عالم اسلامہندوستان

یہ محل سراؤں کے باسی،قاتل ہیں سبھی اپنے یاروں !

رمیض احمدتقی

شامِ خون آشام، لاشوں سے اوپٹی صبح،روتی بلکتی مائیں ،عفت وعصمت کی گوہار لگاتی بہنیں ،خون میں لت پت بھائ اورلاشوں کو کندھا دیتا بوڑھا باپ؛اب یہ ہمارے ملک کے ہردن کا معمول بن چکا ہے.خاص کر جب سے مودی اور یوگی نے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لیاہے،ملک میں مسلمانوں کی ہر صبح اورہرشام آہوں ،سسکیوں اورگریہ وزاری میں گزرتی ہیں اور پورا ملک شہرخموشاں کی مکمل تصویر پیش کرتاہے.حکمراں اور ذمہ دارطبقہ واقعہ کے بعد رسمی طور پر کبھی کبھار اظہارافسوس جتادیتے ہیں ،تاہم حادثات درحادثات کے سیلاب نے بہاکرانہیں ایک ایسے مقام پرپہنچادیاہے،جہاں تک لوگوں کی چیخ وپکار اور شورغوغاکی آواز نہیں پہنچتی اورلازمی طور پر انہیں خاموش ہی رہناپڑتاہے، یعنی وہ بالکل بے حس ہوچکے ہیں .

ظاہر ہے جب ملک کی ساری دیش بھگت تنظیمیں ،ٹی وی چینلس اور نیوز پورٹلس مسلمانوں کو دیش دروہی ثابت کر ہی چکی ہیں ،توکاہے کوکوئ ان کے لیے آنسو بہائےاوران کے زخموں پرمرہم رکھے؛قوم پرستی کی ٹھیکہ داری تو مودی اوربھگوائیوں کے پاس ہے.مسلمان تو بے بس اورلاچار قوم ہے.کون پوچھتا ہے اگر کوئ ان کی شہ رگ ہی کاٹ دے.یاپھرکوئ ان کی بستیاں ہی اجاڑدے!کوئ تونہیں جوپور ملک میں ان کو انصاف دلوانے کے لیے آندولن چھیڑے،یاایوان میں ان کے حقوق کی حصول یابی وبازیابی کے لیے آواز بلندکرے.بس جیسے جانوروں کی گردنیں اڑادی جاتی ہیں اور اس کے درد کا احساس کسی کو نہیں ہوتا،بعینہ ملک میں مسلمانوں کی حالت زار کا کسی کو احساس نہیں !بلکہ خود مسلمانوں کو بھی ان سے کوئ فرق نہیں پڑتا.تار عنکبوت سے بنی ہوئ چھت کے نیچے گردونواح سےبالکل بےخبر اپنے میں مست ومگن ہیں .مگرانہیں معلوم نہیں کہ جس کو انہوں نے اپنا ابدی آشیانہ سمجھ رکھا ہے،بادصرصرکی تندوتیزلہریں ریت پر تعمیر کیے گئے گھروندے کی طرح بے نام ونشان چھوڑدیں گی.

پتہ نہیں ہماری قوم کس خوش فہمی میں مبتلا ہے، یاشاید اس کا ضمیر ہی مرچکاہے،یاپھر اس نے اپنی غیرت وحمیت کا آرایس ایسیوں اور بجرنگیوں سے سودا کرلیا ہے!حالانکہ ہندوقوم انتہائ بزدل قوم ہے،مگراب اس کی جواں مردی و بےباکیوں کو توملاحظہ کیجیے کہ کس طرح نقلی ماتا کے نام پر اصلی ممتا کی گود سونی کرتی جارہی ہے اور پورا ملک مودی اور یوگی بھگتی کی جے جے کارکررہاہے.ایسا نہیں ہے کہ یہ بھگت بیوقوف ہیں اور بھگت اپنی بے وقوفی کے سبب مودی کی ہر غلطی میں اس کا ساتھ دیتے ہیں .نہیں ! بھگت بہت محنت سے تیار کیے جاتے ہیں .بھگت بنانے کاایک لمبا پروسیزر ہوتا ہے،بلکہ بھگت بنانے کا پورا سیاسی اصول وضابطہ ہےاور بھگت بنانے کے پیچھے سیاسی فائدے کا پورا پلان ہوتا ہے.

ہٹلر نے بھی بھگت بنائے تھے.جب ہٹلر نے ایک کروڑدس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیاتھا، تب اس کے بھگت اس کی جے جے کارکررہے تھے.ہٹلر نے اپنے بھگتوں کے دماغ میں یہ بٹھا دیا تھاکہ یہودی ہماری نوکری کھارہے ہیں .ہماری ساری مشکلوں کی جڑ یہودی ہیں .یہودی کو مارڈالیں گے توہی ہماری ساری بلائیں دورہوپائیں گی.اس کے بعد ہٹلر نے مرد، بوڑھوں ،عورتوں اور بچوں سمیت ایک کروڑدس لاکھ سے زیادہ لوگوں کاقتل عام کیا،جن میں ساٹھ لاکھ یہودی اور پچاس لاکھ دوسرے لوگ بھی تھے اوراب یہی ساری کہانیاں اس ملک میں دہرائ جارہی ہیں ،چونکہ آرایس ایس کی بنیادہی ہٹلر کے قاتلانہ نظام پر رکھی گئ ہے،چنانچہ  سنگھ نے آزادی سے پہلے ہی مسلمانوں ، عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف نفرت وعداوت پھیلانے کا آندولن شروع کردیا تھا.ہندوبڑی ذاتیاں جوملک میں ہمیشہ سے پیسہ اور حکومت پر قابض رہی ہیں ،وہ سنگھ کی جن داتاتھیں .ان کی کوششیں بھی یہی تھیں کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی پیسہ اور ستہ پر انہی کا قبضہ رہے.پچھلی چار پیڑھیوں سے بھگت تیار کرنے کا کام اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ ان لوگوں نے بھارت کی ستہ پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے.

