خصوصیعالم اسلامہندوستان

ہم کٹتے رہیں گے، مذمت ہوتی رہے گی!

جس طرح سے جنگ آزادی میں علما اور مشائخ نے اپنا اہم کردار اداکیا تھا، اسی طرز پر آج ہمارے علماء و مشائخ، ملی قائدین کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے۔

مدثر احمد

ملک میں پچھلے چار پانچ سالوں سے گاؤ کشی، ؤ جہاد اور ماب لنچنگ میں مسلمانوں کی شہادتیں مسلسل جاری ہیں، محمد اخلاق، جنید، محمد اور ان کا معصوم بارہ سالہ بچہ عنایت اللہ خان، محمد مظلوم اور ان کی بیٹی کی اجتماعی آبروریزی، پہلو خان، افروزالسلام، منگلورو کے حسنبا جیسے لوگ گاؤ کشی کے الزام میں بھگوا دہشت گردوں کے ظلم کا شکار ہوتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اسی طرح سے مسلمان ہونے کی وجہ سے نجیب جیسے نوجوانوں کا قتل ہو ا ہے۔ سال2014سے اب تک ماب لنچنگ کے 32 معاملات پیش آئے ہیں جن میں 23 مسلمان شہید ہوئے ہیں۔ جھارکھنڈ، اترپردیش، کرناٹک، راجستھان، گجرات، اڑیسہ، بنگال اور آسام جیسے ریاستوں میں اب تک69 معاملات پیش آئے ہیں۔ ان تمام معاملات میں ظلم کا شکار ہونے والے86فیصد لوگ مسلمان ہی ہیں۔ خصوصاً وزیر اعظم نریندرمودی کے اقتدار پر آنے کے بعد97 فیصد معاملات میں اضافہ ہو اہے۔

ملک کے مختلف مقامات پر2014 سے اب تک اندازاً1454 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں جن میں 183 لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ4585 سے زائد لوگ زخمی یا جسمانی طور پر معذور ہوئے ہیں، اس تعدادمیں بھی 90 فیصد لوگ مسلمانوں ہی ہیں۔ وقت جیسے جیسے گذرتا جارہا ہے، اسی طرح سے ہم مسلمان ان واقعات، معاملات اور فسادات کو بھی بھولتے جارہے ہیں۔ نجیب کے غم میں آج بھی اُس کی ماں بیٹھی ہوئی ہے، لیکن ہماری تنظیموں نے نجیب کی خاطر کینڈل مارچ کرتے ہوئے نجیب کے درد میں شامل ہونے کا مظاہرہ کیا۔ محمد اخلاق کی بات ہو یا حافظ جنیدکی بات۔ ہماری تنظیمیں، ہمارے قائدین اور ہمارے علماء ایسی موتوں پر مذمتی بیانات دیتے ہیں، اپنی طرف سے اظہارِ غم کا پیغام ان کے اہل خانہ کو بھجوا دیتے ہیں، زیادہ سے زیادہ ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہیں اوران کے ہاتھ میں ایک لاکھ یا دو لاکھ کا چیک تھما کر اپنی ملّی درد مندی کااظہار کرتے ہیں۔

ایک طرف اظہارِ غم اور اظہار مذمت کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب جیلوں میں بند مسلمانوں کو رہا کروانے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ یقیناًجیلوں میں بند بے گناہ مسلمانوں کی رہائی کروانا ہمارا ملّی فریضہ ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن کیاہم نے ان مذمتوں اور رہائی کی سرگرمیوں سے ہٹ کر بھی اور کچھ آگے سوچا ہے؟ وہ مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے رہیں گے، ہمارے نوجوانوں کاقتل کرتے رہیں گے، ہماری داڑھیوں کو نوچتے رہیں گے، ہماری ٹوپیوں کو دیکھ کر ہمارے سر پھوڑتے رہیں گے، گائے کے نام پر مسلمانوں کا ذبحہ کرتے رہیں گے، لوجہاد کے نام پر مسلمانوں کونذرآتش کرتے رہیں گے یا پھر برہنہ کرتے ہوئے سڑکوں پر گھماتے رہیں گے۔

دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونسا جاتا رہے گا، کبھی انڈین مجاین سے ملے ہونے کا شبہ ظاہرکیا جاتا ہے تو کبھی مسجدکے امام کو لشکر طیبہ کا سرپرست قرار دے دیا جاتا ہے، تو کبھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ بتا کر اُن کی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا ہے۔ مگر ہم میں ان تمام ظلم و ستم کا جواب دینے کیلئے بالکل ہی تیار نہیں ہیں۔ ہمارا جوش وجذبہ ہماری کانفرنسوں، جلسوں، پروگراموں، عیدمیلاد کے جلوسوں اورمناظروں تک ہی محدود ہوچکا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرا مسلمان حملہ کرے تو ہماری زبان سے نعرہ تکبیر نکل رہا ہے۔ غیروں سے ہم پٹ کر آرہے ہیں اور اپنوں سے اپنے ہی اختلافات کی بناء پر خون بہانے کیلئے تیاریاں کررہے ہیں۔ ملک کے جوحالات ہیں وہ نہایت اور سنگین اور پیچیدہ ہیں، ان حالات میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بجائے ہم حکمت حکمت کی تسبیح گن رہے ہیں۔ ظلم وستم کی وارداتوں کے بعد اللہ سے غیبی مددکی اُمید لگا رہے ہیں۔

دعاؤں میں صلاح الدین ایوبی، محمدبن قاسم، ٹیپوسلطان اورعمر مختارجیسے سپہ سالاروں کی آمد کا انتظار کررہے ہیں۔ ہماری مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں اور ہم ابابیلوں کے منتظر ہیں۔ ہماری سوچ ناقص اور مفلوج ہوتی جارہی ہے، ہماری ہمت و شجاعت اب بس تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ اگر مورخ موجودہ حالات کی تاریخ لکھنا شروع کرنے لگے تو وہ لکھے گا کہ ظلم وستم کے دورمیں مسلمان مسجدوں پر مسجدیں بنا رہے تھے، غیروں کے حملے سے بچنے کے بجائے اپنوں پر حملے کررہے تھے، مسلمانوں کے دین پر غیر حاوی ہورہے تھے، ایسے میں مسلمان مسلک مسلک کا کھیل کھیل رہے تھے۔

ان کے نوجوانوں کی قربانیاں لی جارہی تھیں، ایسے میں مسلمانوں کے درمیان مشاعرے، قوالیاں، شام غزل، یادِ رفیع اور عید ملن کی تقریبات زوروں پر تھیں۔ ہماری آنے والی نسلیں ہماری تاریخ کامطالعہ کرنے کے بعد یقیناًہمیں ڈر پک اور بے حس نسل قرار دیگی۔ ملک کے ان پیچیدہ حالات میں اب مسلمانوں کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی، اپنی روایت کو تبدیل کرنا ہوگا، مذمت اور احتجاجی بیانات کو روکتے ہوئے اب کھلے عام ظلم وستم کی مخالفت کرنی ہوگی۔

جس طرح سے جنگ آزادی میں علما اور مشائخ نے اپنا اہم کردار اداکیا تھا، اسی طرز پر آج ہمارے علماء و مشائخ، ملی قائدین کو بھی آگے آنے کی ضرورت ہے۔ اب پھر سے تحریکی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اتو یقیناًاس ملک کے سنگھی مسلمانوں کیلئے یزیدی بن جائینگے اور ہمارے لئے پھر ایک دفعہ کربلا کا میدان بنادیا جائیگا۔

مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close