عالم اسلام

ہر مسلمان شب قدر میں متحد ہونے کا فیصلہ کرے

ہر زخم کے لئے اپنی مسجد میں دس راتیں گذار دو

حفیظ نعمانی

جس طرح سال کے 11 مہینوں کے مقابلہ میں رمضان المبارک کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح ماہ مبارک کے دو عشروں کے مقابلہ میں آخری عشرہ کو کئی اعتبار سے فضیلت حاصل ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ رمضان کے آخری عشرے میں عبادت میں وہ مجاہدہ کرتے تھے جو دو عشروں میں نہیں کرتے تھے ان کی ہی ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا شب قدر کو تلاش کرو آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں۔

قرآن عظیم میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن کا نزول ماہِ رمضان میں ہوا۔ قرآن مجید میںہی ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن کا نزول جس رات میں ہوا وہ رمضان المبارک کی شب قدر کی راتوں میں سے کوئی رات تھی۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں  سے کوئی رات شب قدر ہوتی ہے۔ بعض صحابہ کرامؓ کا کہنا ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کی 27 ویں شب ہوتی ہے۔ زرا بن حبش جو اکابر تابعین میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا کہ آپ کے دینی بھائی عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی سال بھر کی راتوں میںکھڑا ہوکر عبادت کرے گا اسے شب قدر نصیب ہو ہی جائے گی۔ یعنی شب قدر سال کی ایک رات تو ہوتی ہی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ بھائی ابن مسعود پر خدا کی رحمت ہو ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سال کی کسی ایک رات کی عبادت پر ہی قناعت نہ کریں ورنہ ان کو معلوم تھا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ اور زیادہ تر کا خیال ہے کہ 27 ویں شب ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ وہ بلاشبہ 27 ویں شب ہی ہوتی ہے اور انہوں نے قسم کے ساتھ انشاء اللہ بھی نہیں کہا۔

زرا بن حبش کہتے ہیں کہ اے ابوالمنذر یہ آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں یہ بات اس نشان کی بناء پر کہتا ہوں کہ جس کی ہم کو رسول اللہؐ نے خبر دی تھی اور وہ یہ کہ شب قدر کی صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتیں۔

رسول اللہؐ نے کبھی تو یہ فرمایا کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو کبھی عشرئہ اخریہ کی پانچ طاق راتوں میں سے چار یا تین راتوں کے لئے فرمایا۔ کسی خاص رات کا آپؐ نے کبھی یقین نہیں فرمایا۔ لیکن بہت سے اصحابؓ کا تجربہ یہ ہے کہ وہ 27 ویں شب ہوتی ہے۔ حضور اکرمؐ نے کسی تاریخ پر انگلی رکھ کر اس لئے نہیں فرمایا کہ پھر لوگ بس اسی تاریخ کو رات بھر عبادت کریں گے اور باقی راتوں کی برکتوں سے محروم رہیں گے۔

حضرت عائشہؓ نے ایک بار دریافت کیا کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ آج شب قدر ہے تو میں اس رات میں اللہ سے کیا مانگوں؟ آپؐ نے فرمایا کہ یہ عرض کرو۔ ’’اللہم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی‘‘ (اے مرے اللہ تو بہت معاف کرنے والا اور بڑا کریم ہے اور معاف کرنا تجھے پسند ہے پس تو میری خطائیں معاف فرما دے)

