عالم اسلامملی مسائل

یہ بیچارے مفلس!

بنّاء، قطب اور مودودی کے فکری وارثین ان 'معذور'علماء کی حرکتوں سے ذرا بھی نہ گھبرائیں۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 ہم ‘مفلس’ اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو، جو غریب اور قلّاش ہو، جو فقر و فاقہ میں مبتلا ہو، لیکن ایک حدیث کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ میری امت میں مفلس حقیقت میں وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کے پاس نیک اعمال ( نماز، روزہ، زکوٰۃ و صدقات وغیرہ ) کا کافی ذخیرہ ہوگا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جو اس کے ظلم کا شکار بنے ہوں گے، یہاں تک کہ اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور لوگوں کے کچھ بدلے چکائے جانے باقی ہوں گے تو ان کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ ( مسلم :2581، ترمذي 2418، احمد :8029 )

حدیث میں ‘شتم’ (گالی) اور ‘قذف’ (جھوٹا الزام) کے الفاظ آئے ہیں۔ ‘شتم’ یہی نہیں ہے کہ کسی کو ماں بہن کی گالی دی جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی نیک نامی پر داغ لگانے کی کوشش کی جائے۔ ‘ قذف’ یہی نہیں ہے کہ کسی پر ناجائز جنسی فعل کا الزام لگایا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کسی کی جانب کوئی ایسا عمل منسوب کیا جائے جس کا اس نے کبھی ارتکاب نہ کیا ہو، بلکہ اس کا عمل ہمیشہ اس کے خلاف رہا ہو۔

آج کل ایک ویڈیو گردش میں ہے، جس میں ایک مولانا صاحب جوشِ خطابت کے ساتھ اپنے سامعین کو عالمی دہشت گردوں سے آگاہ کررہے ہیں۔ ان کے نزدیک پوری دنیا میں دہشت گردی کی جو وبا آئی ہوئی ہے اس کے سرغنہ لوگوں میں حسن البنا شہید، سید قطب شہید اور مولانا سیّد ابو الاعلی مودودی سرِ فہرست ہیں۔

میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ کون صاحب ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ بڑے علماء میں سے ہیں، ان کی دین داری مشہور ہے، عوام میں معروف ہیں، اچھے خطیب ہیں، ان کے علم و فضل سے امّت کی بڑی تعداد کو فیض پہنچ رہا ہے۔ مجھے ان کی ‘ مفلسی’ پر رونا آیا کہ یہ دوسروں پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر یہ اپنے نیک اعمال کو ضائع کر رہے ہیں۔

بنّاء، قطب اور مودودی میں سے دو تو ایسے ہیں جو خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوئے، جس کی بنا پر مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اور تیسرا بھی باطل کے نشانے پر تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مزید خدمتِ دین کے لیے اسے زندگی کی کچھ مہلت دے دی۔ یہ تینوں زندگی کی آخری سانس تک اسلام کے علم بردار رہے اور ان کی ذات سے لاکھوں انسانوں کو دین کا فہم حاصل ہوا۔ ان پر دہشت گردی کا الزام لگانا ایسا ہی ہے کہ نصف النہار میں جب سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہو اس وقت کو گھٹاٹوپ رات ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔

ان بے چارے مولانا کو شاید نہیں معلوم کہ موجودہ دور میں دہشت گردی کا مطلب کیا ہے؟ اور یہ اصطلاح کون لوگوں نے ایجاد کی ہے؟ اور وہ اس کا اطلاق کیسے لوگوں پر کرتے ہیں؟

دہشت گردی کی اصطلاح ان لوگوں نے ایجاد کی ہے جن کے ہاتھ لاکھوں کروڑوں بے قصور افراد کے خون سے رنگین ہیں، جنھوں نے آزاد انسانوں، بلکہ پورے پورے ملکوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، جنھوں نے ان کے وسائل معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان کا خون چوس رہے ہیں۔ جن افراد، علماء، دانش وروں، سائنسی ماہرین اور سیاست دانوں سے انھیں خطرہ محسوس ہوتا ہے اور انھیں وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں روڑا محسوس ہوتے ہیں ان پر دہشت گرد ہونے کا ٹھپّہ لگا کر سماج میں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ انھیں اور ان کے افکار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہوسکے۔ بنّاء، قطب اور مودودی ایسے ہی ‘دہشت گرد’ ہیں جنھوں نے باطل کے ایوانوں پر لرزہ طاری کردیا تھا، جن کے افکار کی دھمک باطل کے سرغنہ آج بھی محسوس کر رہے ہیں۔