بھگتوں میں عموما دو طرح کے احساسات پائے جاتے ہیں ؛مسلمانوں کے تیئیں نفرت اور مسلمانوں سے ڈر.مسلمانوں کے تیئیں نفرت اورڈرکےانہی احساس کوختم کرنے کاایک بہت ہی آسان نسخہ ہے مسلمانوں کے خلاف دنگا؛دنگا ہی اس ڈراورنفرت کی آکسیجن ہے.ایک لمبے عرصے تک دنگا نہ ہو، تو بھگت کے دماغ سے مسلمانوں کے تیئیں ڈراور نفرت دونوں ختم ہوجائیں گے؛ اسی لیے بیچ بیچ میں سنگھ دنگے کراتا رہتا ہے.مودی جیسا بناؤٹی اور کرشمائ نیتااس لیے تیارکرائےجاتے ہیں ،تاکہ لوگوں کو نیتا کی بھگتی کے نشے میں ڈال کر ملک کی معیشت اورحکومت پر قبضہ کیا جائے اور جب ملک کو لوٹا جائے، تو نشے میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو کوئ افسوس نہ ہو.نفرت اور ڈر میں ڈوبے ہوئے بھگت مودی کی صرف اسی لیے طرف داری کرتے ہیں کہ مودی نے دوہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ دیکھادیاہے کہ ہندو ڈرنے والی قوم نہیں ہے.بھگت مانتے ہیں کہ مغلوں کی حکومت میں اپنا وقار کھوچکی ہندو اسمیتا مودی نے واپس دلادی.بھگت یہ بھی مانتے ہیں کہ اب اگر مودی کسی مدعی پر نیچا دِکھتے ہیں ،تو اس کا مطلب ہوگاکہ ہمارے ازلی دشمن مسلمان جیت جائیں گے.مسلمانوں سے ہار جانے کے سبب بھی بھگتوں کو مودی کی ہر غلط بات میں طرف داری کرنی پڑتی ہے.

دراصل فرقہ پرستی کی سیاست کا یہی نقصان ہے،کہ اس میں عوام اپنا بھلا برا نہیں سوچ پاتی.فرقہ پرستی کے نشے میں ڈال کر عوام کا خوب استحصال کیا جاسکتا ہے.ان حالات میں اب اگر ملک میں کچھ ہوتاہے اورمسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیاجاتاہے اور ان پر ہرطرح کے سیاسی اور عوامی ظلم وبرریت کو روارکھا جاتاہے،توپھر کون ان کی حمایت میں کھڑاہوسکتا ہے.صرف اس مہینے میں ہی ملک کے طول عرض میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پے درپے کئ  حادثات رونماہوئے،جن میں پچاسوں مسلم مردوعورت اور بچے کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا.چلتی ٹرین میں میوات کے پندرہ سالہ نوجوان کے قتل کا حالیہ حادثہ بھی،جس سے پورا ملک سوگوارہے،اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور عدلیہ کی بے حسی تو دیکھیے کہ پس ماندگان کواب تک کوئ انصاف نہیں اور شاید کبھی نہ ملے.ہریانہ پولیس بھی اس مسئلہ کو فرقہ واریت سے ہٹاکر ایک نجی مسئلہ کا رخ دینے کی کوشش کر رہی ہے.ان کا مقصد بالکل واضح ہے.غنیمت ہے کہ میڈیا نے اس حادثہ کواپنی اسکرین پر جگہ دیا ہے،ورنہ تو سوشل سائٹس کے علاوہ کہیں کوئ حرکت نظر نہیں آتی.آپ خود بھی غورکرلیجیے کہ 2015  میں دادری کے اخلاق کے بہیمانہ قتل کے بعدسے اب تک پورے ملک میں سوسے زیادہ مسلمانوں کو فرقہ واریت کی آگ کا ایندھن بننا پڑااور ہنوزیہ سلسلہ جاری ہے. اوربے چاری گائے اپنے نام پر سیکڑوں مسلمانوں کے خون کابوجھ لیے خود اپنے رکھوالوں کے ظلم وبربریت کی شکارہے.

حقیقت ہے کہ مودی اور ڈھونگی کو گائے سے کیا سروکار،وہ تو آرایس آرایس کے دلہ اورچمچہ ہیں ،انہیں تو برہمنواد کو ستہ میں باقی رکھنے کے لیے استعمال کیاجارہاہے.کاش کہ ملک کے بھگت جن اس کو سمجھ لیتے کہ سیاسی بھگتی کے نشے میں ڈوب کر وہ جن لوگوں کا قتل کرتے ہیں ،وہ انہی کے معاشرہ اور ملک کا فرد تھا،ہے اوررہےگا……..ان شاءاللہ

مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close