عالم اسلام

یہودیت واستعماریت کا نیا محاذ بیت المقدس

شاہدؔکمال

مشرقی وسطیٰ عرصے سے استعماری اور سامراجی طاقتوں کی سیاسی و جدلیاتی یورشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ طاغوتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سرزمین کو میدان جنگ اور ان کے گھروں کو مقتل بنایا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پراگندہ خاطری مسلمانوں کامقسوم بن چکی ہے۔ انسانی قانون ساز اداروں نے بھی مسلمانوں پر ہو رہے پے درپے مظالم سے چشم پوشی اختیار کرلی ہے۔ بے گناہوں اور مظلوموں کی آوازوں کو مسلسل خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انسانیت کی مسلسل تذلیل استعماری طاقتوں کا ایک اہم مشغلہ بن چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود کو عالم اسلام کی قیادت کا پرچم بردار اور اسلام کی حمیت اور غیرت کا ٹھیکدارکہنے والے نام نہاد اسلامی ممالک اپنےذاتی تخت و اقتدار کے تحفظ کے لئے، اسلام دشمن طاقتوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ نظریات کی تکمیل کے لئے یہودو نصاریٰ کی پشت پناہی میں کچھ ممالک پیش پیش ہیں، جنھوں نے شام، عراق، اوریمن میں اسلام دشمن طاقتوں کی مدد کے لئے اپنے خزانوں کے دہانے کھول دیئے تھے۔ اب اس سے زیادہ افسوناک صورت حال کیا ہوسکتی ہے۔

ابھی سیریا اور عراق میں داعش جیسی تنظیم کی شکست کا کھیل ختم نہیں ہواتھا کہ ایک بار پھر فلسطینیوں پر ان کی زمین تنگ کرنے اور انھیں دیوار سے لگانے کا کام شروع کردیا گیا۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے منصوبہ سازوں نے ابھی تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی، انہوں نے ایک محاذ پر شکست کھانے کے بعداب نئے محاذ پر بہت تیزی سے کام شروع کردیا ہے۔ اب ان کی مذموم نگاہیں مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس پر ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدارت نے اپنی منصوبہ بند سازشوں کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارالسلطنت قرار دینے کا اعلان کردیا۔ یہودو نصاریٰ کی صدیوں سے چلی آرہی اسلام دشمنی نے اب ایک نئی صورت اختیار کرلی ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دینے کے اس اعلان سے دنیا کے تمام مسلمانوں میں ایک بے چینی کے لہردوڑ گئی،امریکی قیادت اسرائیل کی توسیع پسندانا پالیسی کی راہ پر بہت آگے نکل چکی ہے۔ فلسطینیو ں کے حقوق کی پائمالی اور یروشلم پر ناجائز قبضہ قطعی طور سے اسرائیل اور امریکہ کے حق میں کسی مثبت نتیجے پر منتج نہیں ہوگا۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کو دنیا کے ماہر عمرانیات و سیاسیات نے مسترد کردیا یہاں تک کہ، روس کے صدر ولادمیر پتن نے بڑے واضح الفاظ میں امریکی قیادت کو یہ باور کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں عدم استحکام کا باعث ہوگا، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا اور امریکی سفارت خانہ کو بیت  المقدس منتقل کیے جانے پر مبنی ٹرمپ کا یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کو مزید تشددآمیز بنا سکتا ہے۔ جو اسرائیل کے لے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ادھر دوسری طرف ایران نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے لئے ایک بھیانک خواب کی صورت ہے، جو اس کے جغرافیائی اور ذہنی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ جنرل سلیمان قاسمی نے بھی بڑے واضح الفاظ میں اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ بیت المقدس تمام امت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے، اور اس کا شمار اسلام کے اہم مقدسات میں کیا جاتا ہے۔ جس کا دفاع کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

میرے خیال سے مشرق وسطیٰ میں جنگی بحران سے برآمد ہونے والے نتائج، ریاض حکومت کی خارجہ پالیسی سے پیدا ہونے والا بحران، اور یمن پر جبریہ مسلط کی جانے والی جنگ، اور خاندان شاہی میں تخت و اقتدار کی رسہ کشی میں مچنے والی اتھل پتھل سے عالم اسلام کا دھیان ہٹانے کے لئے ٹرمپ کا یہ اعلان ایک سیاسی ہھتکنڈا بھی ہوسکتا ہے۔ چونکہ یہ بات امریکہ اور اسرائیل کو اچھی طرح سے پتہ ہے کہ بیت المقدس پر کسی طرح کی جابرانہ مزاحمت امریکہ اور اسرائیل کے لئے ایک بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے بھی فلسطین کی مزاحمتی تنظیم اور حزب اللہ کی مقاومت کے آگے امریکہ اور اسرائیل کی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ لہذا یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی بنانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا پڑے گا۔