بنّاء، قطب اور مودودی کے فکری وارثین ان ‘معذور’علماء کی حرکتوں سے ذرا بھی نہ گھبرائیں۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کا جواب دینے کی کوشش کریں نہ ان کے خلاف کسی ردِّ عمل کا مظاہرہ کریں۔ بلکہ یہ سمجھ لیں کہ باطل نے ان بزرگوں کو بدنام کرنے کے لیے دین داروں کے بھیس میں اپنے ہرکارے چھوڑ رکھے ہیں۔ ایسے مواقع پر انھیں قرآن مجید کی اس ہدایت پر عمل پیرا ہونا چاہیے :

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ وَّلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ الَّذِيۡنَ لَا يُوۡقِنُوۡنَ (الروم:60)

"پس صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔”

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

6 تبصرے

  1. افسوس تو اسی بات کا ہے کہ اتنے بڑے منصب پر رہتے ہوئے بھی اس قدر سطحی باتیں لکھ جاتے ہیں۔۔۔۔جب وہ کبھی دوسروں پر بے بنیاد الزام لگاتے ہیں اور مہذب وغیر مہذب گالی دیتے ہیں تو وہ حقیقت ہوتا ہے۔۔۔اور جب کوئی دوسرا ان کے زعماء کی حقیقت بیان کرتا ہے تو وہ مفلس بن جاتا ہے!!!حقیقت بیانی اور اس کا اعتراف سب کے بس میں نہیں۔۔۔‌کیا آپ کی پیش کردہ حدیث آپ کے اوپر صادق نہیں آتی؟؟امامت اور پیشوائی کا کوئی معیار تو ہوناچاہئے آپ کے پاس۔۔۔بالغ النظر افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوتا

    1. سلفی حضرات کو مولانا مودودی کا جواب

      دینی جماعتوں کے تعلق سے میرا نقطہ نظر ہمیشہ سے یہ رہا ہے اور میں اس کا اظہار بھی کرتا رہا ہوں کہ جو جس درجہ میں بھی اللہ کے دین کی کوئی خدمت کر رہا ہے بسا غنیمت ہے. مخالف دین کی تحریکوں کے مقابلے میں دین کا کام کرنے والے سب حقیقت میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں. اور انھیں ایک دوسرے کو اپنا مددگار ہی سمجھنا چاہیے. رقابت کا جذبہ اگر پیدا ہو سکتا ہے تو اسی وقت جب کہ ہم خدا کے نام پر دوکانداری کر رہے ہوں. اس صورت میں تو بے شک ہر دکاندار یہی چاہے گا کہ میرے سوا اس بازار میں کوئی اور دوکان نظر نہ آئے….

      جس طرح وہ مجھے اور جماعت اسلامی کو مطعون فرماتے ہیں اگر اسی طرح میں بھی ان کو اور ان کی جماعت کو مطعون کرنا شروع کردوں تو آخر کار اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ عام لوگوں کی نگاہ میں دونوں ہی ساقط الاعتبار ہو کر رہیں گے اور دین کا کام کرنے لایق نہ ہم رہیں گے اور نہ وہ…..

      میں صبر کے ساتھ ان حملوں کو ٹالتا رہتا ہوں جو مجھ پر کیے جاتے ہیں اور جماعت کے لوگوں کو بھی صبر کی تلقین کرتا ہوں. ورنہ ظاہر ہے کہ اگر ان حضرات کو مطعون کرنے پر اتر آؤں تو ان میں سے کوئی صاحب بھی زبان وحی میں کلام نہیں فرماتے ہیں کہ گرفت کرنے کے لیے لیے کہیں کوئی گنجائش مجھے نہ مل سکے……..

      (رسائل و مسائل، جلد 4، ص 229 تا 232)

      یہ اقتباسات در اصل اس سوال کے جواب سے لیے گئے ہیں جو مولانا مودودی نے تبلیغی جماعت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رقم فرمائے تھے. اس وقت تبلیغی جماعت کا ایک بڑا حلقہ مولانا مودودی کو ویسے ہی مطعون کر رہا تھا جیسے کہ آج کل سلفی حضرات مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف پروپگنڈے کر رہے کر رہے ہیں.

      الزام تراشی کرنے والوں اور مطعون کرنے والوں کے لیے تحریک کا آج بھی وہی جواب ہے جو اس وقت مولانا نے مذکور جماعت سے متعلق دیا تھا.