راقم السطور کو ایک سال 27 ویں شب مدینہ منورہ میں نصیب ہوئی اور ایک سال مکہ معظمہ میں اور دونوں جگہ یہ محسوس ہوا کہ امام صاحبان یہ مان کر قیام اللیل پڑھا رہے ہیں جیسے ان کو یقین ہے کہ شب قدر آج ہی ہے۔ مسجد نبویؐ میں ایک بجے رات سے کچھ پہلے تہجد جسے قیام اللیل کہا جاتا ہے شروع ہوئی عام راتوں میں دو بجے سے تین بجے کے درمیان یہ نماز ہوتی ہے لیکن 27  ویں شب کو آٹھ رکعت پڑھنے میں ڈھائی گھنٹے لگے۔ وہ جو ایک حدیث ہے کہ حضوؐر نے رکوع کیا تو ایسا معلوم ہوا کہ سمع اللہ لمن حمدہ کہنا بھول گئے۔ پھر جب سجدہ کیا تو پھر یہ محسوس ہوا کہ اٹھنا بھول گئے آٹھ رکعت کی اس نماز نے وہ حدیث یاد دلادی اور مجمع کا یہ عالم تھا کہ جب باہر نکلنا چاہا تو نکلنا مشکل ہوگیا اور جب باہر آکر یہ دیکھنا چاہا کہ ہمارا بیٹا گاڑی لے کر کہاں ہے تو تاحد نگاہ کاریں ہی کاریں تھیں اور سب ہارن بجاکر اپنے گھر والوں کو اطلاع دے رہے تھے پورے رمضان کی وہ اکیلی رات تھی جس میں دس منٹ کے اندر سحری نگلنا پڑی اور چائے کے بجائے پانی پی کر نیت کرلی۔

اس سعادت کے دو یا تین سال کے بعد مکہ معظمہ میں 27 ویں شب بیت اللہ میں گذارنے کا پروگرام بنایا جدہ میں میری بیٹی تھی اس نے ہی بلایا تھا جدہ سے مکہ معظمہ صرف 80  کلومیٹر ہے عام دنوں میں ایک گھنٹہ میں آرام سے جاتے تھے اور تراویح پڑھ کر واپس آجاتے تھے لیکن افطار اور مغرب پڑھنے کے بعد نکلنے میں جلدی کی لیکن مین روڈ پر آئے تو گاڑیوں کا سیلاب رواں تھا ہر ممکن کوشش کے باوجود جب پہونچے تو جوتوں چپلوں کے ڈھیر پر جگہ ملی جنہیں سب نے مل کر ہٹایا اور اتنی جگہ بنائی کہ ایک چادر بچھالیں اور وہیں اپنا ٹھکانہ ہوگیا۔ نماز پڑھی جلدی جلدی کچھ ناشتہ کیا اور پھر پوری رات وہیں گذاری۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجمع کتنا تھا اور لاکھوں کے اجتماع میں آواز صرف امام صاب کی تھی۔ ہوسکتا ہے اللہ کے نیک بندوں کو نظر آرہا ہو کہ یہ شب قدر ہے ہم جیسے گناہگار تو بس وہ کررہے تھے جو امام کرارہے تھے لیکن محسوس یہ ہوتا تھا کہ وہ بھی وہی سب کررہے ہیں جو شب قدر کو کرنا چاہئے۔

ہندوستان میں ایسا انقلاب آیا ہے کہ کروڑوں آدمی دم بخود ہیں یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ ماہِ مبارک کا آخری عشرہ شروع ہورہا ہے۔ اور اس کی طاق راتوں میں ایک رات شب قدر ہے جس کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ کیا مسلمان اس سنہرے موقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھائیں گے؟ صرف دس راتوں کی بات ہے ان میں سے طاق بھی کیوں۔ ہر مسلمان ایسا کیوں نہ کرے کہ ہر رات بازاروں میں خریداری یا کھانے پینے کے شوق کے بجائے اپنے محلہ کی مسجد میں گذارے اور جتنی دیر عبادت کرسکے کرے اور وہ جو الحمد شریف میں ہر مسلمان بار بار کہتا ہے کہ ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا‘‘ بس پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور بدلے ہوئے حالات میں ایسا فیصلہ کرنے کی توفیق مانگے جس سے بیس کروڑ مسلمانوں کے دین اور دنیا خطرہ میں نہ پڑیں رات بھر زیادہ سے زیادہ اس کی دعا مانگے کہ پروردگار جذبات کے بجائے عقل سے ہر مسلمان سوچے اور ہر فیصلہ متحد ہوکر کرے اپنا اپنا مسلک سب کو مبارک مگر سیاست سب ایک ہوکر کریں اس لئے کہ ہر مسلمان ایک ہی حال میں ہے اس لئے وہ فیصلہ بھی اچھا ہو یا برا ایک ہوکر کریں اور تلاش کرکے اچھوں کو قائد بنائیں پھر ان کی بات مانیں۔ اللہ دعا قبول کرے آمین۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close