یروشلم کو دارالسلطنت بنانے کا اسرائیلی خواب بہت پراناہےجو آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا، خلافت عثمانیہ کے زمانے میں بھی کچھ عرب ممالک کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے اس طرح کا شگوفہ چھوڑا گیا تھا لیکن اس عمل کا ردعمل اتنا شدید تھا کہ اسرائیل کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنا پڑا،خلافت عثمانیہ کے آخری حکمراں خلیفہ عبدالحمید ثانی کے زمانے میں جب یہ مسئلہ اٹھا تو خلافت عثمانیہ کے قائد ’’عبدالحمید ثانی‘‘ نے بڑے واضح الفاظ میں یہ بات کہی’’میں سرزمین فلسطین کا ایک انچ بھی یہودیوں کو نہیں دوں گا، کیونکہ فلسطین میرا نہیں بلکہ امت کا ہے اور امت نے اس سرزمین کی حفاظت کے لئے اپنا خون بہایا ہے۔ ‘‘

آج بھی عالم اسلام میں ایسے قائد موجود ہیں جو شہیدوں کے خون کی حرمت اور ان کے عزائم کی پاسداری کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہذا غاصبین کو اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ’’بیت المقدس‘‘ کسی لاوارث قوم کی میراث نہیں بلکہ اس کے تحفظ کرنے اور اس کی بازیابی کرنے والی قوم ابھی زندہ ہے۔ لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے اس طرح کے انتہائی حساس مسئلے پر بار بار اس طرح کے برافروختہ کرنے والے سوالات کیوں اٹھائے جاتے ہیں، اس پر تمام مسلمانوں کوضرور غور کرنا چاہئے،کہیں ایسا تو نہیں اپنی بادشاہت، تخت و تاج اور اقتدار کے تحفظ و استحکام کے لئے خود کو اسلام کا حامی کہنے والے آمریت پسند حکمراں یہودو نصاریٰ کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف سازش کرنے میں مصروف ہیں۔ جیسا کہ داعش جیسی تنظیم کو بنانے کے لئے ریاض حکومت اپنے کلیگ عرب ممالک کے ساتھ مل کرسیریا و عراق میں مسلمانوں اور اسلام کی عزت و ناموس کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں، اور آج بھی اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے یمن کے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے میں کسی طرح کا دریغ نہیں کررہے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ آنے والی خبروں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیریا اور عراق میں خاک و خون کی ہولی کھیلنے والے اب یروشلم ’’بیت المقدس‘‘ کو اسرائیل کا ناجائز دارالسلطنت قرار دینے کی سازش میں مصروف ہیں۔ جس میں درپردہ ریاض حکومت کا بڑا ہاتھ ہے۔ جہاد اسلامی کے خاص نمائندے’’ ناصر ابو شریف‘‘ نے مدافع بیت المقدس کے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ اگر بعض عرب ملکوں کا تعاون نہ ہوتا تو امریکی قیادت کبھی بھی بیت المقد س کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی جرات کا اعادہ نہ کرتی۔ لہذا ٹرمپ کے اس اعلان کا ایک سیدھا سا جواب ہے کہ تمام اسلامی ممالک پورے عالم اسلام سمیت اپنی قومی یکجہتی اور اتحاد کا ملکر ایسا مظاہر ہ کریں کہ استعماری طاقتوں کے حواس باختہ ہوجائیں۔ ناصر ابوشریف نے یہ بات بڑے واضح انداز میں کہی کہ امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے ’’بیت المقدس ‘‘ منتقل کرنے کا واحد مقصدایک نئے مشرق وسطیٰ کا قیام ہے۔ یہودیت کی یہ کھلی ہوئی سازش ہےکہ مسلمانوں کے مقدسات کے ساتھ فلسطین پر اسرائیل کو جبریہ مسلط کردیا جائے۔ لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ آپسی اتحاد کے ذریعہ استعماریت اور صہیونیت کے ان مذموم مقاصد کے خلاف ایک آواز کے ساتھ اب اٹھ کھڑے ہوں، ورنہ ایک عظیم شکست اور ذلت کا سامنا کرنے کے لئے مسلمانوں کو تیار رہنا چاہئے۔ میں اپنے اس شعر پر اپنی بات کا اختتام چاہتا ہوں۔

اے مسلماں موت بن جائے نا خاموشی تری

وقت کی ہے اک ضرورت احتجاج و انقلاب

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close