بنانی چاہئے جوبائیکاٹ پرلوگوں کوآمادہ کرے اور امر بالمعروف اورنہی عن المنکرکرے۔

(۴)ہر گھر میں اسلام اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سیرت کی تعلیم کو عام کرنا چاہئے۔

(۵)نماز کا مکمل اہتمام کرنا چاہئے۔

(۶)زندگی کے ہر موڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو معلوم کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے۔

(۷)بدعات وخرافات سے اجتناب کرنا چاہئے۔

(۸)صحابہ سے محبت اوران کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

(۹)علماء سے محبت اورہردنیوی ودینی معاملہ میں ان سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔

(۱۰)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو پڑ ھ کر اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے۔

(۱۱)لوگوں کو سیرت سے وابستہ کرنے کے لیے سیرت کے عنوان پرمسابقات رکھنے چاہئے۔

غرض یہ کہ ہم سب پراپنی استطاعت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع لازم ہے۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close