      1. صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کی حمایت کرنے والوں کے لئے ایک چشم کشا مثال:
        مشہور محدث عبدﷲبن مبارک نے ایک موقع پر صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ کی تعیین کرتے ہوئے کہا تھا کہ افضل ترین تابعی اویس قرنی ادنی ترین صحابی وحشی بن حرب کے گرد پا کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ صحابی کو لقاء نبی اور دیدار نبی کا شرف حاصل ہے جبکہ تابعی کو یہ شرف حاصل نہیں چاہے وہ اپنے طبقہ میں کتنا ہی بزرگ اور عبادت گزار ہی کیوں نہ ہو ، اسی طرح بقول عبدﷲبن مبارک عمر بن عبدالعزیز جن کی بزرگی و صالحیت پر امت کا اتفاق ہے اور ان کو پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے وہ اس گردوغبار کے برابر بھی نہیں ہیں جو نبی کریم صلﷲعلیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ہوئے امیر معاویہ کی ناک میں داخل ہوئے
        اسلاف کے مقام و مرتبہ کی تعیین کا یہ ہے اصولی منہج ، حدیث نبوی "خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم…… اور اس باب کی دیگر احادیث اس اصولی منہج کی بنیاد ہے
        فاعتبروا یا أولی الأبصار…

  2. مولانا مودودی رحمہ الله كے بارے ميں تين گروه ہيں.

    پہلا گروه جو ان كى كسى غلطى كو تسليم كرنے كے ليے تيار نہيں اور ان كى شان ميں غلو كرتا ہے.
    دوسرا گروه جنہوں نے انہيں حقير سمجھا اور اہل بدعت اور گمراہى كا علمبردار قرار ديا.
    تيسرا گروه عدل و انصاف والا ہے جو مولانا رحمہ اللہ پر نقد بھى كرتا ہے مگر ان كے علم و فضل اور مساعى جميلہ كا بھى قائل ہے اور يہى مناسب اور اہل سنت والجماعت اور سلف كے منہج كے موافق ہے.

    شيخ الإسلام ابن تيميہ فرماتے ہيں ” اور بہت سارے سلف اور خلف كے مجتہدين كے اقوال و افعال ايسے تھے جو بدعت تھے مگر انہيں علم نہيں تھا كہ يہ بدعت ہے اور اس كى وجہ ضعيف احاديث كو صحيح سمجھ ليا يا ايآت سے وه سمجھ ليا جو مراد نہيں تھى يا كسى مسئلے ميں رائے اپنا لى اور اس كى نصوص ان تک نہيں پہنچيں ”
    (مجموع الفتاوى)
    مزيد لكھتے ہيں ” ہر كوئى اعتقاد ميں كچھ مخالفت كرنے سے (ہلاک) گمراه نہيں ہوتا . وه غلطى كرنے والا مجتہد ہوسكتا ہے جس كى غلطى معاف كردى جائے يا اسے علم نہيں پہنچا جس سے اس پر حجت پورى ہو يا اس كى نيكياں ہو جن سے الله اس كى سيئات مٹا دے ” (مجموع الفتاوى)
    بعض اہل حديث علماء كى مولانا مودودى رحمہ اللہ كے بارے ميں رائے :

    1) محدث مولانا محب الله شاه راشدى رحمہ اللہ لكھتے ہيں :
    ” مولانا مودودى رحمہ الله اس بزرگ نے بھى اس سلسلے ميں كافى كام كيا ہے. ان كى تصانيف (جو كہ پورے ملک ميں مشہور و معروف ہيں) ان كى اس محنت كا واضح ثبوت ہے اور اگر كوئى بے انصافى كرے يا تعصب سے كام ليتے ہوئے محض اس وجہ سے ان كى كتب سے استفاده نہ كرے كہ مولانا كا اپنے آپ كو اہل حديث نہيں کہلواتے تھے يا اس مسلک سے ان كا تعلق نہيں ہے , اس وجہ سے ان كى كتب كو زير مطالعہ نہيں ركھتا تو انتہائى درجے كى تنگ دلى اور تنگ ظرفى ہوگى. عربى كا مقولہ ہے :
    الحكمة ضالة المؤمن اور خذ ما صفا ودع ما كدر
    لہذا ان كى تصانيف سے استفاده كرنے ميں كوئى عار محسوس نہيں كرنى چاہيے اور نہ ہى مسلكى اختلاف كى وجہ سے ان كى صحيح بات لينے ميں عار محسوس كيا جائے. منصف مزاج , دماغى توازن پورا ركھنے والے لوگ كبھى بھى اس طرح نہيں كرتے. درحقيقت اگر انصاف كيا جائے تو مولانا مودودى رحمہ الله كى كتب ميں (كتنى ہى غلط باتيں ہونے كے باوجود) كافى مفيد معلومات موجود ہيں اور جديد حملوں كى مدافعت , جديد رنگ ميں ان كى تاليفات كى نماياں خصوصيت ہے. ايک غير جانب دار اور غير متعصب ان سے بڑے فائدے حاصل كرسكتا ہے ان كى تفسير اور كچھ رسائل اردو اور انگريزى نہايت ہى مفيد ہيں.
    (مقالات راشديہ)
    2) مولانا عبيدالله رحمانى مباركپورى رحمہ الله لكھتے ہيں
    ” ہمارے نزديک مولانا موصوف سنى المذہب , صحيح العقيده , موحد مسلمان ہيں. دين ميں اجتہادى بصيرت ركھنے والے متكلم اور مفسر اچھے عالم دين ہيں. اسلامى مسائل كو بہترين صورت ميں دنيا كے سامنے پيش كرنے كى اہليت و صلاحيت ركھتے ہيں.
    (فتاوى شيخ الحديث مباركپورى)
    پھر مولانا عبدالله مباركپورى نے گیاره مسائل كا ذكر كيا جن سے وه متفق نہيں.كوئى شخص دعوى كر سكتا ہے كہ انہوں نے خلافت و ملوكيت كا مطالعہ نہيں كيا تھا ليكن انہوں نے خلافت و ملوكيت پر ردود پڑھے تھے اس ليے انہيں مولانا مودودى رحمہ الله كا موقف معلوم تھا اس ليے مولانا عبيدالله رحمہ الله نے كہا ” مولانا مودودى نے حضرت عثمان اور حضرت معاويہ رضى الله عنہما جو تنقيديں اور نكتہ چينياں كى ہيں وه بلاشبہ غلط ہيں
    ” (فتاوى شيخ الحديث مباركپورى)

    3) مولانا محمد لقمان سلفى حفظہ الله تعالى نے مريم جميلہ اور مولانا مودودى رحمہ الله كے خطوط كا عربى ميں ترجمہ كيا اور مقدمہ ميں ذكر كيا كہ فضيلة الشيخ ابراہيم بن محمد آل الشيخ سے ايک آدمى آيا اور اس كتاب كے ترجمہ كے بارے ميں دريافت كيا… پھر جب ترجمہ ارسال كيا گيا تو ان كى رغبت تھى كہ دعوت اسلامى كے ليے اس كى طباعت كى جائے (المراسلة بين أبي الاعلى المودوى ومريم جميلة)
    4) محدث فضيلة الشيخ محمد ناصر الدين البانى رحمہ الله نے مختلف مقامات پر مولانا مودودى رحمہ الله كا رد كيا مگر قاديانيت كے رد ميں ذكر كيا ” اور ان كے رد ميں سب سے بہترين رسالہ استاذ , فاضل , مجاہد ابو الاعلى مودودى كا ہے ” (السلسلة الضعيفة)
    5) فضيلة الشيخ ابن باز رحمہ الله نے جب مولانا مودودى رحمہ الله كو خط لكھا اس ميں مختلف امور ہيں جن ميں نقد بھى ہے مگر خط کے شروع ميں لكھا ” من عبدالعزيز بن باز إلى حضرة الاخ المكرم الفضيلة الشيخ ابی الاعلى المودودى ”
    (الرسائل المتبادلة بين الشيخ ابن باز والعلماء)

    منقول

  3. ہمیں مسلک اعتدال پر کاربند رہنا چاہئے اور صبرو تحمّّّل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے
    اور احسن طریقے سے ان بھائیوں کے فکری انتشار کی نشاندہی کرنا ھمارا فرض ہے

  4. ایسے نام نہاد علماء تو امت مسلمہ کے لئے زہر قاتل ہوتے ہیں جو اغیار کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہتے ہیں اور ان بیچاروں کو پتہ بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کار بد کو ثواب جان کر انجام دیتے ہیں. بناء، سید قطب اور مولانا مودودی جیسے علماء ہی کی وجہ سے آج امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند ہے ان ہی مجاہدوں نے ہمیں باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا سکھایا ہے اسلام پر مر مٹنا سکھایا ہے.
    کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کوئی نیم ملا ان عظیم شخصیات کے خلاف گھناؤنے الزامات لگا کر اپنے منہ پر کالک پوت دیتا ہے.
    اس وقت ضرورت اتحاد 🎌 و اتفاق کی ہے

متعلقہ

Close